تیرھواں باب
دو بادشاہوں کی آویزش
۱، ۲. ہمیں دانیایل ۱۱ باب میں درج پیشینگوئی میں دلچسپی کیوں لینی چاہئے؟
دو حریف بادشاہ برتری حاصل کرنے کے لئے برسرِپیکار ہیں۔ مرورِزمانہ کے ساتھساتھ یہ دونوں یکےبعددیگرے سبقت حاصل کرتے رہے۔ بعضاوقات، ایک بادشاہ کے زورآور ہو جانے اور دوسرے کے کمزور پڑ جانے سے اَمن کے دَور بھی رہے۔ لیکن اِسکے بعد اچانک لڑائی چھڑ جانے سے آویزش دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ اِس ڈرامے کے نمایاں کرداروں میں سوریہ کا بادشاہ سلوکس اوّل نکاتر، مصری بادشاہ بطلیموس لاگس، مصری ملکہ بننے والی سوریہ کی شہزادی قلوپطرہ اوّل، رومی شہنشاہ اوگوستُس اور تبریس اور پالمیرا کی ملکہ زنوبیا شامل رہے ہیں۔ اِس آویزش کے خاتمے کے قریب نازی جرمنی، کیمونسٹ بلاک، اینگلوامریکن عالمی طاقت، انجمنِاقوام اور اقوامِمتحدہ بھی اِس میں شامل ہو گئی ہیں۔ اِن سیاسی ہستیوں اور تنظیموں میں سے کوئی بھی اِس ڈرامے کے انجام سے واقف نہیں۔ یہوواہ کے فرشتے نے کوئی ۲،۵۰۰ سال پہلے دانیایل نبی کو اس دلچسپ پیشینگوئی سے آگاہ کِیا تھا۔—دانیایل باب ۱۱۔
۲ جب فرشتے نے آئندہ برپا ہونے والے دو بادشاہوں کے مابین رقابت کی تفصیل کو دانیایل پر آشکارا کِیا تو وہ کتنا خوش ہوا ہوگا! یہ ڈرامہ ہمارے لئے بھی دلچسپی کا حامل ہے کیونکہ اِن دو بادشاہوں کے مابین اقتدار کیلئے رساکشی ہمارے زمانہ تک جاری ہے۔ اِس پیشینگوئی کے پہلے حصے کی صداقت کے مستند تاریخی ثبوت اِسکے آخری حصے کی یقینی تکمیل پر ہمارے ایمان اور اعتماد کو بڑھائینگے۔ اِس پیشینگوئی پر دھیان دینے سے ہم پر واضح ہو جائیگا کہ ہم وقت کے دھارے میں کہاں پر ہیں۔ پس، جب ہم صبر کیساتھ خدا کی کارروائی کے منتظر ہیں تو یہ پیشینگوئی اِس آویزش میں غیرجانبدار رہنے کیلئے ہمارے عزم کو بھی تقویت بخشے گی۔ (زبور ۱۴۶:۳، ۵) پس، جب یہوواہ کا فرشتہ دانیایل سے ہمکلام ہوتا ہے تو آئیے پوری توجہ کیساتھ سنیں۔
یونان کی سلطنت کے خلاف
۳. ”داؔرا مادی کی سلطنت کے پہلے سال میں“ فرشتہ کس کو تقویت دینے کیلئے کھڑا ہوا تھا؟
۳ فرشتے نے بیان کِیا: ”داؔرا مادی کی سلطنت کے پہلے سال [۵۳۹/۵۳۸ ق.س.ع.] میں مَیں ہی اُسکو قائم کرنے اور تقویت دینے کو کھڑا ہوا۔“ (دانیایل ۱۱:۱) اُس وقت دارا تو زندہ نہیں تھا لیکن فرشتہ نبوّتی پیغام کی ابتدا کے سلسلے میں اُسکے دورِحکومت کا حوالہ دیتا ہے۔ اِسی بادشاہ نے دانیایل کو شیروں کی ماند سے باہر نکالنے کا حکم دیا تھا۔ دارا نے یہ حکم بھی جاری کِیا کہ تمام لوگ دانیایل کے خدا کا خوف مانیں۔ (دانیایل ۶:۲۱-۲۷) تاہم، فرشتہ دارا مادی کی بجائے دانیایل کی قوم کے لوگوں کے محافظ اور اپنے ساتھی میکائیل کی حمایت میں کھڑا ہوا تھا۔ (مقابلہ کریں دانیایل ۱۰:۱۲-۱۴۔) جب میکائیل مادیفارس کے شیطانی موکل کیساتھ نبردآزما تھا تو خدا کے اِس فرشتے نے اُسے تقویت فراہم کی تھی۔
۴، ۵. پیشینگوئی کے مطابق فارس کے چار بادشاہ کون تھے؟
۴ خدا کا فرشتہ اپنا بیان جاری رکھتا ہے: ”اب مَیں تجھکو حقیقت بتاتا ہوں۔ فاؔرس میں ابھی تین بادشاہ اَور برپا ہونگے اور چوتھا اُن سب سے زیادہ دولتمند ہوگا اور جب وہ اپنی دولت سے تقویت پائے گا تُو سب کو یوؔنان کی سلطنت کے خلاف اُبھارے گا۔“ (دانیایل ۱۱:۲) اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ فارسی بادشاہ کون تھے؟
۵ پہلے تین بادشاہ خورسِاعظم، کمبیسیس دوم اور دارا اوّل (ہستاسپس) تھے۔ بردیا (یا شاید گوماتا نامی تختوتاج کا دعویدار) نے صرف سات ماہ تک حکومت کی اسی لئے پیشینگوئی اِسکے مختصر دورِحکومت کو زیرِبحث نہیں لاتی۔ تیسرے بادشاہ دارا اوّل نے ۴۹۰ ق.س.ع. میں یونان پر دوسری مرتبہ حملہ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، فارسی دستے میراتھن کے مقام پر شکست کھا کر تتربتر ہو گئے اور ایشیائےکوچک کی طرف بھاگ گئے۔ دارا یونان کے خلاف مزید کارروائی کرنے کیلئے محتاط تیاریوں کے باوجود چار سال بعد اپنی موت تک کچھ نہ کر سکا۔ یہ کام بعد میں اُسکے بیٹے اور جانشین ”چوتھے“ بادشاہ خشایارشا اوّل نے انجام دیا۔ یہی بادشاہ اخسویرس تھا جس نے آستر سے شادی کی تھی۔—آستر ۱:۱؛ ۲:۱۵-۱۷۔
۶، ۷. (ا)چوتھے بادشاہ نے کیسے ”سب کو یونان کی سلطنت کے خلاف اُبھارا“ تھا؟ (ب)یونان کے خلاف خشایارشا کی جنگی مہم کا نتیجہ کیا نکلا تھا؟
