سبق نمبر 45
بادشاہت دو حصوں میں بٹ گئی
جب تک سلیمان یہوواہ کی عبادت کرتے رہے، اِسرائیل میں امن رہا۔ لیکن سلیمان نے بہت سی غیرقوم عورتوں سے شادی کر لی۔ یہ عورتیں بُتوں کی پوجا کرتی تھیں۔ آہستہ آہستہ سلیمان بھی بُتوں کی پوجا کرنے لگے۔ اِس وجہ سے یہوواہ کو بہت غصہ آیا اور اُس نے سلیمان سے کہا: ”اِسرائیل کی حکومت تمہارے گھرانے سے لے لی جائے گی اور دو حصوں میں بٹ جائے گی۔ مَیں اِس کا بڑا حصہ تمہارے ایک خادم کو دوں گا اور تمہارا گھرانہ صرف اِس کے ایک چھوٹے سے حصے پر حکمرانی کرے گا۔“
یہوواہ نے ایک اَور طریقے سے بھی اپنا یہ فیصلہ صاف صاف بتایا۔ سلیمان کا ایک نوکر تھا جس کا نام یرُبعام تھا۔ ایک بار یرُبعام کہیں جا رہا تھا تو راستے میں اخیاہ نبی اُس سے ملے۔ اخیاہ نبی نے اپنا چوغہ اُتارا اور اُس کو پھاڑ کر اُس کے 12 ٹکڑے کر دیے۔ اُنہوں نے یرُبعام سے کہا: ”یہوواہ اِسرائیل کی بادشاہت کو سلیمان کے گھرانے سے لے لے گا اور اِسے دو حصوں میں بانٹ دے گا۔ اِس میں سے دس ٹکڑے لے لو کیونکہ تُم اِسرائیل کے دس قبیلوں کے بادشاہ ہو گے۔“ جب بادشاہ سلیمان کو اِس بارے میں پتہ چلا تو وہ یرُبعام کو مار ڈالنے کا سوچنے لگے۔ اِس لیے یرُبعام اپنی جان بچانے کے لیے مصر بھاگ گیا۔ کچھ وقت بعد سلیمان فوت ہو گئے اور اُن کا بیٹا رحبُعام بادشاہ بنا۔ جب یرُبعام کو لگا کہ اب اِسرائیل میں اُس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے تو وہ واپس اِسرائیل آ گیا۔
اِسرائیل کے بزرگوں نے رحبُعام سے کہا: ”اگر آپ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو وہ آپ کے وفادار رہیں گے۔“ لیکن رحبُعام کے نوجوان دوستوں نے اُس سے کہا: ”آپ کو لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش آنا چاہیے۔ اُن سے اَور زیادہ محنت کرائیں۔“ رحبُعام نے اُن نوجوانوں کا مشورہ مان لیا۔ وہ لوگوں پر ظلم کرتا تھا اِس وجہ سے لوگ اُس کے خلاف ہو گئے۔ اُنہوں نے یرُبعام کو دس قبیلوں کا بادشاہ بنا دیا۔ اِن دس قبیلوں کو اِسرائیل کی بادشاہت کہا جانے لگا اور باقی دو قبیلوں کو یہوداہ کی بادشاہت۔ یہ دو قبیلے رحبُعام کے وفادار رہے۔ بنیاِسرائیل کے 12 قبیلے اب بٹ گئے تھے۔
یرُبعام نہیں چاہتا تھا کہ اُس کے لوگ عبادت کرنے کے لیے یروشلم جائیں کیونکہ یہ شہر رحبُعام کی بادشاہت کے حصے میں آتا تھا۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ وہ ایسا کیوں نہیں چاہتا تھا؟ کیونکہ یرُبعام کو ڈر تھا کہ کہیں لوگ رحبُعام کا ساتھ نہ دینے لگیں۔ اِس لیے یرُبعام نے سونے کے دو بچھڑے بنوائے اور لوگوں سے کہا: ”یروشلم بہت دُور ہے اِس لیے آپ لوگ یہاں عبادت کر لیں۔“ لوگ اُن سونے کے بچھڑوں کی عبادت کرنے لگے اور ایک بار پھر یہوواہ کو بھول گئے۔
”غیرایمان والوں کے ساتھ ایک جُوئے میں نہ جت جائیں کیونکہ ایسی جوڑی برابر نہیں ہوتی۔ بھلا نیکی اور بُرائی میں کیا میل؟ . . . یا ایمان والوں اور غیرایمان والوں میں کیا اِتفاق؟“—2-کُرنتھیوں 6:14، 15