یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏5 ص.‏ 14-‏19
  • ضبط نفس کا پھل پیدا کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ضبط نفس کا پھل پیدا کرنا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خدا سے ڈرنا اور بدی سے نفرت کرنا
  • ضبط نفس، دانشمندی کی روش
  • بے‌لوث محبت مدد دیتی ہے
  • ایمان اور فروتنی بطور مددگار
  • خاندانی دائرہ کے اندر ضبط نفس
  • اس مدد کو استعمال کرنا جو یہوواہ فراہم کرتا ہے
  • ضبط نفس اس قدر اہم کیوں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • انعام پانے کیلئے ضبطِ‌نفس کو عمل میں لائیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • معرفت پر ضبطِ‌نفس بڑھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • اپنے اندر ضبطِ‌نفس پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏5 ص.‏ 14-‏19

ضبط نفس کا پھل پیدا کرنا

‏”‏روح کا پھل محبت، خوشی، صلح، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمان، حلم، ضبط نفس ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔“‏ گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏، NW۔‏

۱.‏ کس نے ہمارے لیے ضبط نفس کی بہترین مثالیں فراہم کی ہیں، جیسے کہ کن صحائف سے ظاہر ہے؟‏

یہوواہ خدا اور یسوع مسیح نے ہمیں ضبط نفس کی عمدہ‌ترین مثالیں فراہم کی ہیں۔ باغ‌عدن میں آدمی کی نافرمانی کے وقت سے لے کر، یہوواہ اس خوبی کو عمل میں لاتا رہا ہے۔ (‏مقابلہ کریں یسعیاہ ۴۲:‏۱۴‏۔)‏ عبرانی صحائف میں ہم نو مرتبہ یہ پڑھتے ہیں کہ وہ ”‏قہر میں دھیما“‏ ہے۔ (‏خروج ۳۴:‏۶)‏ اس کے لیے ضبط نفس کی ضرورت ہے۔ اور یقیناً خدا کے بیٹے نے بڑے ضبط نفس کا مظاہرہ کیا، کیونکہ ”‏وہ گالیاں کھا کر گالی نہیں دیتا تھا۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۲۳‏)‏ اگرچہ، یسوع اپنے آسمانی باپ سے ”‏فرشتوں کے بارہ تمن سے زیادہ“‏ کی مدد حاصل کرنے کیلئے درخواست کر سکتا تھا۔ متی ۲۶:‏۵۳‏۔‏

۲.‏ ناکامل انسانوں کی طرف سے ضبط نفس کو عمل میں لانے کی کونسی عمدہ صحیفائی مثالیں ہمارے پاس ہیں؟‏

۲ ہمارے پاس ناکامل انسانوں کے ضبط نفس کا مظاہرہ کرنے کی بھی بعض عمدہ صحیفائی مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، آبائی سردار یعقوب کے بیٹے، یوسف کی زندگی کے ایک مشہور واقع میں بھی اس خوبی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ یوسف نے کیا ہی ضبط نفس دکھایا تھا جب فوطیفار کی بیوی نے اسے جنسی تعلقات کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی! (‏پیدایش ۳۹:‏۷-‏۹‏)‏ اس کے علاوہ چار عبرانی نوجوانوں کی عمدہ مثال بھی تھی جنہوں نے موسوی شریعت کی ممانعتوں کی وجہ سے بابلی بادشاہ کے لذیز کھانوں کو کھانے سے انکار کرتے ہوئے ضبط نفس کا مظاہرہ کیا۔ دانی‌ایل ۱:‏۸-‏۱۷‏۔‏

۳.‏ کون اپنے عمدہ چال‌چلن کی وجہ سے مشہور ہیں، جیسے کہ کس شہادت سے ظاہر ہے؟‏

۳ ضبط نفس کے جدید نمونوں کیلئے، ہم اجتماعی طور پر یہوواہ کے گواہوں کی طرف توجہ دلا سکتے ہیں۔ وہ اس تعریف کے مستحق ہیں جو کہ نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا نے انکی بابت کی ہے کہ وہ ”‏دنیا کے بہترین طرزعمل والے گروہوں میں سے ایک ہیں۔“‏ فلپائن یونیورسٹی کے ایک معلم نے بیان کیا کہ ”‏گواہ صحائف میں سے جو کچھ سیکھتے ہیں اس پر سرگرمی سے عمل بھی کرتے ہیں۔“‏ گواہوں کی ایک کنونشن کے سلسلے میں جو ۱۹۸۹ میں وارسا میں ہوئی، ایک پولش رپورٹر نے لکھا:‏ ”‏۵۵،۰۰۰ لوگوں نے تین دن تک ایک سگریٹ نہیں پی! .‏ .‏ .‏ اس مافوق‌البشر نظم‌وضبط کے مظاہرے نے مجھے احترام اور ستائش کے ملے‌جلے احساس کے ساتھ متاثر کیا۔“‏

