سبق نمبر 44
یہوواہ کے لیے ایک ہیکل
جب سلیمان اِسرائیل کے بادشاہ بنے تو یہوواہ نے اُن سے کہا: ”مَیں تمہیں کیا دوں؟“ سلیمان نے کہا: ”مَیں جوان ہوں اور مجھ میں اِتنی سمجھ نہیں۔ مہربانی سے مجھے دانشمندی دے تاکہ مَیں تیرے لوگوں کا خیال رکھ سکوں۔“ یہوواہ نے کہا: ”تُم نے دانشمندی مانگی ہے اِس لیے مَیں تمہیں پوری زمین پر سب سے زیادہ دانشمند شخص بناؤں گا۔ مَیں تمہیں بہت زیادہ امیر بھی بناؤں گا اور اگر تُم نے میری بات مانی تو مَیں تمہیں لمبی زندگی بھی دوں گا۔“
سلیمان نے ہیکل بنانی شروع کر دی۔ اُنہوں نے سب سے اچھا سونا، چاندی، لکڑی اور پتھر اِستعمال کیے۔ ہیکل بنانے کے کام میں ہزاروں ماہر آدمیوں اور عورتوں نے حصہ لیا۔ سات سالوں کے بعد ہیکل یہوواہ کی عبادت کے لیے تیار ہو گئی۔ ہیکل میں ایک قربانگاہ تھی اور اُس پر قربانیاں رکھی ہوئی تھیں۔ سلیمان قربانگاہ کے سامنے گُھٹنوں کے بل بیٹھے اور اُنہوں نے یہ دُعا کی: ”اَے یہوواہ! یہ ہیکل اِتنی بڑی یا اِتنی خوبصورت نہیں ہے کہ تُو اِس میں رہے۔ لیکن مہربانی سے ہماری عبادت کو قبول کر اور ہماری دُعاؤں کو سُن۔“ یہوواہ نے ہیکل اور سلیمان کی دُعا کے بارے میں کیسا محسوس کِیا؟ جیسے ہی سلیمان نے دُعا ختم کی، آسمان سے آگ آئی اور اُن قربانیوں کو بھسم کر دیا جو قربانگاہ پر رکھی ہوئی تھیں۔ یہوواہ ہیکل بننے سے خوش تھا۔ جب بنیاِسرائیل نے یہ دیکھا تو وہ بھی بہت خوش ہوئے۔
بادشاہ سلیمان اپنی دانشمندی کی وجہ سے نہ صرف اِسرائیل میں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی بہت مشہور ہو گئے۔ لوگ سلیمان کے پاس آتے تھے تاکہ سلیمان اُن کے مسئلوں کو حل کر سکیں۔ سبا کی ملکہ بھی اُن کے پاس آئی تاکہ مشکل سوال پوچھ کر اُنہیں آزما سکے۔ لیکن جب اُس نے سلیمان کے جواب سنے تو اُس نے کہا: ”جب لوگ مجھ سے آپ کی دانشمندی کے بارے میں بات کرتے تھے تو مَیں اُن کی بات پر یقین نہیں کرتی تھی۔ لیکن اب مَیں سمجھ گئی ہوں کہ لوگوں نے مجھے آپ کے بارے میں جتنا بتایا تھا، آپ اُس سے کہیں زیادہ دانشمند ہیں۔ آپ کے خدا یہوواہ نے آپ کو برکت دی ہے۔“ اِسرائیل کے لوگوں کی زندگی اچھی تھی اور وہ بہت خوش تھے۔ لیکن حالات بدلنے والے تھے۔
”دیکھیں! یہاں ایک ایسا شخص ہے جو سلیمان سے بھی زیادہ اہم ہے۔“—متی 12:42