یہوواہ مدد کے لیے ہماری اشد ضروری پکاریں سنتا ہے
مدد کی اشد ضرورت تھی۔ یہ بادشاہ کے ساقی کے چہرہ کی بڑی غمگینی سے عیاں تھی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا بات ہے ساقی نے یروشلیم اور اس کی دیواروں کی خستہحالی کی بابت اپنی افسردگی کا ذکر کیا۔ تب سوال کیا گیا: ”کس بات کے لیے تیری درخواست ہے؟“ ”تب میں نے آسمان کے خدا سے دعا کی۔“ ساقی نحمیاہ نے بعدازاں لکھا۔ وہ یہوواہ سے مدد کے لیے ایک فوری، خاموش، اشد ضروری پکار تھی۔ اور نتیجہ؟ جیہاں، شاہفارس ارتخششتا نے بلاتاخیر نحمیاہ کو یروشلیم کی دیواروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اختیار دے دیا! نحمیاہ ۲:۱-۶۔
جیہاں، خدا ان لوگوں کی اشد ضروری التجاؤں کو سنتا ہے جو اس سے محبت رکھتے ہیں۔ (زبور ۶۵:۲) پس اگر کوئی آزمایش آپکو برداشت سے زیادہ بڑی معلوم ہوتی ہے تو آپ دعا کر سکتے ہیں جیسے زبورنویس داؤد نے زبور ۷۰ میں کی، جب اس کو الہیٰ مدد کی فوری ضرورت تھی۔ اس زبور کی بالائی عبارت ظاہر کرتی ہے کہ اس کا مقصد ”یادگار کے لیے“ ہے۔ معمولی تبدیلیوں کے ساتھ یہ زبور ۴۰:۱۳-۱۷ کا اعادہ کرتا ہے۔ لیکن یہوواہ کے لوگوں کے طور پر زبور ۷۰ کس طرح ہماری مدد کر سکتا ہے؟
بلاتاخیر رہائی کے لیے التجا
داؤد اس التجا کے ساتھ آغاز کرتا ہے: ”اے خدا! مجھے چھڑانے کے لیے۔ اے [یہوواہ] میری مدد کے لیے جلدی کر۔“ (زبور ۷۰:۱) مصیبت کے وقت، ہم دعا کر سکتے ہیں کہ خدا فوری طور پر ہماری مدد کے لیے پہنچے۔ یہوواہ برائی سے ہماری آزمایش نہیں کرتا بلکہ وہ ”خدائی عقیدت رکھنے والے لوگوں کو آزمایش سے نکال لینا جانتا ہے۔“ (۲-پطرس ۲:۹، NW، یعقوب ۱:۱۳) لیکن اس وقت کیا ہو اگر وہ شاید ہمیں کوئی سبق سکھانے کے لیے آزمایش کو جاری رہنے دیتا ہے؟ تب ہم آزمایش سے نپٹنے کے لیے اس سے حکمت کے لیے درخواست کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایمان سے مانگتے ہیں تو وہ ہمیں حکمت عطا کرتا ہے۔ (یعقوب ۱:۵-۸) خدا ہمیں اپنی آزمایشوں کو برداشت کرنے کے لیے ضروری طاقت بھی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ ”ہمیں بیماری کے بستر پر سنبھالتا ہے۔“ زبور ۴۱:۱-۳، عبرانیوں ۱۰:۳۶۔
ہماری موروثی گنہگارانہ حالت کو، اور اسکے ساتھ ساتھ آزمایش کے خطرہ میں ہونے کو، اور یہوواہ کے ساتھ ہمارے رشتے کو توڑنے کی ابلیس کی کاوشوں کو، ہمیں خدا سے مدد کے لیے ہر روز دعا کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ (زبور ۵۱:۱-۵، رومیوں ۵:۱۲، ۱۲:۱۲) یسوع کی نمونے کی دعا کے یہ الفاظ قابلغور ہیں: ”ہمیں آزمایش میں نہ پڑنے دے، بلکہ ہمیں اس شریر سے بچا۔“ (متی ۶:۱۳، NW) جیہاں، ہم خدا سے یہ درخواست کر سکتے ہیں کہ جب اس کی نافرمانی کرنے کی آزمایش آئے تو اسے ہم پر غالب نہ آنے دے اور یہ کہ ”اس شریر،“ شیطان کو ہمیں دھوکا دینے سے روکے۔ لیکن آئیے ہم نجات کے لیے اپنی پکاروں کو ان حالات سے بچنے کے اقدام کیساتھ جوڑ دیں جو ہمیں غیرضروری طور پر آزمایش اور شیطان کے پھندوں کے خطرے میں ڈال دیں گے۔ ۲-کرنتھیوں ۲:۱۱۔
”آہا!“ کہنے والے
ہو سکتا ہے ہم شدت کے ساتھ آزمائے جائیں کیونکہ جس ایمان پر ہم چلتے ہیں اس کی وجہ سے دشمن ہمیں ملامت کرتے ہیں۔ اگر ہمارے ساتھ ایسا ہو تو داؤد کے ان الفاظ پر غور کریں: ”جو میری جان کو ہلاک کرنے کے درپے ہیں وہ سب شرمندہ اور خجل ہوں۔ جو میرے نقصان سے خوش ہیں وہ پسپا اور رسوا ہوں۔ آہا، آہا!، کرنے والے اپنی رسوائی کے سبب سے پسپا ہوں۔“ (زبور ۷۰:۲، ۳) داؤد کے دشمن اسے مرا ہوا دیکھنا چاہتے تھے، وہ ”خواہاں تھے اس کی جان“ یا زندگی کے۔ تاہم، بدلہ لینے کی کوشش کرنے کی بجائے اس نے ایمان رکھا کہ خدا انہیں شرمندہ کریگا۔ داؤد نے دعا کی کہ اس کے دشمن ”شرمندہ اور خجل ہوں“ یعنی وہ اپنے شریر منصوبوں پر عمل کرنے کی کوشش میں الجھے، بدحواس، چکرائے، اور ناکام رہیں۔ جیہاں، اسکے نقصان کے خواہاں اور اسکی آفت پر خوش ہونے والے پریشان ہوں اور رسوائی اٹھائیں۔
دشمن پر آنے والی آفت سے اگر ہمیں ایسی خوشی ہو جو کینہوارانہ کہلا سکتی ہے تو ہمیں اپنے گناہ کے لیے یہوواہ کو حساب دینا ہو گا۔ (امثال ۱۷:۵، ۲۴:۱۷، ۱۸) تاہم، جب دشمن خدا اور اسکی امت کو ملامت کرتے ہیں تو ہم دعا کر سکتے ہیں کہ اپنے پاک نام کی خاطر یہوواہ ان کو ان لوگوں کی نظر میں ”رسوا اور پسپا ہونے دے“ جن کے سامنے وہ ناموری چاہتے ہیں۔ (زبور ۱۰۶:۸) بدلہ لینا خدا کا کام ہے اور وہ اپنے اور ہمارے دشمنوں کو شرمندہ اور ذلیل کر سکتا ہے۔ (استثنا ۳۲:۳۵) مثال کے طور پر، نازی لیڈر ایڈولف ہٹلر یہوواہ کے گواہوں کو جرمنی سے نیستونابود کر دینا چاہتا تھا۔ لیکن کس ذلیل طریقے سے وہ ناکام رہا، کیونکہ ان میں سے ہزارہا اب وہاں بادشاہتی پیغام کا اعلان کرتے ہیں!
ہو سکتا ہے ہمارے دشمن تحقیرآمیز تمسخر اڑاتے ہوئے، ”آہا، آہا!“ کہیں۔ چونکہ وہ خدا اور اسکی امت کی تذلیل کرتے ہیں، اس لیے وہ گنہگار ”اپنی رسوائی کے سبب سے پسپا ہوں“ اور ذلت اٹھائیں۔ اس کے لیے دعا کرتے ہوئے، آئیے ہم اپنی راستی پر قائم رہیں اور یہوواہ کے دل کو شاد کریں کہ وہ اپنے ملامت کرنے والے شیطان اور کسی بھی دوسرے کو جواب دے سکے۔ (امثال ۲۷:۱۱) اور ہمیں اپنے مغرور دشمنوں سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ ”جو کوئی [یہوواہ] پر توکل کرتا ہے وہ محفوظ رہے گا۔“ (امثال ۲۹:۲۵) مغرور بابلی بادشاہ نبوکدنضر جو خدا کی امت کو اسیر کر کے لے گیا تھا اس نے ذلت اٹھائی اور اسے یہ تسلیم کرنا پڑا تھا کہ ”آسمانوں کا بادشاہ ان لوگوں کو ذلیل کر نے کے اہل ہے جو مغروری میں چلتے ہیں۔“ دانیایل ۴:۳۷۔
”خدا کی تمجید ہو!“
اگرچہ دشمن ہمیں تکلیف دے سکتے ہیں تو بھی آئیے ہم ہمیشہ ساتھی پرستاروں کے ساتھ مل کر یہوواہ کی بڑائی کرتے رہیں۔ خود کو اس مصیبت کا لقمہ بننے کی اجازت دینے کی بجائے کہ وہ خدا کی تمجید کرنے میں ناکام رہا، داؤد نے کہا: ”تیرے سب طالب تجھ میں خوشوخرم ہوں۔ تیری نجات کے عاشق ہمیشہ کہا کریں”خدا کی تمجید ہو۔“ (زبور ۷۰:۴) یہوواہ کے لوگ نہایت ہی شادمان رہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں ”خوشوخرم“ ہیں۔ اسکے مخصوصشدہ اور بپتسمہیافتہ گواہوں کے طور پر انہیں بڑی خوشی حاصل ہے جو اس کے ساتھ قریبی رشتہ سے پیدا ہوتی ہے۔ (زبور ۲۵:۱۴) تاہم، ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کے فروتن طالبوں کے طور پر خیال کیے جائیں۔ خدا کے حکموں پر چلنے والے ایماندار ہوتے ہوئے، وہ اسکے اور اسکے کلام کے مزید علم کے مسلسل طالب رہتے ہیں۔ واعظ ۳:۱۱، ۱۲:۱۳، ۱۴، یسعیاہ ۵۴:۱۳۔
جب یہوواہ کے گواہ خوشخبری کا اعلان کرتے ہیں تو وہ عملاً ہمیشہ کہتے رہتے ہیں: ”خدا کی تمجید ہو!“ وہ یہوواہ کی بہت زیادہ تعظیموتکریم کرتے ہوئے اس کی بڑائی کرتے ہیں۔ وہ خوشی سے سچائی کے طلبوں کی مدد کرتے ہیں تاکہ وہ بھی خدا کی بابت سیکھیں اور اسکو جلال دیں۔ دنیادار عیشپرستوں کے برعکس، یہوواہ کے لوگ ”اسکی نجات سے محبت رکھتے ہیں“۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) اپنی موروثی گنہگارانہ حالت کو محسوس کرتے ہوئے، وہ ابدی زندگی والی نجات کے لیے یہوواہ خدا کے پرمحبت بندوبست کے مشکور ہیں جو اس نے اپنے عزیز بیٹے یسوع مسیح کی کفارہ کی قربانی کے وسیلے ممکن بنایا ہے۔ (یوحنا ۳:۱۶، رومیوں ۵:۸، ۱-یوحنا ۲:۱، ۲) کیا آپ خدا کی تمجید کر رہے ہیں اور یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آپ اسکی حمدوثنا کے لیے سچی پرستش کرنے سے ”اسکی نجات سے محبت رکھتے ہیں“؟ یوحنا ۴:۲۳، ۲۴۔
بچاؤ مہیا کرنے والے پر توکل کریں
اس زبور میں اپنا اظہار کرتے وقت داؤد نے ایسی شدید ضرورت محسوس کی کہ اس نے کہا: ”پر میں غریب اور محتاج ہوں۔ اے خدا میرے پاس جلد آ۔ تو میری مدد اور میرا بچاؤ مہیا کرنے والا ہے۔ اے یہوواہ زیادہ دیر نہ کر!“ (زبور ۷۰:۵، NW) ایسی مصیبتیں اٹھا کر جو ایمانداروں پر آ پڑتی ہیں ایسی تکلیفیں جیسے کہ اذیت، آزمایشیں، اور شیطان کے حملے ہم ”غریب“ لگ سکتے ہیں۔ اگرچہ ہم کنگال نہ بھی ہوں تو بھی ہم بددیانت دشمنوں کے خلاف نہتے لگ سکتے ہیں۔ تاہم، ہم اطمینان رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہمیں اپنے وفادار خادموں کے طور پر چھڑا سکتا ہے اور چھڑائے گا۔ زبور ۹:۱۷-۲۰۔
جب ہمیں اس کی ضرورت ہو تب یہوواہ ”بچاؤ مہیا کرنے والا“ ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری اپنی کوتاہیاں ہی ہمیں تکلیفدہ حالت میں لے آئی ہوں۔ لیکن اگر ”ہماری حماقت نے ہمیں گمراہ کر دیا ہے“ تو ہمارا ”دل یہوواہ سے بیزار نہ ہو۔“ (امثال ۱۹:۳) وہ موردالزام نہیں، اور اگر ہم ایمان کیساتھ اس سے دعا کریں تو وہ ہماری مدد کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ (زبور ۳۷:۵) لیکن اس وقت کیا ہو اگر ہم گناہ سے بچنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں؟ تب آئیے ہم راست روش پر چلتے رہنے کے واسطے خدائی مدد کے لیے درخواست کرتے ہوئے، دعا میں اس کا خاص ذکر کریں۔ (متی ۵:۶، رومیوں ۷:۲۱-۲۵) خدا ہماری مخلصانہ دعا کا جواب دیگا، اور اگر ہم اس کی روحالقدس کی ہدایت پر چلتے ہیں تو ہم روحانی طور پر ضرور ترقی کریں گے۔ زبور ۵۱:۱۷، افسیوں ۴:۳۰۔
ایمان کی آزمایش کی کشمکشکے وقت شاید ہم محسوس کریں کہ ہم زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے۔ چونکہ ہمارا گنہگار جسم کمزور ہے اس لیے یہ فوری بچاؤ کے لیے آرزو کر سکتا ہے۔ (مرقس ۱۴:۳۸) پس ہم التجا کر سکتے ہیں: ”اے یہوواہ زیادہ دیر نہ کر۔“ خاص طور پر جب ہم خدا کے نام پر ملامت کی بابت فکرمند ہیں تو ہم ویسی دعا کرنے کی تحریک پا سکتے ہیں جیسی کہ دانیایل نبی نے کی تھی: ”اے یہوواہ، سن لے۔ اے یہوواہ، معاف فرما۔ اے یہوواہ، دھیان دے اور کارروائی کر۔ اے میرے خدا، خود اپنی خاطر دیر نہ کر کیونکہ . . . تیرے لوگ تیرے ہی نام سے کہلاتے ہیں۔“ (دانیایل ۹:۱۹، NW) ہم ایمان رکھ سکتے ہیں کہ ہمارا آسمانی باپ زیادہ دیر نہیں کریگا، اس لیے کہ پولس رسول نے یہ یقین دلایا تھا: ”آؤ ہم فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رحم ہو اور وہ فضل حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہماری مدد کرے۔“ عبرانیوں ۴:۱۶۔
کبھی نہ بھولیں کہ یہوواہ بچاؤ مہیا کرنے والا ہے۔ اس کے خادموں کے طور پر، ہمارے لیے یہ مفید ہو گا کہ اسے اور زبور ۷۰ کے دعائیہ تاثرات کو یاد رکھیں۔ بعض اوقات ہو سکتا ہے کہ ہمیں گہری فکر کے معاملات کی بابت باربار دعا کرنی پڑے۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۷) ہو سکتا ہے کہ کسی ایک خاص مسئلے کا کوئی حل دکھائی نہ دیتا ہو، اور ہماری مشکل سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہ آتی ہو۔ لیکن، ہمارا پرمحبت آسمانی باپ ہمیں تقویت دیگا اور ہمیں ہماری برداشت سے باہر آزمایش میں پڑنے نہیں دیگا۔ پس، مخلصانہ دعا میں ازلی بادشاہ کے تخت کے سامنے جانے میں ہمت نہ ہاریں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۳، فلپیوں ۴:۶، ۷، ۱۳، مکاشفہ ۱۵:۳) ایمان سے دعا کریں، اور اس پر کامل بھروسہ رکھیں، کیونکہ یہوواہ مدد کے لیے ہماری اشد ضروری پکاریں سنتا ہے۔ (۲۱ ۵/۱۵ w۹۱)