خدا سے ڈرنا اور بدی سے نفرت کرنا

۴.‏ ضبط نفس کو عمل میں لانے کیلیے سب سے بڑی ایک امداد کیا ہے؟‏

۴ ضبط نفس کو پیدا کرنے میں ایک سب سے بڑی مدد خدا کا خوف یعنی اپنے شفیق آسمانی باپ کو ناخوش کرنے کا صحت‌بخش ڈر ہے۔ خدا کا یہ مؤدبانہ خوف ہمارے لیے کتنا اہم ہے یہ اس حقیقت سے دیکھا جا سکتا ہے کہ صحائف اس کا بارہا ذکر کرتے ہیں۔ جب ابرہام اپنے بیٹے اضحاق کو قر بان کرنے کو تھا، تو خدا نے کہا:‏ ”‏تو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اور نہ اس سے کچھ کر کیونکہ میں اب جان گیا کہ تو خدا سے ڈرتا ہے اس لیے کہ تو نے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے مجھ سے دریغ نہ کیا۔“‏ (‏پیدایش ۲۲:‏۱۲‏)‏ اس میں کوئی شک نہیں کہ جذباتی دباؤ بہت زیادہ تھا، اسلئے اپنے پیارے بیٹے اضحاق کو قربان کرنے کی حد تک خدا کے حکم کے مطابق چھری اٹھانے کے لیے ابرہام کو بہت زیادہ ضبط نفس دکھانا پڑا ہوگا۔ جی‌ہاں، خدا کا خوف ضبط نفس دکھانے میں ہماری مدد کرے گا۔‏

۵.‏ بدی سے نفرت ہمارے ضبط نفس کو عمل میں لانے کے سلسلے میں کیا کردار ادا کرتی ہے؟‏

۵ بدی سے نفرت کا یہوواہ کے خوف کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ہم امثال ۸:‏۱۳ میں پڑھتے ہیں:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کا خوف بدی سے عداوت ہے۔“‏ اور پھر، بدی سے نفرت ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ بار بار، صحائف ہمیں بتاتے کہ بدی سے نفرت کریں جی‌ہاں، جو کچھ برا ہے اس سے نفرت کریں۔ (‏زبور ۹۷:‏۱۰،‏ عاموس ۵:‏۱۴، ۱۵،‏ رومیوں ۱۲:‏۹‏)‏ وہ جو برا ہے وہ اکثر اس قدر لذت‌بخش، اسقدر تحریصی، اسقدر دل فریب ہوتا ہے کہ ہمیں خود کو اس سے محفوظ کرنے کے لیے ضرور اس سے فقط نفرت ہی کرنی چا ہیے۔ بدی سے اس قسم کی تمام نفرت ضبط نفس کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہمارے عزم کو تقویت دیتی ہے اور یوں ہمارے لیے حفاظت کا کام کرتی ہے۔‏

ضبط نفس، دانشمندی کی روش

۶.‏ ضبط نفس کو عمل میں لاتے ہوئے اپنی خودغرضانہ رغبتوں کا مقابلہ کرنا کیوں دانشمندی کی روش ہے؟‏

