یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏5 ص.‏ 9-‏14
  • ضبط نفس اس قدر اہم کیوں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ضبط نفس اس قدر اہم کیوں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کیوں ضبط نفس اس قدر اہم ہے
  • آ گاہی کی مثالیں
  • جس چیز پر ہمیں قابو پانے کی ضرورت ہے
  • ضبط نفس کی اتنا بڑا چیلنج ہونے کی وجہ
  • ضبط نفس کا پھل پیدا کرنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • انعام پانے کیلئے ضبطِ‌نفس کو عمل میں لائیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • معرفت پر ضبطِ‌نفس بڑھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • اپنے اندر ضبطِ‌نفس پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏5 ص.‏ 9-‏14

ضبط نفس اس قدر اہم کیوں؟‏

‏”‏تم اپنی طرف سے کمال کوشش کر کے اپنے ایمان پر نیکی اور نیکی پر معرفت اور معرفت پر [‏ضبط نفس]‏ کو بڑھاؤ۔“‏ ۲-‏پطرس ۱:‏۵، ۶‏۔‏

۱.‏ ۱۹ ویں صدی میں جسمانی ضبط نفس کا کونسا شاندار مظاہرہ واقع ہوا؟‏

بلا‌شبہ، جسمانی ضبط نفس کا سب سے حیران‌کن مظاہرہ ۱۹ ویں صدی کے آخری نصف حصے میں چارلس بلونڈن کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، اس نے متعدد بار نیاگرا آبشار کو پار کیا، سب سے پہلے ۱۸۵۹ میں، ایک بازیگر کی رسی کے ذریعے جو کہ ۳۴۰ میٹر لمبی اور ۵۰ میٹر پانی کی سطح سے بلند تھی۔ اس کے بعد، اس نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہو ئے، ہر بار مختلف انداز سے ایسا کیا:‏ آنکھوں پر پٹی باندھ کر، ایک بوری میں، ایک پہیے والی ہتھ گاڑی کو چلاتے ہو ئے، بانسوں کے ساتھ ، اور اپنی پیٹھ پر ایک آدمی کو لاد کر۔ ایک دوسرے موقع پر، اس نے زمین سے ۵۲ میٹر اوپر بندھی ہوئی رسی پر بانسوں کے ذریعے قلابازیاں لگائیں۔ اس طرح سے توازن برقرار رکھنا انتہائی جسمانی ضبط نفس کا تقاضا کرتا تھا۔ اپنی تمام محنت کے پھل کے طور پر، بلونڈن کو شہرت اور دولت دونوں حاصل ہوئیں۔‏

۲.‏ دیگر کس قسم کی کار گزاریاں جسمانی کنٹرول کا تقاضا کرتی ہیں؟‏

۲ اگرچہ، ان مظاہروں کی شاید ہی کوئی نقل کر سکے، لیکن اس سے ہم سب پر پیشہ‌ورانہ مہارتوں یا اسپورٹس میں جسمانی ضبط نفس کی اہمیت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، سابق مشہور پیانونواز ولاڈیمیر ہارووٹز کی غیرمعمولی مہارت کو بیان کرتے ہو ئے، ایک موسیقار نے کہا:‏ ”‏میرے لیے سب سے دلکش چیز مکمل کنٹرول کی سوجھ بوجھ ہی تھی .‏.‏.‏ ، ایک ناقابل‌یقین توانائی کو قابو میں رکھنے کی سوجھ بوجھ ۔“‏ ہارووٹز کی بابت ایک اور رپورٹ نے بیان کیا ”‏مکمل کنٹرول کے ساتھ انگلیوں کو کامیابی سے چلانے کے آٹھ‌د ہے۔“‏

۳.‏ (‏ا)‏ضبط کرنے کی سب سے مبازرت طلب قسم کونسی ہے، اور اس کی تشریح کیسے کی گئی ہے؟ (‏ب)‏ بائبل میں ”‏ضبط نفس“‏ کے طور پر پیش‌کردہ یونانی لفظ کا کیا مطلب ہے؟‏

