سبق نمبر 41
داؤد اور ساؤل
جب داؤد نے جولیت کو مار دیا تو ساؤل نے اُنہیں اپنی فوج کا سربراہ بنا دیا۔ داؤد نے کئی جنگیں جیتیں اور وہ بہت مشہور ہو گئے۔ جب کبھی داؤد جنگ جیت کر گھر واپس آتے تھے تو عورتیں ناچتی گاتی تھیں اور کہتی تھیں: ”ساؤل نے ہزاروں کو مارا لیکن داؤد نے لاکھوں کو مارا۔“ ساؤل داؤد سے جلنے لگے اور وہ داؤد کو مار ڈالنا چاہتے تھے۔
داؤد بربط بہت اچھا بجاتے تھے۔ ایک دن جب داؤد ساؤل کے سامنے بربط بجا رہے تھے تو ساؤل نے داؤد کو مارنے کے لیے اپنا نیزہ اُن کی طرف پھینکا۔ لیکن داؤد فورا وہاں سے ہٹ گئے اور نیزہ جا کر دیوار میں دھنس گیا۔ اِس کے بعد بھی ساؤل نے کئی دفعہ داؤد کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔ پھر داؤد وہاں سے بھاگ گئے اور ویرانے میں جا کر چھپ گئے۔
ساؤل نے اپنی فوج کے 3000 آدمیوں کو ساتھ لیا تاکہ وہ داؤد کو ڈھونڈ کر اُنہیں مار ڈالیں۔ ساؤل اُسی غار میں گئے جہاں داؤد اور اُن کے ساتھی چھپے ہوئے تھے۔ داؤد کے ساتھیوں نے دھیمی آواز میں اُن سے کہا: ”یہوواہ نے آپ کو موقع دیا ہے کہ آپ ساؤل کو مار ڈالیں۔“ داؤد چپکے سے ساؤل کے پاس گئے اور اُن کے چوغے کا ٹکڑا کاٹ لیا۔ لیکن ساؤل کو پتہ نہیں چلا۔ بعد میں داؤد کو بہت دُکھ ہوا کہ اُنہوں نے یہوواہ کے چُنے ہوئے بادشاہ کے لیے عزت نہیں دِکھائی۔ داؤد نے اپنے ساتھیوں کو بھی ساؤل پر حملہ نہیں کرنے دیا۔ داؤد نے ساؤل کو یہ بتایا کہ اُن کے پاس ساؤل کو مار ڈالنے کا موقع تھا لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کِیا۔ کیا داؤد کے حوالے سے ساؤل کی سوچ بدلی؟
نہیں۔ ساؤل داؤد کو مار ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔ ایک رات داؤد اور اُن کے بھانجے ابیشے چپکے سے ساؤل کے خیمے میں گئے۔ وہاں ساؤل کی فوج کے سربراہ ابنیر بھی سو رہے تھے۔ ابیشے نے کہا: ”ہمارے پاس اچھا موقع ہے۔ مجھے اِجازت دیں کہ مَیں اِسے مار ڈالوں!“ داؤد نے کہا: ”ساؤل کو یہوواہ دیکھ لے گا۔ بس ہم اِن کا نیزہ اور پانی کی صراحی لے کر چلتے ہیں۔“
داؤد قریب کے ایک پہاڑ پر چلے گئے جہاں سے ساؤل کا خیمہ نظر آ رہا تھا۔ داؤد نے اُونچی آواز میں کہا: ”ابنیر! تُم نے اپنے بادشاہ کی حفاظت کیوں نہیں کی؟ ساؤل کی صراحی اور نیزہ کہاں ہے؟“ ساؤل داؤد کی آواز پہچان گئے اور اُنہوں نے داؤد سے کہا: ”تُم میری جان لے سکتے تھے مگر تُم نے ایسا نہیں کِیا۔ مجھے پتہ ہے کہ تُم ہی اِسرائیل کے اگلے بادشاہ ہو گے۔“ ساؤل اپنے محل واپس چلے گئے۔ لیکن ساؤل کے سب گھر والے داؤد سے نفرت نہیں کرتے تھے۔
”جہاں تک ممکن ہو، اپنی طرف سے سب کے ساتھ امن سے رہیں۔ عزیزو، بدلہ نہ لیں بلکہ خدا کا غضب ظاہر ہونے دیں۔“—رومیوں 12:18، 19