۶ ہمارے ضبط نفس کو عمل میں لانے کے لیے ایک اور بڑی مدد اس خوبی کو ظاہر کرنے کی حکمت کی قدر کرنا ہے۔ یہوواہ ہم سے ہمارے اپنے فائدے کے لیے ہی ضبط نفس کو عمل میں لانے کا تقاضا کرتا ہے۔ (‏مقابلہ کریں یسعیاہ ۴۸:‏۱۷، ۱۸‏۔)‏ اس کے کلام میں ایسی کافی مشورت پائی جاتی ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا ضبط نفس پر عمل کرنے سے اپنی خودغرضانہ رغبتوں کو ختم کر دینا کسقدر دانشمندی کی بات ہے۔ ہم خدا کے لاتبدیل قوانین سے ہرگز بچ نہیں سکتے۔ اس کا کلام ہمیں بتاتا ہے:‏ ”‏آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹے گا جو کوئی اپنے جسم کے لیے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹے گا اور جو روح کے لیے بوتا ہے وہ روح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹے گا۔“‏ (‏گلتیوں ۶:‏۷، ۸‏)‏ ایک واضح مثال کھانے اور پینے کی ہے۔ بہت سی بیماریاں لوگوں کے بہت زیادہ کھانے یا پینے کی وجہ سے ہیں۔ خودغرضی کی ایسی تمام خواہشوں کے آگے جھک جانا ایک شخص کی عزت‌نفس کو ختم کر دیتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر، ایک شخص دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کیے بغیر خودغرضی کے آگے جھک ہی نہیں سکتا۔ اس تمام سے بڑھ کر سنجیدہ بات یہ ہے کہ، ضبط نفس کی کمی ہمارے آسمانی باپ کے ساتھ ہمارے رشتے کو نقصان پہنچاتی ہے۔‏

۷.‏ امثال کی کتاب کا ایک بڑا موضوع کیا ہے جیسے کہ کس بائبل حوالے سے ظاہر ہے؟‏

۷ اس لیے، ہمیں خود کو یہ بتاتے رہنا چاہیے کہ خودغرضی خودشکستگی ہے۔ امثال کی کتاب کا ایک نمایاں موضوع، جو تربیت‌نفس پر زور دیتا ہے، وہ یہ ہے کہ خودغرضی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور یہ کہ ضبط نفس کا مظاہرہ کرنے میں ہی تربیت‌نفس ہے۔ (‏امثال ۱۴:‏۲۹،‏ ۱۶:‏۳۲‏)‏ اور یہ یاد رکھیں کہ تربیت‌نفس میں محض بدی سے گریز کرنے سے کہیں زیادہ کچھ شامل ‎“ہے۔ جو کچھ درست ہے اسے کرنے کے لیے بھی ضبط نفس، یا تربیت‌نفس درکار ہے، کیونکہ ایسا کرنا ہماری گنہگارانہ رغبتوں کے سبب سے مشکل ہو سکتا ہے۔‏

۸.‏ کونسا تجربہ ضبط نفس کو عمل میں لانے کی حکمت کو نمایاں کرتا ہے؟‏

۸ ضبط نفس کو عمل میں لانے کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک کا واقعہ ہے جو کہ بینک کے باہر قطار میں کھڑا ہے جبکہ ایک آدمی اسے دھکا دے کر آگے نکل جاتا ہے۔ اگرچہ گواہ کو اس وقت تھوڑا غصہ بھی آیا، لیکن اس نے ضبط نفس کا مظاہرہ کیا۔ اسی دن اسے گنگڈم ہال کے لیے کسی کام کے سلسلے میں دستخط کروانے کے لیے ایک انجنئیر کو ملنا تھا۔ اور وہ انجنئیر کون نکلا؟ وہی آدمی جو بینک میں اسے دھکا دے کر آگے نکل گیا تھا! وہ انجنئیر نہ صرف بہت ملنسار ثابت ہوا بلکہ اس نے گواہ سے باقاعدہ فیس کا دسواں حصہ ہی وصول کیا۔ گواہ کس قدر خوش تھا کہ اس نے اس دن کے شروع میں ضبط نفس کا مظاہرہ کرتے ہو ئے، خود کو طیش میں آنے سے باز رکھا!‏

۹.‏ جب ہمیں خدمتگزاری میں بدکلامی کا سامنا ہوتا ہے تو دانشمندی کی روش کیا ہوگی؟‏

۹ اکثر جب ہم گھر باگھر خدا کی بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کر رہے ہوتے ہیں، یا کسی ایک سڑک کے کنارے پر کھڑے راہ‌گیروں کی توجہ اپنے پیغام پر دلانے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہمیں بدکلامی کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ دانشمندی کی روش کیا ہے؟ یہ دانشمندانہ بیان امثال ۱۵:‏۱ میں درج ہے:‏ ”‏نرم جواب قہر کو دور کرتا ہے۔“‏ دوسرے لفظوں میں، ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔ اور نہ صرف یہوواہ کے گواہوں نے ہی اسے صحیح پایا ہے بلکہ دوسرے کئی لوگوں نے بھی۔ طبی پیشہ ضبط نفس کی شفابخش اہمیت کی دن بدن زیادہ قدر کر رہا ہے۔‏

