سبق نمبر 9
لمبے عرصے بعد ایک بیٹا پیدا ہوا!
اَبراہام اور سارہ کی شادی کو کئی سال ہو چُکے تھے۔ اُن دونوں نے اُور میں آرامدہ زندگی چھوڑ دی تھی اور اب وہ خیمے میں رہ رہے تھے۔ لیکن سارہ نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی کیونکہ اُنہیں یہوواہ پر بھروسا تھا۔
سارہ چاہتی تھیں کہ اُن کا بچہ ہو اِس لیے اُنہوں نے اَبراہام سے کہا: ”اگر میری نوکرانی ہاجرہ کا بچہ ہوگا تو ایک طرح سے وہ میرا ہی بچہ ہوگا۔“ پھر ہاجرہ کا بیٹا ہوا۔ اُس کا نام اِسماعیل تھا۔
کئی سال بعد جب اَبراہام 99 سال کے تھے اور سارہ 89 سال کی تھیں تو اُن کے پاس تین مہمان آئے۔ اَبراہام نے اُن سے کہا کہ وہ درخت کے نیچے آرام کریں اور وہ اُن کے لیے کھانا لے کر آتے ہیں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ وہ مہمان کون تھے؟ وہ فرشتے تھے! اُنہوں نے اَبراہام سے کہا: ”اگلے سال اِسی وقت آپ کا اور آپ کی بیوی سارہ کا بیٹا ہوگا۔“ سارہ خیمے کے اندر سے یہ بات سُن رہی تھیں۔ وہ ہنس پڑیں اور اُنہوں نے سوچا: ”مَیں تو اِتنی بوڑھی ہو گئی ہوں۔ بھلا میرا بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟“
یہوواہ کے فرشتے کی کہی بات پوری ہوئی اور اگلے سال سارہ کا بیٹا ہوا۔ اَبراہام نے اُس کا نام اِضحاق رکھا جس کا مطلب ہے: ”ہنسی۔“
جب اِضحاق تقریباً پانچ سال کے ہوئے تو سارہ نے دیکھا کہ اِسماعیل اِضحاق کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ سارہ اِضحاق کی حفاظت کرنا چاہتی تھیں اِس لیے اُنہوں نے اَبراہام سے کہا کہ وہ ہاجرہ اور اِسماعیل کو دُور بھیج دیں۔ شروع میں اَبراہام ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہوواہ نے اُن سے کہا: ”سارہ کی بات مان لو۔ مَیں اِسماعیل کی حفاظت کروں گا۔ لیکن مَیں اپنے وعدے اِضحاق کے ذریعے پورے کروں گا۔“
”ایمان کی بدولت [سارہ] حاملہ ہوئیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ جس نے وعدہ کِیا ہے، وہ وعدے کا پکا ہے۔“—عبرانیوں 11:11