سبق نمبر 51
ایک طاقتور فوجی اور چھوٹی بچی
ملک سُوریہ میں ایک چھوٹی بچی تھی جو اپنے گھر سے بہت دُور تھی۔ سُوریہ کی فوج اُسے زبردستی اُس کے گھر والوں سے دُور لے گئی تھی اور اب وہ سُوریہ کی فوج کے سربراہ نعمان کی بیوی کی خدمت کرتی تھی۔ اِس چھوٹی بچی کے اِردگِرد رہنے والے لوگ یہوواہ کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ لیکن وہ بچی یہوواہ کی عبادت کرتی تھی۔
نعمان کو جِلد کی ایک بہت بُری بیماری ہو گئی تھی جس کی وجہ سے وہ ہر وقت تکلیف میں رہتے تھے۔ وہ چھوٹی بچی نعمان کی مدد کرنا چاہتی تھی۔ اُس نے نعمان کی بیوی سے کہا: ”مَیں ایک ایسے شخص کو جانتی ہوں جو آپ کے شوہر کو ٹھیک کر سکتا ہے۔ اِسرائیل میں یہوواہ کا ایک نبی ہے جس کا نام اِلیشع ہے۔ وہ آپ کے شوہر کو ٹھیک کر سکتا ہے۔“
نعمان کی بیوی نے نعمان کو بتایا کہ اُس بچی نے کیا کہا ہے۔ نعمان ٹھیک ہونے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ اِس لیے وہ اِلیشع سے ملنے اُن کے گھر گئے جو اِسرائیل میں تھا۔ نعمان کو لگ رہا تھا کہ اِلیشع اُنہیں بڑی اہمیت دیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اِلیشع نے اپنے خادم کے ہاتھ نعمان کو یہ پیغام بھجوایا: ”جائیں اور دریائےاُردن میں سات بار نہائیں۔ پھر آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔“
نعمان کو یہ بالکل اچھا نہیں لگا۔ اُنہوں نے کہا: ”مجھے تو لگا تھا کہ یہ نبی مجھے ٹھیک کرنے کے لیے اپنے خدا کا نام لے کر مجھ پر ہاتھ پھیرے گا۔ وہ تو مجھے اِسرائیل کے ایک دریا میں جانے کو کہہ رہا ہے۔ سُوریہ میں اِس سے اچھے دریا ہیں۔ مَیں وہاں کیوں نہیں جا سکتا؟“ نعمان غصے میں اِلیشع کے گھر سے باہر نکل آئے۔
نعمان کے خادموں نے اُنہیں سمجھایا۔ اُنہوں نے کہا: ”کیا آپ ٹھیک ہونے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں تھے؟ یہ نبی تو آپ کو ایک بہت چھوٹا سا کام کرنے کو کہہ رہا ہے۔ آپ کو یہ کر لینا چاہیے۔“ نعمان نے اپنے خادموں کی بات مان لی۔ وہ دریائےاُردن گئے اور سات بار ڈبکی لگائی۔ جب وہ ساتویں بار ڈبکی لگا کر باہر آئے تو وہ بالکل ٹھیک ہو گئے۔ وہ اِلیشع کو شکریہ کہنے کے لیے واپس اُن کے پاس گئے۔ نعمان نے کہا: ”اب مَیں جان گیا ہوں کہ یہوواہ ہی سچا خدا ہے۔“ ذرا سوچیں کہ جب نعمان پوری طرح ٹھیک ہو کر واپس اپنے گھر گئے ہوں گے تو اُس چھوٹی بچی کو کیسا لگا ہوگا؟
”تُو نے چھوٹے اور دودھ پیتے بچوں کے مُنہ سے اپنی بڑائی کروائی۔“—متی 21:16