۶ درحقیقت خشایارشا اوّل نے ”سب کو یونان کی سلطنت“ یعنی خودمختار یونانی ریاستوں کے ”خلاف اُبھارا“ تھا۔ دی میڈز اینڈ پرشیئنز—کانکرّز اینڈ ڈپلومیٹس نامی کتاب بیان کرتی ہے کہ ”خشایارشا نے اقتدارپسند مصاحب کی اُکساہٹ پر بحری اور برّی حملہ کِیا۔“ پانچویں صدی ق.س.ع. کا یونانی مؤرخ ہیرودوتس لکھتا ہے کہ ”اِس سے پہلے اتنا بڑا حملہ کبھی نہیں کِیا گیا تھا۔“ اُسکے ریکارڈ کے مطابق بحری فوج ”۵،۱۷،۶۱۰ آدمیوں پر مشتمل تھی۔ پیادہ سپاہیوں کی تعداد ۱۷،۰۰،۰۰۰ تھی؛ اِس میں ۸۰،۰۰۰ گھڑسوار بھی شامل تھے جن میں اونٹوں پر سواری کرنے والے عربوں اور رتھوں پر لڑنے والے لیبیا کے باشندوں کا بھی اضافہ کر لینا چاہئے جو میرے اندازے کے مطابق ۲۰،۰۰۰ ہونگے۔ پس بحری اور برّی فوج کی کُل تعداد ۲۳،۱۷،۶۱۰ تھی۔“
۷ خشایارشا اوّل نے حتمی فتح حاصل کرنے کے مقصد کو مدِنظر رکھتے ہوئے ۴۸۰ ق.س.ع. میں اپنے بڑے لاؤلشکر کیساتھ یونان کے خلاف پیشقدمی کی۔ تھرماپلی پر یونانیوں کی مزاحمت کے باوجود فارسیوں نے اتھینے کو تباہوبرباد کر دیا۔ تاہم، سیلامس پر فارسیوں کو شرمناک شکست کا سامنا ہوا۔ یونانیوں نے ۴۷۹ ق.س.ع. میں پلاتیا کے مقام پر ایک اَور فتح حاصل کی۔ خشایارشا کے بعد آئندہ ۱۴۳ سالوں کے دوران فارسی حکومت کے تخت پر بیٹھنے والے سات بادشاہوں میں سے کسی نے بھی پھر یونان پر چڑھائی کرنے کی جرأت نہ کی۔ تاہم، اِسی دوران یونان میں ایک طاقتور بادشاہ برپا ہو چکا تھا۔
ایک بڑی سلطنت کی چار ٹکڑوں میں تقسیم
۸. کونسا ”زبردست بادشاہ“ برپا ہوا اور وہ کیسے ”بڑے تسلط سے حکمران“ ثابت ہوا؟
۸ فرشتے نے بیان کِیا: ”ایک زبردست بادشاہ برپا ہوگا جو بڑے تسلط سے حکمران ہوگا اور جو کچھ چاہیگا کریگا۔“ (دانیایل ۱۱:۳) بیس سالہ سکندر ۳۳۶ ق.س.ع. میں مقدونیہ کے بادشاہ کے طور پر ’برپا ہوا۔‘ وہ واقعی ایک ”زبردست بادشاہ“—سکندرِاعظم—بنا۔ اپنے والد، فلپ دوم کے منصوبے سے تحریک پا کر اُس نے مشرقِوسطیٰ میں فارسی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ دریائےفرات اور دجلہ کو عبور کرنے کے بعد اُسکے ۴۷،۰۰۰ سپاہیوں نے گاگےمیلا کے مقام پر دارا سوم کے ۲،۵۰،۰۰۰ کے لشکر کو پراگندہ کر دیا۔ نتیجتاً، دارا فرار ہو گیا مگر بعدازاں مارا گیا اور یوں فارسی سلسلۂسلاطین کا خاتمہ ہو گیا۔ اِسکے بعد یونان عالمی طاقت بن گیا اور سکندر نے ’بڑے تسلط کیساتھ اپنی مرضی کے مطابق حکمرانی کی۔‘
۹، ۱۰. سکندر کی نسل کے سلطنت سے محروم ہو جانے کی بابت پیشینگوئی کیسے پوری ہوئی تھی؟
۹ خدا کے فرشتے نے دُنیا پر سکندر کے قلیل دورِحکومت کی بابت بتا دیا تھا: ”اُسکے برپا ہوتے ہی اُسکی سلطنت کو زوال آئیگا اور آسمان کی چاروں ہواؤں کی اطراف پر تقسیم ہو جائیگی لیکن نہ اُسکی نسل کو ملیگی اور نہ اُسکا سا اقبال باقی رہیگا بلکہ وہ سلطنت جڑ سے اُکھڑ جائیگی اور غیروں کیلئے ہوگی۔“ (دانیایل ۱۱:۴) سکندر نے ابھی اپنی عمر کی ۳۳ ویں بہار بھی نہیں دیکھی تھی کہ وہ بابل میں ۳۲۳ ق.س.ع. میں اچانک بیمار پڑ جانے سے وفات پا گیا۔
۱۰ سکندر کی وسیع سلطنت ”اُسکی نسل“ کو نہ ملی۔ اُسکے بھائی فلپ سوم ارہیدایوس نے سات سال سے بھی کم عرصہ حکومت کی اور سکندر کی ماں، اولمپیاس کے ایما پر ۳۱۷ ق.س.ع. میں قتل ہوا۔ سکندر کے بیٹے سکندر چہارم نے ۳۱۱ ق.س.ع. تک حکومت کی اور اپنے والد کے ایک جرنیل، کسندر کے ہاتھوں قتل ہوا۔ سکندر کے ناجائز بیٹے ہیراکلیز نے اپنے والد کے نام سے حکومت کرنے کی کوشش کی لیکن اُسے بھی ۳۰۹ ق.س.ع. میں قتل کر دیا گیا۔ یوں سکندر کی نسل ختم ہو گئی اور ”اُسکی سلطنت“ اُسکے خاندان سے جاتی رہی۔
۱۱. سکندر کی سلطنت کیسے ”چاروں ہواؤں کی اطراف پر تقسیم“ ہو گئی تھی؟
۱۱ سکندر کی موت کے بعد، اُس کی سلطنت ”چاروں ہواؤں کی اطراف پر تقسیم“ ہو گئی۔ اُسکے کئی جرنیلوں نے اُسکی سلطنت کے مختلف حصوں پر قابض ہونے کیلئے آپس میں لڑائیاں لڑیں۔ سکندر کے ایک یکچشمی جرنیل انتیگونس اوّل نے سکندر کی پوری سلطنت پر قبضہ جمانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ فروگیہ میں اپسوس کی لڑائی میں مارا گیا۔ سکندر کے چاروں جرنیل ۳۰۱ ق.س.ع. تک اپنے سپہسالار کے مفتوحہ علاقوں میں سے بیشتر پر اپنا تسلط جما چکے تھے۔ کسندر نے مقدونیہ اور یونان پر حکومت کی۔ لاسیماکس نے ایشیائےکوچک اور تھریس پر تسلط قائم کر لیا۔ سلوکس اوّل نکاتر نے مسوپتامیہ اور سوریہ پر قبضہ کر لیا۔ اِسی طرح بطلیموس لاگس نے مصر اور فلسطین کو ہتھیا لیا۔ نبوّتی کلام کی مطابقت میں سکندر کی وسیع سلطنت چار ہیلیانی سلطنتوں میں بٹ گئی۔
دو حریف بادشاہوں کا ظہور
۱۲، ۱۳. (ا)چار ہیلیانی سلطنتیں دو کیسے رہ گئیں؟ (ب)سلوکس نے سوریہ میں کس خاندان کی داغبیل ڈالی تھی؟
۱۲ کسندر اقتدار میں آنے کے چند سال بعد وفات پا گیا اور ۲۸۵ ق.س.ع. میں لاسیماکس نے یونانی سلطنت کے یورپی حصے پر قبضہ کر لیا۔ اِس کے بعد لاسیماکس ۲۸۱ ق.س.ع. میں سلوکس اوّل نکاتر کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا اور سلوکس کو وسیع ایشیائی علاقوں پر اختیار حاصل ہو گیا۔ سکندر کے جرنیلوں میں سے ایک کا پوتا، انتیگونس دوم گوناتاس ۲۷۶ ق.س.ع. میں مقدونیہ کے تخت پر بیٹھا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد مقدونیہ روم کا دستِنگر ہو کر رہ گیا اور بالآخر ۱۴۶ ق.س.ع. میں ایک رومی صوبہ بن گیا۔
۱۳ اب چار ہیلیانی سلطنتوں میں سے صرف دو برسرِاقتدار تھیں جن میں سے ایک سلوکس اوّل نکاتر اور دوسری بطلیموس لاگس کے تحت تھی۔ سلوکس نے سوریہ میں سلوکی خاندان کی داغبیل ڈالی۔ اُس نے جن شہروں کی بنیاد ڈالی اُن میں انطاکیہ—سوریہ کا نیا دارالحکومت—اور سلوکیہ کی بندرگاہ شامل تھی۔ بعدازاں پولس رسول نے انطاکیہ میں تعلیم دی جہاں پر یسوع کے شاگرد پہلی مرتبہ مسیحی کہلائے۔ (اعمال ۱۱:۲۵، ۲۶؛ ۱۳:۱-۴) سلوکس ۲۸۱ ق.س.ع. میں قتل ہو گیا لیکن اُسکا خاندان ۶۴ ق.س.ع. تک حکمران رہا جسکے بعد رومی جرنیل گنایوس پومپی نے سوریہ کو رومی صوبہ بنا لیا۔
۱۴. مصر میں بطلیموسی خاندان کی بنیاد کب ڈالی گئی تھی؟
۱۴ چاروں ہیلیانی سلطنتوں میں سے زیادہ طویل عرصہ تک قائم رہنے والی سلطنت بطلیموس لاگس یا بطلیموس اوّل کی تھی جس نے ۳۰۵ ق.س.ع. میں بادشاہ کہلوانا شروع کر دیا۔ اُس نے بطلیموسی خاندان کی بنیاد ڈالی جو ۳۰ ق.س.ع. میں روم سے شکست کھانے تک مصر پر حکمران رہا۔
۱۵. چار ہیلیانی سلطنتوں میں سے کونسے دو طاقتور بادشاہوں کا ظہور ہوا اور اُنہوں نے کس رساکشی کا آغاز کِیا؟
۱۵ اِس طرح سے چار ہیلیانی سلطنتوں میں سے دو طاقتور بادشاہ یعنی سوریہ میں سلوکس اوّل نکاتر اور مصر میں بطلیموس اوّل منظرِعام پر آئے۔ اِن دو بادشاہوں کیساتھ ہی دانیایل ۱۱ باب کے ”شاہِشمال“ اور ”شاہِجنوب“ کے مابین طویل آویزش شروع ہو گئی۔ یہوواہ کا فرشتہ بادشاہوں کے نام نہیں بتاتا کیونکہ صدیوں کے دوران اِن دونوں بادشاہوں کی شناخت اور قومیت بدلتی رہیگی۔ فرشتے نے غیرضروری تفصیلات کا ذکر کئے بغیر صرف آویزش پر اثرانداز ہونے والے حکمرانوں اور واقعات کی بابت بتایا۔
آویزش کا آغاز
۱۶. (ا) دو بادشاہ کس کے شمالوجنوب میں تھے؟ (ب)کن بادشاہوں نے پہلے ”شاہِشمال“ اور ”شاہِجنوب“ کا کردار ادا کِیا؟
۱۶ اب توجہ سے سنیں! اِس ڈرامائی آویزش کے آغاز کی وضاحت کرتے ہوئے یہوواہ کا فرشتہ بیان کرتا ہے: ”شاہِجنوب زور پکڑیگا اور اُس [سکندر] کے اُمرا میں سے ایک [شاہِشمال] اُس سے زیادہ اقتدارواختیار حاصل کرے گا اور اُس کی سلطنت بہت بڑی ہوگی۔“ (دانیایل ۱۱:۵) ”شاہِشمال“ اور ”شاہِجنوب“ کے امتیازی نام بابلی اسیری سے آزاد ہو کر یہوداہ کے ملک میں ازسرِنو آباد ہونے والی دانیایل کی قوم کے شمال اور جنوب میں برپا ہونے والے بادشاہوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پہلا ”شاہِجنوب“ مصر کا بطلیموس اوّل تھا۔ سکندر کے جرنیلوں میں سے سلوکس اوّل نکاتر نے بطلیموس اوّل کے خلاف زیادہ اقتدارواختیار حاصل کِیا اور اُسکی ”سلطنت بہت بڑی“ ہو گئی۔ یوں، اُس نے ”شاہِشمال“ کا کردار ادا کِیا۔
۱۷. شاہِشمال اور شاہِجنوب کے مابین آویزش کے آغاز پر یہوداہ کا ملک کس کے زیرِتسلط تھا؟
۱۷ آویزش کے شروع میں یہوداہ کا ملک شاہِجنوب کے زیرِتسلط تھا۔ کوئی ۳۲۰ ق.س.ع. سے بطلیموس اوّل نے یہودیوں پر مصر میں آ کر آباد ہونے کیلئے دباؤ ڈالا۔ سکندریہ میں ایک یہودی آبادی قائم ہو گئی جہاں بطلیموس اوّل نے ایک مشہور کُتبخانہ قائم کِیا۔ یہوداہ کے ملک کے یہودی ۱۹۸ ق.س.ع. تک بطلیموسی مصر، شاہِجنوب کے زیرِتسلط رہے۔
۱۸، ۱۹. ایک دَور میں دونوں حریف بادشاہوں کا کیسے ”اتحاد قائم“ ہوا؟