بے‌لوث محبت مدد دیتی ہے

۱۰، ۱۱.‏ کیوں محبت ضبط نفس کو عمل میں لانے کیلیے حقیقی مدد ہے؟‏

۱۰ محبت کی بابت ۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴-‏۸ میں پولس کی وضاحت یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کی طاقت ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ”‏محبت [‏متحمل]‏ ہے۔“‏ متحمل ہونے کے لیے ضبط نفس درکار ہے۔ ”‏محبت حسد نہیں کرتی۔ شیخی نہیں مارتی۔ اور پھولتی نہیں۔“‏ محبت کی خوبی ہمیں اپنے خیالات اور جذبات کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتی ہے، تاکہ حاسد ہونے، شیخی مارنے، یا پھولنے کے کسی بھی میلان کو ختم کر سکیں۔ محبت ہمیں اس کے بالکل برعکس، یسوع کی طرح فروتن، حلیم بننے کی تحریک دیتی ہے۔ متی ۱۱:‏۲۸-‏۳۰‏۔‏

۱۱ پولس مزید بیان کرتا ہے کہ محبت ”‏نازیبا کام نہیں کرتی۔“‏ ہر وقت شایستگی سے کام کرنے کیلیے بھی ضبط نفس درکار ہے۔ محبت کی خوبی ہمیں لالچ سے یعنی ہمیں محض ”‏اپنی ہی بہتری چاہنے سے باز رکھتی ہے۔“‏ محبت ”‏جھنجھلاتی نہیں۔“‏ دوسرے جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں اسکی وجہ سے غصے میں آنا کتنا آسان ہے! لیکن محبت ہمیں ضبط نفس کا مظاہرہ کرنے اور ایسی باتیں کہنے یا کرنے سے باز رہنے میں مدد دے گی جن کی وجہ سے شاید بعد میں پچھتانا پڑے۔ محبت ”‏رنج کا حساب نہیں رکھتی“‏۔ انسانی فطرت کینے یا آزردگی کو دل میں رکھنے کی طرف مائل ہے۔ لیکن محبت ہمیں ایسے خیالات کو اپنے ذہنوں سے نکالنے میں مدد دے گی۔ محبت ”‏بدکاری سے خوش نہیں ہوتی۔“‏ جو کچھ ناراست ہے جیسے کہ ٹی‌وی کے فحش یا بداخلاق سلسلہ‌وار کھیل، اس سے لطف‌اندوز نہ ہونے کیلئے، ضبط نفس کی ضرورت ہے۔ نیز محبت ”‏سب کچھ سہہ لیتی ہے“‏ اور ”‏سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔“‏ چیزوں سے درگذر کرنے کیلیے ضبط نفس درکار ہے، مشکل یا سخت چیزوں کو برداشت کر نے، اور انہیں ہمیں بے‌حوصلہ کرنے کی اجازت نہ دینے کیلئے، کسی طرح کی بغاوت کر نے، یا ہمیں یہوواہ کی خدمت کو ترک کرنے سے باز رکھنے کیلئے ضبط نفس کی ضرورت ہے۔‏

۱۲.‏ جو کچھ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح نے ہماری خاطر کیا ہے اس کے لیے قدردانی ظاہر کرنے کا ایک طریقہ کیا ہے؟‏

