سبق نمبر 47
یہوواہ نے ایلیاہ کو ہمت دی
جب اِیزِبل کو پتہ چلا کہ بعل کے نبیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے تو وہ بہت غصے میں آ گئی۔ اُس نے ایلیاہ کو یہ پیغام بھجوایا: ”کل تُم بھی بعل کے نبیوں کی طرح مارے جاؤ گے۔“ ایلیاہ بہت ڈر گئے اور ویرانے میں بھاگ گئے۔ اُنہوں نے یہوواہ سے یہ دُعا کی: ”یہوواہ! اب مجھ میں اَور ہمت نہیں ہے۔ میری جان لے لے۔“ ایلیاہ بہت تھک گئے تھے اِس لیے وہ ایک درخت کے نیچے سو گئے۔
ایک فرشتے نے ایلیاہ کو جگایا اور بڑی شفقت سے اُن سے کہا: ”اُٹھ کر کچھ کھا لیں۔“ اُنہوں نے دیکھا کہ تپتے ہوئے پتھروں پر ایک روٹی رکھی ہوئی ہے اور ساتھ ہی پانی کی صراحی ہے۔ ایلیاہ نے کھانا کھایا اور پانی پیا اور پھر سے سو گئے۔ فرشتے نے پھر اُنہیں جگایا اور کہا: ”کھانا کھائیں۔ آپ کو آگے کے سفر کے لیے طاقت چاہیے۔“ ایلیاہ نے تھوڑا اَور کھانا کھایا۔ پھر وہ 40 دن اور 40 رات کا سفر کر کے کوہِحورب پہنچے۔ وہاں وہ ایک غار میں سونے چلے گئے۔ لیکن یہوواہ نے ایلیاہ سے بات کی۔ اُس نے کہا: ”ایلیاہ! تُم یہاں کیا کر رہے ہو؟“ ایلیاہ نے کہا: ”بنیاِسرائیل نے تجھ سے کِیا ہوا وعدہ توڑ دیا ہے۔ اُنہوں نے تیری قربانگاہیں ڈھا دی ہیں اور تیرے نبیوں کو مار ڈالا ہے۔ اب وہ میری بھی جان لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
یہوواہ نے ایلیاہ سے کہا: ”جا کر پہاڑ پر کھڑے ہو جاؤ۔“ جب ایلیاہ نے ایسا کِیا تو سب سے پہلے ایک زوردار آندھی غار سے ہو کر گزری۔ پھر ایک زلزلہ آیا اور آگ نظر آئی۔ آخر میں ایلیاہ کو ایک نرم اور دھیمی آواز سنائی دی۔ ایلیاہ نے اپنے کپڑے سے اپنا چہرہ ڈھک لیا اور غار کے مُنہ پر کھڑے ہو گئے۔ پھر یہوواہ نے ایلیاہ سے پوچھا کہ وہ کیوں بھاگ رہے ہیں۔ ایلیاہ نے کہا: ”صرف مَیں اکیلا بچا ہوں۔“ لیکن یہوواہ نے کہا: ”تُم اکیلے نہیں ہو۔ اِسرائیل میں 7000 لوگ ہیں جو اب بھی میری عبادت کرتے ہیں۔ جاؤ، اپنی جگہ اِلیشع کو نبی کے طور پر مقرر کرو۔“ ایلیاہ فوراً اُٹھے اور وہ کام کرنے نکل پڑے جو یہوواہ نے اُنہیں دیا تھا۔ اگر آپ بھی وہ کام کریں گے جو یہوواہ آپ سے چاہتا ہے تو وہ آپ کی مدد بھی ضرور کرے گا۔ آئیے ایک ایسے واقعے پر غور کرتے ہیں جو اُس وقت ہوا جب اِسرائیل میں بارشیں نہیں ہو رہی تھیں اور فصلیں نہیں اُگ رہی تھیں۔
”کسی بات پر پریشان نہ ہوں بلکہ ہر معاملے میں شکرگزاری کے ساتھ دُعا اور اِلتجا کریں اور اپنی درخواستیں خدا کے سامنے پیش کریں۔“—فِلپّیوں 4:6