سبق نمبر 52
یہوواہ کی آتشی فوج
سُوریہ کا بادشاہ بِنہدد بار بار اِسرائیل پر حملہ کر رہا تھا۔ لیکن ہر بار اِلیشع اِسرائیل کے بادشاہ کو پہلے سے بتا دیتے تھے کہ حملہ ہونے والا ہے۔ اِس لیے وہ بچ جاتا تھا۔ بِنہدد نے سوچا کہ وہ اِلیشع کو پکڑ کر لے جائے گا۔ اُسے پتہ چلا کہ اِلیشع شہر دوتین میں ہیں اور اُس نے اِلیشع کو پکڑنے کے لیے فوجیوں کو بھیجا۔
سُوریہ کی فوج رات کے وقت دوتین میں پہنچی۔ اگلی صبح اِلیشع کا ایک خادم باہر گیا اور اُس نے دیکھا کہ پورے شہر کو ایک بہت بڑی فوج نے گھیرا ہوا ہے۔ وہ بہت ڈر گیا اور کہنے لگا: ”اِلیشع! اب ہم کیا کریں گے؟“ اِلیشع نے اُس سے کہا: ”جو ہمارے ساتھ ہیں، وہ اُن سے زیادہ ہیں جو اُن کے ساتھ ہیں۔“ اُسی وقت یہوواہ نے اِلیشع کے خادم کی آنکھیں کھول دیں اور اُسے شہر کی چاروں طرف پہاڑوں پر بہت سارے گھوڑے اور آتشی جنگی رتھ نظر آنے لگے۔
جب سُوریہ کی فوج نے اِلیشع کو پکڑنے کی کوشش کی تو اِلیشع نے یہوواہ سے یہ دُعا کی: ”یہوواہ! مہربانی سے اِنہیں اندھا کر دے۔“ اچانک یہوواہ نے کچھ ایسا کِیا کہ وہ فوجی دیکھ تو سکتے تھے لیکن اُنہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ اِلیشع نے اُن سے کہا: ”آپ غلط شہر آ گئے ہیں۔ میرے ساتھ چلیں۔ مَیں آپ کو اُس آدمی کے پاس لے جاؤں گا جسے آپ ڈھونڈ رہے ہیں۔“ وہ اِلیشع کے پیچھے پیچھے چلنے لگے اور سامریہ پہنچ گئے جہاں اِسرائیل کا بادشاہ رہتا تھا۔
اب جا کر اُنہیں سمجھ آیا کہ وہ کہاں ہیں۔ لیکن بہت دیر ہو چُکی تھی۔ اِسرائیل کے بادشاہ نے اِلیشع سے پوچھا: ”کیا مَیں اِنہیں مار ڈالوں؟“ کیا اِلیشع نے موقعے کا فائدہ اُٹھا کر اُن لوگوں سے بدلا لیا جو اُنہیں نقصان پہنچانا چاہ رہے تھے؟ جی نہیں۔ اِلیشع نے کہا: ”اِنہیں نہ ماریں۔ اِنہیں روٹی اور پانی دیں اور اِنہیں واپس بھیج دیں۔“ اِس لیے اِسرائیل کے بادشاہ نے سُوریہ کے فوجیوں کے لیے ایک بہت بڑی دعوت رکھی اور اُنہیں کھانا کھلانے کے بعد واپس بھیج دیا۔
”ہمیں اُس پر یہ اِعتماد ہے کہ ہم اُس کی مرضی کے مطابق جو کچھ مانگیں گے، وہ ہماری سنے گا۔“—1-یوحنا 5:14