یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏4 ص.‏ 30-‏32
  • ‏”‏اپنے بچوں کو غصہ نہ دلاؤ“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏اپنے بچوں کو غصہ نہ دلاؤ“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏انہیں غصہ دلا نے“‏ کا جو مطلب ہے
  • خدائی تربیت کے مطابق بچوں کی پرورش کرنا
  • اپنے بچے کی بچپن سے تربیت کریں
    خاندانی خوشی کا راز
  • اَے اولاد والو!‏ اپنے بچوں کی محبت سے تربیت کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • کیا بائبل بچوں کی پرورش کرنے میں آپکی مدد کر سکتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • اپنے بچوں کو یہوواہ سے محبت کرنا سکھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏4 ص.‏ 30-‏32

‏”‏اپنے بچوں کو غصہ نہ دلاؤ“‏

‏”‏اے والدو! تم اپنے [‏بچوں]‏ کو غصہ نہ دلاؤ۔“‏ پولس نے یوں کہا تھا۔ (‏افسیوں ۶:‏۴‏)‏ مغر بی ممالک میں، جہاں والدین صنعتی معاشرے کی مشکلات اور دباؤ کا شکار ہیں، انکے لیے اپنے بچوں کے ساتھ مہربانہ برتاؤ کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ اور ترقی پذیر ممالک میں بچے کی پرورش کرنا کوئی کم چیلنج نہیں ہے۔ سچ ہے کہ زندگی کی رفتار مغرب کے مقابلے میں زیادہ سست ہو سکتی ہے۔ مگر پرانی رسومات اور روایات والدین کو متاثر کر سکتی ہیں کہ بچوں کے ساتھ ایسے طریقوں سے برتاؤ کریں کہ وہ غالباً یقینی طور پر انہیں پریشان کریں اور غصہ دلائیں۔‏

بعض ترقی‌پذیر ممالک میں بچوں کو عزت اور قدرافزائی کے لحاظ سے نہایت ہی حقیر سمجھا جاتا ہے۔ بعض ثقافتوں میں بچوں کو دھمکی والے اور تحکمانہ لہجوں میں حکم دیے جاتے ہیں، ان پر چیخا چلایا اور انکی بے‌عزتی کی جاتی ہے۔ شاذونادر ہی کسی بالغ کو کسی بچے سے مہربانی سے کچھ کہتے سنا جا سکتا ہے، ”‏آپکا شکریہ“‏ اور ”‏مہربانی“‏ ایسے خوش‌اخلاق الفاظ کا تو ذکر ہی کیا۔ والد محسوس کرتے ہیں کہ انہیں اپنے اختیار کو مضبوط ہاتھوں کے ساتھ قائم رکھنا چاہیے اور سخت الفاظ کو گھونسوں سے کمک پہنچائی جاتی ہے۔‏

بعض افریقی ثقافتوں میں، کسی بچے کا خود سے کسی بالغ کو سلام‌تہنیت کہنے کو بھی گستاخی تصور کیا جاتا ہے۔ نوعمروں کو اپنے سروں پر بھاری بھاری بوجھ اٹھائے اور صبر کے ساتھ بالغوں کے کسی گروہ کو سلام‌تہنیت کہنے کی انتظار میں کھڑے دیکھنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ بالغ لوگ منتظر نوعمروں کو نظرانداز کرتے ہوئے، اپنی بیکار باتوں کو جاری رکھیں گے جبتک کہ وہ انہیں سلام‌تہنیت پیش کرنے کی اجازت دینا مناسب نہیں سمجھتے۔ ان کو اس سلام‌تہنیت کہہ لینے کے بعد ہی گزرنے کی اجازت ملتی ہے۔‏

غربت ایک اور عنصر ہے جو بچوں کی فلاح کے منافی کام کر سکتا ہے۔ انکی صحت اور تعلیم کا نقصان کرکے، کمسن بچوں کو بچگانہ مزدوروں کے طور پر ناجائز استعمال کیا جاتا ہے۔ گھر میں بھی بچوں پر غیرمعقول طور پر کام کے بھاری بوجھ ڈالے جا سکتے ہیں۔ اور جب دیہی علاقوں کے خاندان اپنے بچوں کو بڑے شہروں میں بھیجتے ہیں تاکہ جب وہ تعلیم حاصل کر رہے ہوں تو رشتے‌دار ان کی دیکھ بھال کریں، تو اکثر ان کے ساتھ غالباً غلاموں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ یقیناً، اس طرح کا تمام ذلت‌آمیز سلوک بچوں کے لیے غصہ دلانے والا ہی ہوتا ہے!‏

‏”‏انہیں غصہ دلا نے“‏ کا جو مطلب ہے

بعض والدین خود کو نتائج کی کوئی پروا کئے بغیر بچوں کی پرورش کرنے کے گھٹیا طورطریقوں کی رو میں بہہ جانے دیتے ہیں۔ تاہم، ایک اچھی وجہ کی بنا پر ہی خدا کا کلام والدین پر زور دیتا ہے کہ اپنے بچوں کو غصہ نہ دلائیں۔ اصلی یونانی لفظ جس کا ترجمہ ”‏غصہ نہ دلاؤ“‏ کیا گیا ہے اسکا لفظی مطلب ہے ”‏تم غصہ کے لیے اشتعال نہ دلاؤ۔“‏ (‏کنگڈم انٹرلینیئر)‏ رومیوں ۱۰:‏۱۹ میں اسی فعل کا ترجمہ ”‏پرتشدد غصے کیلئے جوش دلانا“‏ کیا گیا ہے۔‏

لہذا ٹوڈیز انگلش ورشن کہتی ہے:‏ ”‏اپنے بچوں کے ساتھ اس طریقے سے سلوک نہ کرو جو انہیں ناراض کر دے۔“‏ اسی طرح سے دی جیروضلیم بائبل کہتی ہے:‏ ”‏اپنے بچوں کو آزردگی کے لیے کبھی مجبور نہ کریں۔“‏ اس لئے بائبل ناکاملیت، کی وجہ سے نادانستہ طور پر والدین میں سے کسی ایک کا اپنے بچے کے لئے معمولی جھلاہٹوں کا سبب بننے کے متعلق بات نہیں کرتی، اور نہ ہی یہ راستی کے ساتھ کی گئی تربیت کو رد کرتی ہے۔ لینگز کومینٹری آن دی ہولی سکرپچرز کی مطابقت میں، بائبل کی یہ آیت ”‏بچوں کے ساتھ بے‌پرواہ، کرخت، متلون سلوک کا ذکر کرتی ہے، اور یوں .‏ .‏ .‏ وہ نفرت کرنے لگتے ہیں اور مخالفت، علانیہ نافرمانی اور درشتی کی ترغیب پاتے ہیں۔“‏

جیسے کہ معلم جے۔ ایس۔ فیرانٹ نے مشاہدہ کیا:‏ ”‏حقیقت تو یہ ہے کہ بچے انسان ہیں۔ وہ محض ایک انفعالی طریقے سے برداشت نہیں کرتے جیسے کہ درخت اپنے ماحول کے سلسلے میں کرتے ہیں۔ وہ ردعمل دکھاتے ہیں۔“‏ اور اکثر غیرمنصفانہ سلوک کے لیے ردعمل روحانی اور جذباتی بربادی پر منتج ہوتا ہے۔ واعظ ۷:‏۷ کہتی ہے:‏ ”‏یقیناً ظلم دانشور آدمی کو دیوانہ بنا دیتا ہے۔“‏

خدائی تربیت کے مطابق بچوں کی پرورش کرنا

وہ والدین جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے سچائی میں چلتے رہیں انہیں ثقافتی معیاروں اور روایات کو ہی اس کے لئے فیصلہ‌کن عناصر بننے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی کسطرح پرورش کریں گے۔ (‏مقابلہ کریں ۳-‏یوحنا ۴‏۔)‏ اپنے بچوں کو غصہ دلانے کی بابت والدین کو آگاہ کرنے کے بعد، پولس نے اضافہ کیا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر انکی پرورش کرو۔“‏ (‏افسیوں ۶:‏۴‏)‏ لہذا یہوواہ کے معیار مقامی روایات اور نظریات سے مقدم ٹھہرتے ہیں۔‏

اگرچہ بعض ممالک میں بچوں کے ساتھ کمتر اور غلام مزدوروں کے طور پر سلوک کرنا عام ہو سکتا ہے، تو بھی بائبل زبور ۱۲۷:‏۳ میں بیان کرتی ہے:‏ ”‏دیکھو! اولاد [‏یہوواہ]‏ کی طرف سے میراث ہے اور پیٹ کا پھل اسی کی طرف سے اجر ہے۔“‏ کیا والدین میں سے کوئی ایک خدا کے ساتھ اچھے تعلقات کو قائم رکھ سکتا ہے اگر وہ اپنی میراث کے ساتھ ناجائز سلوک کرتا ہے۔؟ بمشکل۔ اور نہ ہی اس نظریے کیلئے کوئی گنجائش ہے کہ بچے صرف اپنے والدین کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے زندہ ہیں۔ ۲-‏کرنتھیوں ۱۲:‏۱۴ میں بائبل ہمیں یاد کراتی ہے:‏ ”‏کیونکہ بچوں کو اپنے ماں باپ کیلئے جمع کرنا نہیں چاہیے بلکہ ماں‌باپ کو اپنے بچوں کے لئے۔“‏ (‏NW)‏

اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچوں کو گھر کے کام‌کاج اور ذمہ‌داریوں کے لئے اپنا حصہ ادا کرنے سے مستثنیٰ کر دینا چاہیے۔ لیکن کیا بچے کے اپنے بہترین مفادات کا لحاظ نہیں رکھنا چاہیے؟ مثال کے طور پر، جب افریقہ کی ایک مسیحی لڑکی یعا سے پوچھا گیا کہ وہ سب سے زیادہ کس چیز کو پسند کریگی کہ اسکے والدین اسکے لئے کریں، تو اس نے جواب دیا:‏ ”‏میں چاہتی ہوں کہ میرے گھر کے کام‌کاج کو ان دنوں کے لئے کم کر دیا جائے جب میں میدانی خدمت کے بندوبست بناتی ہوں۔“‏ پس اگر ایک بچہ گھر کے کام‌کاج کی وجہ سے اجلاسوں پر حاضر ہونے اور وقت پر سکول پہنچنے کو مشکل پاتا ہے، تو کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ کچھ تبدیلیاں کی جائیں؟‏

ماناکہ چھوٹے بچوں کے ساتھ نباہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ والدین انکے ساتھ کسطرح ایک ایسے طریقے سے سلوک کر سکتے ہیں جو غیرمنصفانہ یا غصہ دلانے والا نہ ہو؟ امثال ۱۹:‏۱۱ کہتی ہے:‏ ”‏آدمی کی تمیز اسکو قہر کرنے میں دھیما بناتی ہے۔“‏ جی‌ہاں، سب سے پہلے تو اپنے بچے کو ایک فرد کے طور پر سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ہر بچہ اپنی دلچسپیوں، لیاقتوں، اور ضروریات کے ساتھ منفرد ہے۔ یہ کیا ہیں؟ کیا آپ نے اپنے بچے کو جاننے اور اس سوال کے جواب کو سمجھنے کے لئے وقت نکالا ہے؟ اکٹھے ملکر کام کرنا اور پرستش کرنا، خاندانی تفریح میں حصہ لینا یہ کام والدین کو اپنے بچوں کی گہری قربت میں آنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔‏

۲-‏تیمتھیس ۲:‏۲۲ میں پولس نے ایک اور دلچسپ اظہارخیال کیا، جب اس نے تیمتھیس کو بتایا:‏ ”‏جوانی کی خواہشوں سے بھاگ ۔“‏ جی‌ہاں، پولس سمجھتا تھا کہ جوانی ایک ہنگامہ‌خیز دور ہو سکتی ہے۔ ڈرامائی جسمانی اور جذباتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مخالف جنس کے لئے رغبت بڑھتی ہے۔ اس دور میں، جواں‌سالوں کو سنگین پھندوں سے بچنے کے لئے پختہ اور پرمحبت راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی ضرورت نہیں گویا کہ وہ بداخلاق ہیں۔ ایک مسیحی آدمی کی اشتعال‌انگیز بیٹی نے سخت غم کا اظہار کیا:‏ ”‏اگرچہ میں نے حرامکاری تو نہیں کی، لیکن میرا باپ مجھے ایسا کرنے کا طعنہ دیتا ہے، میں آگے بڑھ سکتی اور ایسا کر سکتی ہوں۔“‏ خراب محرکات کا الزام لگانے کی بجائے، اپنے بچے پر اعتماد کا اظہار کریں۔ (‏مقابلہ کریں ۲-‏تھسلنیکیوں ۳:‏۴‏۔)‏ نکتہ‌چین بننے کی بجائے، ایک پرمحبت، بااصول طریقے سے فہیم اور ہمدرد بنیں۔‏

تاہم، اگر والدین بچے کو درپیش اخلاقی خطروں پر وقت سے پہلے بات‌چیت کر لیتے ہیں، تو بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیں، خدا والدین کو ذمہ‌دار ٹھہراتا ہے کہ اپنی اولاد کو خدا کے کلام سے تعلیم اور تربیت دیں۔ (‏استثنا ۶:‏۶، ۷)‏ ایسا کرنا کافی وقت اور کوشش کا تقاضا کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، بعض والدین تعلیم دینے کی اپنی تفویض کو پورا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں اسلئے کہ ان میں صبر کی کمی ہوتی ہے۔ ناخواندگی، بہت سے ترقی‌پذیر ممالک کا ایک بڑا مسئلہ ہے، جو دیگر والدین کی راہ میں حائل ہے۔‏

بعض معاملات میں مدد کرنے کے لئے ایک پختہ مسیحی سے کہا جا سکتا ہے۔ یہ صرف کم تجربہ‌کار باپ یا ماں کو تجاویز پیش کرنے کا معاملہ ہی ہو سکتا ہے۔ (‏امثال ۲۷:‏۱۷‏)‏ یا اس میں خاندانی مطالعہ کرانے میں مدد کرنے کا معاملہ شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ ایک باپ کو اپنی اولاد کو خدا کے کلام سے تعلیم دینے کی ذمہ‌داری سے آزاد نہیں کرتا۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۸‏)‏ وہ میدانی خدمتگزاری میں اپنے بچوں کے ساتھ کام کرنے اور کھانے کے اوقات یا دیگر موزوں مواقع پر روحانی معاملات پر بحث کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔‏

بلوغت کی طرف بڑھنے والا نوعمر قدرتی طور پر زیادہ آزادی کی خواہش کر سکتا ہے۔ اکثر نافرمانی یا گستاخی کے طور پر اسکی غلط تشریح کی جاتی ہے۔ یہ کتنا اشتعال‌انگیز ہو گا اگر اسکے والدین اسکے ساتھ ایک چھوٹے بچے کا سا سلوک کرکے ردعمل دکھاتے اور اسکے افعال میں اسے زیادہ آزادی دینے سے انکار کر دیتے ہیں! اسکے ساتھ پرسکون اور باعزت طریقے سے اسکی زندگی کے ہر پہلو تعلیم، ذریعہءمعاش، شادی، ایسے معاملات پر گفتگو کئے بغیر فیصلہ کرنا انکے لئے بھی مساوی طور پر غصہ دلانے والی بات ہو گی۔ (‏امثال ۱۵:‏۲۲‏)‏ پولس نے ساتھی مسیحیوں کو تاکید کی تھی کہ ”‏سمجھ میں جوان بنو۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۲۰‏)‏ کیا والدین کو یہ خواہش نہیں کرنی چاہیے کہ انکے اپنے بچے بالغ ہوں روحانی طور پر اور جذباتی طور پر؟ تاہم، ایک نوعمر کے ”‏حواس“‏ صرف ”‏کام کرتے کرتے“‏ ہی تربیت‌یافتہ ہو سکتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۵:‏۱۴‏)‏ انہیں استعمال کرنے کیلئے اسے انتخاب کرنے کی کسی حد تک آزادی دی جانی چاہیے۔‏

ان مشکل ایام کے اندر بچوں کی پرورش کرنا آسان نہیں ہے۔ لیکن وہ والدین جو خدا کے کلام پر چلتے ہیں اپنے بچوں کو غصہ یا اشتعال نہیں دلاتے ”‏تاکہ وہ بیدل نہ ہو جائیں۔“‏ (‏کلسیوں ۳:‏۲۱‏)‏ اسکے برعکس، وہ انکے ساتھ مہرومحبت، سمجھ داری، اور قدرومنزلت سے پیش آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انکے بچوں کی راہنمائی کی جاتی ہے اور ہانکا نہیں جاتا، پرورش کی جاتی ہے اور نظرانداز نہیں کیا جاتا، انکو محبت کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اوراحساس‌محرومی یا غصہ کیلئے اشتعال نہیں دلایا جاتا۔ (‏۲۹ ۱۰/۱ w۹۱)‏

‏[‏تصویر]‏

گھانا میں ایک اندرون‌خانہ کھیلا جانے والا مقامی کھیل، ”‏آویری“‏ کھیلنا ان والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ رفاقت رکھنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں