سبق نمبر 36
اِفتاح کا وعدہ
بنیاِسرائیل نے پھر سے یہوواہ کی عبادت کرنی چھوڑ دی اور وہ جھوٹے خداؤں کی عبادت کرنے لگے۔ لیکن جب عمونیوں نے بنیاِسرائیل پر حملہ کر کے اُن سے جنگ لڑی تو اِن جھوٹے خداؤں نے اُنہیں نہیں بچایا۔ کئی سالوں تک بنیاِسرائیل تکلیفیں سہتے رہے۔ پھر اُنہوں نے یہوواہ سے کہا: ”ہم نے گُناہ کِیا ہے۔ مہربانی سے ہمیں ہمارے دُشمنوں سے بچا لے۔“ بنیاِسرائیل نے اُن بُتوں کو توڑ دیا جن کی وہ عبادت کر رہے تھے اور وہ پھر سے یہوواہ کی عبادت کرنے لگے۔ یہوواہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ ہمیشہ تک تکلیفیں سہتے رہیں۔
یہوواہ نے اِفتاح نام کے ایک آدمی کو چُنا جس نے عمونیوں کے خلاف جنگ میں لوگوں کی رہنمائی کرنی تھی۔ اِفتاح نے یہوواہ سے کہا: ”اگر تُو ہمیں یہ جنگ جتا دے گا تو مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ میرے گھر سے سب سے پہلے جو مجھ سے ملنے آئے گا، مَیں اُسے تجھے دے دوں گا۔“ یہوواہ نے اِفتاح کی دُعا سنی اور جنگ جیتنے میں اُن کی مدد کی۔
جب اِفتاح گھر واپس آئے تو اُن سے ملنے سب سے پہلے اُن کی اِکلوتی بیٹی آئی! وہ دف بجا رہی تھی اور ناچ رہی تھی۔ اب اِفتاح کیا کریں گے؟ اُنہیں اپنا وعدہ یاد تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”ہائے میری بیٹی! آپ نے مجھے کتنا بڑا دُکھ دے دیا ہے! مَیں نے یہوواہ سے ایک وعدہ کِیا تھا۔ اُس وعدے کو پورا کرنے کے لیے مجھے آپ کو سیلا میں خیمۂاِجتماع بھیجنا ہوگا۔“ اُن کی بیٹی نے کہا: ”ابو! اگر آپ نے یہوواہ سے وعدہ کِیا ہے تو اُسے ضرور پورا کریں۔ بس میری اِتنی درخواست ہے کہ جانے سے پہلے مَیں دو مہینے اپنی سہیلیوں کے ساتھ پہاڑوں پر گزاروں۔ پھر مَیں چلی جاؤں گی۔“ اِفتاح کی بیٹی نے ساری زندگی پورے دل سے خیمۂاِجتماع میں یہوواہ کی خدمت کی۔ ہر سال اُس کی سہیلیاں اُس سے ملنے سیلا آتی تھیں۔
”جو شخص اپنے بیٹے یا بیٹی کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، وہ میرے لائق نہیں۔“—متی 10:37