سبق نمبر 100
پولُس اور تیمُتھیُس
تیمُتھیُس نوجوان تھے اور وہ لِسترہ کی کلیسیا میں تھے۔ اُن کے ابو یونانی تھے اور اُن کی امی یہودی تھیں۔ تیمُتھیُس کی امی یُونیکے اور نانی لوئس نے اُنہیں بچپن سے ہی یہوواہ کے بارے میں سکھایا تھا۔
جب پولُس مُنادی کے دوسرے دورے کے دوران لِسترہ گئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ تیمُتھیُس بہن بھائیوں سے بہت محبت کرتے ہیں اور اُن کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ پولُس نے تیمُتھیُس سے کہا کہ وہ بھی اُن کے ساتھ سفر پر چلیں۔ پھر پولُس نے تیمُتھیُس کو ٹریننگ دی تاکہ وہ اچھی طرح مُنادی کر سکیں اور پاک کلام کی تعلیم دے سکیں۔
پولُس اور تیمُتھیُس جہاں بھی جاتے تھے، پاک روح اُن کی رہنمائی کرتی تھی۔ ایک رات ایک رُویا میں ایک آدمی نے پولُس سے کہا کہ وہ مقدونیہ آ کر اُن لوگوں کی مدد کریں۔ اِس لیے پولُس، تیمُتھیُس، سیلاس اور لُوقا وہاں مُنادی کرنے اور کلیسیائیں قائم کرنے گئے۔
مقدونیہ کے شہر تھسلُنیکے میں بہت سے آدمی اور عورتیں مسیحی بن گئے تھے۔ لیکن کچھ یہودی، پولُس اور اُن کے ساتھیوں سے جلتے تھے۔ اُنہوں نے بِھیڑ اِکٹھی کی اور اِن بھائیوں کو گھسیٹ کر شہر کے حاکموں کے پاس لے گئے اور چلّا کر کہنے لگے: ”یہ آدمی رومی حکومت کے دُشمن ہیں!“ پولُس اور تیمُتھیُس کی جان خطرے میں تھی۔ اِس لیے وہ رات کے وقت بھاگ کر بیریہ چلے گئے۔
بیریہ کے لوگوں کو خوشخبری کے بارے میں جاننے کا بہت شوق تھا اور وہاں رہنے والے یونانی اور یہودی دونوں طرح کے لوگ یسوع پر ایمان لے آئے تھے۔ لیکن جب تھسلُنیکے سے کچھ یہودیوں نے آ کر مشکلیں کھڑی کرنی شروع کیں تو پولُس ایتھنز چلے گئے۔ تیمُتھیُس اور سیلاس بیریہ میں ہی رُکے تاکہ وہ بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھا سکیں۔ کچھ وقت بعد پولُس نے تیمُتھیُس کو واپس تھسلُنیکے بھیجا تاکہ وہ اُن بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھا سکیں جنہیں شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ بعد میں پولُس نے تیمُتھیُس کو اَور بھی بہت سی کلیسیاؤں کا دورہ کرنے اور بہن بھائیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے بھیجا۔
پولُس نے تیمُتھیُس سے کہا: ”جو کوئی یہوواہ کی خدمت کرنا چاہتا ہے، اُسے اذیت دی جائے گی۔“ تیمُتھیُس کو بھی اُن کے ایمان کی وجہ سے اذیت دی گئی اور قید میں ڈال دیا گیا۔ وہ بہت خوش تھے کہ اُنہیں یہوواہ کے لیے اپنی وفاداری کو ثابت کرنے کا موقع ملا ہے۔
پولُس نے فِلپّی میں رہنے والے بہن بھائیوں سے کہا: ”مَیں تیمُتھیُس کو آپ کے پاس بھیج رہا ہوں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ سچائی کی راہ پر چلنے کا کیا مطلب ہے اور وہ آپ کو اچھی طرح مُنادی کرنا سکھائیں گے۔“ پولُس تیمُتھیُس پر بھروسا کر سکتے تھے۔ اُنہوں نے کئی سالوں تک دوستوں کی طرح مل کر کام کِیا۔
”میرے پاس اُن جیسا کوئی اَور نہیں جو سچے دل سے آپ کی فکر رکھتا ہو کیونکہ باقی سب لوگ اپنے فائدے کا سوچتے ہیں، یسوع مسیح کے فائدے کا نہیں۔“—فِلپّیوں 2:20، 21