سبق نمبر 46
کوہِکرمِل پر ایک مقابلہ
اِسرائیل کی سلطنت میں بہت سے بُرے بادشاہوں نے حکومت کی۔ لیکن اُن میں سب سے بُرا بادشاہ اخیاب تھا۔ اُس نے ایک بہت بُری عورت سے شادی کی جو بعل کی پرستش کرتی تھی۔ اُس کا نام اِیزِبل تھا۔ اخیاب اور اِیزِبل نے پورے ملک میں بعل کی پرستش کو پھیلا دیا اور یہوواہ کے نبیوں کو مروا دیا۔ یہ دیکھ کر یہوواہ نے کیا کِیا؟ اُس نے اپنے نبی ایلیاہ کے ہاتھ اخیاب کو ایک پیغام بھجوایا۔
ایلیاہ نے بادشاہ اخیاب کو بتایا کہ اُس کے بُرے کاموں کی وجہ سے اِسرائیل میں بارش نہیں ہوگی۔ تین سال سے بھی زیادہ عرصے تک بارشیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے فصلیں نہیں اُگیں اور لوگوں کے پاس کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو گئیں۔ پھر کچھ وقت کے بعد یہوواہ نے ایلیاہ کو دوبارہ اخیاب کے پاس بھیجا۔ بادشاہ اخیاب نے ایلیاہ سے کہا: ”تُم مصیبت کی جڑ ہو! یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے!“ ایلیاہ نے جواب دیا: ”یہ سب میری وجہ سے نہیں ہو رہا۔ تُم بعل کی پرستش کرتے ہو اِس وجہ سے بارشیں نہیں ہو رہیں اور فصلیں نہیں اُگ رہیں۔ آج ایک مقابلہ کرتے ہیں جس سے ثابت ہو جائے گا کہ کون سچا خدا ہے۔ پوری قوم اور بعل کے نبیوں کو کوہِکرمِل کی چوٹی پر جمع کرو۔“
لوگ پہاڑ پر جمع ہو گئے۔ ایلیاہ نے کہا: ”فیصلہ کر لو۔ اگر یہوواہ ہی سچا خدا ہے تو اُس کی عبادت کرو اور اگر بعل سچا خدا ہے تو اُس کی۔ بعل کے 450 نبی ایک قربانی تیار کریں اور اپنے خدا کو پکاریں اور ایک قربانی مَیں تیار کروں گا اور یہوواہ کو پکاروں گا۔ جو آگ کے ذریعے جواب دے گا، وہ سچا خدا ہوگا۔“ لوگوں نے ایلیاہ کی بات مان لی۔
بعل کے نبیوں نے قربانی تیار کی۔ وہ پورا دن اپنے خدا کو پکارتے رہے: ”اَے بعل! ہمیں جواب دے۔“ جب بعل نے جواب نہیں دیا تو ایلیاہ اُس کا مذاق اُڑانے لگے۔ اُنہوں نے کہا: ”اَور زور سے پکارو! شاید وہ سو رہا ہوگا اور کسی کو اُسے جگانا پڑے گا۔“ شام ہو گئی اور بعل کے نبی اُسے پکارتے رہے لیکن اُنہیں کوئی جواب نہیں ملا۔
ایلیاہ نے اپنی قربانی قربانگاہ پر رکھی اور اُس پر پانی ڈالا۔ پھر اُنہوں نے دُعا کی: ”اَے یہوواہ! اِن لوگوں کو بتا دے کہ تو ہی سچا خدا ہے۔“ یہوواہ نے فوراً آسمان سے آگ بھیجی جس نے اُس قربانی کو بھسم کر دیا۔ لوگ چلّا کر کہنے لگے: ”یہوواہ ہی سچا خدا ہے!“ ایلیاہ نے کہا: ”بعل کے نبیوں کو بچ کر نہ جانے دینا۔“ اُس دن بعل کے 450 نبیوں کو مار ڈالا گیا۔
جب سمندر کے اُوپر ایک چھوٹا سا بادل دِکھائی دینے لگا تو ایلیاہ نے اخیاب سے کہا: ”طوفان آنے والا ہے۔ اپنا رتھ تیار کرو اور گھر جاؤ۔“ آسمان پر کالے بادل چھا گئے، تیز ہوا چلنے لگی اور بہت تیز بارش ہونے لگی۔ اِس طرح بعد میں فصلیں اُگنے لگیں اور کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ختم ہو گئی۔ اخیاب نے اپنا رتھ بہت تیز چلایا۔ لیکن یہوواہ کی مدد سے ایلیاہ اخیاب کے رتھ سے زیادہ تیز بھاگے۔ اِس سب کے بعد کیا ایلیاہ کی مشکلیں ختم ہو گئیں؟ آئیے اگلے سبق میں دیکھتے ہیں۔
”لوگ جان لیں کہ تُو ہی جس کا نام یہوواہ ہے، پوری زمین کے اُوپر سب سے بلند ہے۔“—زبور 83:18