۳ اس طرح کی مہارت پیدا کرنے کے لیے بڑی کوشش درکار ہے۔ تاہم، اس سے بھی کہیں اہم اور مبازرت طلب ضبط نفس ہے۔ اسکی تشریح بطور ”‏ایک شخص کے اپنے احساسات، جذبات، یا خواہشات پر قابو رکھنے“‏ کے کی گئی ہے۔ مسیحی یونانی صحائف میں، لفظ جس کا ترجمہ ۲-‏پطرس ۱:‏۶ اور دوسری جگہوں پر بطور ”‏ضبط نفس“‏ کے کیا گیا ہے، اسکی تشریح بطور ”‏ایک ایسے شخص کی پارسائی کے کی گئی ہے، جو اپنی خواہشات اور جذبات پر قابو رکھتا ہے، بالخصوص اپنی شہوانی خواہشات پر۔“‏ انفرادی ضبط نفس کو تو ”‏انسانی کامرانیوں کی انتہا“‏ بھی کہا جاتا ہے۔‏

کیوں ضبط نفس اس قدر اہم ہے

۴.‏ ضبط نفس کی کمی نے کونسے برے پھل کاٹے ہیں؟‏

۴ ضبط نفس کی کمی کیا ہی فصل کاٹتی رہی ہے! آجکل دنیا کی زیادہ تر مشکلات اولین طور پر ضبط نفس کی کمی کی وجہ ہی سے ہیں۔ درحقیقت ہم ”‏اخیر زمانہ“‏ میں رہ رہے ہیں، جبکہ ”‏دن برے ہیں۔“‏ عموماً لالچ کی وجہ سے آدمی ”‏ضبط نفس سے خالی“‏ ہیں، جس کی ایک قسم یہ ہے کہ وہ ”‏خدا کی نسبت عیش‌وعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہیں۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵‏)‏ یہ سنجیدہ کرنے والی سچائی دراصل گذشتہ خدمتی سال کے دوران مسیحی کلیسیا کیساتھ رفاقت رکھنے والے ان ۴۰،۰۰۰ گناہ کے مرتکب ہونے والوں کی وجہ سے ہمیں سمجھائی گئی ہے، جو سخت بدچلنی کی وجہ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ ان میں ان بہتیروں کا بھی اضافہ کیا جانا چاہیے جنہیں تنبیہ کی گئی، بالخصوص جنسی بداخلاقی کی وجہ سے لیکن یہ سب کچھ ضبط نفس کو عمل میں لانے میں ناکامی کی وجہ سے ہوا۔ یہ بھی سنجیدہ کرنے والی حقیقت ہے کہ بعض دیرنیہ بزرگ بھی اسی وجہ سے بطور نگہبان اپنے تمام استحقاق کھو بیٹھے ہیں۔‏

۵.‏ ضبط نفس کی اہمیت کو کیسے واضح کیا جا سکتا ہے؟‏

۵ ضبط نفس کی اہمیت کی وضاحت ایک موٹرکار کی مثال سے کی جا سکتی ہے۔ اس کے چار پہیے ہوتے ہیں جو اسے چلنے کے قابل بناتے ہیں، ایک طاقتور انجن جو کہ ان پہیوں کو بڑی تیزی سے حرکت دے سکتا ہے، اور بریکیں جو انہیں روک سکتی ہیں۔ تاہم، اسٹیرنگ ویل، اکسیلیریٹر اور بریکوں کے باقابو استعمال کے ذریعے جب تک یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ پہیے کس سمت میں جائیں، کتنی تیزی سے وہ مڑیں، اور وہ کب رکیں، کوئی شخص ڈرائیور کی سیٹ پر موجود نہ ہو تو تباہی مچ سکتی ہے۔‏

۶.‏ (‏ا)‏محبت کے کونسے معیار کا اطلاق ضبط نفس پر بھی کیا جا سکتا ہے؟ (‏ب)‏ کونسی مزید نصیحت ہمیں ذہن میں رکھنی چاہیے؟‏

