سبق نمبر 57
اگر آپ سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟
بےشک آپ یہوواہ خدا سے بہت پیار کرتے ہیں اور پوری کوشش کرتے ہیں کہ آپ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے وہ دُکھی ہو۔ پھر بھی کبھی کبھار آپ سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ اور کچھ غلطیاں تو بہت سنگین ہو سکتی ہیں۔ (1-کُرنتھیوں 6:9، 10) اگر آپ سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے تو یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ سے پیار کرنا نہیں چھوڑتا۔ وہ آپ کو معاف کرنے اور آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
1. ہمیں یہوواہ خدا سے معافی حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
جب یہوواہ خدا سے پیار کرنے والوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اُنہوں نے کوئی سنگین گُناہ کِیا ہے تو وہ بےحد دُکھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن اُنہیں یہوواہ کے اِس وعدے سے بڑی تسلی ملتی ہے: ”اگرچہ تمہارے گُناہ قرمزی [یعنی گہرے سُرخ رنگ کے] ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے۔“ (یسعیاہ 1:18) اگر ہم دل سے توبہ کرتے ہیں تو یہوواہ ہمیں پوری طرح معاف کر دیتا ہے۔ ہم توبہ کیسے کرتے ہیں؟ ہمیں اپنی غلطی پر شدید پچھتاوا ہوتا ہے اِس لیے ہم غلط کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہوواہ خدا سے معافی کی اِلتجا کرتے ہیں۔ پھر ہم اپنی غلط سوچ اور اُن عادتوں کو بدلنے کی پوری کوشش کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہم سے گُناہ ہوا تھا۔ اِس کے علاوہ ہم خدا کے پاک معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔—یسعیاہ 55:6، 7 کو پڑھیں۔
2. جب ہم گُناہ کرتے ہیں تو یہوواہ خدا بزرگوں کے ذریعے ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟
اگر ہم سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے تو یہوواہ خدا ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ ہم ”کلیسیا کے بزرگوں کو اپنے پاس“ بلائیں۔ (یعقوب 5:14، 15 کو پڑھیں۔) بزرگ یہوواہ سے اور اُس کے بندوں سے پیار کرتے ہیں۔ اُنہیں تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ہماری مدد کریں تاکہ ہم یہوواہ کے ساتھ اپنی دوستی بحال کر سکیں۔—گلتیوں 6:1۔
اگر ہم سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے تو بزرگ ہماری مدد کیسے کرتے ہیں؟ دو یا تین بزرگ بائبل کی آیتوں کے ذریعے ہماری اِصلاح کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ ہمیں اچھے مشورے دیتے ہیں اور ہماری حوصلہافزائی کرتے ہیں تاکہ ہم دوبارہ گُناہ کرنے سے بچ سکیں۔ اگر سنگین گُناہ کرنے والا شخص توبہ نہیں کرتا تو بزرگ اُسے کلیسیا سے نکال دیتے ہیں تاکہ کلیسیا کو اُس کے بُرے اثر سے محفوظ رکھا جا سکے۔
موضوع کی گہرائی میں جائیں
جانیں کہ اگر ہم سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے تو یہوواہ خدا ہماری مدد کیسے کرتا ہے اور ہم اُس کی مدد کے لیے شکرگزار کیسے ہو سکتے ہیں۔
3. اپنے گُناہ کا اِقرار کرنے سے یہوواہ خدا کے ساتھ ہماری دوستی بحال ہو سکتی ہے
ہم جو بھی گُناہ کرتے ہیں، اُس سے یہوواہ خدا دُکھی ہوتا ہے۔ اِس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اُس کے سامنے اپنے گُناہ کا اِقرار کریں۔ زبور 32:1-5 کو پڑھیں اور پھر اِس سوال پر باتچیت کریں:
یہ کیوں اچھا ہے کہ ہم اپنے گُناہوں کو چھپانے کی بجائے یہوواہ کے سامنے اُن کا اِقرار کریں؟
یہوواہ کے سامنے اپنے گُناہوں کا اِقرار کرنے کے علاوہ بزرگوں سے مدد حاصل کرنے سے بھی ہمیں اِطمینان ملتا ہے۔ ویڈیو چلائیں اور پھر اِس سوال پر باتچیت کریں:
