سبق نمبر 42
یونتن کی بہادری اور وفاداری
یونتن بادشاہ ساؤل کے بڑے بیٹے اور بہادر فوجی تھے۔ داؤد نے کہا کہ یونتن عقاب سے زیادہ تیز اور شیر سے زیادہ طاقتور تھے۔ ایک دن یونتن نے ایک پہاڑی پر 20 فِلِستی فوجیوں کو دیکھا۔ اُنہوں نے اپنے ہتھیار اُٹھانے والے خادم سے کہا: ”ہم صرف تب ہی اُن پر حملہ کریں گے جب یہوواہ ہمیں کوئی نشانی دِکھائے گا۔ اگر فِلِستی ہم سے کہیں گے کہ اُوپر آؤ تو پھر ہم اُن پر حملہ کریں گے۔“ فِلِستیوں نے چلّا کر کہا: ”اُوپر آؤ اور ہم سے لڑو!“ اِس لیے یونتن اور اُن کا خادم پہاڑی پر چڑھے، اُن فوجیوں سے لڑے اور جیت گئے۔
یونتن ساؤل کے سب سے بڑے بیٹے تھے اِس لیے ساؤل کے بعد اُنہوں نے بادشاہ بننا تھا۔ لیکن یونتن کو پتہ تھا کہ یہوواہ نے داؤد کو اِسرائیل کے اگلے بادشاہ کے طور پر چُنا ہے۔ اِس وجہ سے یونتن داؤد سے جلتے نہیں تھے۔ یونتن اور داؤد بہت اچھے دوست بن گئے تھے۔ اُنہوں نے وعدہ کِیا کہ وہ ایک دوسرے کی حفاظت کریں گے اور ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ یونتن نے داؤد کو دوستی کی نشانی کے طور پر اپنا چوغہ، تلوار، کمان اور پیٹی دی۔
جب داؤد ساؤل سے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے تو یونتن داؤد کے پاس گئے اور اُن سے کہا: ”ہمت رکھیں اور دلیر بنیں۔ یہوواہ نے آپ کو بادشاہ کے طور پر چُنا ہے۔ میرے ابو کو بھی اِس با ت کا پتہ ہے۔“ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بھی یونتن جیسا کوئی دوست ہو؟
کئی بار یونتن نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے دوست کی مدد کی۔ اُنہیں پتہ تھا کہ بادشاہ ساؤل داؤد کو مار ڈالنا چاہتے ہیں۔ اِس لیے یونتن نے اپنے ابو سے کہا: ”اگر آپ داؤد کو قتل کریں گے تو آپ بہت بڑا گُناہ کریں گے۔ داؤد نے کچھ غلط نہیں کِیا۔“ ساؤل کو یونتن پر بہت غصہ آیا۔ کچھ سالوں بعد ساؤل اور یونتن دونوں ایک جنگ میں مارے گئے۔
یونتن کے مرنے کے بعد داؤد نے اُن کے بیٹے مفیبوسَت کو ڈھونڈا۔ جب مفیبوسَت داؤد کو مل گئے تو داؤد نے اُن سے کہا: ”آپ کے ابو میرے بہت اچھے دوست تھے۔ اِس لیے میں پوری زندگی آپ کا خیال رکھوں گا۔ آپ میرے ساتھ میرے محل میں رہیں گے اور میری میز پر کھانا کھائیں گے۔“ داؤد اپنے دوست یونتن کو کبھی نہیں بھولے۔
”آپ ایک دوسرے سے ویسے ہی محبت کریں جیسے مَیں نے آپ سے محبت کی ہے۔ اِس سے زیادہ محبت کوئی نہیں کر سکتا کہ اپنے دوستوں کی خاطر اپنی جان دے دے۔“—یوحنا 15:12، 13