۶ ضبط نفس کی اہمیت پر زیادہ زور دینا تو شاید مشکل ہو۔ پولس رسول نے ۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۱-‏۳ میں محبت کی اہمیت کی بابت جو کچھ بھی کہا وہ ضبط نفس کی بابت بھی کہا جا سکتا ہے۔ چاہے ہم ایک پبلک اسپیکر کے طور پر کتنے ہی فصیح کیوں نہ ہوں، چاہے ہم نے مطالعے کی اچھی عادات کی وجہ سے جتنا بھی علم اور ایمان کیوں نہ حاصل کر لیا ہو، چاہے ہم دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا کچھ نہ کر رہے ہوں، جب تک ہم ضبط نفس کو عمل میں نہیں لا تے، تو یہ سب کچھ بیکار ہے۔ ہمیں پولس کے یہ الفاظ ذہن میں رکھنے چاہئیں:‏ ”‏کیا تم نہیں جانتے کہ دوڑ میں دوڑنے والے دوڑتے تو سب ہی ہیں مگر انعام ایک ہی لے جاتا ہے؟ تم بھی ایسے ہی دوڑو تاکہ جیتو۔ اور ہر پہلوان سب طرح سے [‏ضبط نفس]‏ کرتا ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۹:‏۲۴، ۲۵‏)‏ سب باتوں میں ضبط نفس ظاہر کرنے کے لیے ہماری مددگار پولس کی ۱-‏کرنتھیوں۱۰:‏ ۱۲ کی یہ آ گاہی ہے ”‏پس جو کوئی اپنے آپ کو قائم سمجھتا ہے وہ خبردار رہے کہ گر نہ پڑے۔“‏

آ گاہی کی مثالیں

۷.‏ (‏ا)‏کیسے ضبط نفس کی کمی نے نسل‌انسانی کو زوال کی راہ پر ڈال دیا؟ (‏ب)‏ ضبط نفس کی کمی کی کونسی ابتدائی مثالیں صحائف ہمارے لیے فراہم کرتے ہیں؟‏

۷ اپنے افعال پر عقل کی بجائے جذبات کو حاوی ہونے کی اجازت دینے سے، آدم ضبط نفس کو ظاہر کرنے میں ناکام رہا۔ نتیجے کے طور پر، ”‏گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی۔“‏ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ پہلا قتل بھی ضبط نفس کی کمی کی وجہ سے ہوا تھا اسلئے کہ یہوواہ خدا نے قائن کو آ گاہ کر دیا تھا:‏ ”‏تو کیوں غضبناک ہؤا؟ اور تیرا منہ کیوں بگڑا ہؤا ہے؟ گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور کیا تو اس پر غالب آئے گا؟“‏ چونکہ قائن گناہ پر غالب نہیں آیا تھا، اسلئے اس نے اپنے بھائی ہابل کو قتل کر دیا۔ (‏پیدایش ۴:‏۶-‏۱۲‏)‏ لوط کی بیوی بھی ضبط نفس ظاہر کرنے میں ناکام رہی۔ وہ محض پیچھے مڑ کر دیکھنے کی آزمائش کا مقابلہ نہ کر سکی۔ اسے ضبط نفس کی کمی کی کیا قیمت چکانی پڑی؟ اسکی اپنی زندگی! پیدایش ۱۹:‏ ۱۷،‏ ۲۶‏۔‏

۸.‏ پرانے زمانے کے کونسے تین آدمیوں کے تجربات ہمارے لیے ضبط نفس کی ضرورت کی بابت آ گاہی مہیا کرتے ہیں؟‏

۸ یعقوب کے پہلوٹھے بیٹے، روبن، نے ضبط نفس کی کمی کی وجہ سے اپنا پیدائشی حق کھو دیا۔ اس نے یعقوب کی حرموں میں سے ایک کیساتھ مباشرت کرنے کی وجہ سے اپنے باپ کے بچھونے کو نجس کیا۔ (‏پیدایش ۳۵:‏۲۲،‏ ۴۹:‏۳، ۴،‏ ۱-‏تواریخ ۵:‏۱‏)‏ کیونکہ موسیٰ اسرائیلیوں کے بڑبڑانے، شکایت کرنے، اور سرکشی سے تنگ آ کر اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکا، اسلیے اسے ملک موعود میں داخل ہونے کے بڑے عمدہ استحقاق سے محروم رکھا گیا۔ (‏گنتی ۲۰:‏۱-‏۱۳، استثنا ۳۲:‏ ۵۰-‏۵۲)‏ یہاں تک کہ وفادار داؤد بھی، ”‏جو کہ خدا کا دل‌پسند آدمی تھا،“‏ ایک موقع پر ضبط نفس کی کمی کی وجہ سے بڑی مشکل میں پھنس گیا۔ (‏۱-‏سموئیل ۱۳:‏۱۴،‏ ۲-‏سموئیل ۱۲:‏۷-‏۱۴‏)‏ یہ تمام مثالیں ہمیں ایسی صحت‌بخش آ گاہیاں فراہم کرتی ہیں جنکی ہمیں ضبط نفس کا مظاہرہ کرنے کیلئے ضرورت ہے۔‏