۱۲ اگر ہم حقیقت میں اپنے آسمانی باپ سے محبت کرتے ہیں اور اس کی شاندار خوبیوں کی قدر کرتے ہیں اور جو کچھ اس نے ہمارے لیے کیا ہے اس کی قدر کرتے ہیں، تو ہم ہر موقع پر ضبط نفس کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے خوش کرنا چاہیں گے۔ نیز، اگر ہم اپنے مالک اور خداوند، یسوع مسیح، سے حقیقت میں پیار کرتے ہیں، اور جو کچھ اس نے ہمارے لئے کیا اسکی قدر کرتے ہیں، تو ہم اس کے اس حکم پر کان لگائیں گے کہ ”‏اپنی دکھ کی سولی اٹھا کر مسلسل اس کے پیچھے پیچھے چلیں۔“‏ (‏مرقس ۸:‏۳۴‏، NW)‏ یہ یقیناً اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ضبط نفس کا مظاہرہ کریں۔ اپنے مسیحی بھائی بہنوں کے لیے محبت بھی ہمیں اپنی کسی خودغرضانہ روش کی وجہ سے انہیں نقصان پہنچانے سے باز رکھے گی۔‏

ایمان اور فروتنی بطور مددگار

۱۳.‏ کیوں ایمان ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے میں مدد دے سکتا ہے؟‏

۱۳ ضبط نفس کا مظاہرہ کرنے میں ایک اور بڑی مدد خدا اور اسکے وعدوں پر ایمان ہے۔ ایمان ہمیں اس قابل بنائے گا کہ یہوواہ پر بھروسہ کریں اور اس وقت کا انتظار کریں جب وہ اپنے وقت مقررہ پر معاملات کو درست کرے گا۔ پولسرسول بھی اسی کی نشاندہی کرتا ہے جب وہ رومیوں ۱۲:‏۱۹ میں یہ کہتا ہے:‏ ”‏اے عزیزو! اپنا انتقام نہ لو .‏.‏.‏ کیونکہ یہ لکھا ہے کہ [‏یہوواہ]‏ فرماتا ہے انتقام لینا میرا کام ہے بدلہ میں ہی دوں گا۔“‏ اس سلسلے میں، فروتنی بھی مددگار ہو سکتی ہے۔ اگر ہم فروتن ہیں، تو ہم فرضی یا حقیقی ضرررسانیوں کی وجہ سے قہرآلودہ ہونے میں جلدی نہیں کریں گے۔ گویا ہم جلدبازی میں قانون کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لیں گے، بلکہ ہم ضبط نفس کو عمل میں لائیں گے اور یہوواہ پر بھروسہ کرنے کیلیے رضامند ہوں گے۔ مقابلہ کریں زبور ۳۷:‏۱،‏ ۸‏۔‏

۱۴.‏ کونسا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ جن میں ضبط نفس کی بہت کمی ہے وہ بھی اس کو حاصل کر سکتے ہیں؟‏

۱۴ تاکہ ہم ضبط نفس کو عمل میں لانے کی بابت سیکھ سکیں یہ بات پرزور طریقے سے ایک ایسے شخص کے تجربے سے بیان کی گئی ہے جو کہ بڑا غصے والا تھا۔ جی‌ہاں، اس کا غصہ اتنا خراب تھا کہ جب اس شوروغل کی وجہ سے جو وہ خود اور اس کا باپ کر رہے تھے پولیس کو طلب کیا گیا، تو اس نے اس سے پیشتر کہ دوسرے اسے قابو کرتے تین سپاہیوں کو وقتی طور پر بے‌ہوش کر دیا تھا! تاہم، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ، اس کا رابطہ یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ ہو گیا اور اس نے ضبط نفس کو عمل میں لانا سیکھ لیا، جو کہ خدا کی روح کے پھلوں میں سے ایک ہے۔ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏)‏ آجکل، ۳۰ برس بعد، وہ آدمی ابھی تک وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہا ہے۔‏

خاندانی دائرہ کے اندر ضبط نفس

۱۵، ۱۶.‏ (‏ا)‏کیا چیز ایک شوہر کو ضبط نفس ظاہر کرنے میں مدد دے گی؟ (‏ب)‏ کونسی حالت میں ضبط نفس خاص طور پر درکار ہے، جیساکہ کس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے؟ (‏پ)‏ کیوں ایک بیوی سے ضبط نفس کا تقاضا کیا جاتا ہے؟‏

