سبق نمبر 6
آٹھ لوگ زندہ بچ گئے
نوح اور اُن کے گھر والے کشتی میں چلے گئے۔ یہوواہ نے کشتی کا دروازہ بند کر دیا اور بارش شروع ہو گئی۔ بارش اِتنی تیز تھی کہ کشتی پانی پر تیرنے لگی۔ پھر پوری زمین پانی سے بھر گئی۔ کشتی سے باہر سب بُرے لوگ مر گئے۔ لیکن نوح اور اُن کے گھر والے کشتی کے اندر بالکل ٹھیک تھے۔ ذرا سوچیں کہ نوح اور اُن کے گھر والوں کو یہ دیکھ کر کتنی خوشی ہوئی ہوگی کہ اُنہوں نے یہوواہ کی بات مانی!
چالیس دن اور چالیس رات تک بہت تیز بارش ہوتی رہی اور پھر رُک گئی۔ آہستہ آہستہ زمین پر سے پانی کم ہونے لگا۔ پھر کشتی جا کر پہاڑوں پر رُک گئی۔ لیکن ابھی بھی زمین پر کافی پانی تھا اِس لیے نوح اور اُن کے گھر والے کشتی سے باہر نہیں آ سکتے تھے۔
آہستہ آہستہ پانی سُوکھنے لگا۔ نوح اور اُن کے گھر والے ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک کشتی میں رہے۔ پھر یہوواہ نے اُن سے کہا کہ وہ کشتی سے باہر اُس دُنیا میں جا سکتے ہیں جو ایک طرح سے بالکل نئی بن چُکی تھی۔ وہ یہوواہ کے بہت شکرگزار تھے کہ اُس نے اُنہیں بچا لیا۔ اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ کے سامنے ایک قربانی چڑھائی۔
یہوواہ اُس قربانی سے بہت خوش تھا۔ اُس نے وعدہ کِیا کہ وہ پھر کبھی بھی پوری زمین کو طوفان سے ختم نہیں کرے گا۔ یہوواہ نے آسمان پر پہلی بار ایک دھنک دِکھائی جو اِس وعدے کی نشانی تھی۔ کیا آپ نے کبھی دھنک دیکھی ہے؟
پھر یہوواہ نے نوح اور اُن کے گھر والوں سے کہا کہ وہ بچے پیدا کریں اور زمین کو بھر دیں۔
”نوح کشتی میں . . . گئے۔ اور لوگ اُس وقت تک لاپروا رہے جب تک طوفان نہیں آیا اور جب طوفان آیا تو وہ سب ڈوب کر مر گئے۔“—متی 24:38، 39