جس چیز پر ہمیں قابو پانے کی ضرورت ہے

۹.‏ ایسے کونسے صحائف ایسے ہیں جو ضبط نفس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں؟‏

۹ سب سے پہلے تو یہ کہ ضبط نفس میں ہمارے خیالات اوراحساسات الجھے ہوئے ہیں۔ صحائف میں اکثر ان کا حوالہ علامتی طور پر ایسے الفاظ سے دیا جاتا ہے جیسے ”‏دل“‏ اور ”‏گردے۔“‏ ہم اپنے ذہن کو جس بھی چیز کی بابت سوچنے دیتے ہیں وہ یا تو یہوواہ کو خوش کرنے کی ہماری کوششوں میں مددگار ہوتی ہے یا پھر اس میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اگر ہم فلپیوں ۴:‏۸ میں درج اس نصیحت پر عمل کرنا چاہتے ہیں کہ جتنی باتیں سچ ہیں، شرافت کی ہیں، اور پاک ہیں، ان ہی پر غور کیا کرو، تو ہمیں ضبط نفس کی ضرورت ہے۔ زبورنویس داؤد نے دعا میں اسی قسم کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏میرے دل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے اے [‏یہوواہ]‏ میری چٹان اور میرے فدیہ دینے وا لے۔“‏ (‏زبور ۱۹:‏۱۴‏)‏ دسواں حکم تو اپنے پڑوسی کے مال کا لالچ نہ کرنا بھی ایک شخص سے اپنے خیالات کو قابو میں رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ (‏خروج ۲۰:‏۱۷)‏ یسوع نے ایک شخص کے اپنے خیالات اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی سنجیدگی کو اجاگر کیا جب اس نے کہا:‏ ”‏جس کسی نے بری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کر چکا۔“‏ متی ۵:‏۲۸‏۔‏

۱۰.‏ بائبل کے کونسے حوالہ‌جات ہمارے اپنی گفتگو کو قابو میں رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں؟‏

۱۰ ضبط نفس میں ہمارے الفاظ، ہمارا کلام بھی شامل ہیں۔ ایسے بہت سے صحائف ہیں جو کہ ہمیں اپنی زبان پر قابو رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر:‏ ”‏کیونکہ خدا آسمان پر ہے اور تو زمین پر اس لیے تیری باتیں مختصر ہوں۔“‏ (‏واعظ ۵:‏۲‏)‏ ”‏کلام کی کثرت خطا سے خالی نہیں لیکن ہونٹوں کو قابو میں رکھنے والا دانا ہے۔“‏ (‏امثال ۱۰:‏۱۹‏)‏ ”‏کوئی گندی بات تمہارے منہ سے نہ نکلے بلکہ وہی جو ضرورت کے موافق ترقی کے لیے اچھی ہو .‏ .‏ .‏ ہر طرح کا .‏ .‏ .‏ شوروغل اور بدگوئی ہر قسم کی بدخواہی سمیت تم سے دور کی جائیں۔“‏ اور آ گے چل کر پولس یہ بھی نصیحت کرتا ہے کہ ہم میں بیہودہ گوئی اور ٹھٹھابازی کا ذکر تک نہ ہو۔ افسیوں ۴:‏۲۹،‏ ۳۱،‏ ۵:‏۳، ۴‏۔‏

