حلم سے ملبس ہوں!
”پس خدا کے برگزیدوں کی طرح جو پاک اور عزیز ہیں دردمندی اور مہربانی اور فروتنی اور حلم اور تحمل کا لباس پہنو۔“ کلسیوں ۳:۱۲۔
۱-۳. کلسیوں ۳:۱۲-۱۴ میں رسول پولس، حلم اور دوسری خدائی صفات کی بابت کیا کہتا ہے؟
یہوواہ اپنے لوگوں کو مجازاً سب سے بہترین لباس عطا کرتا ہے۔ درحقیقت، وہ سب جو اس کی مقبولیت حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں انہیں ایسی پوشاک سے ملبس ہونا چاہیے جو حلم کی مضبوط تاروں سے بنی ہوئی ہے۔ یہ خوبی اطمینانبخش ہے کیونکہ یہ پریشانکن حالات میں کشیدگی کو کم کرتی ہے۔ یہ تحفظ بخش بھی ہے، کیونکہ یہ جھگڑے کی روک تھام کرتی ہے۔
۲ رسول پولس نے ممسوح ساتھی مسیحیوں کو تاکید کی: ”پس خدا کے برگزیدوں کی طرح جو پاک اور عزیز ہیں دردمندی اور مہربانی اور فروتنی اور حلم اور تحمل کا لباس پہنو۔“ (کلسیوں ۳:۱۲) یونانی لفظ جس کا ترجمہ ”لباس پہنو“ کے طور پر کیا گیا ہے اس کا فعل فوری توجہ کی ضرورت کے تحت کیے جانے والے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ ممسوح لوگ ، جو چنے ہو ئے، پاک ، اور خدا کے عزیز تھے، انہیں خود کو حلم جیسی اچھی خوبیوں سے ملبس کرنے میں تاخیر نہیں کرنی تھی۔
۳ پولس نے مزید اضافہ کیا: ”اگر کسی کو ایک دوسرے کی شکایت ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کرے اور ایک دوسرے کے قصور معاف کرے۔ جیسے خداوند نے تمہارے قصور معاف کیے ویسے ہی تم بھی کرو۔ اور ان سب کے اوپر محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔“ (کلسیوں ۳: ۱۳، ۱۴) محبت، حلم، اور دوسری خدائی خوبیاں یہوواہ کے گواہوں کے لیے یہ ممکن بناتی ہیں کہ وہ ”باہم مل کر رہیں۔“ زبور ۱۳۳:۱-۳۔
حلممزاج گلہبانوں کی ضرورت
۴. سچے مسیحی کونسی خوبیوں سے بنا ہوا مجازی لباس پہنتے ہیں؟
۴ سچے مسیحی کوشش کرتے ہیں کہ ”حرامکاری، ناپاکی، شہوت، بری خواہش، اور لالچ کی بابت اپنے اعضا کو مردہ کر دیں،“ اور وہ پرانی انسانیت کو جو غصہ، قہر، بدخواہی، بدگوئی، اور گندی باتوں سے آراستہ ہے اس کے کاموں سمیت اتار ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (کلسیوں ۳:۵-۱۱) وہ ”پرانی انسانیت“ (لفظی طور پر، ”پرانے انسان“) کو اتار دیتے اور ایک موزوں لباس، ”نئی انسانیت“ ( یا، ”نئے انسان“) کو پہن لیتے ہیں۔ (افسیوں ۴:۲۲-۲۴، کنگڈم انٹرلینئر) ان کا نیا لباس، جو کہ دردمندی، مہربانی، فروتنی، حلم اور تحمل سے بنا ہوا ہے، انہیں مسائل کو حل کرنے اور خداپرست زندگیاں گذارنے میں مدد دیتا ہے۔ متی ۵:۹، ۱۸:۳۳، لوقا ۶:۳۶، فلپیوں ۴:۲، ۳۔
۵. مسیحی کلیسیا کی کارکردگی میں کونسی ایسی خاص بات ہے جو اس کا حصہ ہونے کو ایسا خوشگوار بناتی ہے؟