۱۸ دو بادشاہوں کے سلسلے میں فرشتے نے پیشینگوئی کی: ”چند سال کے بعد وہ آپس میں میل کرینگے کیونکہ شاہِجنوب کی بیٹی شاہِشمال کے پاس آئیگی تاکہ اتحاد قائم ہو لیکن اُس میں قوتِبازو نہ رہیگی اور نہ وہ بادشاہ قائم رہے گا نہ اُس [شاہِشمال] کا اقتدار بلکہ اُن ایّام میں وہ اپنے باپ اور اپنے لانے والوں اور تقویت دینے والے سمیت ترک کی جائے گی۔“ (دانیایل ۱۱:۶) یہ سب کچھ کیسے واقع ہوا؟
۱۹ پیشینگوئی سلوکس اوّل نکاتر کے بیٹے اور جانشین، انطاکس اوّل کا ذکر نہیں کرتی کیونکہ اُس نے شاہِجنوب کے خلاف فیصلہکُن جنگ نہیں لڑی تھی۔ لیکن اُس کے جانشین، انطاکس دوم نے بطلیموس اوّل کے بیٹے بطلیموس دوم کے خلاف طویل جنگ لڑی تھی۔ انطاکس دوم اور بطلیموس دوم نے علیالترتیب شاہِشمال اور شاہِجنوب کا کردار ادا کِیا۔ انطاکس دوم نے لودیکے سے شادی کی اور ان سے ایک بیٹے نے جنم لیا جسکا نام اُنہوں نے سلوکس دوم رکھا جبکہ بطلیموس دوم کی ایک بیٹی تھی جس کا نام برنیکے تھا۔ اِن دونوں بادشاہوں نے ۲۵۰ ق.س.ع. میں ایک ”اتحاد قائم“ کِیا۔ اِس اتحاد کی قیمت چکانے کیلئے انطاکس دوم نے اپنی بیوی لودیکے کو طلاق دیکر ”شاہِجنوب کی بیٹی“ برنیکے سے شادی کر لی۔ برنیکے کے بطن سے اُسکا ایک بیٹا پیدا ہوا جو لودیکے کے بیٹوں کی بجائے سوریہ کے تخت کا وارث ہوا۔
۲۰. (ا) برنیکے کی ”قوتِبازو“ کیسے قائم نہ رہی؟ (ب)برنیکے کو ”لانے“ اور ”تقویت دینے“ والوں کو کیسے ترک کر دیا گیا؟ (پ)انطاکس دوم کا ”اقتدار“ ختم ہو جانے کے بعد کون سوریہ کا بادشاہ بنا؟
۲۰ برنیکے کا ”قوتِبازو“ اُس کا والد بطلیموس دوم تھا۔ جب اُسکے والد نے ۲۴۶ ق.س.ع. میں وفات پائی تو اُس کے شوہر کے نزدیک ”اُس میں قوتِبازو نہ رہی۔“ انطاکس دوم نے اُسے چھوڑ کر لودیکے سے دوبارہ شادی کر لی اور اُس کے بطن سے اپنے بیٹے کو جانشین نامزد کِیا۔ لودیکے کے منصوبے کے مطابق برنیکے اور اُسکے بیٹے کو قتل کر دیا گیا۔ بدیہی طور پر، برنیکے کو مصر سے سوریہ ”لانے والوں“ کا بھی یہی حشر ہوا۔ لودیکے نے انطاکس دوم کو بھی زہر دے دیا اور یوں اُسکا ”اقتدار“ بھی ”قائم“ نہ رہا۔ پس، برنیکے کا ”باپ“ اور اُسکو عارضی طور پر ”تقویت دینے“ والا اُس کا شوہر جو سوریہ کا باشندہ تھا دونوں وفات پا گئے۔ اِس طرح لودیکے کا بیٹا سلوکس دوم سوریہ کا واحد بادشاہ رہ گیا۔ اِس کے بعد آنے والا بطلیموسی بادشاہ اِس سلسلے میں کیسا ردِعمل دکھائے گا؟
ایک بادشاہ اپنی بہن کے قتل کا انتقام لیتا ہے
۲۱. (ا) برنیکے کی ”جڑوں کی ایک شاخ“ کون تھا اور وہ کیسے ”برپا“ ہوا؟ (ب)بطلیموس سوم کیسے ”شاہِشمال کے قلعہ میں داخل“ ہو کر اُس پر غالب آیا؟
۲۱ فرشتے نے بیان کِیا: ”اُس کی جڑوں کی ایک شاخ سے ایک شخص اُس کی جگہ برپا ہوگا۔ وہ سپہسالار ہو کر شاہِشمال کے قلعہ میں داخل ہوگا اور اُن پر حملہ کریگا اور غالب آئیگا۔“ (دانیایل ۱۱:۷) برنیکے کے والدین کی ”جڑوں کی ایک شاخ“ اُسکا بھائی تھا۔ اپنے والد کی وفات پر، مصری فرعون بطلیموس سوم، شاہِجنوب کے طور پر ’برپا‘ ہوا۔ اُس نے فوراً ہی اپنی بہن کے قتل کا بدلہ لینے کی ٹھان لی۔ وہ سوریہ کے بادشاہ سلوکس دوم کے خلاف چڑھائی کرنے کیساتھ ہی ”شاہِشمال کے قلعہ میں داخل“ ہوا جس نے لودیکے کے ایما پر برنیکے اور اُسکے بیٹے کو قتل کر دیا تھا۔ بطلیموس سوم نے انطاکیہ کے مستحکم حصے پر قبضہ کرکے لودیکے کو ہلاک کر دیا۔ وہ شاہِشمال کی سلطنت کے راستے مشرق کی طرف بڑھتے ہوئے بابل میں لوٹمار مچاتے ہوئے ہندوستان کو نکل گیا۔
۲۲. بطلیموس سوم اپنے ساتھ کیا کچھ مصر لے کر آیا اور وہ کیوں ”چند سال تک شاہِشمال سے دستبردار“ رہا؟
۲۲ اِسکے بعد کیا واقع ہوا؟ خدا کا فرشتہ ہمیں بتاتا ہے: ”اُنکے بُتوں اور ڈھالی ہوئی مورتوں کو سونےچاندی کے قیمتی ظروف سمیت اسیر کرکے مصرؔ کو لے جائیگا اور چند سال تک شاہِشمال سے دستبردار رہیگا۔“ (دانیایل ۱۱:۸) اِس سے کوئی ۲۰۰ سال پہلے فارسی بادشاہ کمبیسیس دوم نے مصر کو فتح کر لیا تھا اور مصریوں کے بُتوں اور ”ڈھالی ہوئی مورتوں“ کو اپنے ملک کو لے گیا تھا۔ فارس کے سابقہ شاہی دارالحکومت سوسا کی لوٹمار کرتے ہوئے بطلیموس سوم نے ان بُتوں کو دوبارہ حاصل کر لیا اور اُنہیں ”اسیر“ کرکے مصر کو لے آیا۔ وہ ”سونےچاندی کے قیمتی ظروف“ کو بھی مالِغنیمت کے طور پر واپس لے آیا۔ بطلیموس سوم اندرونی بغاوت کو کچلنے کی غرض سے ’شاہِشمال سے دستبردار‘ رہا اور اُسے مزید کوئی نقصان نہ پہنچایا۔
