سبق نمبر 37
یہوواہ نے سموئیل سے بات کی
کاہنِاعظم عیلی کے دو بیٹے تھے۔ وہ دونوں خیمۂاِجتماع میں کاہن تھے۔ اُن کے نام حُفنی اور فینحاس تھے۔ وہ یہوواہ کے حکموں کو نہیں مانتے تھے اور لوگوں کے ساتھ بُرا سلوک کرتے تھے۔ جب بنیاِسرائیل یہوواہ کے سامنے قربانیاں چڑھانے آتے تھے تو حُفنی اور فینحاس گوشت کا سب سے اچھا حصہ اپنے لیے رکھ لیتے تھے۔ عیلی کو پتہ تھا کہ اُن کے بیٹے کیا کر رہے ہیں لیکن اُنہوں نے کچھ نہیں کِیا۔ کیا یہوواہ نے سب ایسے ہی چلنے دیا؟
حالانکہ سموئیل حُفنی اور فینحاس سے بہت چھوٹے تھے لیکن پھر بھی وہ اُن کی طرح نہیں بنے۔ یہوواہ سموئیل سے بہت خوش تھا۔ ایک رات جب سموئیل سو رہے تھے تو اُنہوں نے ایک آواز سنی۔ اُن کو لگا کہ کوئی اُنہیں بُلا رہا ہے۔ وہ اُٹھے اور بھاگ کر عیلی کے پاس گئے اور اُن سے کہا: ”آپ نے مجھے بُلایا تھا؟“ لیکن عیلی نے کہا: ”مَیں نے آپ کو نہیں بُلایا۔ جا کر سو جاؤ۔“ سموئیل جا کر اپنی جگہ پر لیٹ گئے۔ اُنہیں پھر سے لگا کہ کوئی اُن کو بُلا رہا ہے۔ جب تیسری دفعہ سموئیل نے آواز سنی تو عیلی سمجھ گئے کہ یہوواہ اُنہیں بُلا رہا ہے۔ عیلی نے سموئیل سے کہا: ”اگر اب آپ کو کوئی آواز آئے تو کہنا کہ ”اَے یہوواہ! فرما، تیرا بندہ سُن رہا ہے۔““
سموئیل جا کر اپنی جگہ پر لیٹ گئے۔ پھر اُنہیں آواز آئی: ”سموئیل! سموئیل!“ اُنہوں نے جواب دیا: ”فرما، تیرا بندہ سُن رہا ہے۔“ یہوواہ نے سموئیل سے کہا: ”تُم عیلی کو بتانا کہ مَیں اُسے اور اُس کے گھرانے کو سزا دوں گا۔ وہ جانتا ہے کہ اُس کے بیٹے خیمۂاِجتماع میں کتنے بُرے کام کر رہے ہیں۔ لیکن اُس نے کچھ نہیں کِیا۔“ اگلی صبح سموئیل نے ہر روز کی طرح خیمۂاِجتماع کا دروازہ کھولا۔ وہ کاہنِاعظم عیلی کو وہ سب کچھ بتانے سے ڈر رہے تھے جو یہوواہ نے اُن سے کہا تھا۔ لیکن عیلی نے اُنہیں بُلا کر اُن سے پوچھا: ”میرے بیٹے! یہوواہ نے آپ سے کیا کہا ہے؟ مجھے سب کچھ بتاؤ۔“ اِس لیے سموئیل نے ساری باتیں عیلی کو بتا دیں۔
سموئیل بڑے ہوتے گئے اور یہوواہ اُن کی مدد کرتا رہا۔ ملک کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک بنیاِسرائیل کے سب لوگ یہ جانتے تھے کہ یہوواہ نے سموئیل کو نبی اور قاضی چُنا ہے۔
”اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے عظیم خالق کو یاد رکھو۔“—واعظ 12:1