مسیحی نوجوانو ایمان میں مضبوط بنو
”ہر ایک ضرور حاضر ہو۔“ یہ تھا اعلان۔ سب طالبعلموں کو کسی ایک جاپانی سکول میں آڈیٹوریم کے اندر جنرل اسمبلی پر لازماً حاضر ہونا تھا۔ ایک نوجوان مسیحی طالبعلم سکول کے ترانہ میں ظاہرکردہ چند خیالات کی تائید نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے سوچا، ”میں جانتا ہوں کہ سکولی ترانہ بجایا جائے گا۔ لیکن مجھے کوئی مشکل درپیش نہیں آئے گی۔ میں حسبمعمول فقط پیچھے بیٹھ جاؤں گا۔“
تاہم، جب یہوواہ کا یہ نوجوان گواہ آڈیٹوریم میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ شعبہ کے تمام ممبر پیچھے کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لہذا، اسے ان کے سامنے بیٹھنا پڑا۔ جب باقی طالبعلم سکولی ترانے کے لیے کھڑے ہو گئے تو وہ ادب کے ساتھ بیٹھا رہا۔ لیکن استادوں کو اس پر غصہ آیا۔ انہوں نے اسے زبردستی کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ کیا آپ خود ایسی صورتحال میں ہونے کا تصور کر سکتے ہیں؟ آپ نے کیا کیا ہوتا؟
جس وجہ سے مضبوط ایمان کی ضرورت ہے
اچھا ہو گا اگر لوگ مسیحیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اور انہیں اپنے بائبل تربیتیافتہ ضمیر کے مطابق زندگی بسر کرنے دیں۔ تاہم، مسیحیوں کو اکثر تکلیفدہ حالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ خدا کے اپنے بیٹے یسوع مسیح نے کہا تھا: ”اگر انہوں نے مجھے ستایا تو تمہیں بھی ستائیں گے۔“ (یوحنا ۱۵:۲۰) کھلمکھلا اذیت کے علاوہ، یہوواہ کے خادم ایمان کی دیگر مختلف آزمائشوں کا سامنا کرتے ہیں۔
سکول میں درپیش آنے والی آزمائشوں کا سامنے کرنے کے لیے مسیحیوں کو اکثر مضبوط ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاید ان کا رابطہ ایسے ساتھی طلبہ کے ساتھ کرا دیا جائے جو گندی زبان استعمال کرتے یا خدا کو بدنام کرنے والے رجحانات رکھتے ہیں۔ نوجوان مسیحیوں کو ایسی صورتحال کا سامنا پڑ سکتا ہے جہاں قومپرستی پر زیادہ زور دیا جاتا اور یہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ کلبوں میں، سکول کی سیاسیات میں یا دیگر کارگزاریوں میں ملوث ہو جائیں جو شاید روحانی طور پر نقصاندہ ہوں۔ اساتذہ یا ساتھی طلبہ نوجوان مسیحیوں پر مصالحت اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لہذا، خداپرست مسیحیوں کے لیے ضرور ہے کہ وہ اپنی امید کا واضح جواب دینے کے لیے یہوواہ کی روح پر توکل کریں۔ متی ۱۰:۱۹، ۲۰، گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳۔
”جواب دینے کے لیے مستعد رہو“
پطرس رسول کی صلاح نوجوان اور بالغ دونوں طرح کے مسیحیوں کے لیے موزوں ہے۔ اس نے کہا تھا: ”جو کوئی تم سے تمہاری امید کی وجہ دریافت کرے اس کو جواب دینے کے لیے ہر وقت مستعد رہو مگر حلممزاجی اور دلیاحترام کے ساتھ ۔“ (۱-پطرس ۳:۱۵، NW) ایسی جوابدہی کی خاطر تیار رہنے کے لیے کیا کچھ درکار ہوتا ہے؟ اول تو ضرور ہے کہ آپ یہ سمجھیں کہ صحائف کیا تعلیم دیتے ہیں۔ سکول میں ایسے معاملات پر یعنی قومپرستی، سیاسیات، نشیلی دواؤں کا غلط استعمال یا اخلاقیات پر لازم ہے کہ آپ پہلے مسیحی موقف کے لیے وجہ کو سمجھیں اور خلوصدلی سے اس کا یقین کریں۔
مثال کے طور پر، پولس رسول نے ساتھی مسیحیوں کو بتایا تھا: ”فریب نہ کھاؤ۔ بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ جیسا کہ پولس نے ظاہر کیا، صحبتوں کے معاملہ میں فریب کھا جانا آسان ہے۔ ایک شخص ہمدرد اور دلپسند دکھائی دے سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ یہوواہ کی خدمت کے لیے آپ کی فکر میں شریک نہیں ہوتا یا بائبل کے وعدوں پر بھی یقین نہیں رکھتا تو وہ برا ہمصحبت ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس کی زندگی کا انحصار مختلف اصولوں پر ہے اور جو چیزیں ایک مسیحی کے لیے نہایت اہم ہیں وہ اس کے نزدیک کم اہمیت والی ہو سکتی ہیں۔
یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کیونکہ یسوع نے اپنے پیروکاروں کی بابت کہا تھا: ”جس طرح میں دنیا کا نہیں وہ بھی دنیا کے نہیں۔“ (یوحنا ۱۷:۱۶) کسی شخص کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ بیک وقت سچا مسیحی بھی ہو اور اس دنیا کا حصہ بھی ہو جس کا خدا شیطان ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۴) کیا آپ دیکھتے ہیں کہ کیسے دنیا سے ایسی علیحدگی ایک مسیحی کو اس خرابی اور جھگڑے سے محفوظ رکھتی ہے جو آجکل اس قدر زیادہ لوگوں کو تکلیف دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ پھر یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں آپ کے لیے لازم ہے کہ اپنی علیحدگی پر قائم رہیں خواہ اس کا مطلب یہ بھی ہو کہ آپ سکول کی کچھ سرگرمیوں میں شریک نہیں ہو سکتے۔a
ایمان میں مضبوط ہونے اور زندگی میں بادشاہت کے مفاد کو مقدم رکھنے کی اہمیت ایک جوان مسیحی لڑکی کے معاملہ میں دکھائی گئی تھی۔ (متی ۶:۳۳) جب اس کی سندیافتگی کی ریہرسل کا اعلان کیا گیا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ اسی دن تھی جس دن یہوواہ کے گواہوں کی سرکٹ اسمبلی تھی جس میں حاضر ہونے کا اس نے منصوبہ بنایا تھا۔ اس نے ایک پراحترام چٹھی اس وضاحت کے ساتھ لکھی کہ وہ کیوں ریہرسل سے غیرحاضر رہے گی اور کلاس سے پہلے اپنی استاد کو دے دی۔ کلاس کے بعد، استاد نے اسے الگ بلایا اور اسے پھر سے یہ واضح کرنے کے لیے کہا کہ وہ کیوں ریہرسل سے غیرحاضر رہے گی۔ لڑکی بتاتی ہے: ”وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آیا میرے الفاظ وہی تھے۔ کیا یہ میرا اپنا احساس تھا، یا چٹھی میں محض میری ماں کے الفاظ درج تھے؟ اس معاملہ میں میرے ذاتی یقین کو دیکھ کر اس نے میری مخالفت نہ کی۔“
”ہر ایک کے سامنے جواب دو“
مسیحی نوجوانوں کو اکثر معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ مسئلے کے پیدا ہونے سے پہلے ہی تمام اساتذہ اور طلبہ کو اپنا موقف صفائی سے سمجھا دیتے ہیں تو مسائل کا سامنا کرتے وقت دباؤ اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔ ایک نوجوان جاپانی مسیحی لڑکی بیان کرتی ہے کہ جب وہ ۱۱ برس کی تھی تو اس کے سکول نے تقاضا کیا کہ تمام طلبہ کرسمس پارٹی میں حاضر ہوں۔ بڑی کلاسوں کے طالبعلموں نے پارٹی میں شریک ہونے کے لیے اس پر دباؤ ڈالا، مگر وہ وہاں حاضر نہ تھی اور اس کا ٹیچر اس کے موقف کو سمجھتا تھا۔ کیوں؟ اس لیے کہ سکول کا سال شروع ہونے کے قریب یہ گواہ اور اس کے والدین ٹیچر سے ملے تھے اور اپنے مسیحی موقف کے مختلف پہلوؤں کو سمجھا دیا تھا۔
بعض نوجوان مسیحی، خدمتگزاری کا کام کرنے کے دوران اپنے ہمجماعتوں یا اساتذہ سے ملنے سے گھبراتے ہیں۔ کیا آپ ایسا ہی محسوس کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیوں نہ آپ پہل کریں اور اپنے ہمجماعتوں کو بتائیں کہ آپ گھرباگھر جا کر منادی کرتے ہیں اور آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ ایک ۱۴ سالہ یہوواہ کے گواہ نے یہ رپورٹ دی تھی: ”سکول میں ہر کوئی، بطور ایک مسیحی کے میرے موقف کو جانتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ میرے موقف کو اس قدر اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ خدمتگزاری کا کام کرنے کے دوران اگر میں ایک ہمجماعت سے ملتا ہوں تو میں گھبراہٹ محسوس نہیں کرتا۔ میرے ہمجماعت حسبمعمول سنتے ہیں اور اکثراوقات بائبل لٹریچر قبول کرتے ہیں۔“ ایک ۱۲ سالہ رپورٹ دیتا ہے کہ وہ اپنے ہمجماعتوں کو ملنے کا متوقع رہتا ہے جب وہ خدمت کے کام میں شریک ہوتا ہے۔ اس کے خیال ہی سے دہشتزدہ ہونے کی بجائے وہ باقاعدہ مشق کرتا ہے کہ جب ایسا ہوگا تو وہ کیا کہے گا۔ یوں، وہ اپنے ایمان کی بابت ٹھوس وجوہات دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔
متعدد سکولوں میں بعدازسکول کی سرگرمیاں پسند کا معاملہ کہی گئی ہیں۔ لیکن اصلیت میں استاد اور طالبعلم ایسی سرگرمیوں میں شریک ہونے کے لیے افراد پر بہت دباؤ ڈالتے ہیں۔ ایک ۲۰ سالہ مسیحی لڑکی نے اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کا ایک اچھا طریقہ دریافت کر لیا تھا۔ وہ بیان کرتی ہے: ”میں نے ہائی سکول کے سارے عرصہ میں امدادی پائنیر کے طور خدمت کی۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ میں اپنی مذہبی سرگرمیوں میں اسں قدر مصروف ہوں کہ دوسری چیزوں میں شریک نہیں ہو سکتی۔“ اس گواہ کی چھوٹی بہن نے یہی روش اختیار کی۔ بعض مسیحی نوجوان جب اپنی پڑھائی ختم کر لیتے ہیں تو وہ سکول کے برسوں کے دوران امدادی پائنیر خدمت سے براہراست ریگولر پائنیر کارگزاری میں چلے جاتے ہیں۔
اپنے عمدہ چالچلن اور اپنی دلیرانہ گواہی کے اچھے اثرات کو کبھی نظرانداز نہ کریں۔ بجائے خاموش رہنے کے، دلیری سے مگر ادب کے ساتھ کلام کر کے یہ ظاہر کیوں نہ کریں کہ آپ اپنے ایمان میں مضبوط ہیں؟ ایک اسرائیلی لڑکی نے عین یہی کیا تھا جو اسیری میں لے جائی گئی تھی اور ارامی جرنیل نعمان کے گھرانے میں خدمت کرتی تھی۔ (۲-سلاطین ۵:۲-۴) اس نوجوان لڑکی کے پہل کرنے کے سبب سے یہوواہ کے نام کی تمجید ہوئی۔ آپ کی طرف سے ایسے ہی ایمان کا اظہار خدا کی تعظیم کا باعث ہو سکتا ہے اور شاید دوسروں کی مدد کرے کہ اس کے نام کے ثناخواہوں کے طور پر قائم رہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے ایمان کے لیے مصالحت کر لیں اور پھر بھی مسیحی رہیں۔ یسوع نے کہا تھا: ”پس جو کوئی آدمیوں کے سامنے میرا اقرار کرے گا میں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اس کا اقرار کروں گا۔ مگر جو کوئی آدمیوں کے سامنے میرا انکار کرے گا میں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اس کا انکار کروں گا۔“ (متی ۱۰:۳۲، ۳۳) یسوع کے پیروکار کے طور پر ایمان میں مضبوط بننا ایک سنجیدہ ذمہداری ہے، ہےنا؟
امداد دستیاب
یہوواہ کے ایک گواہ کے طور پر ثابتقدم رہنے کے لیے آپ کو پختہ ایمان کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضرور ہے کہ آپ دھیان دے کر بائبل مطالعہ کریں، مسیحی اجلاسوں میں شریک ہوں اور خدمتگزاری میں حصہ لیں۔ اگر آپ پھر بھی کسی چیز کی کمی محسوس کریں تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ شاگرد یعقوب نے کہا تھا: ”لیکن اگر تم میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو خدا سے مانگے جو بغیر ملامت کیے سب کو فیاضی کے ساتھ دیتا ہے۔ اس کو دی جائے گی۔“ (یعقوب ۱:۵) اپنی دشواری کے لیے دعا میں یہوواہ کے ساتھ ہمکلام ہوں، وہ آپ کو آزمائشوں یا آپ کے ایمان کے امتحانات کا سامنا کرنے کے لیے تقویت دے سکتا ہے۔
ایک نوجوان مسیحی اور کیا کر سکتا ہے؟ امثال کی کتاب ہمیں بتاتی ہے: ”اپنے باپ کا جس سے تو پیدا ہوا شنوا ہو اور اپنی ماں کو اس کے بڑھاپے میں حقیر نہ جان۔“ (امثال ۲۳:۲۲) پولس رسول نے اس صلاح کی حمایت کی تھی کیونکہ اس نے کہا تھا: ”اے فرزندو! ہر بات میں اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہو کیونکہ یہ خداوند میں پسندیدہ ہے۔“ (کلسیوں ۳:۲۰) مسیحی والدین ایمان میں مضبوط بننے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ ان کی تجاویز کو غور سے سنیں۔ ان کی مدد سے نظریات، مشورت، اور تجربات ڈھونڈنے کے لیے صحائف اور بائبل پر مبنی مطبوعات کے اندر تلاش کریں۔ آپ اور آپ کے والدین دونوں اس سے لطفاندوز ہوں گے اور یہ آپ کو دہشت یا خوف پر غالب آنے میں مدد دے گا۔ ۲-تیمتھیس ۱:۷۔
یہوواہ خدا کی نعمتوں سے پورا فائدہ اٹھائیں جو اس نے مسیحی کلیسیا کے وسیلے سے عطا کی ہیں۔ اجلاسوں کے لیے خوب تیاری کریں۔ مقررشدہ بزرگوں اور دوسروں کے ساتھ باتچیت کریں جو ان تجربات میں سے ہو گزرے ہیں جو آپ کو اب درپیش ہیں۔ سلیمان نے کہا تھا: ”دانا آدمی سنے گا اور علم میں ترقی کرے گا، اورفہیم آدمی وہ ہے جو ماہرانہ ہدایت حاصل کرتا ہے۔“ (امثالا:۵، NW) پس ان بڑی عمر والے لوگوں سے سیکھیں۔ آپ ان نوجوانوں سے بھی سیکھ سکتے ہیں جو آپ جیسی دشواریوں کے ساتھ کامیابی سے نپٹ رہے ہیں۔
ایمانداری برکتیں لاتی ہے
ایمان میں مضبوط رہنے سے، آپ پولس کی اس صلاح پر چل رہے ہوں گے کہ ”ثابتقدم اور قائم رہو اور خداوند کے کام میں ہمیشہ افزائش کرتے رہو۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸) یہوواہ آپ کو درپیش دشواریوں کو جانتا اور سمجھتا ہے۔ اس نے بہتیروں کو تقویت دی ہے جنہوں نے ایسی ہی مشکلات کا سامنا کیا ہے، اور وہ آپ کو بھی طاقت دے گا۔ اگر آپ خدا پر بھروسا رکھتے ہیں تو وہ آپ کی حمایت کرے گا کیونکہ زبور نویس نے کہا تھا: ”اپنا بوجھ [یہوواہ] پر ڈال دے۔ وہ تجھے سنبھالے گا۔ وہ صادق کو کبھی جنبش نہ کھانے دے گا۔“ زبور ۵۵:۲۲۔
پطرس نے لکھا تھا: ”اور نیت بھی نیک رکھو تاکہ جن باتوں میں تمہاری بدگوئی ہوتی ہے ان ہی میں وہ لوگ شرمندہ ہوں جو تمہارے مسیحی نیک چالچلن پر لعنطعن کرتے ہیں۔“ (۱-پطرس ۳:۱۶) اگر آپ خدا کے راست آئین اور اصولوں کی بابت مصالحت اختیار نہیں کرتے تو آپ نیک نیت رکھیں گے جو کہ یہوواہ کی طرف سے ایک اصلی برکت ہے۔ اس کے علاوہ، آپ ان مسیحی نوجوانوں کے لیے ایک عمدہ مثال قائم کریں گے جن کا ایمان شاید کمزور ہو۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱۵، ۱۶) آپ کا چالچلن شاید ان کی حوصلہافزائی کرے کہ ایمان میں مضبوط بننے کے لیے کوششیں کریں اور یوں آزمائشیوں کو برداشت کرنے کے لائق بنیں۔
آپ شاید ان لوگوں کی بھی مدد کریں جو شروع میں آپ کے مسیحی موقف کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان امیدافزا الفاظ کو یاد رکھیں: ”صبح کو اپنا بیج بو اور شام کو بھی اپنا ہاتھ ڈھیلا نہ ہونے دے کیونکہ تو نہیں جانتا کہ ان میں سے کونسا بارور ہو گا۔ یہ یا وہ یا دونوں برابر برومند ہوں گے۔“ (واعظ ۱۱:۶) کون جانتا ہے کہ آپ کے ایماندارانہ کاموں کے ذریعہ آپ کے اچھے بیج بونے سے کیا اچھے نتائج پیدا ہوں گے؟
اعلیوبرتر برکات جو آپ کاٹیں گے ان کے درمیان ایک برکت یہوواہ کے ساتھ آپ کی پسندیدہ حیثیت ہے۔ آخرکار ایمان میں مضبوط رہنا ابدی زندگی پر منتج ہوگا۔ (یوحنا ۱۷:۳، مقابلہ کریں یعقوب ۱:۱۲۔) مصالحت کے ذریعہ آزمائش سے حاصلکردہ کوئی بھی عارضی تسکینوفراغت ہمیشہ کی زندگی کی نعمت کو کھو دینے کے لائق نہیں ہے۔
اس مضمون کے شروع میں مذکور نوجوان کا کیا ہوا؟ اس نے اپنی سخت آزمائش برداشت کر لی تھی۔ سکول کے مجمع کے ختم ہونے کے بعد اس نے موقعشناسی کے ساتھ استادوں کو اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کی۔ اگرچہ اس کی وضاحت کو تسلیم نہ کیا گیا تو بھی وہ اس بات سے مطمئن تھا کہ اس نے یہوواہ کے دل کو شاد کیا تھا۔ (امثال ۲۷:۱۱) وہ اپنی پڑھائی کی تکمیل تک اپنے ایمان کا دفاع کرتا رہا تھا۔ پھر وہ پائنیر بن گیا۔ دعا ہے کہ آپ کی وفادارانہ برداشت کا ایسا ہی مبارک انجام ہو۔ اگر آپ ایمان میں مضبوط ہونے کا ثبوت دیں گے تو ایسا ہی ہوگا۔ (۲۳ ۷/۱۵ w۹۱)
[فٹنوٹ]
a ان اور دیگر بائبل اصولوں پر بحث کے لیے دی واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ کتاب کویسچنز ینگ پیپل آسک آنسرز دیٹ ورک کو دیکھیں۔
[صفحہ 28 پر بکس]
میسر امداد
▫ اپنے خداترس والدین کی حکمت کو سنیں۔
▫ مسیحی کلیسیا کے اندر روحانی اہتمامات سے فائدہ اٹھائیں۔
▫ مقررشدہ بزرگوں اور دوسروں کے ساتھ باتچیت کریں جن کو شاید آپ کی طرح کے مسائل کا سامنا ہو۔
▫ دیگر نوجوانوں سے گفتگو کریں جو ایسی ہی مزاحمتوں کے ساتھ کامیابی سے نپٹ رہے ہیں۔