سبق نمبر 89
پطرس نے یسوع کو جاننے سے اِنکار کِیا
جب یسوع اپنے رسولوں کے ساتھ گھر کے اُوپر والے کمرے میں تھے تو یسوع نے اُن سے کہا: ”آج رات آپ سب مجھے چھوڑ دیں گے۔“ پطرس نے کہا: ”مَیں ایسا کبھی نہیں کروں گا! چاہے سب آپ کو چھوڑ دیں، مَیں آپ کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔“ لیکن یسوع نے پطرس سے کہا: ”مُرغے کے بانگ دینے سے پہلے آپ تین بار مجھے جاننے سے اِنکار کریں گے۔“
جب فوجی یسوع کو کائفا کے گھر لے کر جا رہے تھے تو زیادہتر رسول بھاگ گئے۔ لیکن اُن میں سے دو بِھیڑ کے پیچھے پیچھے گئے۔ اُن میں سے ایک پطرس تھے۔ وہ کائفا کے گھر کے صحن میں گئے اور آگ کے پاس بیٹھ کر آگ سینکنے لگے۔ آگ کی روشنی میں ایک نوکرانی نے پطرس کا چہرہ دیکھ لیا اور وہ کہنے لگی: ”مَیں تمہیں جانتی ہوں! تُم بھی یسوع کے ساتھ ہی تھے!“
پطرس نے کہا: ”نہیں، مَیں یسوع کے ساتھ نہیں تھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ تُم کیا کہہ رہی ہو!“ وہ گھر کے دروازے کے پاس چلے گئے۔ لیکن اُسی وقت ایک اَور نوکرانی نے اُنہیں دیکھا اور بِھیڑ سے کہا: ”یہ آدمی بھی یسوع کے ساتھ تھا!“ پطرس نے کہا: ”مَیں تو یسوع کو جانتا تک نہیں!“ ایک آدمی نے کہا: ”تُم بھی اُن میں سے ایک ہو! تمہاری بولی سے پتہ چل رہا ہے کہ تُم بھی یسوع کی طرح گلیل سے ہو۔“ لیکن پطرس نے قسم کھا کر کہا: ”مَیں یسوع کو نہیں جانتا!“
اُسی وقت ایک مُرغے نے بانگ دی۔ پطرس نے دیکھا کہ یسوع مُڑ کر اُنہیں دیکھ رہے ہیں۔ اُنہیں یسوع کی کہی یہ بات یاد آ گئی کہ مُرغے کے تین بار بانگ دینے سے پہلے وہ یسوع کو جاننے سے اِنکار کریں گے۔ وہ باہر چلے گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
اِس دوران یہودیوں کی عدالتِعظمیٰ یعنی اُن کی بڑی عدالت میں یہ فیصلہ ہوا کہ کائفا کے گھر میں یسوع پر مُقدمہ چلے گا۔ اُنہوں نے پہلے ہی یہ فیصلہ کِیا ہوا تھا کہ وہ یسوع کو مار ڈالیں گے۔ اب بس وہ ایسا کرنے کی وجہ ڈھونڈ رہے تھے۔ لیکن اُنہیں یسوع کے خلاف کچھ نہیں مل رہا تھا۔ آخر میں کائفا نے خود یسوع سے پوچھا: ”کیا تُم خدا کے بیٹے ہو؟“ یسوع نے کہا: ”جی، مَیں ہوں۔“ کائفا نے کہا: ”ہمیں اَور کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ اِس آدمی نے خدا کی توہین کی ہے۔“ عدالت میں موجود سب لوگوں کو یہ بات بالکل صحیح لگی اور اُنہوں نے کہا: ”اِس آدمی کو موت کی سزا ملنی چاہیے!“ اُنہوں نے یسوع کو تھپڑ مارے، اُن پر تھوکا اور اُن کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اُنہیں مارا اور اُن سے کہا: ”اگر تُو ایک نبی ہے تو بتا تجھے کس نے مارا ہے؟“
جب صبح ہوئی تو وہ یسوع کو یہودیوں کی عدالتِعظمیٰ کے صحن میں لے گئے اور اُن سے دوبارہ پوچھا: ”کیا تُم خدا کے بیٹے ہو؟“ یسوع نے کہا: ”تُم نے خود کہا ہے کہ مَیں ہوں۔“ اُنہوں نے یسوع پر خدا کی توہین کرنے کا اِلزام لگایا اور اُنہیں پُنطیُس پیلاطُس کے محل لے گئے جو کہ اُس وقت روم کا حاکم تھا۔ اِس کے بعد کیا ہوا؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
”وہ وقت آنے والا ہے جب آپ . . . اپنے اپنے گھروں کو بھاگ جائیں گے اور مجھے اکیلا چھوڑ جائیں گے۔ لیکن مَیں اکیلا نہیں ہوں کیونکہ میرا باپ میرے ساتھ ہے۔“—یوحنا 16:32