۱۵ یقیناً خاندانی دائرے کے اندر بھی ضبط نفس درکار ہے۔ ایک شوہر کا اپنی بیوی کو اپنی مانند پیار کرنا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے خیالات، الفاظ ، اور افعال کے سلسلے میں ضبط نفس کو عمل میں لا ئے۔ (‏افسیوں ۵:‏۲۸، ۲۹‏)‏ جی‌ہاں، ۱-‏پطرس ۳:‏۷ میں درج پطرس رسول کے الفاظ پر دھیان دینا شوہروں سے ضبط نفس کا تقاضا کرتا ہے:‏ ”‏اے شوہرو، تم بھی بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرو۔“‏ بالخصوص جب بیوی باایمان نہیں تو ایماندار شوہر کو ضبط نفس کو عمل میں لانے کی ضرورت ہوگی۔‏

۱۶ اس کو واضح کرنے کے لیے:‏ ایک بزرگ تھا جس کی بے‌ایمان بیوی نہایت ہی بدمزاج تھی۔ پھر بھی، اس نے ضبط نفس کا مظاہرہ کیا، اور اس چیز نے اسے اتنا فائدہ دیا کہ اس کے ڈاکٹر نے اسے بتایا:‏ ”‏جان، یا تو تم فطرتاً بہت زیادہ صابر شخص ہو، یا پھر تمہارا مذہب بڑا طاقتور ہے۔“‏ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا مذہب طاقتور ہے، کیونکہ ”‏خدا نے ہمیں دہشت کی روح نہیں بلکہ قدرت اور محبت اور طاقت کی روح دی ہے“‏ جو کہ ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے کے قابل بناتی ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۱:‏۷‏)‏ اس کیساتھ ساتھ ، بیوی کیلیے بھی تابعدار بننے کیلیے ضبط نفس ضروری ہے، خاص طور پر جب اسکا شوہر باایمان نہیں۔ ۱-‏پطرس ۳:‏۱-‏۴‏۔‏

۱۷.‏ والدین اور بچے کے تعلقات کے سلسلے میں کیوں ضبط نفس ضروری ہے؟‏

۱۷ والدین اور بچوں کے مابین تعلق کے لیے بھی ضبط نفس درکار ہو۔ بچوں کو ضبط نفس والا بنانے کے لئے، والدین کو خود سب سے پہلے اچھا نمونہ فراہم کرنا ہے۔ اور جب بچوں کو کسی نہ کسی طرح کی تنبیہ درکار ہو، تو یہ ہمیشہ دل‌جمعی، اور محبت کے ساتھ دی جانی چاہیے، جس کے لیے حقیقی ضبط نفس درکار ہے۔ (‏افسیوں ۶:‏۴،‏ کلسیوں ۳:‏۲۱‏)‏ اور پھر، اپنے والدین کے ساتھ حقیقی محبت دکھانے کے لیے بچوں سے فرمانبرداری کا تقاضا کیا جاتا ہے، اور فرمانبرداری کرنا یقیناً ضبط نفس کا تقاضا کرتا ہے۔ افسیوں ۶:‏۱-‏۳‏، مقابلہ کریں ۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏۔‏

اس مدد کو استعمال کرنا جو یہوواہ فراہم کرتا ہے

۱۸-‏۲۰.‏ ان خوبیوں کو پیدا کرنے کے لیے جو ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے میں مدد دیں گی ہمیں کونسی تین روحانی فراہمیوں سے ضرور استفادہ کرنا چا ہیے؟‏

۱۸ خدا کے خوف میں، بے‌لوث محبت میں، ایمان میں، بدی سے نفرت کرنے میں، اور ضبط نفس میں، ترقی کرنے کے لئے ہمیں اس تمام مدد سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے جو یہوواہ خدا نے فراہم کی ہے۔ آیئے ہم ان تین روحانی فراہمیوں پر غور کریں جو ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ سب سے پہلے، دعا کا بیش‌قیمت شرف ہے۔ ہم کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ دعا کرنے کے لیے حد سے زیادہ مصروف ہوں۔ جی‌ہاں، ہماری خواہش ہونی چاہیے کہ ”‏بلا‌ناغہ دعا“‏ کریں، ”‏دعا کرنے میں مشغول رہیں۔“‏ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۷،‏ رومیوں ۱۲:‏۱۲‏)‏ پس آیئے ہم ضبط نفس پیدا کرنے کو دعائیہ معاملہ بنائیں۔ لیکن جب ہم ضبط نفس کو عمل میں لانے میں ناکام رہتے ہیں، تو آئیے ہم تائب ہو کر اپنے آسمانی باپ سے معافی کے طلبگار ہوں۔‏

