سبق نمبر 99
ایک جیلر یسوع کا شاگرد بن گیا
فِلپّی میں ایک نوکرانی تھی جس میں ایک بُرا فرشتہ تھا۔ وہ بُرا فرشتہ اُس لڑکی کو بتاتا تھا کہ آگے کیا ہوگا اور اِس طرح وہ لڑکی اپنے مالکوں کے لیے بہت زیادہ پیسہ کماتی تھی۔ جب پولُس اور سیلاس فِلپّی آئے تو وہ لڑکی کئی دنوں تک اُن کا پیچھا کرتی رہی۔ اُس بُرے فرشتے کی وجہ سے وہ اُنہیں دیکھ کر چلّا کر کہتی تھی: ”یہ آدمی خدا تعالیٰ کے غلام ہیں۔“ پھر پولُس نے بُرے فرشتے سے کہا: ”مَیں یسوع کے نام سے تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اِس لڑکی میں سے نکل آؤ!“ وہ بُرا فرشتہ فوراً اُس لڑکی میں سے نکل گیا۔
جب اُس لڑکی کے مالک سمجھ گئے کہ اب وہ اُس سے پیسہ نہیں کما پائیں گے تو اُنہیں بہت غصہ آیا۔ وہ پولُس اور سیلاس کو گھسیٹ کر شہر کے ناظموں کے پاس لے گئے اور اُن سے کہا: ”یہ آدمی قانون توڑ رہے ہیں اور پورے شہر میں فساد پھیلا رہے ہیں۔“ ناظموں نے حکم دیا کہ پولُس اور سیلاس کو مارا پیٹا جائے اور اُنہیں جیل میں ڈال دیا جائے۔ جیلر نے اُنہیں جیل میں ایسی جگہ رکھا جہاں بہت زیادہ اندھیرا تھا اور اُس نے اُن کے پیروں کو کاٹھ میں جکڑ دیا۔
جب پولُس اور سیلاس یہوواہ کی تعریف میں گیت گا رہے تھے تو دوسرے قیدی سُن رہے تھے۔ اچانک آدھی رات کو ایک بہت بڑا زلزلہ آیا جس سے جیل کی بنیادیں ہلنے لگیں، اُس کا دروازہ کُھل گیا اور قیدیوں کی زنجیریں اور کاٹھ کُھل گئے۔ وہ جیلر بھاگا بھاگا جیل کے اندر گیا اور اُس نے دیکھا کہ جیل کے دروازے کُھلے ہوئے ہیں۔ اُس نے سوچا کہ سارے قیدی بھاگ گئے ہیں اِس لیے اُس نے خودکُشی کرنے کے لیے تلوار نکالی۔
اُسی وقت پولُس نے کہا: ”رُکیں! دیکھیں، ہم سب یہیں ہیں!“ وہ جیلر بھاگا بھاگا اندر گیا اور پولُس اور سیلاس کے سامنے گِر پڑا۔ اُس نے اُن سے پوچھا: ”مجھے نجات حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟“ اُنہوں نے اُس سے کہا: ”آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو یسوع پر ایمان لانا ہوگا۔“ پھر پولُس اور سیلاس نے اُنہیں یہوواہ کے کلام کی تعلیم دی اور اُس جیلر اور اُس کے گھر والوں نے بپتسمہ لے لیا۔
”لوگ آپ کو گِرفتار کریں گے، آپ کو اذیت پہنچائیں گے، آپ کو تھانےداروں اور عبادتگاہوں کے پیشواؤں کے حوالے کریں گے اور میرے نام کی خاطر آپ کو بادشاہوں اور حاکموں کے سامنے پیش کریں گے۔ یوں آپ کو گواہی دینے کا موقع ملے گا۔“—لُوقا 21:12، 13