10 موسیٰ
اُنہوں نے صحیح فیصلہ لیا
موسیٰ کا نام اُن کے عبرانی ماں باپ نے نہیں بلکہ ایک مصری شہزادی نے رکھا تھا جس نے موسیٰ کو گود لیا تھا۔ اُس شہزادی نے یہ نام اِس لیے چُنا کیونکہ اِس کا مطلب کچھ یہ تھا: ”پانی سے نکالا گیا۔“ شہزادی نے موسیٰ کو اِسی طرح سے بچایا تھا۔ اُسے بہت اُمید تھی کہ موسیٰ بڑے ہو کر مصر کے شاہی خاندان کا ایک اہم حصہ بن جائیں گے۔ بائبل میں ہم پڑھتے ہیں کہ ”موسیٰ نے مصر کے تمام علوم کی تعلیم پائی۔“ تو یقیناً اُس شہزادی کو موسیٰ کو مصر کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہوگی۔
جب موسیٰ بڑے ہوئے تو وہ ایک بہت ہی ذہین اور قابل شخص بنے۔ بائبل میں اِس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ”اُن کی باتیں اور کام بہت مؤثر تھے۔“ اگر موسیٰ چاہتے تو وہ مصر میں پیسہ اور اِختیار حاصل کر سکتے تھے اور عیشوآرام کی زندگی جی سکتے تھے۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ اِس طرح سے زندگی گزارنے سے وہ یہوواہ کو خوش نہیں کر پائیں گے۔ تو موسیٰ کو یہ فیصلہ لینا تھا کہ وہ اپنی باقی زندگی کیسے جئیں گے؟
جب موسیٰ 40 سال کے تھے تو اُنہوں نے ایک ایسا فیصلہ لیا جو سب پر واضح تھا۔ بائبل میں لکھا ہے: ”جب موسیٰ بڑے ہوئے تو ایمان کی بدولت اُنہوں نے فرعون کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے اِنکار کر دیا۔ اُنہوں نے گُناہ کا وقتی مزہ لُوٹنے کی بجائے خدا کے بندوں کے ساتھ بدسلوکی برداشت کرنے کا اِنتخاب کِیا۔“ اُنہوں نے بالکل صحیح فیصلہ لیا جس سے ظاہر ہوا کہ وہ یہوواہ پر مضبوط ایمان رکھتے تھے اور بہت دلیر شخص تھے۔ لیکن اُنہوں نے جس طرح سے اپنے اِس فیصلے کے مطابق کام کِیا، وہ صحیح نہیں تھا۔
موسیٰ اِسرائیلیوں کو اپنا ’بھائی‘ سمجھتے تھے اور وہ اُن اِسرائیلیوں کی مدد کرنا چاہتے تھے جن کے ساتھ بُرا سلوک کِیا جا رہا تھا۔ ایک دن موسیٰ یہ دیکھنے گئے کہ اُن کے بھائی کتنا ظلم سہہ رہے ہیں۔ اُنہوں نے دیکھا کہ ایک مصری ایک عبرانی غلام کو بہت بےرحمی سے مار پیٹ رہا تھا۔ کیا موسیٰ نے اُس مصری کو ایسا کرنے سے روکا؟ ہم نہیں جانتے۔ لیکن بائبل میں بتایا گیا ہے کہ موسیٰ نے ”اِدھر اُدھر نگاہ کی۔“ شاید اُنہوں نے یہ دیکھنے کے لیے ایسا کِیا ہوگا کہ کوئی شخص اُس غلام کو بچانے کے لیے آ جائے۔ مگر اُنہیں کوئی نظر نہیں آیا۔ اِس لیے موسیٰ نے خود اُس غلام کو بچانے کی کوشش کی۔ اُنہوں نے ”اُس مصری کو جان سے مار“ ڈالا۔ بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اُنہوں نے ایسا جان بُوجھ کر کِیا تھا یا پھر وہ اِتنے غصے میں آ گئے تھے کہ اُنہوں نے اُس مصری کو اِتنی زور سے مارا کہ وہ مر ہی گیا۔ چاہے وہ مصری موسیٰ کے ہاتھوں کسی بھی وجہ سے مرا ہو، موسیٰ جانتے تھے کہ اب وہ ایک بہت بڑے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے ڈر کے مارے اُس مصری کی لاش ریت میں چھپا دی۔
