سبق نمبر 28
بلعام کی گدھی بولنے لگی
بنیاِسرائیل کو ویرانے میں رہتے ہوئے تقریباً 40 سال ہو چُکے تھے۔ اُنہوں نے کئی طاقتور شہروں کو ہرا دیا تھا۔ اب اُنہوں نے دریائےاُردن کی مشرق کی طرف موآب کے میدانوں میں خیمے لگائے ہوئے تھے۔ اب وہ وقت آ گیا تھا کہ وہ اُس ملک میں جائیں جسے دینے کا وعدہ یہوواہ نے کِیا تھا۔ موآب کا بادشاہ بلق اِس بات سے ڈرا ہوا تھا کہ بنیاِسرائیل اُس سے اُس کا ملک چھین لیں گے۔ اِس لیے اُس نے بلعام نام کے ایک آدمی کو موآب بُلایا تاکہ وہ بنیاِسرائیل کو بددُعا دے۔
لیکن یہوواہ نے بلعام سے کہا: ”تُم بنیاِسرائیل کو بددُعا مت دینا۔“ اِس لیے بلعام نے موآب جانے سے اِنکار کر دیا۔ بادشاہ بلق نے دوبارہ بلعام کو بُلایا اور اُس سے وعدہ کِیا کہ وہ اُس سے جو کچھ بھی مانگے گا، اُسے ملے گا۔ پھر بھی بلعام نے منع کر دیا۔ تب خدا نے بلعام سے کہا: ”تُم موآب جا سکتے ہو۔ لیکن تُم وہی کہنا جو مَیں تمہیں بتاؤں گا۔“
بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر جنوب کی طرف موآب جانے لگا۔ اُس نے فیصلہ کِیا کہ وہ بنیاِسرائیل کو بددُعا دے گا حالانکہ یہوواہ نے اُسے ایسا کرنے سے منع کِیا تھا۔ یہوواہ کا فرشتہ تین بار اُس کے راستے میں کھڑا ہوا۔ بلعام اُس فرشتے کو نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن اُس کی گدھی نے فرشتے کو دیکھ لیا تھا۔ پہلی بار جب اُس نے فرشتے کو دیکھا تو وہ راستے سے ہٹ کر کھیت میں چلی گئی۔ دوسری بار جب اُس نے فرشتے کو دیکھا تو وہ ایک دیوار کے ساتھ لگ گئی جس کی وجہ سے بلعام کا پاؤں دیوار کے ساتھ لگ کر دب گیا۔ تیسری بار جب اُس نے فرشتے کو دیکھا تو وہ راستے کے بیچ میں ہی بیٹھ گئی۔ ہر بار بلعام نے اُسے چھڑی سے مارا۔
تیسری بار جب بلعام نے اُسے مارا تو یہوواہ نے کچھ ایسا کِیا کہ وہ گدھی بولنے لگی۔ اُس نے بلعام سے پوچھا: ”تُم مجھے کیوں مارتے جا رہے ہو؟“ بلعام نے کہا: ”تُم میرا مذاق بنا رہی ہو۔ اگر میرے پاس تلوار ہوتی تو مَیں تمہیں مار ڈالتا۔“ اُس گدھی نے کہا: ”تُم اِتنے سالوں سے میری پیٹھ پر بیٹھ کر سفر کر رہے ہو۔ کیا آج سے پہلے مَیں نے کبھی ایسا کِیا؟“
پھر یہوواہ نے بلعام کی آنکھیں کھول دیں اور اُسے فرشتہ نظر آنے لگا۔ فرشتے نے بلعام سے کہا: ”یہوواہ نے تُم سے کہا تھا کہ بنیاِسرائیل کو بددُعا نہ دینا۔“ بلعام نے کہا: ”مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔ مَیں واپس چلا جاؤں گا۔“ لیکن فرشتے نے کہا: ”تُم موآب جا سکتے ہو۔ پر وہاں جا کر تُم وہی کہنا جو یہوواہ تمہیں بتائے گا۔“
کیا بلعام نے اِس واقعے سے سبق سیکھا؟ نہیں! اِس کے بعد بھی بلعام نے تین بار بنیاِسرائیل کو بددُعا دینے کی کوشش کی۔ لیکن یہوواہ نے کچھ ایسا کِیا کہ تینوں بار اُس کے مُنہ سے بددُعا کی بجائے دُعا نکلی۔ پھر بنیاِسرائیل نے موآب پر حملہ کر دیا اور بلعام بھی مارا گیا۔ اگر بلعام شروع میں ہی یہوواہ کی بات مان لیتا تو کیا اُس کے ساتھ ایسا ہوتا؟
”خبردار رہیں اور ہر طرح کے لالچ سے بچیں کیونکہ ایک شخص جتنا بھی امیر ہو، اُسے اُس کے مال سے زندگی نہیں ملتی۔“—لُوقا 12:15