سوریہ کے بادشاہ کا انتقام
۲۳. شاہِشمال کس وجہ سے شاہِجنوب کی سلطنت پر حملہآور ہونے کے بعد ”اپنے ملک کو واپس“ چلا گیا؟
۲۳ شاہِشمال نے کیسا ردِعمل دکھایا؟ دانیایل کو بتایا گیا تھا: ”وہ شاہِجنوب کی مملکت میں داخل ہوگا پر اپنے ملک کو واپس جائیگا۔“ (دانیایل ۱۱:۹) شاہِشمال، سوریہ کے بادشاہ سلوکس دوم نے جوابی حملہ کِیا۔ اُس نے ”مملکت“ یا مصری شاہِجنوب کے علاقے میں داخل ہو جانے کے باوجود مُنہ کی کھائی۔ سلوکس دوم ۲۴۲ ق.س.ع. میں مٹھیبھر فوج کیساتھ جان بچا کر سوریہ کے دارالحکومت انطاکیہ میں پناہ حاصل کرنے کیلئے ”اپنے ملک کو واپس“ لوٹ گیا۔ اُسکی وفات کے بعد اُسکا بیٹا سلوکس سوم اُسکا جانشین بنا۔
۲۴. (ا)سلوکس سوم کیساتھ کیا واقع ہوا؟ (ب)سوریہ کے بادشاہ انطاکس سوم کیسے شاہِجنوب کے علاقے پر ”چڑھائی کرکے پھیلا اور گذر“ گیا؟
۲۴ سوریہ کے بادشاہ سلوکس دوم کی اولاد کی بابت کیا پیشینگوئی کی گئی تھی؟ فرشتے نے دانیایل پر آشکارا کِیا: ”اُس کے بیٹے برانگیختہ ہونگے جو بڑا لشکر جمع کرینگے اور وہ چڑھائی کرکے پھیلے گا اور گذر جائے گا اور وہ لوٹ کر اُس کے قلعہ تک لڑیں گے۔“ (دانیایل ۱۱:۱۰) سلوکس سوم کے قتل کے ساتھ ہی اُس کی تین سال سے بھی کم عرصہ پر محیط حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اُس کا بھائی انطاکس سوم اُس کی جگہ سوریہ کے تخت کا وارث ہوا۔ سلوکس دوم کے اِس بیٹے نے ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ شاہِجنوب پر حملہ کر دیا جو اس وقت بطلیموس چہارم تھا۔ اِس نئے شاہِشمال نے جسکا تعلق سوریہ سے تھا مصر کے خلاف جنگ جیت کر سلوکیہ کی بندرگاہ، کوئیلےسوریہ، صور اور بطلیموسی نامی شہر اور آسپاس کے علاقے واپس لے لئے۔ اُس نے بادشاہ بطلیموس چہارم کی فوج کو شکست دیکر یہوداہ کے کئی شہروں پر بھی قبضہ کر لیا۔ انطاکس سوم ۲۱۷ ق.س.ع. کے موسمِبہار میں بطلیموسی علاقے کو چھوڑ کر شمال میں سوریہ کے ’قلعہ میں داخل‘ ہو گیا۔ لیکن ایک بڑی تبدیلی رونما ہونے والی تھی۔
پانسہ پلٹ جاتا ہے
۲۵. بطلیموس چہارم کا انطاکس سوم کیساتھ میدانِجنگ میں آمناسامنا کہاں پر ہوا اور شاہِجنوب یعنی مصر کے ”حوالہ“ کیا کِیا گیا تھا؟
۲۵ ہم بھی دانیایل کی طرح یہوواہ کے فرشتے کی اِس بات کو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں: ”شاہِجنوب غضبناک ہو کر نکلے گا اور شاہِشمال سے جنگ کریگا اور وہ بڑا لشکر لیکر آئیگا اور وہ بڑا لشکر اُسکے حوالہ کر دیا جائیگا۔“ (دانیایل ۱۱:۱۱) شاہِجنوب، بطلیموس چہارم، ۷۵،۰۰۰ کی فوج کیساتھ شمال میں دشمن پر حملہآور ہوا۔ شاہِشمال یعنی سوریہ کا بادشاہ انطاکس سوم بھی اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے ۶۸،۰۰۰ کا ”بڑا لشکر“ تیار کر چکا تھا۔ لیکن مصر کی سرحد کے قریب، ساحلی شہر رافہ کی لڑائی میں ”بڑا لشکر“ شاہِجنوب کے ”حوالہ کر دیا“ گیا۔
۲۶. (ا) رافہ کی لڑائی میں شاہِجنوب نے کتنے بڑے ”لشکر“ کو پراگندہ کر دیا اور اِس کے بعد امن کے معاہدے کی کیا شرائط تھیں؟ (ب)بطلیموس چہارم کیسے ’غالب نہ رہا‘؟ (پ)اِس کے بعد کون شاہِجنوب بنا؟
۲۶ پیشینگوئی مزید بیان کرتی ہے: ”جب وہ لشکر پراگندہ کر دیا جائے گا تو اُس کے دل میں گھمنڈ سمائیگا۔ وہ لاکھوں کو گرائے گا لیکن غالب نہ آئے گا۔“ (دانیایل ۱۱:۱۲) شاہِجنوب، بطلیموس چہارم نے ۱۰،۰۰۰ پیادوں اور ۳۰۰ گھڑسواروں کو ہلاک کرنے کے علاوہ ۴،۰۰۰ کو قیدی بنا کر سوریہ کی فوج کو ”پراگندہ کر دیا۔“ اِس کے بعد دونوں بادشاہوں میں ایک معاہدہ ہوا جس کی رُو سے انطاکس سوم نے سوریہ کی بندرگاہ سلوکیہ کو تو اپنے پاس رکھ لیا مگر اُسے فینیکے اور کوئیلےسوریہ سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اِس فتح کی بدولت، شاہِجنوب یعنی مصر کے بادشاہ کے دل میں بالخصوص یہوواہ کے خلاف ’گھمنڈ سما‘ گیا۔ یہوداہ بطلیموس چہارم کے زیرِتسلط رہا۔ تاہم، وہ شاہِشمال یعنی سوریہ کے بادشاہ کے خلاف اپنی فتح کے سلسلے کو جاری رکھنے کیلئے ”غالب“ نہ رہا۔ اِسکی بجائے، بطلیموس چہارم عیاشی میں پڑ گیا اور اُسکا پانچ سالہ بیٹا، بطلیموس پنجم، انطاکس سوم کی موت سے چند سال پہلے شاہِجنوب بنا۔