اگلے دن وہ پھر باہر گئے۔ اِس بار اُنہوں نے اُن دو اِسرائیلی غلاموں میں صلح کرانے کی کوشش کی جو آپس میں لڑ رہے تھے۔ لیکن جو اِسرائیلی دوسرے اِسرائیلی کو مار رہا تھا، اُس نے موسیٰ سے ایک ایسی بات کہی جسے سُن کر موسیٰ اَور بھی زیادہ ڈر گئے۔ اُس اِسرائیلی نے کہا: ”تمہیں کس نے ہم پر حاکم اور منصف مقرر کِیا ہے؟ کیا تُم مجھے بھی اُسی طرح مار ڈالنا چاہتے ہو جس طرح تُم نے کل اُس مصری کو مار ڈالا تھا؟“ اِس پر موسیٰ سمجھ گئے کہ لوگوں کو یہ بات پتہ چل گئی ہے۔ اِس لیے وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے۔
موسیٰ نے جیسا سوچا تھا ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ موسیٰ نے کیا سوچا تھا؟ بائبل میں لکھا ہے: ”اُنہوں نے سوچا کہ اُن کے بھائی سمجھ جائیں گے کہ خدا اُن کے ذریعے اِسرائیل کو نجات دِلا رہا ہے لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھے۔“ ایسا لگتا ہے کہ موسیٰ یہ سوچتے تھے کہ خدا نے اُنہیں بنیاِسرائیل کو مصر کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے چُنا ہے۔ لیکن موسیٰ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ابھی اِن لوگوں کو آزاد کرانے کے لیے یہوواہ کا وقت نہیں آیا ہے۔ اِس کے علاوہ موسیٰ یہ توقع بھی نہیں کر رہے تھے کہ بنیاِسرائیل اُن کے ساتھ ایسا کریں گے۔ بنیاِسرائیل موسیٰ پر بھروسا نہیں کرتے تھے جو ویسے تو اُنہی کی طرح عبرانی تھے لیکن مصر کے شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔
موسیٰ نے کیا کرنے کا فیصلہ کِیا، امیر بننے اور اِختیار حاصل کرنے کا یا یہوواہ کے بندوں کا ساتھ دینے کا؟
موسیٰ کو لگتا تھا کہ وہ یہوواہ کے بندوں کو مصر سے آزاد کرانے کے لیے بالکل تیار ہیں لیکن ایسی بہت سی باتیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ یہوواہ کی نظر میں موسیٰ کو ابھی ٹریننگ کی ضرورت تھی۔ سچ ہے کہ اُن میں کسی حد تک دلیری تھی، وہ طاقتور تھے اور ’اُن کی باتیں بہت مؤثر تھیں۔‘ لیکن اُن میں ابھی بھی ایک خوبی کی کمی تھی جس کی یہوواہ سب سے زیادہ قدر کرتا ہے۔ اُنہیں ایک حلیم شخص بننے کی ضرورت تھی۔ موسیٰ نے جلدبازی میں ایک مصری کو مار ڈالا تھا اور جلد ہی فِرعون تک اِس کی خبر پہنچ گئی۔
