39 آستر
”اگر مَیں ماری گئی تو ماری گئی“
ایک جوان لڑکی بادشاہ کے محل میں اُس کے تخت کے سامنے گئی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ بِنبلائے بادشاہ کے سامنے گئی تو بادشاہ اُسے مار ڈالنے کا حکم دے سکتا ہے۔ حالانکہ وہ بہت ڈری ہوئی تھی لیکن وہ پھر بھی بڑی ہمت سے بادشاہ کے تخت کی طرف بڑھتی گئی۔ وہ کون تھی اور اُسے بادشاہ کے پاس جانے کی ضرورت کیوں پڑی؟
اُس جوان لڑکی کا نام آستر تھا۔ جب آستر چھوٹی تھیں تو اُن کے امی ابو فوت ہو گئے تھے اور اِس کے بعد اُن کے کزن مردکی نے اُنہیں اپنی بیٹی کی طرح پالا تھا۔ مردکی آستر سے عمر میں بہت بڑے تھے۔ وہ دونوں شہر سُوسن میں رہتے تھے۔ یہ فارسی سلطنت کا وہ شہر تھا جہاں اِس کا بادشاہ بھی رہتا تھا۔ مردکی بادشاہ کے ایک خادم تھے۔ جب آستر بڑی ہوئیں تو وہ بہت خوبصورت اور پُرکشش تھیں۔
ایک دن بادشاہ اخسویرس (غالباً خشایارشا اوّل) نے اپنے لیے نئی بیوی چُننے کا فیصلہ کِیا۔ اُس نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ وہ اُس کے لیے پوری سلطنت سے جوان اور خوبصورت کنواری لڑکیاں ڈھونڈیں۔ بادشاہ کے خادموں نے دیکھا کہ آستر بہت خوبصورت ہیں۔ اِس لیے وہ اُنہیں بادشاہ کے محل میں لے گئے۔ مردکی کو نہ چاہتے ہوئے بھی آستر سے الگ ہونا پڑا۔ لیکن اِس سے پہلے کہ بادشاہ کے خادم آستر کو مردکی کے پاس سے لے جاتے، مردکی نے آستر کو نصیحت کی کہ وہ کسی کو بھی نہ بتائیں کہ وہ ایک یہودی ہیں۔
محل میں پہنچ کر ”آستر ہر اُس شخص کا دل جیتتی رہیں جس نے اُنہیں دیکھا۔“ آستر کو بادشاہ کے سامنے حاضر کرنے سے پہلے 12 مہینوں تک اُن کی فرق فرق طریقوں سے خوبصورتی نکھاری گئی۔ ایسا ہی دوسری لڑکیوں کے ساتھ بھی کِیا گیا۔ پھر جب آستر کو بادشاہ کے سامنے پیش کِیا گیا تو ”اُنہوں نے بادشاہ کا دل جیت لیا اور بادشاہ نے دوسری کنواریوں سے زیادہ اُنہیں پسند کِیا۔“ بادشاہ نے آستر کے سر پر شاہی تاج پہنایا اور یوں آستر فارسی سلطنت کے طاقتور حکمران کی ملکہ بن گئیں۔ اِس کے بعد بھی آستر نے مردکی کا حکم مانتے ہوئے کسی کو نہیں بتایا کہ وہ ایک یہودی ہیں۔
اِسی عرصے کے دوران بادشاہ نے ہامان نام کے آدمی کو اپنی سلطنت کا وزیرِاعظم بنا دیا۔ ہامان کو مردکی ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ وہ مردکی سے بہت نفرت کرتا تھا کیونکہ مردکی اُس کے سامنے جھک کر اُس کی تعظیم نہیں کرتے تھے۔ مردکی ایسا اِس لیے نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ یہوواہ کے وفادار تھے۔ لگتا ہے کہ ہامان اُس قوم سے تھے جسے یہوواہ اپنا دُشمن سمجھتا تھا اور جس کے لیے اُس نے موت کی سزا مقرر کی تھی۔ ہامان ہر صورت میں مردکی کو مار ڈالنا چاہتا تھا اِس لیے اُس نے فارس کی سلطنت سے تمام یہودیوں کا نامونشان مٹا دینے کا منصوبہ بنایا۔ جب مردکی کو ہامان کی سازش کا پتہ چلا تو وہ بہت پریشان ہوئے۔ اُنہوں نے آستر کو پیغام بھیجا کہ وہ بادشاہ کے سامنے جائیں اور اُس سے اپنی قوم کے لوگوں کی جان کی بھیک مانگیں۔ یہ آستر کی دلیری کا سب سے بڑا اِمتحان تھا!
آستر نے مردکی کو بتایا کہ اگر وہ بِنبلائے بادشاہ کے سامنے حاضر ہوئیں تو اِس کی سزا موت ہوگی۔ ویسے بھی بادشاہ اخسویرس اپنی گرممزاجی کے لیے کافی مشہور تھا۔ لیکن مردکی نے پھر بھی آستر کو بادشاہ کے پاس جانے کو کہا اور اُنہیں یاد دِلایا کہ شاید وہ اِسی دن کے لیے ملکہ بنی تھیں کہ وہ یہوواہ کے بندوں کو بچا سکیں۔ تو آستر نے اپنے ڈر کو مار کر بادشاہ کے پاس جانے کا فیصلہ کِیا۔ اُنہوں نے سوچا: ”اگر مَیں ماری گئی تو ماری گئی۔“ آستر نے بس مردکی سے اِتنی درخواست کی کہ وہ اُن کی قوم کے لوگوں کو اُن کے لیے تین دن تک روزہ رکھنے کو کہیں۔ بےشک آستر نے یہوواہ سے بہت زیادہ دُعا کی ہوگی اور اُن کی قوم کے لوگوں نے بھی اُن کے لیے بہت دُعائیں کی ہوں گی۔ اِس کے بعد آستر بادشاہ کے پاس گئیں۔
جیسے ہی بادشاہ نے آستر کو صحن میں کھڑے دیکھا، وہ اُن پر غصہ ہونے کی بجائے خوش ہو گیا۔ اُس نے حکم دیا کہ آستر کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ پھر اُس نے آستر سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ آستر نے بادشاہ کو جواب دیا کہ وہ اُن کی اور ہامان کی دعوت کرنا چاہتی ہیں۔ جب بادشاہ اور ہامان دعوت پر گئے تو آستر نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے بادشاہ کو اُس وقت نہیں بتایا کہ ہامان یہودیوں کو مارنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اُنہوں نے بادشاہ سے گزارش کی کہ وہ اور ہامان اگلے دن پھر سے دعوت میں آئیں۔ دعوت پر جانے سے پہلے ہامان نے ایک بڑی سُولی تیار کروائی تاکہ مردکی کو اِس پر لٹکایا جائے۔ لیکن ہامان اپنی ہی چال میں پھنس گیا۔
آستر کو ایک طاقتور بادشاہ کو قائل کرنا تھا کہ وہ خدا کے بندوں کا قتلِعام ہونے سے روک دے۔
دوسرے دن دعوت پر اخسویرس نے پھر سے آستر سے پوچھا کہ وہ اُن کی کون سی فرمائش پوری کر سکتا ہے۔ اِس بار آستر نے بادشاہ کو بتایا کہ وہ اُن سے کیا چاہتی ہیں۔ اُنہوں نے بڑے احترام سے بادشاہ سے کہا کہ ایک آدمی اُنہیں اور اُن کی قوم کو مار ڈالنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بادشاہ کو اِس ظلم سے نقصان نہ ہوتا تو وہ اِس ظلم کو چپ کر کے سہہ جاتیں۔ اخسویرس کو یہ سُن کر بہت دھچکا لگا اور اُس نے آستر سے پوچھا کہ کس نے ایسا کرنے کی جُرأت کی ہے۔ آستر نے بادشاہ کو بتایا کہ وہ شخص کوئی اَور نہیں بلکہ ہامان ہے! یہ سنتے ہی بادشاہ غصے میں بھر گیا اور اُس نے ہامان کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ ہامان کو اُسی سُولی پر لٹکایا گیا جو اُس نے مردکی کے لیے بنوائی تھی۔
ہامان پوری فارسی سلطنت سے مردکی اور خدا کے سب بندوں کا نامونشان مٹانا چاہتا تھا لیکن اُلٹا اُس کا اور اُن بہت سے لوگوں کا نامونشان مٹ گیا جو یہوواہ اور اُس کے بندوں کے دُشمن تھے۔ یہوواہ نے ایک بہادر اور مضبوط ایمان رکھنے والی لڑکی کے ذریعے اپنے بندوں کو ایک بار پھر سے بچا لیا۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
باتچیت کے لیے:
آستر نے کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. کن تاریخی ثبوتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آستر کی کتاب میں لکھی باتیں بالکل سچی ہیں؟ (ایمان ظاہر کریں، ص. 138، بکس) تصویر نمبر 1
Ungnad,Arthur. “Neubabylonische Privaturkunden aus der Sammlung Amherst.“ Archiv für Orientforschung, vol. 19, 1959, pp.74-82
تصویر نمبر 1: قدیم فارس کی ایک تحریر جس میں ”مردوکا“ نام کے آدمی کا ذکر ہوا ہے (اُردو میں یہ نام مردکی ہے)
2. مردکی نے شاید کس وجہ سے ہامان کے سامنے جھکنے سے اِنکار کِیا ہوگا؟ (ایمان ظاہر کریں، ص. 131 پ. 18)
3. ہم کیسے جانتے ہیں کہ شیطان اور بُرے فرشتے یہودیوں کا نامونشان مٹانے کی کوشش کر رہے تھے؟ (جی02 8/9 ص. 7 پ. 3–ص. 8 پ. 2) تصویر نمبر 2
Cube. Lot of Yahali, puru. Neo-Assyrian Clay. (YPM BC 021122). Courtesy of the Peabody Museum, Division of Anthropology, Babylonian Collection, Yale University; peabody.yale.edu.
تصویر نمبر 2: قُرعے کے لیے اِستعمال ہونے والا چکور پتھر
4. مردکی اور آستر نے بائبل کی کون سی پیشگوئی کے پورا ہونے میں اپنا کردار ادا کِیا؟ (ایمان ظاہر کریں، ص. 142، بکس)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
آستر نے اُس وقت بھی سمجھداری سے کام لیا اور یہوواہ کے لیے فرمانبرداری ظاہر کی جب وہ اُن لوگوں سے دُور تھیں جو یہوواہ کی عبادت کرتے تھے۔ آج نوجوان آستر سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
آستر نے بڑی نرمی اور سمجھداری سے اپنے شوہر سے بات کی اور اُس سے کچھ نہیں چھپایا۔ اِن باتوں کی وجہ سے اُنہوں نے اپنے شوہر کا دل جیت لیا اور اُن کے شوہر نے بڑے دھیان سے اُن کی بات سنی۔ مسیحی بیویاں آستر کی مثال پر کیسے عمل کر سکتی ہیں؟ تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
آپ اپنی زندگی میں کن طریقوں سے آستر کی طرح دلیری دِکھا سکتے ہیں؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ آستر کو زندہ کرے گا تو مَیں آستر سے کیا پوچھوں گا؟
مزید جانیں
گانے کی اِس ویڈیو میں دیکھیں کہ بچے آستر سے کون سی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔
ہمارے زمانے میں کچھ بھائیوں نے اُس وقت آستر کی مثال پر کیسے عمل کِیا جب اُن کے ہمایمانوں کو تحفظ کی ضرورت تھی؟
اُن لوگوں کی مثال پر عمل کریں جو اپنے صبر کی وجہ سے وعدوں کے وارث ہیں—مردکی اور آستر (05:3)