بزرگوں نے یہوواہ کے پاس لوٹنے میں کینن کی مدد کیسے کی؟
بزرگ ہماری مدد کے لیے ہیں اِس لیے ہمیں کُھل کر اُنہیں سب کچھ سچ سچ بتانا چاہیے۔ یعقوب 5:16 کو پڑھیں اور پھر اِس سوال پر باتچیت کریں:
اگر ہم بزرگوں کو کُھل کر سب کچھ بتائیں گے تو اُن کے لیے ہماری مدد کرنا آسان کیوں ہو جائے گا؟
اپنے گُناہ کا اِقرار کریں، بزرگوں کو سب کچھ سچ سچ بتائیں اور یہوواہ کی طرف سے ملنے والی مدد کو قبول کریں۔
4. یہوواہ گُناہگاروں پر رحم کرتا ہے
اگر سنگین گُناہ کرنے والا شخص یہوواہ خدا کے معیاروں پر چلنے سے اِنکار کر دیتا ہے تو اُسے کلیسیا سے نکال دیا جاتا ہے اور ہم ایسے شخص سے میل جول نہیں رکھتے۔ 1-کُرنتھیوں 5:6، 11 کو پڑھیں اور پھر اِس سوال پر باتچیت کریں:
تھوڑا سا خمیر پورے آٹے کو خمیر کر دیتا ہے۔ اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بتائیں کہ توبہ نہ کرنے والے شخص سے میل جول رکھنا کلیسیا پر کیا اثر ڈال سکتا ہے؟
یہوواہ اُن عیبدار اِنسانوں پر رحم کرتا ہے جو گُناہ کر بیٹھتے ہیں۔ اُس کی مثال پر عمل کرتے ہوئے بزرگ ایسے شخص سے ملتے ہیں اور اُس کی مدد کرتے ہیں جسے کلیسیا سے نکال دیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہوواہ کے پاس لوٹ آتے ہیں۔ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ یہ سچ ہے کہ ایسے شخص کی اِصلاح کے لیے جو کارروائی کی جاتی ہے، اُس سے اُسے بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ لیکن اِس سے اُسے اپنے گُناہ کا احساس ہو جاتا ہے۔—زبور 141:5۔
یہوواہ گُناہگاروں کے ساتھ جس طرح سے پیش آتا ہے، اُس سے کیسے پتہ چلتا ہے کہ وہ پیار کرنے والا اور رحیم خدا ہے اور ہمیشہ صحیح فیصلہ کرتا ہے؟
5. یہوواہ خدا توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے
یسوع مسیح نے ایک مثال کے ذریعے سمجھایا کہ جب کوئی شخص توبہ کرتا ہے تو یہوواہ خدا کو کیسا لگتا ہے۔ لُوقا 15:1-7 کو پڑھیں اور پھر اِس سوال پر باتچیت کریں:
اِس مثال سے آپ یہوواہ خدا کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟
حِزقیایل 33:11 کو پڑھیں اور پھر اِس سوال پر باتچیت کریں:
توبہ کرنے والے شخص کو کون سا اہم قدم اُٹھانا چاہیے؟
جیسے ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کا خیال رکھتا ہے ویسے ہی یہوواہ اپنی بھیڑوں کا بہت خیال رکھتا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں: ”اگر مَیں نے بزرگوں کو اپنے گُناہ کے بارے میں بتایا تو وہ مجھے کلیسیا سے نکال دیں گے۔“
آپ ایسی سوچ رکھنے والے شخص سے کیا کہیں گے؟
خلاصہ
اگر ہم سے کوئی سنگین گُناہ ہو جاتا ہے تو ہمیں دل سے توبہ کرنی چاہیے اور اُس گُناہ کو دوبارہ نہ کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔ پھر یہوواہ خدا ہمیں معاف کر دے گا۔
دُہرائی
یہ کیوں اچھا ہے کہ ہم یہوواہ خدا کے سامنے اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں؟
ہمیں کیا کرنا چاہیے تاکہ یہوواہ خدا ہمارے گُناہ معاف کر دے؟
اگر ہم نے کوئی سنگین گُناہ کِیا ہے تو ہمیں بزرگوں سے مدد کیوں لینی چاہیے؟
مزید جانیں
اِس ویڈیو میں دیکھیں کہ ایک شخص نے اِس بات کا تجربہ کیسے کِیا کہ یسعیاہ 1:18 میں لکھی بات بالکل سچ ہے۔
بزرگ اُن لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کیسے کرتے ہیں جو سنگین گُناہ کرتے ہیں؟
غور کریں کہ توبہ نہ کرنے والے گُناہگاروں کے لیے محبت اور رحم کیسے ظاہر کِیا جاتا ہے۔
آپبیتی ”مجھے یہوواہ کی طرف لوٹنے کی ضرورت تھی“ میں پڑھیں کہ ایک ایسا شخص یہوواہ کے پاس کیسے لوٹ آیا جو سچائی سے پھر گیا تھا۔
”پاک کلام کی تعلیم زندگی سنوارتی ہے“ (”مینارِنگہبانی“ کا مضمون)