۱۱.‏ یعقوب زبان کو قابو میں رکھنے کے مسئلے پر کیسے گفتگو کرتا ہے؟‏

۱۱ یسوع کا سوتیلا بھائی، یعقوب، بے‌لگام گفتگو کو رد کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ زبان پر قابو رکھنا کسقدر مشکل ہے۔ وہ کہتا ہے:‏ ”‏زبان ایک چھوٹا سا عضو ہے اور بڑی شیخی مارتی ہے۔ دیکھو! تھوڑی سی آ گ سے کتنے بڑے جنگل میں آ گ لگ جاتی ہے! زبان بھی ایک آ گ ہے۔ زبان ہمارے اعضا میں شرارت کا ایک عالم ہے اور سارے جسم کو داغ لگاتی ہے اور دائرہ دنیا کو آ گ لگا دیتی ہے اور جہنم کی آ گ سے جلتی رہتی ہے۔ کیونکہ ہر قسم کے چوپائے اور پرندے اور کیڑےمکوڑے اور دریائی جانور تو انسان کے قابو میں آ سکتے ہیں اور آئے بھی ہیں۔ مگر زبان کو کوئی آدمی قابو میں نہیں کر سکتا۔ وہ ایک بلا ہے جو کبھی رکتی نہیں وہ زہرقاتل سے بھری ہوئی ہے۔ اسی سے ہم [‏یہوواہ]‏ اپنے باپ کی حمد کرتے ہیں اور اسی سے آدمیوں کو جو خدا کی صورت پر پیدا ہوئے ہیں بددعا دیتے ہیں۔ ایک ہی منہ سے مبارکباد اور بددعا نکلتی ہے۔ اے میرے بھائیو، ایسا نہ ہونا چاہئے۔“‏ یعقوب ۳:‏۵-‏۱۰‏۔‏

۱۲، ۱۳.‏ ایسے کونسے صحائف ہیں جو ہمارے اپنے افعال اور کردار کو قابو میں رکھنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں؟‏

۱۲ بلا‌شبہ، ضبط نفس میں ہمارے افعال بھی شامل ہیں۔ ایک حلقہ جس میں بہت زیادہ ضبط نفس دکھانے کی ضرورت ہے وہ مخالف جنس کیساتھ ہمارے تعلقات کے سلسلے میں ہے۔ مسیحیوں کیلیے حکم ہے:‏ ”‏جنسی بداخلاقی سے بھاگو۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۸ نیو انٹرنیشنل ورشن)‏ شوہروں کو جزوی طور پر یہ نصیحت کی گئی ہے کہ وہ جنسی تعلقات صرف اپنی بیویوں تک ہی محدود رکھیں، کیونکہ کہا گیا ہے:‏ ”‏تو پانی اپنے ہی حوض سے اور بہتا پانی اپنے ہی چشمہ سے پینا۔“‏ (‏امثال ۵:‏۱۵-‏۲۰‏)‏ ہمیں واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ ”‏خدا حرامکاروں اور زانیوں کی عدالت کرے گا۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۴‏)‏ ضبط نفس کی خاص طور پر انہیں ضرورت ہے جو بے‌بیاہے رہنے کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ متی ۱۹:‏۱۱، ۱۲،‏ ۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳۷‏۔‏

۱۳ یسوع نے ساتھی انسانوں کے ساتھ ہمارے افعال کے معاملے کا خلاصہ بیان کر دیا جب اس نے وہ جسے عام طور پر ”‏سنہری اصول“‏ کہا جاتا ہے پیش کیا:‏ ”‏پس جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی ان کے ساتھ کرو کیونکہ توریت اور نبیوں کی تعلیم بھی یہی ہے۔“‏ (‏متی ۷:‏۱۲‏)‏ واقعی، اسکے لئے ضبط نفس کی ضرورت ہے کہ اپنے خودغرض رحجانات، یا بیرونی دباؤ، یا آزمائشوں کو دوسروں کے ساتھ اس سلوک کے برعکس نہ کرنے دیں جسکی ہم ان سے توقع کریں گے۔‏

۱۴.‏ کھانے اور پینے کی بابت خدا کا کلام کونسی نصیحت کرتا ہے؟‏

۱۴ اس کے علاوہ کھانے اور پینے کے معاملے میں بھی ضبط نفس کی بات آتی ہے۔ خدا کا کلام دانشمندی سے مشورہ دیتا ہے:‏ ”‏تو شرابیوں میں شامل نہ ہو اور نہ حریص کبابیوں میں۔“‏ (‏امثال ۲۳:‏۲۰‏)‏ بالخصوص ہمارے زمانے کی بابت، یسوع نے آ گاہ کیا:‏ ”‏پس خبردار رہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل خمار اور نشہ‌بازی اور اس زندگی کی فکروں سے سست ہو جائیں اور وہ دن تم پر پھندے کی طرح آ پڑے۔“‏ (‏لوقا ۲۱:‏۳۴، ۳۵‏)‏ جی‌ہاں، ضبط نفس ہمارے خیالات اور احساسات، اور ہمارے اقوال اور افعال سب کو الجھائے ہوئے ہے۔‏

ضبط نفس کی اتنا بڑا چیلنج ہونے کی وجہ

۱۵.‏ مسیحیوں کے ضبط نفس کو عمل میں لانے کے خلاف شیطان کی مخالفت کی حقیقت کو کیسے صحائف ظاہر کرتے ہیں؟‏

۱۵ ضبط نفس آسانی سے حاصل نہیں ہوتا، جیسے کہ سب مسیحی یہ جانتے ہیں کہ، ہمارے ضبط نفس کو عمل میں لانے کے خلاف تین بڑی قوتیں کارفرما ہیں۔ سب سے پہلے تو، شیطان اور اس کے شیاطین ہیں۔ صحائف ان کی حقیقت کی بابت کوئی شبہ نہیں رہنے د یتے۔ پس، ہم پڑھتے ہیں کہ یسوع کو پکڑوانے کے لیے باہر جانے سے پہلے یہوداہ میں ”‏شیطان سما“‏ گیا۔ (‏یوحنا ۱۳:‏۲۷‏)‏ پطرس رسول نے حننیاہ سے پوچھا:‏ ”‏کیوں شیطان نے تیرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ تو روح‌القدس سے جھوٹ بو لے؟“‏ (‏اعمال ۵:‏۳‏)‏ نہایت موزوں طور پر، پطرس نے بھی آ گاہ کیا:‏ ”‏تم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تمہارا مخالف ابلیس گرجنے والے شیرببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھا ئے۔“‏ ۱-‏پطرس ۵:‏۸‏۔‏

۱۶.‏ اس دنیا کے سلسلے میں مسیحیوں کو کیوں ضبط نفس کو عمل میں لانا چاہیے؟‏

۱۶ ضبط نفس کو ظاہر کرنے کی اپنی کوششوں میں، مسیحیوں کو اس دنیا کا مقابلہ بھی کرنا ہے جو کہ ”‏اس شریر کے قبضہ“‏ یعنی شیطان ابلیس کے تحت ہے۔ اس کی بابت یوحنا رسول نے لکھا:‏ ”‏نہ دنیا سے محبت رکھو نہ ان چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔ جو کوئی دنیا سے محبت رکھتا ہے اس میں باپ کی محبت نہیں۔ کیونکہ جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔ دنیا اور اس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہیگا۔“‏ جبتک ہم ضبط نفس ظاہر نہیں کرتے اور مضبوطی کے ساتھ دنیا سے محبت کرنے کی خواہش کا مقابلہ نہیں کر تے، ہم اس کے اثر کا شکار ہو جائیں گے، جیسے پولس کے ساتھی کارکن دیماس نے ایک بار کیا۔ ۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷،‏ ۵:‏۱۹،‏ ۲-‏تیمتھیس ۴:‏۱۰‏۔‏

۱۷.‏ جہاں تک ضبط نفس کا تعلق ہے ہم کونسے مسئلے کیساتھ پیدا ہوئے ہیں؟‏

۱۷ اگر ہمیں اپنی موروثی جسمانی کمزوریوں اور خامیوں کا کامیابی سے مقابلہ کرنا ہے تو بطور مسیحیوں کے ہمیں ضبط نفس کی ضرورت ہے۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ ”‏انسان کے دل کے خیال لڑکپن سے برے ہیں۔“‏ (‏پیدایش ۸:‏۲۱‏)‏ بادشاہ داؤد کی طرح ”‏ہم نے بدی میں صورت پکڑی اور ہم گناہ کی حالت میں اپنی ماں کے پیٹ میں پڑے۔“‏ (‏زبور ۵۱:‏۵‏)‏ ایک نوزائیدہ بچہ ضبط نفس کی بابت کچھ نہیں جانتا۔ جب اسے کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے، تو وہ اس وقت تک روتا رہتا ہے جب‌تک وہ چیز اسے مل نہیں جاتی۔ بچوں کی تربیت پر مبنی ایک رپورٹ بیان کرتی ہے:‏ ”‏بچے بالغوں سے بالکل مختلف انداز میں استدلال کرتے ہیں۔ بچے اپنے آپ میں مگن ہوتے ہیں اور اکثر زیادہ‌تر منطقی ترغیب پر کوئی توجہ نہیں دیتے کیونکہ وہ ”‏خود کو دوسرے آدمی کی جگہ پر رکھنے“‏ کے قابل نہیں ہو تے۔“‏ واقعی ”‏حماقت لڑکے کے دل سے وابستہ ہے۔“‏ تاہم، ”‏تربیت کی چھڑی“‏ کا استعمال کرنے سے ، وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے کہ ایسے اصول بھی ہیں جن کی اسے فرمانبرداری کرنا لازمی ہے اور یہ کہ خودغرضی پر قابو پانا چاہئے۔ امثال ۲۲:‏۱۵‏۔‏

۱۸.‏ (‏ا)‏یسوع کے مطابق، علامتی دل میں کونسی رغبتیں بسیرا کرتی ہیں؟ (‏ب)‏ پولس کے کونسے الفاظ ضبط نفس کو عمل میں لانے کے مسئلے کی بابت اس کی واقفیت کو ظاہر کرتے ہیں؟‏

۱۸ جی‌ہاں، جب ضبط نفس کا مظاہرہ کرنے کی بات آتی ہے تو ہماری پیدائشی خودغرضانہ رغبتیں ہمیں ایک چیلنج پیش کرتی ہیں۔ یہ رغبتیں علامتی دل میں رہتی ہیں، جس کی بابت یسوع نے کہا:‏ ”‏برے خیال۔ خونریزیاں۔ زناکاریاں۔ حرامکاریاں۔ چوریاں۔ جھوٹی گواہیاں۔ بدگوئیاں دل ہی سے نکلتی ہیں۔“‏ (‏متی ۱۵:‏۱۹‏)‏ اسی لیے پولس نے لکھا:‏ ”‏جس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا اسے کر لیتا ہوں۔ پس اگر میں وہ کرتا ہوں جس کا ارادہ نہیں کرتا تو اس کا کرنے والا میں نہ رہا بلکہ گناہ ہے جو مجھ میں بسا ہوا ہے۔“‏ (‏رومیوں ۷:‏۱۹، ۲۰‏)‏ تاہم، یہ خسارے والی لڑائی نہیں تھی، کیونکہ پولس نے لکھا:‏ ”‏میں اپنے بدن کو مارتاکوٹتا اور اسے قابو میں رکھتا ہوں ایسا نہ ہو کہ اوروں میں منادی کر کے آپ نامقبول ٹھہروں۔“‏ اپنے بدن کو مار نے‌کوٹنے کے لیے اسے ضبط نفس کو عمل میں لانے کی ضرورت تھی۔ ۱-‏کرنتھیوں ۹:‏۲۷‏۔‏

۱۹.‏ پولس کیوں مناسب طور پر یہ کہہ سکتا تھا کہ وہ اپنے جسم کو مارتاکوٹتا تھا؟‏

۱۹ پس خوب پولس کیونکہ یہ کہہ سکتا تھا کہ وہ اپنے بدن کو مارتاکوٹتا ہے لیکن ضبط نفس کو عمل میں لانا بہتیرے جسمانی اسباب کی وجہ سے پیچیدہ ہو جاتا ہے، جیسے ہائی بلڈ پریشر، اعصابی کمزوری، نیند کی کمی، سردرد، بدہضمی، اور اسی طرح کی کئی دوسری۔ اگلے مضمون میں، ہم ایسی خوبیوں اور امداد پر غور کریں گے جو ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے میں مدد دیں گی۔ (‏۸ ۱۱/۱۵ w۹۱)‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

▫ کیوں ضبط نفس اہم ہے؟‏

▫ ان لوگوں کی کونسی ایسی چند مثالیں ہیں جنہوں نے ضبط نفس کی کمی کی وجہ سے نقصان اٹھایا؟‏

▫ کونسے حلقوں میں ہمیں ضبط نفس کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے؟‏

▫ کونسے تین دشمن ہمارے لیے ضبط نفس کو عمل میں لانا مشکل بناتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

مسیحیوں کو کھانے اور پینے کے سلسلے میں ضبط نفس کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے

‏[‏تصویر]‏

ضبط نفس نقصاندہ فضول گوئی سے باز رہنے میں ہماری مدد کرے گا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں