40 نحمیاہ
اُنہوں نے پھر سے شہر کی دیواریں بنائیں
نحمیاہ فارس کے شہر سُوسن میں رہتے تھے۔ لیکن اُن کا دل شہر یروشلم میں تھا جو سُوسن سے بہت دُور تھا۔ نحمیاہ کو یروشلم سے بہت لگاؤ تھا کیونکہ وہاں یہوواہ کی ہیکل تھی۔ یہوواہ کے بندے بہت لمبے عرصے سے ایک پرائے ملک میں قیدیوں کے طور پر رہ رہے تھے۔ لیکن پھر اُنہیں اپنے ملک لوٹنے کی اِجازت مل گئی۔ وہ وہاں پہنچ تو گئے لیکن اُنہوں نے یروشلم کی اُن دیواروں کو پھر سے نہیں بنایا جو تباہ ہو چُکی تھیں۔ بِنا دیواروں کے شہر میں رہنے سے لوگوں کو ڈر لگ رہا تھا اور وہ وہاں نہیں رہنا چاہتے تھے۔ اِس وجہ سے یہوواہ کی ہیکل میں اُس کی عبادت اُس طرح سے نہیں کی جا رہی تھی جس طرح سے وہ چاہتا تھا۔
نحمیاہ فارس کی سلطنت میں ایک بہت اعلیٰ عہدہ رکھتے تھے۔ وہ فارس کے بادشاہ ارتخششتا کے بہت ہی وفادار اور قابلِبھروسا بندے تھے۔ لیکن نحمیاہ سب سے بڑھ کر یہوواہ کے وفادار تھے۔ ایک دن نحمیاہ کا بھائی اُن سے ملنے گیا اور اُس نے اُنہیں بتایا کہ یروشلم کی ”حالت بہت بُری ہے۔“ اُس نے کہا کہ نہ صرف یروشلم کی دیواریں ٹوٹی ہوئی ہیں بلکہ وہاں رہنے والے لوگ بھی ”ذِلت سہہ رہے ہیں۔“
جیسے ہی نحمیاہ نے یہ باتیں سنیں، وہ اِتنے پریشان اور دُکھی ہو گئے کہ وہ بیٹھ کر رونے لگے۔ اُنہوں نے یہوواہ سے اِلتجا کی کہ وہ اپنے بندوں کو یاد کرے اور اُن کی مدد کرے۔ پھر جب بعد میں نحمیاہ بادشاہ ارتخششتا کو مے پیش کر رہے تھے تو بادشاہ نے اُن سے پوچھا کہ وہ اِتنے اُداس کیوں لگ رہے ہیں۔ نحمیاہ بادشاہ سے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے لیکن پھر اُنہوں نے اُسے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی۔ اُنہوں نے بادشاہ کو بتایا کہ شہر یروشلم کی حالت بہت بُری ہے۔ اِس پر ارتخششتا نے نحمیاہ سے پوچھا کہ وہ اُن کے لیے کیا کر سکتا ہے۔ نحمیاہ کی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ بادشاہ کی بات سنتے ہی نحمیاہ نے ”فوراً آسمان کے خدا سے دُعا کی۔“ پھر اُنہوں نے بادشاہ سے عرض کی کہ وہ کچھ عرصے کے لیے یروشلم جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ وہاں کی دیواروں اور دروازوں کو پھر سے بنانے میں لوگوں کی مدد کر سکیں۔ بادشاہ نے نحمیاہ کی درخواست قبول کر لی۔
اِس کے بعد نحمیاہ یروشلم کے سفر پر روانہ ہو گئے جو کہ ایک بہت ہی لمبا اور خطرناک سفر تھا۔ جب وہ یروشلم پہنچے تو اِس کے تین دن بعد وہ بڑی خاموشی سے کچھ آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر رات کے وقت یروشلم کی دیواروں کا جائزہ لینے کے لیے گئے۔ پھر اُنہوں نے لوگوں کو منظم کِیا اور اُن کا حوصلہ بڑھایا کہ وہ تعمیر کے کام میں اُن کا ساتھ دیں۔ اُنہوں نے خود دیواروں کو بنانے کے کام میں حصہ لے کر لوگوں کے لیے مثال قائم کی۔ اُنہیں دیکھ کر زیادہتر لوگ اُن کا ساتھ دینے لگے، یہاں تک کہ بہت سے مُعزز اور امیر لوگ اور حاکم بھی۔ اِن میں سے تو ایک حاکم کی بیٹیوں نے بھی مل کر یروشلم کی دیواروں کو پھر سے بنانے میں ہاتھ بٹایا۔
یہودیوں کے بہت سے دُشمن یہ نہیں چاہتے تھے کہ یروشلم ایک مضبوط اور محفوظ شہر بن جائے۔ اِس لیے سب سے پہلے تو اُنہوں نے لوگوں کا حوصلہ توڑنے کے لیے اُن کا مذاق اُڑایا اور اُن پر طنز کے تیر چلائے۔ ایک دُشمن نے تو یہ تک کہا کہ اگر ایک لومڑی بھی اُس دیوار پر چڑھ گئی جو نحمیاہ اور اُن کے ساتھی بنا رہے ہیں تو وہ دیوار ڈھیر ہو جائے گی۔ نحمیاہ نے مخالفوں کی ایک بات پر بھی دھیان نہیں دیا اور وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
حالانکہ نحمیاہ کے دُشمنوں نے اُن کا مذاق اُڑایا اور اُنہیں ڈرایا دھمکایا لیکن نحمیاہ پھر بھی یروشلم کی دیواریں بناتے رہے۔
لیکن دُشمن پھر بھی باز نہیں آئے۔ اُنہوں نے مخالفت پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دی۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ یروشلم کی دیواروں کی مرمت کا کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور یہودیوں نے دیوار کو آدھی اُونچائی تک کھڑا کر لیا ہے تو وہ یروشلم پر حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگے۔ لیکن نحمیاہ نے شہر کو دُشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے قدم اُٹھائے۔ جب دُشمنوں نے یہ دیکھا کہ یہودیوں کو اُن کے منصوبے کا پتہ چل گیا ہے تو اُنہوں نے اُن پر حملہ کرنے کا اِرادہ چھوڑ دیا۔ اُس دن کے بعد سے نحمیاہ اور اُن کے کچھ آدمی نیزے، ڈھالیں اور کمانیں پکڑے رہتے تھے اور کچھ آدمی دیوار بنانے کا کام کرتے تھے۔ لیکن دُشمنوں نے بھی ہار نہیں مانی۔
اُنہوں نے ایک اَور چال چلی۔ اُنہوں نے ایک جھوٹے نبی کو پیسے دیے تاکہ وہ نحمیاہ سے کہے کہ دُشمن اُنہیں مار ڈالنے کے لیے آ رہے ہیں اور اُنہیں پناہ لینے کے لیے ہیکل میں چھپ جانا چاہیے۔ لیکن یہوواہ نے موسیٰ کو جو شریعت دی تھی، اُس میں اُس نے کہا تھا کہ صرف کاہن ہی ہیکل کے اندر جا سکتے ہیں۔ اِس لیے نحمیاہ نے کہا: ”کیا مجھ جیسا آدمی ہیکل میں جا کر زندہ رہ سکتا ہے؟“ تو نحمیاہ نے وہاں جانے سے صاف اِنکار کر دیا۔ وہ بِنا رُکے کام کرتے رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جو یہوواہ اُن سے چاہتا ہے اور وہ اُن کے ساتھ ہے۔ یہوواہ نے واقعی نحمیاہ کا ساتھ دیا! 52 دنوں میں یروشلم کی دیواریں دوبارہ سے بن گئیں جسے دیکھ کر مخالف اور مذاق اُڑانے والے لوگ شرم سے پانی پانی ہو گئے۔
لیکن اب نحمیاہ کو ایک اَور کام کرنے کے لیے بھی دلیری کی ضرورت تھی۔ اُنہیں اپنی قوم کے لوگوں کی پیشوائی کرنی تھی کہ وہ یہوواہ کی شریعت میں لکھی باتوں کے مطابق زندگی گزاریں۔ مثال کے طور پر جب نحمیاہ نے سنا کہ کچھ امیر یہودی اپنے غریب یہودی بھائیوں کو اُدھار پیسے دے کر سُود پر اُن سے پیسے واپس مانگتے ہیں تو نحمیاہ نے بڑی دلیری سے اُن کی درستی کی۔ پھر کچھ سالوں بعد جب نحمیاہ نے سنا کہ کچھ یہودی آدمیوں نے یہوواہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے غیرقوم کی عورتوں سے شادی کی ہے تو اُنہوں نے دلیری سے اِن آدمیوں سے کہا کہ اُنہوں نے یہوواہ کی شریعت کے خلاف بہت بڑا گُناہ کِیا ہے۔
نحمیاہ نے اپنی قوم کے لوگوں کو تسلی بھی دی۔ ایک وقت آیا کہ لوگ اپنی خامیوں اور گُناہوں کی وجہ سے بہت بےحوصلہ ہو گئے تھے۔ اُس وقت نحمیاہ نے اُنہیں ایک بڑی زبردست اور اہم سچائی بتائی۔ اُنہوں نے لوگوں سے کہا: ”یہوواہ سے ملنے والی خوشی آپ کی طاقت ہے۔“ نحمیاہ جانتے تھے کہ لوگ مضبوط دیواروں اور قلعوں کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ لوگوں کو یہ سکھانا چاہتے تھے کہ جو چیز صحیح معنوں میں ایک شخص کو طاقت بخشتی ہے، وہ یہوواہ کی طرف سے ملنے والی خوشی ہے۔ اور یہوواہ یہ خوشی اُن لوگوں کو دیتا ہے جو اُس کی خدمت کرتے ہیں۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
نحمیاہ نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. نحمیاہ بادشاہ کے ساقی تھے۔ کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ وہ بس ایک عام سے خادم تھے؟ (ڈبلیو10 1/7 ص. 9 پ. 5-7) تصویر نمبر 1
National Museum of Iran, Tehran, Iran/Bridgeman Images
تصویر نمبر 1: پُرانے زمانے کی ایک دیوار پر بنی تصویر۔ اِس میں فارس کی سلطنت کا ساقی ارتخششتا کے دادا یعنی داراِاعظم کو مے اور دوسرے مشروب پیش کر رہا ہے۔
2. سلّوم کی بیٹیاں کس لحاظ سے تقوعیوں کے مُعزز آدمیوں سے فرق تھیں؟ (نحم 3:5، 12؛ م19.10 ص. 23 پ. 11)
3. جو لوگ دیوار بنا رہے تھے، وہ ”ایک ہاتھ سے کام کرتے تھے اور دوسرے ہاتھ میں ہتھیار پکڑے رہتے تھے۔“ یہ لوگ ایک ہی ہاتھ اِستعمال کر کے کام کیسے کر سکتے تھے؟ (نحم 4:17، 18؛ م06 1/2 ص. 9 پ. 1) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2
4. نحمیاہ اِس بات کی وجہ سے کیوں پریشان ہو گئے تھے کہ یہودیوں کے کچھ بچوں کو عبرانی بولنی نہیں آتی؟ (نحم 13:23-27؛ م16.10 ص. 14 پ. 4)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
کلیسیا کے بزرگ اِن باتوں کے حوالے سے نحمیاہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں:
یہوواہ پر بھروسا کرنا؟ (نحم 1:4-11؛ 4:14؛ 13:1-3)
کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا؟ (نحم 4:15، 21-23)
اپنے ہمایمانوں کی بات کو دھیان سے سننے کے لیے تیار رہنا؟ (نحم 5:1-7) تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
نحمیاہ ارتخششتا بادشاہ کے محل میں بہت اُونچے عہدے پر تھے لیکن اُنہوں نے محل کی آرامدہ زندگی چھوڑ کر یہوواہ کے بندوں کی مدد کی جس کا یہوواہ نے اُنہیں اجر دیا۔ اِس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
آپ اپنی زندگی میں کن طریقوں سے نحمیاہ کی طرح دلیری دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ نحمیاہ کو زندہ کرے گا تو مَیں نحمیاہ سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
ہم نحمیاہ سے دُعا کرنے کی اہمیت کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ نحمیاہ کی مثال سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ دُعا میں بہت طاقت ہے؟
”خدا نے اُن کی دُعا کا جواب دیا“ (ویبسائٹ پر سلسلہ ”بائبل کے مطالعے کے لیے مشقیں“)
اِس ویڈیو میں دیکھیں کہ نحمیاہ اُس وقت بھی دلیری سے کام کیسے کرتے رہے جب اُن کے دُشمنوں نے اُنہیں بار بار روکنے کی کوشش کی۔