فاتح کی واپسی
۲۷. شاہِشمال ”چند سال“ بعد مصر سے اپنا علاقہ دوبارہ حاصل کرنے کیلئے کیسے لوٹا؟
۲۷ انطاکس سوم اپنی فتوحات کی بدولت انطاکساعظم کہلانے لگا۔ اُس کی بابت فرشتے نے بیان کِیا: ”شاہِشمال پھر حملہ کرے گا اور پہلے سے زیادہ لشکر جمع کرے گا اور چند سال کے بعد بہت سے لشکرومال کیساتھ پھر حملہآور ہوگا۔“ (دانیایل ۱۱:۱۳) یہ ”چند سال“ رافہ کے مقام پر مصری فوجوں کے ہاتھوں سوریہ کی فوجوں کی شکست کے بعد ۱۶ یا اِس سے بھی زیادہ سالوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب نوعمر بطلیموس پنجم شاہِجنوب بنا تو انطاکس سوم ”پہلے سے زیادہ لشکر جمع“ کرکے شاہِجنوب یعنی مصر کے بادشاہ کے قبضے میں جانے والے علاقوں کو چھڑانے کیلئے حملہآور ہوا۔ ایسا کرنے کیلئے اُس نے مقدونیہ کے بادشاہ فلپ پنجم کی فوجوں کیساتھ الحاق کر لیا۔
۲۸. نوعمر شاہِجنوب کو کن مشکلات کا سامنا تھا؟
۲۸ شاہِجنوب کو اپنی سلطنت کے اندر بھی مسائل کا سامنا تھا؟ ”اُن دنوں میں بہتیرے شاہِجنوب پر چڑھائی کریں گے۔“ (دانیایل ۱۱:۱۴الف) واقعی ’بہتیروں نے شاہِجنوب پر چڑھائی کی۔‘ نوعمر بادشاہ کو انطاکس سوم اور اُس کے مقدونی اتحادی لشکروں کے علاوہ مصر کے اندرونی مسائل کا بھی سامنا تھا۔ اُس کے نام سے حکمرانی کرنے والے اُس کے سرپرست اگاتوکلیز کے مصریوں کے ساتھ تحقیرآمیز سلوک کی وجہ سے بہتیروں نے بغاوت کر دی تھی۔ فرشتے نے مزید بیان کِیا: ”تیری قوم کے قزاق بھی اُٹھیں گے کہ اُس رویا کو پورا کریں پر وہ گِر جائیں گے۔“ (دانیایل ۱۱:۱۴ب) دانیایل کی قوم میں سے بھی بعض ”قزاق“ یا انقلابی بن گئے۔ لیکن اپنے ملک سے غیرقوم تسلط کو ختم کرنے کے سلسلے میں یہودیوں کی ہر ”رویا“ جھوٹی تھی کیونکہ وہ ناکام ہو کر ”گِر جائیں گے۔“
۲۹، ۳۰. (ا) شمال کے حملے کے سامنے کیسے ”جنوب کی طاقت قائم“ نہ رہی؟ (ب)شاہِشمال کیسے ”جلالی ملک میں قیام“ کرنے لگا؟
۲۹ یہوواہ کے فرشتے نے مزید پیشینگوئی کی: ”شاہِشمال آئیگا اور دمدمہ باندھیگا اور حصین شہر لے لیگا اور جنوب کی طاقت قائم نہ رہیگی اور اُسکے چیدہ مردوں میں مقابلہ کی تاب نہ ہوگی۔ اور حملہآور جوکچھ چاہیگا کریگا اور کوئی اُسکا مقابلہ نہ کر سکے گا۔ وہ اُس جلالی ملک میں قیام کریگا اور اُسکے ہاتھ میں تباہی ہوگی۔“—دانیایل ۱۱:۱۵، ۱۶۔
۳۰ شمال کے سامنے بطلیموس پنجم کے فوجی دستے یا ”جنوب کی طاقت“ قائم نہ رہ سکی۔ پانیاس (قیصریہ فلپی) کے مقام پر انطاکس سوم نے مصر کے جرنیل سکوپاس اور ۱۰،۰۰۰ بہادر مردوں، یا ”چیدہ مردوں“ کو ”حصین شہر“ صیدا میں دھکیل دیا۔ وہاں انطاکس سوم نے ’دمدمہ باندھ‘ کر ۱۹۸ ق.س.ع. میں اُس فینیکی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔ اُس نے ’جو چاہا وہی کِیا‘ کیونکہ شاہِجنوب، مصر کے بادشاہ کے لشکروں میں اُسکا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں تھی۔ اِسکے بعد انطاکس سوم نے یہوداہ کے ”جلالی ملک“ کے دارالحکومت یروشلیم پر چڑھائی کی۔ یروشلیم اور یہوداہ ۱۹۸ ق.س.ع. میں شاہِجنوب یعنی مصر کے بادشاہ کے تسلط سے شاہِشمال یعنی سوریہ کے بادشاہ کے تسلط میں چلے گئے۔ چنانچہ شاہِشمال، انطاکس سوم نے ”جلالی ملک میں قیام“ کرنا شروع کر دیا۔ تمام یہودی اور مصری مخالفین کے لئے ”اُس کے ہاتھ میں تباہی“ تھی۔ یہ شاہِشمال کب تک اپنی مرضی کے مطابق عمل کریگا؟
روم کا فاتح کی پیشقدمی کو روکنا
۳۱، ۳۲. شاہِشمال نے شاہِجنوب کیساتھ ”سمجھوتا“ کیوں کِیا؟
۳۱ یہوواہ کا فرشتہ ہمیں یہ جواب دیتا ہے: ”وہ [شاہِشمال] یہ اِرادہ کریگا کہ اپنی مملکت کی تمام شوکت کے ساتھ اُس میں داخل ہو . . . [لیکن وہ سمجھوتا کریگا اور] وہ کامیاب ہوگا اور وہ اُسے جوان کنواری دیگا کہ اُسکی بربادی کا باعث ہو لیکن یہ تدبیر قائم نہ رہیگی اور اُسکو اس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔“—دانیایل ۱۱:۱۷۔
۳۲ مصر پر قابض ہونے کیلئے شاہِشمال، انطاکس سوم نے ”یہ اِرادہ“ کِیا کہ ”اپنی مملکت کی تمام شوکت کے ساتھ اُس میں داخل ہو۔“ مگر انجامکار اُسے شاہِجنوب، بطلیموس پنجم کے ساتھ ”سمجھوتا“ کرنا پڑا۔ روم کے مطالبات نے انطاکس سوم کو اپنے منصوبے میں تبدیلی پر مجبور کر دیا تھا۔ جب اُس نے نوعمر مصری بادشاہ سے اپنے علاقے واپس لینے کے لئے مقدونیہ کے بادشاہ فلپ پنجم کے ساتھ الحاق کر لیا تو بطلیموس پنجم کے سرپرستوں نے مدد کیلئے روم کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ روم اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مدد کیلئے فوراً تیار ہو گیا۔
۳۳. (ا)انطاکس سوم اور بطلیموس پنجم کے درمیان سمجھوتے کی شرائط کیا تھیں؟ (ب)قلوپطرہ اوّل اور بطلیموس پنجم کے مابین شادی کا کیا مقصد تھا مگر منصوبہ ناکام کیوں ہو گیا؟
۳۳ انطاکس سوم نے روم کے دباؤ کے تحت شاہِجنوب کے سامنے سمجھوتے کی شرائط پیش کیں۔ روم کے مطالبے کے مطابق مفتوحہ علاقے واپس کرنے کی بجائے، انطاکس سوم نے اپنی بیٹی قلوپطرہ اوّل—”جوان کنواری“—کو بطلیموس پنجم کی زوجیت میں دیکر برائےنام علاقے واپس کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہوداہ کے ”جلالی ملک“ سمیت کئی علاقے اُسے جہیز میں دئے جانے تھے۔ تاہم، ۱۹۳ ق.س.ع. میں شادی کے موقع پر، سوریہ کے بادشاہ نے اِن علاقوں کو بطلیموس پنجم کے ہاتھ میں نہ جانے دیا۔ یہ سیاسی شادی مصر کو سوریہ کا مطیع کرنے کے لئے کی گئی تھی۔ لیکن اِس منصوبے سے ’اس کو . . . کچھ فائدہ نہ‘ ہوا کیونکہ قلوپطرہ اوّل بعدازاں اپنے شوہر کیساتھ مل گئی تھی۔ جب انطاکس سوم اور رومیوں کے مابین لڑائی چھڑ گئی تو مصر نے روم کا ساتھ دیا۔
۳۴، ۳۵. (ا)شاہِشمال نے کن ”بحری ممالک“ کا رُخ کِیا؟ (ب)روم نے شاہِشمال کی ”ملامت“ کو کیسے موقوف کِیا؟ (پ)انطاکس سوم کی وفات کیسے ہوئی اور اُسکے بعد کون شاہِشمال بنا؟
۳۴ شاہِشمال کی شکست کا ذکر کرتے ہوئے فرشتے نے مزید کہا: ”پھر وہ [انطاکس سوم] بحری ممالک کا رُخ کرے گا اور بہت سے لے لیگا لیکن ایک سردار [روم] اُس [انطاکس سوم] کی ملامت کو موقوف کرے گا بلکہ اُسے اُسی کے سر پر ڈالیگا۔ تب وہ [انطاکس سوم] اپنے ملک کے قلعوں کی طرف مڑے گا لیکن ٹھوکر کھا کر گِر پڑے گا اور معدوم ہو جائے گا۔“—دانیایل ۱۱:۱۸، ۱۹۔
۳۵ ”بحری ممالک“ مقدونیہ، یونان اور ایشیائےکوچک تھے۔ یونان میں ۱۹۲ ق.س.ع. میں ایک جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے انطاکس سوم کو یونان آنا پڑا۔ سوریہ کے بادشاہ کی اضافی علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوششوں سے ناراض ہو کر روم نے اُس کے خلاف باضابطہ جنگ کا اعلان کر دیا۔ اُس نے تھرماپلی کے مقام پر رومیوں کے ہاتھوں شکست کھائی۔ علاوہازیں، ۱۹۰ ق.س.ع. میں میگنیشیا کی لڑائی میں شکست کھانے کے کوئی ایک سال بعد، اُسے یونان، ایشیائےکوچک اور تاؤرس کے پہاڑی سلسلے کے مغربی علاقوں سے مکمل طور پر دستبردار ہونا پڑا۔ روم نے بھاری جرمانے کا تقاضا کرتے ہوئے شاہِشمال یعنی سوریہ کے بادشاہ پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ یونان اور ایشیائےکوچک سے نکال دئے جانے اور اپنے بحری بیڑوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد، انطاکس سوم سوریہ یعنی ’اپنے ملک کے قلعوں کی طرف مڑا۔‘ رومیوں نے ’اپنے خلاف اُس کی ملامت کو موقوف کرکے اُسی کے سر پر ڈال‘ دیا تھا۔ انطاکس سوم ۱۸۷ ق.س.ع. میں فارسی علاقے المایس کے ایک مندر کو لُوٹنے کی کوشش میں مارا گیا۔ چنانچہ وہ موت کے ہاتھوں ”گِر“ پڑا اور اُس کا بیٹا سلوکس چہارم اُس کے بعد شاہِشمال بنا۔
آویزش جاری رہتی ہے
۳۶. (ا) شاہِجنوب نے جدوجہد کو کیسے جاری رکھا لیکن اُسکے ساتھ کیا واقع ہوا؟ (ب)سلوکس چہارم کیسے گِر پڑا اور اُسکی جگہ کون تختنشین ہوا؟
۳۶ شاہِجنوب، بطلیموس پنجم نے جب قلوپطرہ کو جہیز میں ملنے والے علاقے حاصل کرنے کی کوشش کی تو اُسے زہر دے دیا گیا۔ اُس کی جگہ بطلیموس ششم بادشاہ بنا۔ سلوکس چہارم کے ساتھ کیا واقع ہوا؟ اُس نے روم کی طرف سے عائدکردہ بھاری جرمانہ ادا کرنے کیلئے اپنے خزانچی ہلیودورس کو یروشلیم کی ہیکل میں محفوظ مبیّنہ دولت پر قبضہ کرنے کیلئے بھیجا۔ ہلیودورس نے تخت پر قبضہ کرنے کی کوشش میں سلوکس چہارم کو قتل کر دیا۔ تاہم، پرگمن کے بادشاہ ایومینس اور اُسکے بھائی اتالوس نے مقتول بادشاہ کے بھائی انطاکس چہارم کو تخت پر بٹھا دیا۔
۳۷. (ا) انطاکس چہارم نے خود کو یہوواہ خدا سے زیادہ زورآور ثابت کرنے کی کوشش کیسے کی؟ (ب)انطاکس چہارم کے ہاتھوں یروشلیم میں ہیکل کی بےحرمتی کا سبب کیا تھا؟
