سبق نمبر 48
ایک بیوہ کا بیٹا زندہ ہو گیا!
جب اِسرائیل میں بارشیں نہیں ہو رہی تھیں اور فصلیں نہیں اُگ رہی تھیں تو یہوواہ نے ایلیاہ سے کہا: ”صارپت جاؤ۔ وہاں ایک بیوہ تمہیں کھانا دے گی۔“ جب ایلیاہ شہر کے دروازے پر پہنچے تو اُنہوں نے ایک غریب بیوہ کو لکڑیاں جمع کرتے دیکھا۔ اُنہوں نے اُس بیوہ سے پانی مانگا۔ جب وہ پانی لینے جا رہی تھی تو ایلیاہ نے اُسے آواز دے کر کہا: ”مہربانی سے تھوڑی سی روٹی بھی لے آئیے گا۔“ لیکن اُس بیوہ نے کہا: ”میرے پاس آپ کو دینے کے لیے روٹی نہیں ہے۔ میرے پاس تو بس اِتنا سا آٹا اور تیل ہے کہ مَیں اپنے اور اپنے بیٹے کے لیے تھوڑا سا کھانا بنا سکوں۔“ ایلیاہ نے کہا: ”یہوواہ نے وعدہ کِیا ہے کہ اگر آپ مجھے تھوڑی سی روٹی دیں گی تو آپ کے پاس آٹا اور تیل تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک دوبارہ بارش نہیں ہوگی۔“
اِس لیے وہ بیوہ گھر گئی اور اُس نے یہوواہ کے نبی کے لیے روٹی بنائی۔ یہوواہ کا وعدہ پورا ہوا اور فصلیں نہ اُگنے کے باوجود اُس بیوہ اور اُس کے بیٹے کے پاس کھانے پینے کی چیزوں کی کمی نہیں ہوئی۔ اُس کے آٹے اور تیل کے برتن بھرے رہے۔
لیکن پھر کچھ بہت ہی بُرا ہوا۔ اُس بیوہ کا بیٹا اِتنا بیمار ہو گیا کہ وہ فوت ہو گیا۔ اُس بیوہ نے ایلیاہ سے مدد مانگی۔ ایلیاہ نے لڑکے کو اُس کی ماں سے لیا اور اُسے گھر کے اُوپر والے کمرے میں لے گئے۔ اُنہوں نے اُسے بستر پر لِٹا دیا اور دُعا میں یہوواہ سے کہا: ”یہوواہ! مہربانی سے اِس بچے کو زندہ کر دے۔“ اگر یہوواہ اُسے زندہ کر دیتا تو یہ بڑی حیران کر دینے والی بات ہوتی۔ پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ جہاں تک ہمیں پتہ ہے، اِس سے پہلے کبھی کوئی مرا ہوا اِنسان زندہ نہیں ہوا تھا۔ اور یہ بیوہ اور اُس کا بیٹا تو بنیاِسرائیل میں سے بھی نہیں تھے۔
لیکن پھر بھی یہوواہ نے اُس بچے کو زندہ کر دیا۔ ایلیاہ نے اُس بیوہ سے کہا: ”دیکھیں! آپ کا بیٹا زندہ ہو گیا ہے۔“ اُس کی خوشی کو کوئی ٹھکانا نہیں تھا! اُس نے ایلیاہ سے کہا: ”اب مَیں جان گئی ہوں کہ آپ واقعی خدا کے بندے ہیں۔ آپ وہی کہتے ہیں جو یہوواہ آپ کو بتاتا ہے۔“
”ذرا کوّوں کو دیکھیں، وہ نہ تو بیج بوتے ہیں، نہ فصل کاٹتے ہیں اور نہ ہی اُن کے پاس گودام ہیں لیکن خدا اُن کو کھانا دیتا ہے۔ کیا آپ پرندوں سے زیادہ اہم نہیں ہیں؟“—لُوقا 12:24