۵ انسان جنہیں اس دنیا میں کامیاب خیال کیا جاتا ہے، وہ اکثر سخت اور ظالم بھی ہوتے ہیں۔ (امثال ۲۹:۲۲) تسکینبخش طور پر یہوواہ کے لوگوں کے درمیان یہ کسقدر مختلف ہے! مسیحی کلیسیا اس طرح کام نہیں کرتی جیسے بعض لوگ ایک کاروبار کو چلاتے ہیں ایک اثرآفرین مگر سخت طریقے سے جو شاید لوگوں کو ناخوش کر دے۔ اس کی بجائے، ایک کلیسیا کا حصہ ہونا خوشیبخش ہوتا ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ حلم اس حکمت کا ایک حصہ ہے جو مسیحی عام طور پر ظاہر کرتے ہیں اور بالخصوص ان لائق آدمیوں کی طرف سے دکھائی جاتی ہے جو ساتھی مسیحیوں کو تعلیم دیتے ہیں۔ جیہاں، مقررشدہ بزرگ جو ”اس حلم کے ساتھ جو حکمت سے پیدا ہوتا ہے“ سکھاتے ہیں ان کی طرف سے دی جانے والی مشورت اور ہدایت خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ یعقوب ۳:۱۳۔
۶. مسیحی بزرگوں کو کیوں حلممزاج ہونا چاہیے؟
۶ خدا کے لوگوں کی روح، یا نمایاں رویہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کلیسیا میں نگہبانی کے کام کی ذمہداری حاصل کرنے والے آدمی حلممزاج، نرممزاج، اور فہیم ہوں۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱-۳) یہوواہ کے خادم خودسر بکریوں، ضدی خچروں، یا بھوکے بھیڑیوں کی طرح نہیں، بلکہ نرممزاج بھیڑوں کی مانند ہیں۔ (زبور ۳۲:۹، لوقا ۱۰:۳) بھیڑوں کی مانند ہوتے ہو ئے، ان کے ساتھ حلم اور نرمی سے برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔ (اعمال ۲۰:۲۸، ۲۹) جیہاں، خدا بزرگوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اس کی بھیڑوں کے ساتھ حلیم، مہربان، شفیق، اور صابر ہوں۔ حزقیایل ۳۴:۱۷-۲۴۔
۷. بزرگوں کو دوسرے لوگوں کو کس طرح سے سکھانا یا روحانی طور پر بیمار لوگوں کی کیسے مدد کرنی چاہیے؟
۷ ”خداوند کے ایک بندے“ کے طور پر، ایک بزرگ کو چاہیے کہ ”سب کے ساتھ نرمی کرے۔ تعلیم دینے کے لائق اور بردبار ہو۔ اور مخالفوں کو حلیمی سے تادیب کرے شاید خدا انہیں توبہ کی توفیق بخشے تاکہ وہ حق کو پہچانیں۔“ (۲-تیمتھیس ۲:۲۴، ۲۵) مسیحی گلہبانوں کو روحانی طور پر بیماروں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پرمحبت فکرمندی ظاہر کرنی چاہیے، کیونکہ بھیڑیں خدا کی ملکیت ہیں۔ بزرگوں کو ان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے جیسے کہ بکاؤ مال کے ساتھ کرتے ہیں بلکہ اچھے چرواہے یسوع مسیح کی طرح انہیں بھی حلممزاج بننے کی ضرورت ہے۔ یوحنا ۱۰:۱۱-۱۳۔
۸. حلممزاج موسیٰ، کے ساتھ کیا ہوا، اور کیوں؟
۸ ایک بزرگ شاید کبھی کبھار حلیمروح کو برقرار رکھنا مشکل پا ئے۔ ”موسیٰ روی زمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم تھا۔“ (گنتی ۱۲:۳) تاہم، جب قادس کے مقام پر اسرائیل کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش تھا، تو وہ موسیٰ کے ساتھ جھگڑنے لگے اور اس پر انہیں مصر سے نکال کر ویران بیابان میں لانے کا الزام لگایا۔ اس تمام کے باوجود کہ موسیٰ نے حلم سے برداشت کیا تھا، وہ خشمناک اور قہرآلودہ ہوا۔ وہ اور ہارون لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور ساری توجہ خود اپنے اوپر مرکوز کرواتے ہو ئے، موسیٰ نے کہا: ”سنو، اے باغیو! کیا ہم تمہارے لیے اسی چٹان سے پانی نکالیں؟“ پھر موسیٰ نے دو بار چٹان پر اپنی لاٹھی کو مارا، اور خدا نے لوگوں اور ان کے جانوروں کے لیے ”افراط سے پانی“ فراہم کیا۔ یہوواہ موسیٰ اور ہارون سے ناخوش ہوا کیونکہ انہوں نے اس کی تقدیس نہیں کی تھی، اس لیے موسیٰ کو یہ استحقاق حاصل نہ ہوا کہ وہ ملک موعود میںداخل ہونے کے لیے اسرائیلیوں کی راہنمائی کرے۔ گنتی ۲۰:۱-۱۳، استثنا ۳۲:۵۰-۵۲، زبور ۱۰۶:۳۲، ۳۳۔
۹. کیسے ایک بزرگ کے حلم کو آزمایش کا سامنا ہو سکتا ہے؟
۹ ایک مسیحی بزرگ کا حلم بھی مختلف طریقوں سے آزمایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، پولس نے تیمتھیس کو آگاہ کیا کہ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو ”مغرور“ اور بحث اور لفظی تکرار کرنے کے مرض“ میں مبتلا ہوں۔ پولس نے مزید اضافہ کیا: ”کیونکہ ایسی باتوں سے حسد، جھگڑے اور بدگوئیاں اور بدگمانیاں اور ان آدمیوں میں ردوبدل پیدا ہوتا ہے جن کی عقل بگڑ گئی ہے اور حق سے محروم ہیں۔“ نگہبان تیمتھیس کو سختی سے کارروائی نہیں کرنی تھی بلکہ اسے ”ان باتوں سے بھاگنا تھا،“ اور اسے ”راستبازی۔ [خدائی عقیدت]۔ ایمان۔ محبت۔ [برداشت]۔ اور حلممزاجی کا طالب ہونا تھا۔“ ۱-تیمتھیس ۶:۴، ۵، ۱۱۔
۱۰. ططس نے کلیسیاؤں کو کس چیز کی یاددہانی کرانی تھی؟
۱۰ اگرچہ بزرگوں کو حلیم ہونے کی ضرورت ہے، لیکن انہیں راستی کے لیے ثابت قدم ہونے کی بھی ضرورت ہے۔ ططس اسی طرح کا تھا، کیونکہ اس نے کریتے کی کلیسیاؤں کے ساتھ رفاقت رکھنے والوں کو یاد دلایا کہ ”کسی کی بدگوئی نہ کریں۔ تکراری نہ ہوں بلکہ نرممزاج ہوں اور سب آدمیوں کے ساتھ کمال [حلم] سے پیش آئیں۔“ (ططس ۳:۱، ۲) یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ کیوں مسیحیوں کو سب کے ساتھ حلممزاج ہونا چاہیے، ططس کو اس کی نشان دہی کرنی پڑی کہ کیسے یہوواہ خود مہربان اور شفیق ہے۔ یہوواہ نے ایمانداروں کو ان کے نیک اعمال کرنے کی وجہ سے نہیں بچایا تھا بلکہ یسوع مسیح کے ذریعے اس کے رحم کی بدولت۔ یہوواہ کا صبر اور حلم ہمارے لیے بھی نجات کا مطلب رکھتے ہیں۔ اس لیے، ططس کی طرح، جدید زمانے کے بزرگوں کو بھی کلیسیاؤں کو یاد کرانا چاہیے کہ خدا کے تابع ہوں، اور یوں اس کی نقل کرتے ہوئے دوسروں کے ساتھ حلم سے برتاؤ کرنا چاہیے۔ ططس ۳:۳-۷، ۲-پطرس ۳:۹، ۱۵۔
حلم دانشمند صلاح کار کی راہنمائی کرتا ہے
۱۱. گلتیوں ۶:۱، ۲ کے مطابق، مشورت کس طرح سے دی جانی چاہیے؟
۱۱ اس وقت کیا ہو اگر ایک علامتی بھیڑ نے خطا کی ہو؟ پولس نے کہا: ”اے بھائیو اگر کوئی آدمی کسی قصور میں پکڑا بھی جائے تو تم جو روحانی ہو اس کو حلممزاجی سے بحال کرو اور اپنا بھی خیال رکھ کہیں تو بھی آزمائش میں نہ پڑ جائے۔ تم ایک دوسرے کا بار اٹھاؤ اور یوں مسیح کی شریعت کو پورا کرو۔“ (گلتیوں ۶:۱، ۲) مشورت اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے جب وہ حلممزاجی کے ساتھ دی جاتی ہے۔ چاہے بزرگ کسی غصیلے شخص کو ہی نصیحت کیوں نہ کر رہے ہوں، انہیں ضبط نفس ظاہر کرنا چاہیے، یہ یاد رکھتے ہوئے کہ ”نرم زبان ہڈی کو توڑ دیتی ہے۔“ (امثال ۲۵:۱۵) ایک شخص جو کہ شاید ہڈی کی طرح سخت ہے اسے بھی نرم بات کرنے سے نرم کیا جا سکتا ہے، اور یوں شاید اس کی سختی ختم ہو جا ئے۔
۱۲. حلیم روح کیسے ایک صلاحکار کی مدد کرتی ہے؟
۱۲ یہوواہ ایک حلممزاج معلم ہے، اور حلم سے اس کا تعلیم دینے کا طریقہ کلیسیا میں مؤثر ہے۔ بالخصوص اس وقت ایسا ہوتا ہے جب بزرگ روحانی مدد چاہنے والوں کو نصیحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ شاگرد یعقوب نے لکھا: ”تم میں دانا اور فہیم کون ہے؟ جو ایسا ہو وہ اپنے کاموں کو نیک چال چلن کے وسیلہ سے اس حلم کے ساتھ ظاہر کرے جو حکمت سے پیدا ہوتا ہے۔“ حلم ”اوپر سے آنے والی حکمت،“ کے لیے احترام اور قدرافزائی، بشمول ایک شخص کی اپنی کوتاہیوں کو انکساری سے قبول کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ حلیم اور فروتن روح صلاح کار کو نقصاندہ تبصرے اور غلطیاں کرنے سے محفوظ رکھتی ہے اور اس کی صلاح کو قبول کرنا آسان بناتی ہے۔ یعقوب ۳:۱۳، ۱۷۔
۱۳. جس طریقے سے مشورت دی جاتی ہے ”حکمت سے پیدا ہونے والا حلم“ اس پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟
۱۳ ”حلم جو حکمت سے پیدا ہوتا ہے“ ایک صلاحکار کو بغیر سو چےسمجھے سخت یا منہپھٹ بننے سے باز رکھتا ہے۔ تاہم، دوستی کی بابت فکرمندی یا کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ایک بزرگ کو حلم کے ساتھ خدا کے کلام پر مبنی براہ راست نصیحت پیش کرنے کی بجائے کسی کو خوش کرنے کی خاطر باتیں کرنے کی طرف مائل نہیں ہونا چاہیے۔ (امثال ۲۴:۲۴-۲۶، ۲۸:۲۳) امنون نے جو مشورت اپنے چچیرے بھائی سے حاصل کی اس سے وہ اپنی خواہش کو پورا کر سکا، لیکن اس کی وجہ سے اسے اپنی زندگی کھونی پڑی۔ (۲-سموئیل ۱۳:۱-۱۹، ۲۸، ۲۹) اس لیے، جدید زمانے کے بزرگوں کو، کسی شخص کے ضمیر کو پریشانی سے بچانے کے لیے بائبل کے اصولوں کو نرم نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا اس کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ پولس کی طرح، بزرگوں کو دوسروں کو ”خدا کی ساری مشورت“ پوری طرح بیان کرنے سے نہیں جھجھکنا چاہیے۔ (اعمال ۲۰: ۲۶، ۲۷، ۲-تیمتھیس ۴:۱-۴) ایک پختہ مسیحی صلاح کار خدائی خوف کا اظہار کرتا ہے اور حکمت سے حاصل ہونے والے حلم کے ساتھ درست مشورت دیتا ہے۔
۱۴. کیوں ایک بزرگ کو ایسے فیصلے کرنے سے خبردار رہنا چاہیے جو دوسروں کو خود کرنے چاہئیں؟
۱۴ آسمانی حکمت کے ساتھ منسلک حلم ایک بزرگ کو سخت تقاضے کرنے سے باز رکھے گا۔ اسے یہ بھی احساس کرنا چاہیے کہ کسی دوسرے شخص کے لیے وہ فیصلہ کرنا جو اسے خود کرنا چاہیے کتنا نامناسب اور غیردانشمندانہ ہے۔ اگر ایک بزرگ دوسروں کے لیے فیصلے کرتا ہے، تو وہ اس کے نتائج کا ذمہدار بھی ہو گا، اور وہ کسی بھی برے نتیجے کے الزام میں برابر کا شر یک ہو گا۔ ایک بزرگ اس پر توجہ دلا سکتا ہے جو کچھ بائبل کہتی ہے، لیکن اگر اس معاملے کے لیے کوئی واضح صحیفائی اصول نہیں، تو اس شخص کی اپنی بصیرت اور ضمیر کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کیا کرے گا یا کیا نہیں کرے گا۔ جیسے کہ پولس نے کہا: ”ہر شخص اپنا ہی بوجھ اٹھائے گا۔“ (گلتیوں ۶:۵، رومیوں ۱۴:۱۲) تاہم، دریافت کنندہ کو درست فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک بزرگ اس سے ایسے سوالات پوچھ سکتا ہے جو ایک شخص کو ایسے صحائف پر استدلال کرنے میں مدد دیں گے جو اس کے سامنے کھلی ہوئی اختیاری روش پر جانے سے تعلق رکھتے ہیں۔
۱۵. اس وقت کیا کیا جا سکتا ہے جب ایک بزرگ کو کسی سوال کا جواب نہیں آتا؟
۱۵ اگر ایک بزرگ کسی سوال کا جواب نہیں جانتا، تو اسے صرف اپنی ذات کو بچانے کی خاطر جواب نہیں دینا چاہیے۔ حلم جو حکمت سے پیدا ہوتا ہے اسے اندازے لگانے اور ایسے غلط جواب دینے سے باز رکھے گا جو شاید بعد میں تکلیف کا باعث ہو سکتے ہیں۔ ”بولنے کا ایک وقت ہے اور چپ رہنے کا ایک وقت ہے۔“ (واعظ ۳:۷، مقابلہ کریں امثال ۲۱:۲۳۔) ایک بزرگ کو اسی وقت ”جواب“ دینا چاہیے جب وہ سوال کا جواب جانتا ہے یا صحیح جواب دینے کے لیے اس نے کافی تحقیق کر لی ہے۔ قیاسآرائی والے سوالات کا جواب نہ دینا ہی دانشمندی ہو گا۔ امثال ۱۲:۸، ۱۷:۲۷، ۱-تیمتھیس ۱:۳-۷، ۲-تیمتھیس ۲:۱۴۔
صلاح کاروں کی کثرت کی قدروقیمت
۱۶، ۱۷. بزرگوں کے لیے یہ کیوں مناسب ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کریں؟
۱۶ دعا اور مطالعہ سوالات کا جواب دینے اور مشکل مسائل سے نپٹنے میں بزرگوں کی مدد کرے گا، لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ”صلاحکاروں کی کثرت سے ارادے قیام پاتے ہیں۔“ (امثال ۱۵:۲۲) دوسرے بزرگوں کے ساتھ مشورہ کرنا بیشقیمت حکمت کو یکجا کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ (امثال ۱۳:۲۰) تمام بزرگ یکساں بائبل علم یا ایک جیسا تجربہ نہیں رکھتے۔ اس لیے، حلم جو حکمت سے پیدا ہوتا ہے وہ ایک کمتجربہکار بزرگ کو تحریک دے گا کہ ایسے بزرگوں سے مشورہ کرے جو زیادہ علم رکھتے اور زیادہ تجربہکار ہیں، خاص طور پر جب کوئی سنگین مسئلہ درپیش ہو۔
۱۷ جب کسی سنگین مسئلے سے نپٹنے کے لیے بزرگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، تو وہ پھر بھی رازداری سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اسرائیلیوں کا انصاف کرنے میں اپنی مدد کے لیے، موسیٰ نے ”لائق اور خداترس اور سچے اور رشوت کے دشمن اشخاص“ کو چن لیا۔ اگرچہ وہ بھی بزرگ تھے، ان کے پاس موسیٰ کے برابر علم اور تجربہ نہ تھا۔ اس لیے، ”مشکل مقدمات تو وہ موسیٰ کے پاس لے آتے تھے پر چھوٹی چھوٹی باتوں کا فیصلہ خود ہی کر دیتے تھے۔“ (خروج ۱۸:۱۳-۲۷) یوں، اگر ضرورت ہو، تو مشکل معاملے سے نپٹنے والے بزرگ آج کل بھی تجربہکار نگہبانوں کی مدد حاصل کر سکتے ہیں، گو حتمی فیصلہ تو انہیں خود ہی کرنا ہے۔
۱۸. عدالتی معاملات سے نپٹنے کے لیے، مناسب فیصلے کرنے کا یقین کرنے کیلئے کونسے فیصلہکن پہلو ہیں؟
۱۸ یہودی مشنہ بیان کرتی ہے کہ اسرائیل میں وہ جو دیہی عدالتوں کو تشکیل دیتے تھے معاملے کی نزاکت کے مطابق ان کی تعداد مختلف ہوتی تھی۔ اگرچہ صرف تعداد کی زیادتی ہی راستی کی ضمانت نہیں، کیونکہ اکثریت غلط بھی ہو سکتی ہے، اس کے باوجود بھی صلاح کاروں کی کثرت کی اپنی قدروقیمت ہے۔ (خروج ۲۳:۲) فیصلہکن پہلو جو اس کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ مناسب فیصلے کیے جائیں گے وہ صحائف اور خدا کی روح ہیں۔ حکمت اور حلم مسیحیوں کو تحریک دیں گے کہ ان کے تابع ہوں۔
حلم کے ساتھ گواہی دینا
۱۹. دوسروں کو گواہی دینے کیلئے حلم یہوواہ کے لوگوں کی کیسے مدد کرتا ہے؟
۱۹ حلم خدا کے خادموں کی اس میں بھی مدد کرتا ہے کہ وہ مختلف افتادطبع رکھنے والے لوگوں کو گواہی دیں۔ (۱-کرنتھیوں ۹:۲۲، ۲۳) کیونکہ یسوع نے حلم کیساتھ سکھایا، فروتن لوگ اس سے ڈرتے نہیں تھے، جیسے کہ وہ سخت مذہبی راہنماؤں سے ڈرتے تھے۔ (متی ۹:۳۶) بیشک ، اس کے حلیم طریقوں نے ”بھیڑوں“ کو نہ کہ بدکار ”بکریوں“ کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ (متی ۲۵:۳۱-۴۶، یوحنا ۳:۱۶-۲۱) اگرچہ بکریخصلت ریاکاروں سے برتاؤ کے دوران یسوع نے سخت اصطلاحیں استعمال کیں، یہوواہ کے گواہوں کو خدا کے عدالتی پیغامات کو بیان کرتے وقت آجکل حلیم ہونا چاہیے کیونکہ وہ یسوع جیسی بصیرت اور اختیار نہیں رکھتے۔ (متی ۲۳:۱۳-۳۶) جب وہ حلم کیساتھ بادشاہتی پیغام کی منادی کرتے ہیں، تو ”جتنے ہمیشہ کی زندگی کی طرف مائل ہوں ایمان لے آتے ہیں،“ بالکل اسی طرح جیسے یسوع کی بات سننے والے بھیڑ خصلت لوگوں نے کیا۔ اعمال ۱۳:۴۸، NW۔
۲۰. کیسے ایک بائبل طالبعلم اس وقت مستفید ہوتا ہے جب اسے حلم کے ساتھ سکھایا جاتا ہے؟
۲۰ حلم کے ساتھ دوسروں کو گواہی دینے اور سکھانے اور منطق، بائبل اصولوں، اور سچائی کے ذریعے ان تک رسائی کرنے سے اچھے نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ ”مسیح کو خداوند جان کر اپنے دلوں میں مقدس سمجھو“ پطرس نے لکھا، ”اور جو کوئی تم سے تمہاری امید کی وجہ دریافت کرے اس کو جواب دینے کے لیے ہر وقت مستعد رہو مگر حلم اور خوف کے ساتھ۔“ (۱-پطرس ۳:۱۵) ایک طالبعلم جسے حلیم طریقے سے سکھایا جا رہا ہے وہ مواد پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے بجائے اس کے کہ ادھر ادھر بھٹکے یا ممکن ہے کہ سخت، تکراری طریقے سے اسے ٹھوکر بھی لگ جائے۔ پولس کی طرح، حلم سے سکھانے والے خادم یہ کہہ سکتے ہیں: ”ہم کسی بات میں ٹھوکر کھانے کا کوئی موقع نہیں دیتے تاکہ ہماری خدمت پر حرف نہ آ ئے۔“ (۲-کرنتھیوں ۶:۳) مخالف بھی کبھی کبھار حلم سے تعلیم دینے والے کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔
سب سے حلم کا تقاضا کیا جا تا ہے
۲۱، ۲۲. کیسے حلم یہوواہ کے تمام لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے؟
۲۱ مسیحی حلم صرف یہوواہ کی تنظیم سے باہر لوگوں کو متاثر کرنے کیلئے ہی ظاہر نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ خوبی خدا کے لوگوں کے درمیان تعلقات کیلئے بھی نہایت ضروری ہے۔ (کلسیوں ۳:۱۲-۱۴، ۱-پطرس ۴:۸) کلیسیائیں روحانی طور پر اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب حلممزاج بزرگ اور خدمتگذار خادم ہمآہنگی سے مل کر کام کرتے ہیں۔ حلم اور دوسری خدائی خوبیاں ظاہر کرنا یہوواہ کے لوگوں میں سے ہر ایک کیلئے ضروری ہے کیونکہ سب کیلئے ”ایک ہی شریعت“ ہے۔ خروج ۱۲:۴۹، احبار ۲۴:۲۲۔
۲۲ حلم خدا کے لوگوں کی سلامتی اور خوشی کو بڑھاتا ہے۔ اس لیے، اسے خوبیوں کے اس لباس کی تاروں میں سے ایک ہونا چاہیے جسے مسیحی گھر میں، کلیسیا میں، اور دوسری جگہوں پر زیبتن کرتے ہیں۔ جیہاں، یہوواہ کے تمام خادموں کو حلم سے ملبس ہونے کی ضرورت ہے۔ (۱۵ ۱۰/۱۵ w۹۱)
آپ کیسے جواب دیں گے؟
▫ مسیحی بزرگوں کو کیوں حلممزاج ہونا چاہیے؟
▫ کیسے حلم دانشمند صلاحکاروں کی راہنمائی کرتا ہے؟
▫ صلاحکاروں کی کثرت کی کیا قدروقیمت ہے؟
▫ حلم سے گواہی دینا کیوں فائدہ مند ہے؟
[تصویر]
یہوواہ کے لوگ بھیڑخصلت ہیں اور ان کے ساتھ حلم سے پیش آنے کی ضرورت ہے
[تصویر کا حوالہ]
Garo Nalbandian
[تصویر]
حلم یہوواہ کے لوگوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مختلف طرح کی افتادطبع والے لوگوں کو گواہی دے سکیں