سبق نمبر 90
گلگتا میں یسوع کی موت
اعلیٰ کاہن یسوع کو پیلاطُس کے محل میں لے گئے۔ پیلاطُس نے اُن سے پوچھا: ”اِس آدمی پر کیا اِلزام ہے؟“ اُنہوں نے کہا: ”یہ خود کو بادشاہ کہتا ہے۔“ پھر پیلاطُس نے یسوع سے پوچھا: ”کیا تُم یہودیوں کے بادشاہ ہو؟“ یسوع نے جواب دیا: ”میری بادشاہت اِس دُنیا کی نہیں۔“
پھر پیلاطُس نے یسوع کو ہیرودیس کے پاس بھیجا جو اُس وقت گلیل کا حاکم تھا تاکہ وہ یہ دیکھ سکے کہ کیا اُسے یسوع کے خلاف کچھ ملے گا۔ ہیرودیس کو یسوع کے خلاف کچھ نہیں ملا۔ اِس لیے اُس نے یسوع کو واپس پیلاطُس کے پاس بھیج دیا۔ پیلاطُس نے لوگوں سے کہا: ”نہ ہی مجھے اور نہ ہی ہیرودیس کو اِس آدمی کے خلاف کچھ ملا ہے۔ مَیں اِسے چھوڑ رہا ہوں۔“ لوگوں نے چلّا کر کہا: ”اِسے مار ڈالو! اِسے مار ڈالو!“ فوجیوں نے یسوع کو کوڑے مارے، اُن پر تھوکا اور اُنہیں مارا پیٹا۔ اُنہوں نے یسوع کو کانٹوں کا ایک تاج پہنایا اور اُن کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا: ”یہودیوں کے بادشاہ! آداب!“ پیلاطُس نے لوگوں سے کہا: ”مجھے اِس آدمی کے خلاف کچھ نہیں ملا۔“ لیکن اُنہوں نے چلّا کر کہا: ”اِسے سُولی چڑھا دیں!“ پیلاطُس نے لوگوں کی بات مان لی اور یسوع کو سُولی دینے کے لیے بھیج دیا۔
وہ یسوع کو گلگتا نام کی ایک جگہ لے گئے۔ اُنہوں نے یسوع کے ہاتھ پیر سُولی پر ٹھونک دیے اور سُولی کو کھڑا کر دیا۔ یسوع نے یہوواہ سے دُعا کی: ”باپ! اِنہیں معاف کر دے۔ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔“ لوگوں نے یسوع کا مذاق اُڑایا اور کہا: ”اگر تُو سچمچ خدا کا بیٹا ہے تو اِس سُولی سے اُتر آ! خود کو بچا۔“
یسوع کی دونوں طرف سُولی پر دو مُجرم تھے۔ اُن میں سے ایک نے یسوع سے کہا: ”جب آپ بادشاہ بن جائیں تو مجھے یاد فرمائیے گا۔“ یسوع نے اُس سے وعدہ کِیا: ”آپ میرے ساتھ فردوس میں ہوں گے۔“ دوپہر کے وقت پورے ملک میں تین گھنٹے تک اندھیرا چھایا رہا۔ یسوع کے کچھ شاگرد اُن کی سُولی کے پاس ہی کھڑے تھے جن میں اُن کی ماں مریم بھی تھیں۔ یسوع نے یوحنا سے کہا کہ وہ مریم کا اپنی ماں کی طرح خیال رکھیں۔
پھر یسوع نے کہا: ”سب کچھ مکمل ہو گیا ہے!“ پھر اُن کا سر جھک گیا اور اُنہوں نے اپنی آخری سانس لی۔ اُسی وقت ایک بہت زوردار زلزلہ آیا۔ ہیکل میں مُقدس مقام اور مُقدسترین مقام کے بیچ کا پردہ دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک فوجی افسر نے کہا: ”بےشک یہ خدا کا بیٹا تھا۔“
”خدا نے جتنے بھی وعدے کیے، وہ سب اُن کے ذریعے ”ہاں“ بن گئے۔“—2-کُرنتھیوں 1:20