سبق نمبر 50
یہوواہ بادشاہ یہوسفط کی طرف سے لڑا
یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط نے پورے ملک میں بعل کی قربانگاہوں اور بُتوں کو توڑ دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگوں کو یہوواہ کے حکموں کے بارے میں پتہ ہو۔ اِس لیے اُنہوں نے حاکموں اور لاویوں کو یہوداہ بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو یہوواہ کے حکموں کے بارے میں بتا سکیں۔
اِردگِرد کی قومیں یہوداہ پر حملہ کرنے سے ڈرتی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ یہوواہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔ اِن قوموں کے لوگ تو بادشاہ یہوسفط کے لیے تحفے بھی لاتے تھے۔ لیکن پھر موآبیوں، عمونیوں اور شعیر کے علاقے کے کچھ لوگ یہوداہ سے لڑنے آئے۔ یہوسفط جانتے تھے کہ اُنہیں یہوواہ کی مدد کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے مردوں، عورتوں اور بچوں کو یروشلم میں جمع کِیا اور اُن سب کے سامنے یہوواہ سے یہ دُعا کی: ”یہوواہ! تیری مدد کے بغیر ہم نہیں جیت سکتے۔ مہربانی سے ہمیں بتا کہ ہم کیا کریں۔“
یہوواہ نے یہوسفط کی دُعا کے جواب میں یہ کہا: ”ڈرو نہیں۔ مَیں تمہاری مدد کروں گا۔ اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاؤ اور دیکھو کہ مَیں تمہیں کیسے بچاتا ہوں۔“ یہوواہ نے اپنے بندوں کو کیسے بچایا؟
اگلی صبح یہوسفط نے کچھ گانے والوں کو چُنا اور اُن سے کہا کہ وہ فوج کے آگے آگے چلیں۔ وہ پیدل چلتے ہوئے یروشلم سے جنگ کے اُس میدان تک گئے جو تقوع نام کی جگہ پر تھا۔
جب گانے والے اُونچی آواز میں یہوواہ کی تعریف میں گیت گا رہے تھے تو یہوواہ اپنے بندوں کے لیے لڑا۔ اُس نے عمونیوں اور موآبیوں کو اِتنا اُلجھا دیا کہ وہ ایک دوسرے پر ہی حملہ کرنے لگے اور اُن میں سے ایک بھی نہ بچا۔ لیکن یہوواہ نے یہوداہ کے لوگوں، فوجیوں اور کاہنوں کی حفاظت کی۔ آسپاس کے ملک کے لوگوں نے سنا کہ یہوواہ نے کیا کِیا ہے اور وہ یہ جان گئے کہ یہوواہ اب بھی اپنے لوگوں کو بچا رہا ہے۔ یہوواہ نے کن طریقوں سے اپنے بندوں کو بچایا؟ بہت سے طریقوں سے۔ اُسے اپنے بندوں کو بچانے کے لیے کسی اِنسان کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
”تمہیں یہ جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بس اپنی اپنی جگہ کھڑے رہنا اور دیکھنا کہ یہوواہ تمہیں کیسے نجات دِلاتا ہے۔“—2-تواریخ 20:17