سبق نمبر 15
یہوواہ یوسف کو کبھی نہیں بھولا
جب یوسف جیل میں تھے تو مصر کے بادشاہ فِرعون نے کچھ ایسے خواب دیکھے جن کا مطلب کوئی نہیں بتا پا رہا تھا۔ فِرعون کے ایک خادم نے کہا کہ یوسف اُس کے خوابوں کا مطلب بتا سکتے ہیں۔ فِرعون نے فوراً یوسف کو بلوایا۔
اُس نے یوسف سے پوچھا: ”کیا تُم میرے خوابوں کا مطلب بتا سکتے ہو؟“ یوسف نے فِرعون کو بتایا: ”مصر میں سات سال تک بہت اناج ہوگا۔ لیکن پھر سات سال تک کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہو جائے گی۔ کسی ایسے سمجھدار شخص کو چُنیں جو کھانے پینے کی چیزیں اِکٹھی کرے تاکہ آپ کے لوگ بھوکے نہ مریں۔“ فِرعون نے کہا: ”مَیں تمہیں چُنتا ہوں۔ مصر میں تُم دوسرے ایسے شخص ہو گے جس کے پاس بہت اِختیار ہوگا۔“ یوسف کو فِرعون کے خوابوں کا مطلب کیسے پتہ چلا؟ یہوواہ نے یوسف کی مدد کی۔
یوسف اگلے سات سال تک کھانے پینے کی چیزیں جمع کرتے رہے۔ اِس کے بعد یوسف کی کہی بات پوری ہوئی اور پوری زمین پر کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہو گئی۔ ہر جگہ سے لوگ یوسف کے پاس کھانے پینے کی چیزیں خریدنے آتے تھے۔ یوسف کے ابو کو پتہ چلا کہ مصر میں کھانے پینے کی چیزیں ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنے دس بیٹوں کو کچھ چیزیں خریدنے بھیجا۔
یعقوب کے بیٹے یوسف کے پاس گئے اور یوسف نے فوراً اُنہیں پہچان لیا۔ لیکن اُن کے بھائیوں نے اُنہیں نہیں پہچانا۔ وہ یوسف کے سامنے زمین تک جھکے بالکل جیسے یوسف نے خواب میں دیکھا تھا۔ یوسف جاننا چاہتے تھے کہ کیا اُن کے بھائیوں کے دل میں اب تک نفرت ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے اُن سے کہا: ”تُم لوگ جاسوس ہو! تُم پتہ لگانے آئے ہو کہ ہمارے ملک کی کمزوریاں کیا ہیں۔“ اُنہوں نے کہا: ”نہیں! ہم 12 بھائی ہیں اور ہم کنعان سے آئے ہیں۔ ہمارا ایک بھائی فوت ہو گیا ہے اور ہمارا سب سے چھوٹا بھائی گھر پر ابو کے پاس ہے۔“ یوسف نے کہا: ”اپنے سب سے چھوٹے بھائی کو لے کر آؤ۔ پھر مَیں تمہاری بات پر یقین کروں گا۔“ اِس لیے وہ گھر پر اپنے ابو کے پاس واپس چلے گئے۔
جب گھر پر دوبارہ کھانے پینے کی چیزیں ختم ہو گئیں تو یعقوب نے پھر سے اپنے بیٹوں کو مصر بھیجا۔ اِس بار وہ اپنے سب سے چھوٹے بھائی بِنیامین کو بھی اپنے ساتھ لے کر گئے۔ اپنے بھائیوں کو پرکھنے کے لیے یوسف نے اپنا چاندی کا پیالہ بِنیامین کے اناج کے بورے میں ڈال دیا اور اپنے بھائیوں پر اِسے چوری کرنے کا اِلزام لگا دیا۔ جب یوسف کے خادموں کو وہ پیالہ بِنیامین کے بورے سے ملا تو یوسف کے بھائی حیران رہ گئے۔ وہ یوسف سے مِنت کرنے لگے کہ وہ بِنیامین کی بجائے اُنہیں سزا دے دیں۔
اب یوسف جان گئے تھے کہ اُن کے بھائی بدل گئے ہیں۔ وہ خود کو روک نہیں پائے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں آپ کا بھائی یوسف ہوں۔ کیا ابو اب تک زندہ ہیں؟“ یوسف کے بھائی حیران رہ گئے۔ یوسف نے اُن سے کہا: ”آپ نے میرے ساتھ جو کِیا تھا، اُس کی وجہ سے دُکھی نہ ہوں۔ خدا نے مجھے آپ کی زندگیاں بچانے کے لیے یہاں بھیجا ہے۔ اب جلدی کریں اور میرے ابو کو یہاں لے آئیں۔“
یوسف کے بھائی گھر گئے اور اپنے ابو کو یہ خوشخبری سنائی اور اُنہیں مصر لے آئے۔ اِتنے سالوں بعد یعقوب اور یوسف دوبارہ ایک دوسرے سے ملے۔
”اگر آپ لوگوں کی خطائیں معاف نہیں کریں گے تو آپ کا باپ بھی آپ کی خطائیں معاف نہیں کرے گا۔“—متی 6:15