سبق نمبر 35
حنّہ نے دُعا میں ایک بیٹا مانگا
بنیاِسرائیل سے اِلقانہ نام کے ایک آدمی کی دو بیویاں تھیں۔ ایک کا نام حنّہ اور دوسری کا نام فِنِنّہ تھا۔ لیکن اِلقانہ حنّہ سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ فِنِنّہ کے بہت سارے بچے تھے لیکن حنّہ کا ایک بھی بچہ نہیں تھا۔ اِس لیے فِنِنّہ ہر وقت حنّہ کا مذاق اُڑاتی تھیں اور اُنہیں طعنے مارتی تھیں۔ ہر سال اِلقانہ اپنے گھر والوں کو سیلا لے کر جاتے تھے تاکہ وہ سب مل کر خیمۂاِجتماع میں عبادت کر سکیں۔ ایک بار جب وہ وہاں تھے تو اِلقانہ نے دیکھا کہ حنّہ بہت اُداس ہیں۔ اُنہوں نے حنّہ سے کہا: ”حنّہ روئیں نہیں۔ مَیں آپ کے ساتھ ہوں۔ مَیں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔“
بعد میں حنّہ اکیلے میں یہوواہ سے دُعا کرنے گئیں۔ وہ رو رو کر یہوواہ سے مدد مانگ رہی تھیں۔ اُنہوں نے یہوواہ سے یہ وعدہ کِیا: ”یہوواہ! اگر تُو مجھے ایک بیٹا دے گا تو مَیں اُسے تجھے دے دوں گی اور وہ پوری زندگی تیری خدمت کرے گا۔“
کاہنِاعظم عیلی نے حنّہ کو روتے ہوئے دیکھا اور اُنہیں لگا کہ وہ نشے میں ہیں۔ حنّہ نے اُن سے کہا: ”نہیں میرے مالک! مَیں نشے میں نہیں ہوں۔ مَیں تو بہت تکلیف میں ہوں اور اِس بارے میں یہوواہ کو بتا رہی ہوں۔“ عیلی سمجھ گئے کہ وہ غلط سوچ رہے تھے۔ عیلی نے کہا: ”آپ نے یہوواہ سے جو بھی مانگا ہے، وہ آپ کو ضرور دے۔“ یہ سُن کر حنّہ کو اچھا لگا اور وہ وہاں سے چلی گئیں۔ اگلے سال حنّہ کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام اُنہوں نے سموئیل رکھا۔ ذرا سوچیں کہ حنّہ کتنی خوش ہوئی ہوں گی!
حنّہ یہوواہ سے کِیا ہوا اپنا وعدہ نہیں بھولی تھیں۔ جب سموئیل تھوڑے بڑے ہوئے تو وہ اُنہیں خیمۂاِجتماع لائیں تاکہ سموئیل وہاں یہوواہ کی خدمت کر سکیں۔ حنّہ نے عیلی سے کہا: ”یہ وہی لڑکا ہے جسے مَیں نے یہوواہ سے مانگا تھا۔ مَیں اِسے ہمیشہ کے لیے یہوواہ کو دے رہی ہوں۔“ اِلقانہ اور حنّہ ہر سال سموئیل سے ملنے جاتے تھے اور وہ اُن کے لیے بغیر بازوؤں والا ایک نیا چوغہ لے کر جاتے تھے۔ یہوواہ نے حنّہ کو تین اَور بیٹے اور دو بیٹیاں دیں۔
”مانگتے رہیں تو آپ کو دیا جائے گا؛ ڈھونڈتے رہیں تو آپ کو مل جائے گا۔“—متی 7:7