موسیٰ کو کچھ بولنے کا موقع دینے سے پہلے ہی فِرعون نے اُنہیں مار ڈالنے کی کوشش کی۔ اِس لیے موسیٰ مصر سے بھاگ گئے۔ موسیٰ کو نہیں پتہ تھا کہ اب آگے چل کر اُن کے ساتھ کیا ہوگا۔ وہ اپنا سارا پیسہ، مال، عہدہ اور آسائشیں پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ اب اُنہیں واقعی دلیری کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔ وہ بڑی بہادری سے آگے بڑھتے رہے اور مِدیان کے دُوردراز ملک میں چلے گئے۔ وہ کافی سالوں تک ”اجنبی ملک میں مسافر“ رہے۔ کیا اُن میں خود کو بدلنے کی ہمت تھی؟ کیا وہ واقعی ایک حلیم اور خاکسار شخص بن گئے جیسا یہوواہ اُنہیں دیکھنا چاہتا تھا؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
اِن آیتوں کو پڑھیں:
خروج 2:11-22
باتچیت کے لیے:
موسیٰ نے اپنی زندگی کے اِس حصے میں کن طریقوں سے دلیری دِکھائی؟
موضوع کی گہرائی میں جائیں
1. اِس بات کے کیا ثبوت ہیں کہ بائبل میں لکھی بات کے مطابق بنیاِسرائیل مصر میں غلام تھے؟ (م20.03 ص. 30) تصویر نمبر 1
Courtesy Brooklyn Museum, gift of Theodora Wilbour
تصویر نمبر 1: پُرانے زمانے کے مصری تحریر کے ٹکڑے۔ اِن پر 40 سے زیادہ غلاموں کے عبرانی نام لکھے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر میں اِسرائیلی غلاموں کے طور پر رہ رہے تھے۔
2. موسیٰ نے کیسے اپنے ماں باپ سے تعلیم حاصل کی ہوگی اور پھر ”مصر کے تمام علوم کی تعلیم پائی“ ہوگی؟ (اعما 7:22؛ م02 15/6 ص. 10 پ. 3-6)
3. مصری عام طور پر کس طرح سے مُردوں کو دفناتے تھے؟ مصریوں کو اُس وقت غصہ کیوں آیا ہوگا جب اُنہیں پتہ چلا کہ موسیٰ نے نہ صرف ایک مصری کو مار ڈالا ہے بلکہ اُس کی لاش کو مصالحے لگا کر دفنانے کی بجائے ریت میں چھپا دیا ہے؟ (آئیٹی ”مصر، مصری“ پ. 28) تصویر نمبر 2
تصویر نمبر 2: ایک قدیم مصری لاش
4. موسیٰ ملک مِدیان بھاگ گئے۔ مِدیانیوں اور اِسرائیلیوں میں کون سی باتیں ملتی جلتی تھیں؟ (آئیٹی ”مِدیانی“ نمبر 2 پ. 1-2)
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
موسیٰ کی مثال پر غور کرنے سے آپ غصے کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نوجوان دلیری سے اپنے لیے صحیح منصوبے بنانے کے حوالے سے موسیٰ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ تصویر نمبر 3
تصویر نمبر 3
آپ اپنی زندگی میں کن طریقوں سے موسیٰ کی طرح ویسے ہی دلیری دِکھا سکتے ہیں جس کا اِس باب میں ذکر ہوا ہے؟
یہوواہ اور اُس کے مقصد پر سوچ بچار کریں
مجھے اِس واقعے سے یہوواہ کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟
اِس واقعے کا یہوواہ کے مقصد سے کیا تعلق ہے؟
جب یہوواہ موسیٰ کو زندہ کرے گا تو مَیں موسیٰ سے اُس وقت کے بارے میں کیا پوچھوں گا جب وہ نوجوان تھے؟
مزید جانیں
دیکھیں کہ موسیٰ کی طرح ہم بھی اپنے اندر قربانی دینے کا جذبہ کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔
موسیٰ نے یہوواہ کی خدمت کرنے کی خاطر مالودولت کو ٹھکرا دیا۔ کیا آج ایسا کرنا سمجھداری کی بات ہے؟