۳۷ نئے شاہِشمال، انطاکس چہارم نے یہوواہ کی پرستش کے انتظام کو جڑ سے اُکھاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدا سے بھی زورآور ثابت کرنا چاہا۔ اُس نے یہوواہ کی طاقت کو للکارتے ہوئے یروشلیم کی ہیکل کو زیوس یا مشتری کے لئے مخصوص کِیا۔ دسمبر ۱۶۷ ق.س.ع. میں ہیکل کے صحن میں جس بڑی قربانگاہ پر یہوواہ کے لئے روزانہ سوختنی قربانیاں گزرانی جاتی تھیں اُسی کے اُوپر جھوٹے معبودوں کے لئے قربانگاہ کھڑی کر دی گئی۔ اِس کے دس دن بعد، اِس قربانگاہ پر زیوس کے لئے قربانی پیش کی گئی۔ اِس بےحرمتی نے مکابیوں کی سرکردگی میں یہودی بغاوت کو ہوا دی۔ انطاکس چہارم اُن کے ساتھ تین سال تک نبردآزمائی کرتا رہا۔ جس دن ہیکل کو ناپاک کِیا گیا تھا یہوداہ مکابی نے ۱۶۴ ق.س.ع. میں اُسی دن پر اِس کی یہوواہ کے لئے دوبارہ تقدیس کرکے عیدِتجدید—حنوکہ—کا آغاز کِیا۔—یوحنا ۱۰:۲۲۔
۳۸. مکابیوں کا دَور کیسے ختم ہوا؟
۳۸ مکابیوں نے غالباً روم کیساتھ ۱۶۱ ق.س.ع. میں معاہدہ کرکے ۱۰۴ ق.س.ع. میں ایک حکومت قائم کر لی تھی۔ تاہم، شاہِشمال یعنی سوریہ کے بادشاہ کیساتھ اُنکا جھگڑا چلتا رہا۔ بالآخر، روم سے مداخلت کرنے کی درخواست کی گئی۔ رومی جرنیل گنایوس پومپی کے تین ماہ کے محاصرے کے بعد ۶۳ ق.س.ع. میں یروشلیم مسخر ہو گیا۔ رومی سینٹ نے ۳۹ ق.س.ع. میں ادومی ہیرودیس کو یہودیہ کا بادشاہ مقرر کر دیا۔ اُس نے ۳۷ ق.س.ع. میں مکابیوں کا قلعقمع کرکے یروشلیم پر قبضہ کر لیا۔
۳۹. آپ نے دانیایل ۱۱:۱-۱۹ پر غوروفکر کرنے سے کیسے فائدہ اُٹھایا ہے؟
۳۹ دو بادشاہوں کے مابین آویزش سے متعلق پیشینگوئی کے پہلے حصے کی تفصیلی تکمیل کو سمجھنا کتنا ہیجانخیز ہے! واقعی، دانیایل کی معرفت نبوّتی پیغام کے کوئی ۵۰۰ سال بعد تک کی تاریخ اور شاہِشمال اور شاہِجنوب کا کردار ادا کرنے والے حکمرانوں کی شناخت کا جائزہ نہایت ولولہانگیز ہے! تاہم، یسوع مسیح کے زمینی دَور اور آج ہمارے زمانے تک اِن دونوں بادشاہوں کے مابین جنگ جاری ہے اگرچہ اِنکے سیاسی کردار بدلتے رہے ہیں۔ اِس پیشینگوئی میں آشکارا تفصیلات کا تاریخی واقعات کیساتھ موازنہ کرنے سے ہم اِن دو حریف بادشاہوں کو پہچاننے کے قابل ہونگے۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
•ہیلیانی سلطنتوں میں سے کونسے دو زورآور بادشاہوں کا سلسلہ چل نکلا اور اِن بادشاہوں نے کس آویزش کا آغاز کِیا؟
•دانیایل ۱۱:۶ کی پیشینگوئی کے مطابق دونوں بادشاہوں میں کیسے ”اتحاد قائم“ ہوا؟
•آویزش کیسے جاری رہی
سلوکس دوم اور بطلیموس سوم کے مابین (دانیایل ۱۱:۷-۹)؟
انطاکس سوم اور بطلیموس چہارم کے مابین (دانیایل ۱۱:۱۰-۱۲)؟
انطاکس سوم اور بطلیموس پنجم کے مابین (دانیایل ۱۱:۱۳-۱۶)؟
•قلوپطرہ اوّل اور بطلیموس پنجم کی شادی کا کیا مقصد تھا مگر منصوبہ ناکام کیوں ہو گیا (دانیایل ۱۱:۱۷-۱۹)؟
•دانیایل ۱۱:۱-۱۹ پر دھیان دینے سے آپکو کیسے فائدہ پہنچا ہے؟
[صفحہ ۲۲۸ پر چارٹ/تصویریں]
دانیایل ۱۱:۵-۱۹ کے بادشاہ
شاہِجنوب شاہِشمال
دانیایل ۱۱:۵ سلوکس اوّل نکاتر بطلیموس اوّل
دانیایل ۱۱:۶ انطاکس دوم بطلیموس دوم
(بیوی لودیکے) (بیٹی برنیکے)
دانیایل ۱۱:۷-۹ سلوکس دوم بطلیموس سوم
دانیایل ۱۱:۱۰-۱۲ انطاکس سوم بطلیموس چہارم
دانیایل ۱۱:۱۳-۱۹ انطاکس سوم بطلیموس پنجم
(بیٹی قلوپطرہ اوّل) جانشین:
جانشین: بطلیموس ششم
سلوکس چہارم اور
انطاکس چہارم
[تصویر]
بطلیموس دوم اور اُسکی بیوی کی تصویرکشی کرنے والا سکہ
[تصویر]
سلوکس اوّل نکاتر
[تصویر]
انطاکس سوم
[تصویر]
بطلیموس ششم
[تصویر]
مصر کے بالائی حصے میں عدفو کے مقام پر بطلیموس سوم اور اُس کے جانشینوں کا تعمیرکردہ ہورس کا مندر
[صفحہ ۲۱۷-۲۱۶ پر نقشہ/تصویریں]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
”شاہِشمال“ اور ”شاہِجنوب“ کے امتیازی نام دانیایل کی قوم کے لوگوں کے شمال اور جنوب میں برپا ہونے وا لے بادشاہوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں
مقدونیہ
یونان
ایشیائےکوچک
اسرائیل
لیبیا
مصر
ایتھیوپیا
سوریہ
بابل
عرب
[تصویر]
انطاکساعظم
[تصویر]
بطلیموس دوم
[تصویر]
پتھر کی تختی جس پر انطاکساعظم کے جاریکردہ باضابطہ احکام لکھے ہیں
[تصویر]
بطلیموس پنجم کی تصویرکشی کرنے والا سکہ
[تصویر]
کرناک، مصر میں بطلیموس سوم کا پھاٹک
[صفحہ ۲۱۰ پر صرف تصویر ہے]
[صفحہ ۲۱۵ پر تصویر]
سلوکس اوّل نکاتر
[صفحہ ۲۱۸ پر تصویر]
بطلیموس اوّل