۱۹ ضبط نفس ظاہر کرنے میں مدد کے لئے ایک دوسرا حلقہ اس مدد سے استفادہ کرنا ہے جو خدا کے کلام اور اشاعتوں سے حاصل ہوتی ہے جو کہ ہمیں صحائف کو سمجھنے اور ان کا اطلاق کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ اپنی پاک خدمت کے اس حصے کو نظرانداز کرنا بڑا آسان ہے! ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لاتے رہنا اور خود کو یہ بتاتے رہنا چاہیے کہ بائبل سے اور جو کچھ ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر،“‏ فراہم کرتا ہے اس سے زیادہ اہم پڑھنے والا کوئی مواد نہیں، اور اس لیے ہمیں اس کو اولیت دینی چا ہیے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ یہ بالکل سچ ہی کہا گیا ہے کہ زندگی کبھی بھی یہ اور وہ نہیں بلکہ یہ یا وہ ہے۔ کیا ہم درحقیقت روحانی آدمی اور عورتیں ہیں؟ اگر ہم اپنی روحانی ضروریات سے باخبر ہیں، تو ہم ٹی‌وی کو بند کرنے اور اجلاس کی تیاری کرنے یا اس مینارنگہبانی کو پڑھنے کیلئے جو ابھی ڈاک سے موصول ہوا ہے درکارشدہ ضبط نفس کو عمل میں لانے کے قابل ہوں گے۔‏

۲۰ تیسر ی چیز، کلیسیائی اجلاسوں اور بڑی اسمبلیوں اور کنونشنوں کے لیے پوری طرح سے مستعد رہنے کا معاملہ ہے۔ کیا ایسے تمام اجتماع ہمارے لیے قطعی اہم ہیں؟ کیا ہم شرکت کرنے کے لیے تیار ہو کر آتے ہیں اور پھر جوں ہی موقع ملے ایسا کرتے بھی ہیں؟ جس حد تک ہم اپنے اجلاسوں کے لیے کوشاں رہتے ہیں، اسی حد تک ہر طرح کے حالات کے تحت ضبط نفس کو عمل میں لانے کے لیے ہمارا ارادہ مضبوط ہوگا۔‏

۲۱.‏ روح کے پھل، ضبط نفس کو پیدا کرنے کی بدولت ہم چند کونسی بخششوں سے لطف‌اندوز ہو سکتے ہیں؟‏

۲۱ ہر وقت ضبط نفس کو عمل میں لانے کے لیے سخت کوشش کی خاطر ہم کیسے اجر کی توقع کر سکتے ہیں؟ ایک بات تو یہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی خودغرضی کا کڑوا پھل نہیں کاٹنا پڑے گا۔ ہمیں عزت نفس اور صاف ضمیر حاصل ہوں گے۔ ہم خود کو بہت سی مشکلات سے بچا لیں گے اور زندگی کی راہ پر گامزن رہیں گے۔ اسکے علاوہ، ہم اس قابل ہوں گے کہ دوسروں کیساتھ بڑی سے بڑی ممکنہ بھلائی کر سکیں۔ سب سے بڑھ کر، ہم امثال ۲۷:‏۱۱ پر دھیان دے رہے ہوں گے:‏ ”‏اے میرے بیٹے دانا بن اور میرے دل کو شاد کر تاکہ میں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں۔“‏ اور یہی سب سے بڑا اجر ہے جو ہم کبھی حاصل کر سکتے ہیں اپنے شفیق آسمانی باپ، یہوواہ کے دل کو شاد کرنے کا شرف! (‏۱۳ ۱۱/۱۵ w۹۱)‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

▫ کیسے خدا کا خوف ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے میں مدد دیتا ہے؟‏

▫ کیوں محبت ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے میں مدد دیتی ہے؟‏

▫ کیسے ضبط نفس خاندانی تعلقات میں مدد دیتا ہے؟‏

▫ اگر ہمیں ضبط نفس پیدا کرنا ہے تو ہمیں کونسی فراہمیوں کا اچھا استعمال کرنا لازمی ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

آزمائش کے وقت یوسف نے ضبط نفس کا مظاہرہ کیا

‏[‏تصویر]‏

دلجمعی اور محبت کیساتھ بچوں کی تربیت کرنے کیلئے حقیقی ضبط نفس درکار ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں