سوالات از قارئین
▪ جب کوئی مر جا تا ہے، تو کیا مسیحیوں کیلئے خاندان کو پھول دینا یا جنازگاہ کیلئے پھول بھیجنا مناسب ہے؟
بعض ممالک میں ایسا کرنے کا رواج ہے۔ لیکن بعض اوقات جنازوں پر پھولوں کا استعمال کیا جانا ایک مذہبی مطلب رکھتا ہے۔ اسلئے آئیے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیں، خاصطور پر اسلئےکہ دوسری رسومات ہیں جو جھوٹے مذہب کیساتھ ویسے ہی تعلقات رکھتے ہوئے دکھائی دے سکتی ہیں۔ دی انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن (۱۹۸۷) سے تبصروں پر غور کریں:
”دیوی اور دیوتاؤں کے ساتھ پھولوں کے تعلق سے انکا رابطہ متبرک قلمرو سے ہو جاتا ہے۔ موسمبہار اور پھولوں کی رومی دیوی، فلورا، پھولوں کو خوشبو اور خوبصورتی عطا کرتی ہے۔ . . . کھانا اور پھولوں کا نذرانہ پیش کرنے سے . . . دیوی یا دیوتاؤں کا غصہ ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے اور ان کی پرستش کی جا سکتی ہے۔“
”موت کی رسومات کے ساتھ پھولوں کا واسطہ تمام دنیا میں ہے۔ یونانی اور رومی مردوں اور انکی قبروں کو پھولوں سے ڈھانپتے ہیں۔ جاپان میں مرتے ہوئے بدھسٹوں کی جانوں کو کنول کے پھولوں پر اوپر اٹھایا جاتا ہے، اور قبرستانوں میں کتبوں کو شاید کھدے ہوئے کنول کے پھولوں پر رکھا جائے . . . تاہیٹی کے باشندے موت کے بعد بدن کے پاس فرن میں لپٹے ہوئے گلدستے چھوڑ دیتے ہیں اور اسکے بعد لاش پر پھولوں کا عطر ڈالتے ہیں تاکہ بعد کی متبرک زندگی میں داخلے کو آسان بنایا جا سکے . . . پھول متبرک اوقات پر بخور یا عطر کی شکل میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔“
اس سے باخبر ہوتے ہوئے کہ پھولوں کو جھوٹے مذہب کے سلسلے میں استعمال کیا گیا ہے بعض مسیحیوں نے محسوس کیا ہے کہ انہیں جنازے کیلئے پھول بھیجنے یا دینے نہیں چاہییں۔ انکے جذبات شاید دنیاوی رسومات سے گریز کرنے کی خواہش کو بھی ظاہر کریں، چونکہ یسوع کے پیروکاروں کو ”دنیا کا حصہ نہیں“ بننا ہے۔ (یوحنا ۱۵:۱۹) تاہم، متعلقہ بائبل آیات اور مقامی نقاط نظر کا معاملے سے واسطہ ہے۔
پھول زندگان کے لطف اٹھانے کیلئے خدا کی عمدہ نعمتوں کا حصہ ہیں۔ (اعمال ۱۴:۱۵-۱۷، یعقوب ۱:۱۷) اسکی تخلیقکردہ پھولوں کی خوبصورتی سچی پرستش میں استعمال ہوئی ہے۔ مسکن میں شمعدان کو ”بادام کے پھولوں . . . اور کلیوں“ سے سجایا گیا تھا۔ (خروج ۲۵:۳۱-۳۴) ہیکل میں کھجور کے درخت اور کھلے ہوئے پھولوں کی کھدی ہوئی صورتیں شامل تھیں۔ (۱-سلاطین ۶:۱۸، ۲۹، ۳۲) صاف ظاہر ہے کہ پھولوں یا ہاروں کے بتپرستانہ استعمال کا یہ مطلب نہیں کہ سچے پرستاروں کو ان کے استعمال سے ہمیشہ اجتناب کرنا تھا۔ اعمال ۱۴:۱۳۔
تاہم، رسومات پر چلنے کے وسیع معاملے، جیسے کہ جنازے کی رسومات کی بابت کیا ہے؟ بائبل بہت سی رسومات کا ذکر کرتی ہے، بعض سچے پرستاروں کیلئے نامناسب ہیں، دیگر کو خدا کے لوگ اختیار کرتے ہیں۔ پہلا سلاطین ۱۸:۲۸ بعل کے پجاریوں کے اس ”دستور“ کا حوالہ دیتی ہے جس میں وہ ”بلند آواز سے پکارتے اور اپنے آپ کو گھایل کرتے تھے“ ایک ایسا دستور جسے سچے پرستار کبھی نہیں اپنائینگے۔ اسکے برعکس، روت ۴:۷ ”اگلے زمانہ میں اسرائیل میں [معاملہ کو پکا کرنے کیلئے] چھڑانے اور بدلنے کے معمول“ کی بابت کسی طرح کی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرتی۔
خدا کو پسندیدہ روایات شاید سخت مذہبی معاملات میں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ جب خدا نے فسح کی رسم کی بابت تفصیلات واضح کیں تو مے کے استعمال کی بابت کوئی ذکر نہ کیا تھا، لیکن پہلی صدی کے لگ بھگ ، مے کے پیالوں کا استعمال رواج بن چکا تھا۔ یسوع اور اسکے شاگردوں نے اس مذہبی روایت کو رد نہیں کیا تھا۔ انہوں نے اسے ناقابل اعتراض پایا، اور وہ اسے عمل میں بھی لا ئے۔ خروج ۱۲:۶-۱۸، لوقا ۲۲:۱۵-۱۸، ۱-کرنتھیوں ۱۱:۲۵۔
اسی طرح جنازے کی بعض روایات کی بابت بھی ایسا ہی ہے، مصری رویتاً مردے کو خوشبو وغیرہ لگاتے تھے۔ ایماندار بزرگ آبائی یوسف نے فوراً یہ ردعمل نہیں ظاہر کیا کہ ”یہ تو غیرقوم دستور ہے، لہذا ہم عبرانیوں کو اس سے گریز کرنا چاہیے۔“ اسکی بجائے، اس نے ”ان طبیبوں کو جو اسکے نوکر تھے اپنے باپ کی لاش میں خوشبو بھرنے کا حکم دیا،“ بظاہر اسلئے کہ یعقوب کو ملک موعود میں دفن کیا جا سکے۔ (پیدایش ۴۹:۲۹-۵۰:۳) یہودیوں نے بعد میں جنازے کی مختلف رسومات کو اپنا لیا، جیسے کہ لاش کو نہلانا اور اسے موت کے دن ہی دفن کرنا۔ ابتدائی مسیحیوں نے ایسی یہودی رسومات کو قبول کر لیا اعمال ۹:۳۷۔
تاہم، کیا ہو اگر جنازے کی رسم کو مذہبی خطا پر مبنی خیال کیا جاتا ہے، جیسے کہ ایک غیرفانی جان پر اعتقاد؟ انسائیکلوپیڈیا کی بات کو یاد کریں کہ بعض ”موت کے بعد لاش کے پاس فرن میں لپٹے ہوئے پھولوں کے گلدستے چھوڑ جاتے ہیں اور پھر لاش پر پھولوں کا عطر ڈالتے ہیں تاکہ بعد کی متبرک زندگی میں اسکے داخلے کو آسان بنایا جا سکے۔“ ایسی رسومات کا ہونا ہرگز یہ مطلب نہیں رکھتا کہ خدا کے خادموں کو اسی طرح کی کسی بھی چیز سے گریز کرنا چاہیے۔ اگرچہ یہودی ”بعد کی متبرک زندگی میں داخل ہونے پر“ یقین نہیں رکھتے تھے، تاہم بائبل کہتی ہے: ”انہوں نے یسوع کی لاش لیکر اسے سوتی کپڑے میں خوشبودار چیزوں کیساتھ کفنایا جسطرح کہ یہودیوں میں دفن کرنے کا دستور ہے۔“ یوحنا ۱۲:۲-۸، ۱۹:۴۰۔
مسیحیوں کو ایسی رسومات سے گریز کرنا چاہیے جو بائبل کی سچائی کے برعکس ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۶:۱۴-۱۸) تو بھی، ہر طرح کی چیزوں، نقشونگار، اور کاموں کو، کسی وقت میں یا کسی نہ کسی جگہ پر، غلط بیانی سے پیش کیا گیا ہے یا انہیں غیرصحیفائی تعلیمات کیساتھ ملایا گیا ہے۔ درختوں کی پرستش کی گئی ہے، دل کی شکل کو مقدس خیال کیا گیا ہے، اور بخور کو غیرقوم رسومات میں استعمال کیا گیا ہے۔ کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ ایک مسیحی کو کبھی بھی بخور استعمال نہیں کرنا چاہیے، درختوں کو کسی طرح سے بھی سجانا نہیں چاہیے، یا پھر دل کی شکل والے زیورات نہیں پہننے چاہییں؟ a یہ کوئی معقول فیصلہ نہیں۔
ایک سچے مسیحی کو اس پر غور کرنا چاہیے: کیا اس رسم کو منانا دوسروں پر یہ ظاہر کریگا کہ میں نے غیرصحیفائی عقائد یا کاموں کو اپنا لیا ہے؟ وقتی مدت اور مقام جواب پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ ایک دستور (یا ڈیزائن) شاید ہزاروں سال پہلے ایک غلط مذہبی مطلب رکھتا ہو یا شاید آج بھی کسی دوردراز کے علاقے میں ایسا ہو۔ لیکن وقتی مدت کی تحقیقو تفتیش میں جائے بغیر، خود سے پوچھیں: ”جہاں میں رہتا ہوں وہاں اسکی بابت عام نظریہ کیا ہے؟“ ۱-کرنتھیوں ۱۰:۲۵-۲۹۔
اگر یہ مشہور بات ہے کہ کوئی رسم (یا کوئی ڈیزائن، جیسے کہ صلیب) ایک غلط مذہبی مطلب رکھتا ہے تو اس سے گریز کریں۔ لہذا مسیحی صلیب کی شکل میں یا سرخ دل کی شکل میں پھول سجا کر بھی نہیں بھیجیں گے، اگر اسے بھی کوئی مذہبی علامت خیال کیا جاتا ہے۔ یا شاید کچھ ایسے رسمی طریقے ہوں جن میں قبر پر یا قبرستان میں پھول استعمال کئے جاتے ہوں جو کہ مقامی طور پر مذہبی مطلب رکھتے ہوں۔ مسیحی کو اس سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جنازے پر پھولوں کا گلدستہ پیش کرنا یا ہسپتال میں کسی دوست کو پھول دینے کو ایک مذہبی فعل خیال کیا جانا چاہیے جس سے گریز کرنا لازم ہے۔b
اسکے برعکس، کئی ممالک میں پھول دینے کا رواج مقبولعام ہے اور اسے مناسب مہربانی کے طور پر خیال کیا جاتا ہے۔ پھول خوبصورتی میں کچھ اضافہ کرتے ہیں اور ایک اداس موقع کو بھی خوشگوار بنا دیتے ہیں۔ وہ ہمدردی اور فکرمندی کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسری جگہوں پر شاید جذبات کا اظہار ایک فیاضی کے فعل کے ساتھ کرنے کا رواج ہو، جیسے بیمار یا رنجیدہ لوگوں کے لئے کھانا فراہم کرنا۔ (تبیتا کے لئے محسوس کردہ ہمدردی کو یاد کریں کیونکہ وہ دوسروں میں دلچسپی لیتی تھی اور دوسروں کی فکر کرتی تھی۔ [اعمال ۹:۳۶-۳۹]) جب اسطرح کے کام کرنا واضح طور پر جھوٹے عقائد کیساتھ وابستہ نہ ہو تو بعض یہوواہ کے گواہوں میں ایک ہسپتال میں داخل دوست کو یا موت کی حالت میں فیاضی سے پھول پیش کرنے کا رواج ہے۔ اور انفرادی طور پر اپنی دلچسپی اور احساسات کا مزید اظہار کرنے کیلئے وہ عملی طور پر بھی کچھ کر سکتے ہیں۔ یعقوب ۱:۲۷، ۲:۱۴-۱۷۔ (۳۰ ۱۰/۱۵ w۹۱)
[فٹنوٹ]
a غیرقوم بڑے عرصہ سے اپنی رسومات میں پھولوں کی خوشبو کا استعمال کرتے آئے ہیں، لیکن سچے پرستاروں کے لئے عبادت میں خوشبو کا استعمال کرنا کوئی غلط بات نہ تھی۔ (خروج ۳۰:۱، ۷، ۸، ۳۷:۲۹، مکاشفہ ۵:۸) اس کے علاوہ دسمبر ۲۲، ۱۹۷۶ کے اویک ! میں دیکھیں ”کیا وہ بتپرستانہ سجاوٹیں ہیں؟“
b خاندان کی خواہشات کا احترام کیا جانا چاہیے، کیونکہ بعض اس کا اعلان کر دیتے ہیں کہ اگر کوئی پھول بھیجنا چاہتا ہے تو اس کی بجائے کلیسیا میں چندہ ڈال دے یا کسی کو خیرات دیدے۔