یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • دا باب 8 ص.‏ 114-‏127
  • شیروں کے مُنہ سے بچ نکلنا!‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • شیروں کے مُنہ سے بچ نکلنا!‏
  • دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک قاتلانہ سازش پر عمل‌درآمد
  • دارا ناموافق فیصلہ سنانے پر مجبور
  • ایک ڈرامائی تبدیلی
  • ہمیشہ خدا کی خدمت کرتے رہیں
  • دانی‌ایل شیروں کی ماند میں
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • شیروں کی ماند میں
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • دانی‌ایل—‏ایک زیرِتنقید کتاب
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • یہوواہ کا دانی‌ایل سے شاندار اَجر کا وعدہ
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
مزید
دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
دا باب 8 ص.‏ 114-‏127

آٹھواں باب

شیروں کے مُنہ سے بچ نکلنا!‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ دارا مادی نے اپنی وسیع‌وعریض سلطنت کو کیسے منظم کِیا؟ (‏ب)‏ناظم کے اختیار اور فرائض کی وضاحت کریں۔‏

بابل مسخر ہو چکا ہے!‏ عالمی طاقت کے طور پر اسکی سو سالہ شان‌وشوکت ایک ہی جھٹکے میں ختم ہو چکی ہے۔ اب مادیوں اور فارسیوں کے نئے دَور کا آغاز ہو رہا تھا۔ بیلشضر کے تخت پر بیٹھنے والے دارا مادی کو اب وسیع‌وعریض سلطنت کے نظم‌ونسق کے چیلنج کا سامنا ہے۔‏

۲ دارا نے سب سے پہلے ۱۲۰ ناظم مقرر کئے۔ ایک خیال کے مطابق اِس مرتبے پر فائز ہونے والوں کو بعض‌اوقات بادشاہ کے رشتے‌داروں سے منتخب کِیا جاتا تھا۔ بہرصورت، ہر ناظم کو مملکت کے وسیع علاقے یا چھوٹے حلقے کا نظم‌ونسق سنبھالنا تھا۔ (‏دانی‌ایل ۶:‏۱‏)‏ اُس کے فرائض میں خراج وصول کرکے شاہی دربار میں جمع کرانا شامل تھا۔ اگرچہ بادشاہ کے سفری نمائندے وقتاًفوقتاً ناظم اور اُس کے کام کی جانچ‌پڑتال کرتے تھے تو بھی اُسے وسیع اختیار حاصل ہوتے تھے۔ اُسکے خطاب کا مطلب ”‏سلطنت کا محافظ“‏ تھا۔ اپنے علاقے میں ناظم کو باج‌گزار بادشاہ خیال کِیا جاتا تھا جو تقریباً مختارِکُل ہی ہوتا تھا۔‏

۳، ۴.‏ دارا نے دانی‌ایل کو کیوں پسند کِیا اور اُسے کس عہدے پر فائز کِیا؟‏

۳ اِس نئے انتظام میں دانی‌ایل کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا دارا مادی اِس عمررسیدہ یہودی نبی کو سبکدوش کر دیگا جو اَب نوے کی دہائی میں تھا۔ ہرگز نہیں!‏ بِلاشُبہ دارا سمجھتا تھا کہ دانی‌ایل نے بابل کے زوال کی بالکل صحیح پیشینگوئی کی تھی اور ایسی پیش‌بینی کیلئے فوق‌البشر بصیرت درکار تھی۔ اِسکے علاوہ، دانی‌ایل کو بابل میں اسیروں کے مختلف گروہوں کے معاملات نپٹانے کا وسیع تجربہ بھی تھا۔ دارا اپنی نئی مفتوح رعایا کیساتھ پُرامن تعلقات قائم رکھنے کا متمنی تھا۔ اِس کیلئے وہ دانی‌ایل جیسے پُرحکمت اور تجربہ‌کار شخص کو یقیناً اپنی قربت میں رکھنا چاہیگا۔ لیکن اُس کی حیثیت کیا ہوگی؟‏

۴ اگر دارا یہودی اسیر دانی‌ایل کو ناظم مقرر کرتا ہے تو یہ بڑی حیران‌کُن بات ہوگی۔ لیکن ذرا تصور کریں کہ جب دارا نے دانی‌ایل کو ناظموں کی نگرانی پر مامور ہونے والے تین وزیروں میں شامل کرنے کا فیصلہ سنایا ہوگا تو کتنی ہلچل مچ گئی ہوگی!‏ اِسکے علاوہ، ”‏دانیؔ‌ایل میں فاضل روح تھی“‏ جسکی بدولت وہ ساتھی وزیروں پر ”‏سبقت لے گیا۔“‏ دارا تو اُسے وزیرِاعظم کا مرتبہ دینے کو تیار تھا۔—‏دانی‌ایل ۶:‏۲، ۳‏۔‏

۵.‏ دوسرے وزیروں اور ناظموں نے دانی‌ایل کی تقرری کے سلسلے میں کیسا ردِعمل دکھایا اور کیوں؟‏

۵ دوسرے وزیر اور ناظم تو غصے سے آگ‌بگولہ ہو گئے ہونگے۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ دانی‌ایل اُن پر حاکم ہوگا جو نہ مادی ہے اور نہ فارسی اور نہ ہی شاہی خاندان سے اُس کا کوئی تعلق ہے!‏ دارا اپنے ہم‌وطنوں اور اپنے خاندان کو چھوڑ کر ایک غیرملکی کو اتنا بڑا مرتبہ کیسے عطا کر سکتا تھا؟ ایسی کارروائی غیرمنصفانہ دکھائی دی ہوگی۔ علاوہ‌ازیں، ناظموں نے بدیہی طور پر دانی‌ایل کی وفاداری کو اپنی مفادپرستی اور رشوت‌ستانی کے خلاف ناپسندیدہ رکاوٹ خیال کِیا ہوگا۔ تاہم، وزیروں اور ناظموں نے اِس معاملے میں دارا سے بات کرنے کی جرأت نہ کی۔ بہرکیف، دارا بادشاہ دانی‌ایل کی بہت عزت کرتا تھا۔‏

۶.‏ وزیروں اور ناظموں نے دانی‌ایل کی ساکھ ختم کرنے کے لئے کیا کوشش کی اور یہ کوشش کارگر ثابت کیوں نہ ہوئی؟‏

۶ پس، اِن حاسد سیاستدانوں نے ایک باہمی سازش تیار کی۔ اُنہوں نے ”‏ملک‌داری میں دانیؔ‌ایل پر قصور ثابت“‏ کرنے کی کوشش کی۔ کیا اُس کے فرائض کی ادائیگی میں کوئی غلطی پکڑی جا سکتی تھی؟ کیا وہ بددیانت تھا؟ وزیر اور ناظم دانی‌ایل کے فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت یا بددیانتی نہ پکڑ سکے۔ اُنہوں نے سوچا کہ ”‏ہم اِس دانیؔ‌ایل کو اُسکے خدا کی شریعت کے سوا کسی اَور بات میں قصوروار نہ پائینگے۔“‏ لہٰذا، اِن کینہ‌پروروں نے اُسے پھنسانے کیلئے ایک منصوبہ تیار کِیا۔ اُنکا خیال تھا کہ اِس طرح دانی‌ایل ہمیشہ کیلئے راہ سے ہٹ جائیگا۔—‏دانی‌ایل ۶:‏۴، ۵‏۔‏

ایک قاتلانہ سازش پر عمل‌درآمد

۷.‏ وزیروں اور ناظموں نے بادشاہ کے سامنے کیا تجویز پیش کی اور اُنہوں نے اِسے کس انداز میں پیش کِیا؟‏

۷ پس، وزیر اور ناظم دارا کے ”‏حضور جمع ہوئے۔“‏ اِس کے لئے ارامی اظہار میں شوروغل کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ اِس سے اِن لوگوں نے یہ ظاہر کِیا کہ وہ ایک ضروری معاملے کو دارا کی توجہ میں لانا چاہتے ہیں۔ شاید اُنہوں نے سوچا ہو کہ اگر وہ پورے وثوق کے ساتھ اپنی تجویز ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ اس پر فوری عمل ہونا چاہئے تو غالباً اُس پر اعتراض کرنے کا امکان نہیں رہے گا۔ لہٰذا، اُنہوں نے فوراً مطلب کی بات کہی:‏ ”‏مملکت کے تمام وزیروں اور حاکموں اور ناظموں اور مشیروں اور سرداروں نے باہم مشورت کی ہے کہ ایک خسروانہ آئین مقرر کریں اور ایک امتناعی فرمان جاری کریں تاکہ اَے بادشاہ تیس روز تک جو کوئی تیرے سوا کسی معبود یا آدمی سے کوئی درخواست کرے شیروں کی ماند میں ڈالدیا جائے۔“‏a‏—‏دانی‌ایل ۶:‏۶، ۷‏۔‏

۸.‏ (‏ا)‏ دارا کو مجوزہ قانون دلکش کیوں لگا؟ (‏ب)‏وزیروں اور ناظموں کا اصل مقصد کیا تھا؟‏

۸ تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ مسوپتامیہ کے بادشاہوں کی معبود کے طور پر پرستش کرنا ایک عام دستور تھا۔ پس اِس تجویز سے دارا کی یقیناً خوشامد کی گئی تھی۔ اُس نے اِس کے عملی فائدے کو بھی سمجھ لیا ہوگا۔ یاد رکھیں کہ بابل کے اندر رہنے والوں کے لئے دارا بالکل اجنبی تھا۔ اس نئے آئین سے اُسے بادشاہ کے طور پر شہرت حاصل ہوگی اور بابلیوں کو بھی نئی حکومت کے لئے وفاداری اور حمایت کا یقین دلانے کا موقع ملے گا۔ تاہم، وزیروں اور ناظموں نے بادشاہ کے مفاد کی خاطر ایسا قانون نافذ کرنے کی تجویز پیش نہیں کی تھی۔ اُن کا اصل مقصد تو دانی‌ایل کو پھنسانا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اپنے دستور کے مطابق اپنی کوٹھری کے کھلے دریچے کے سامنے دن میں تین مرتبہ اپنے خدا سے دُعا کرتا ہے۔‏

۹.‏ نیا قانون بیشتر غیریہودیوں کیلئے کوئی مسئلہ کیوں نہیں تھا؟‏

۹ کیا دُعا کے سلسلے میں یہ پابندی بابل کے تمام مذہبی گروہوں کیلئے کوئی مسئلہ پیدا کریگی؟ ہرگز نہیں، کیونکہ یہ پابندی صرف ایک ماہ کے لئے تھی۔ علاوہ‌ازیں، بہت ہی کم غیریہودی ایسے ہونگے جو وقتی طور پر کسی انسان کی پرستش کو کسی طرح کی مصالحت خیال کرینگے۔ ایک بائبل عالم بیان کرتا ہے:‏ ”‏بادشاہ کی پرستش بیشتر بُت‌پرست قوموں کے لئے کوئی عجیب تقاضا نہیں تھا؛ لہٰذا جب بابلیوں سے فاتح—‏دارا مادی—‏کی ایک معبود کے طور پر تعظیم کرنے کا تقاضا کِیا گیا تو اُنہوں نے اُسے فوری طور پر تسلیم کر لیا۔ صرف یہودیوں کو اِس تقاضے پر اعتراض تھا۔“‏

۱۰.‏ مادی اور فارسی اپنے بادشاہ کے وضع‌کردہ قانون کو کیسا خیال کرتے تھے؟‏

۱۰ تاہم، دارا بادشاہ کے پاس آنے والوں نے اُس سے اصرار کِیا کہ ”‏اِس فرمان کو قائم کر اور نوشتہ پر دستخط کر تاکہ تبدیل نہ ہو جیسے مادیوں اور فارسیوں کے آئین جو تبدیل نہیں ہوتے۔“‏ (‏دانی‌ایل ۶:‏۸‏)‏ قدیم مشرق میں بادشاہ کے حکم کو حرفِ‌آخر سمجھا جاتا تھا۔ اِس سے یہ نظریہ وجود میں آیا کہ بادشاہ خطا سے مبرا ہوتا ہے۔ حتیٰ‌کہ بیگناہوں کی موت کا سبب بننے والا قانون بھی قائم رہتا تھا!‏

۱۱.‏ دارا کے حکم سے دانی‌ایل کیسے متاثر ہوگا؟‏

۱۱ دارا نے دانی‌ایل کا خیال کئے بغیر ہی فرمان پر دستخط کر دئے۔ (‏دانی‌ایل ۶:‏۹‏)‏ ایسا کرنے سے اُس نے انجانے میں اپنے نہایت ہی قابلِ‌قدر وزیر کی موت کے پروانے پر دستخط کر دئے تھے۔ جی‌ہاں، اِس شاہی فرمان نے دانی‌ایل پر بھی اثرانداز ہونا تھا۔‏

دارا ناموافق فیصلہ سنانے پر مجبور

۱۲.‏ (‏ا)‏ جونہی دانی‌ایل کو نئے قانون کا پتہ چلا تو اُس نے کیا کِیا؟ (‏ب)‏ دانی‌ایل کو کون دیکھ رہے تھے اور کیوں؟‏

۱۲ دانی‌ایل کو دُعا پر پابندی عائد کرنے والے قانون کی جلد ہی خبر مل گئی۔ وہ فوراً اپنے گھر کی کوٹھری میں جا کر جسکا دریچہ یروشلیم کی طرف کھلا تھا ”‏حسبِ‌معمول“‏ دُعا کرنے لگا۔‏b دانی‌ایل اپنی دانست میں شاید تنہائی میں دُعا کر رہا تھا لیکن سازشی اُسے دیکھ رہے تھے۔ دفعتہً، وہ یقیناً اُسی جذباتی انداز میں ”‏جمع ہوئے“‏ جیسے وہ دارا کے پاس گئے تھے۔ اب وہ اپنی آنکھوں سے دانی‌ایل کو ”‏خدا کے حضور دُعا اور اُس کی شکرگذاری کرتا“‏ دیکھ رہے تھے۔ (‏دانی‌ایل ۶:‏۱۰، ۱۱‏)‏ وزیروں اور ناظموں کے پاس بادشاہ کے حضور دانی‌ایل پر الزام لگانے کیلئے تمام ضروری ثبوت موجود تھے۔‏

۱۳.‏ دانی‌ایل کے دشمن بادشاہ کو کیا خبر دیتے ہیں؟‏

۱۳ دانی‌ایل کے دشمنوں نے مکاری کیساتھ دارا سے پوچھا:‏ ”‏اَے بادشاہ کیا تُو نے اِس فرمان پر دستخط نہیں کئے کہ تیس روز تک جو کوئی تیرے سوا کسی معبود یا آدمی سے کوئی درخواست کرے شیروں کی ماند میں ڈالدیا جائیگا؟“‏ دارا نے جواب دیا:‏ ”‏مادیوں اور فارسیوں کے لاتبدیل آئین کے مطابق یہ بات سچ ہے۔“‏ اب سازشی فوری طور پر مطلب کی بات کہتے ہیں۔ ”‏اَے بادشاہ یہ دانیؔ‌ایل جو یہوؔداہ کے اسیروں میں سے ہے نہ تیری پروا کرتا ہے اور نہ اُس امتناعی فرمان کو جس پر تُو نے دستخط کئے ہیں خاطر میں لاتا ہے بلکہ ہر روز تین بار دُعا کرتا ہے۔“‏—‏دانی‌ایل ۶:‏۱۲، ۱۳‏۔‏

۱۴.‏ بدیہی طور پر، وزیروں اور ناظموں نے دانی‌ایل کو ”‏یہوؔداہ کے اسیروں میں سے“‏ ایک کے طور پر ظاہر کیوں کِیا؟‏

۱۴ وزیروں اور ناظموں کا دانی‌ایل کو ”‏یہوؔداہ کے اسیروں میں سے“‏ ایک کے طور پر ظاہر کرنا غورطلب بات ہے۔ بدیہی طور پر، وہ اِس بات کو نمایاں کرنا چاہتے تھے کہ دانی‌ایل جسے دارا نے اتنی فضیلت عطا کر رکھی ہے وہ محض ایک یہودی غلام ہے۔ اُن کے خیال میں بادشاہ خواہ اُسے کتنا ہی پسند کیوں نہ کرے ایک غلام کے طور پر قانون کی پاسداری کرنا اُس کا فرض ہے!‏

۱۵.‏ (‏ا)‏ دارا پر وزیروں اور ناظموں کی خبر کا کیا اثر ہوا؟ (‏ب)‏وزیروں اور ناظموں نے دانی‌ایل کیلئے مزید حقارت‌آمیز رویہ کیسے دکھایا؟‏

۱۵ وزیر اور ناظم بادشاہ سے شاید اس خبر کے بدلے انعام‌واکرام کی توقع رکھتے تھے۔ تاہم، اُنہیں بڑی حیرانی ہوئی۔ دارا یہ خبر سنکر بہت پریشان ہو گیا۔ دانی‌ایل پر غضبناک ہونے یا اُسے فوری طور پر شیروں کی ماند میں ڈلوانے کی بجائے، دارا سارا دن اُسے بچانے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن اُس کی کوششیں رائیگاں گئیں۔ سازشی پھر بادشاہ کے حضور آئے اور گستاخانہ رویہ دکھاتے ہوئے دانی‌ایل کی موت کا تقاضا کرنے لگے۔—‏دانی‌ایل ۶:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

۱۶.‏ (‏ا)‏ دارا بادشاہ دانی‌ایل کے خدا کا احترام کیوں کرتا تھا؟ (‏ب)‏دارا کو دانی‌ایل کے سلسلے میں کیا اُمید تھی؟‏

۱۶ دارا نے محسوس کر لیا تھا کہ اب وہ کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ نہ تو قانون بدلا جا سکتا تھا اور نہ ہی دانی‌ایل کی ”‏خطا“‏ بخشی جا سکتی تھی۔ دارا نے دانی‌ایل سے صرف اتنا کہا تھا کہ ”‏تیرا خدا جسکی تُو ہمیشہ عبادت کرتا ہے تجھے چھڑائیگا۔“‏ دارا کی اِس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دانی‌ایل کے خدا کا احترام کرتا تھا۔ یہوواہ ہی نے دانی‌ایل کو سقوطِ‌بابل کی پیشینگوئی کرنے کی صلاحیت بخشی تھی۔ خدا نے دانی‌ایل کو ”‏فاضل روح“‏ بھی بخش رکھی تھی جسکی بدولت اُسے دوسرے وزیروں پر سبقت حاصل تھی۔ شاید دارا کو یہ بھی علم تھا کہ کئی عشرے پہلے اِسی خدا نے تین عبرانی جوانوں کو آگ کی بھٹی سے بچایا تھا۔ غالباً، بادشاہ کو اُمید تھی کہ اب یہوواہ ہی دانی‌ایل کو بچائیگا کیونکہ دارا اس قانون پر دستخط کر دینے کے بعد اُسے بدل نہیں سکتا تھا۔ لہٰذا، دانی‌ایل کو شیروں کی ماند میں ڈال دیا گیا۔‏c اِسکے بعد، ”‏ایک پتھر لاکر اُس ماند کے مُنہ پر رکھ دیا گیا اور بادشاہ نے اپنی اور اپنے امیروں کی مہر اُس پر کر دی تاکہ وہ بات جو دانیؔ‌ایل کے حق میں ٹھہرائی گئی تھی تبدیل نہ ہو۔“‏—‏دانی‌ایل ۶:‏۱۶، ۱۷‏۔‏

ایک ڈرامائی تبدیلی

۱۷، ۱۸.‏ (‏ا)‏ دارا بادشاہ کی دانی‌ایل کے سلسلے میں فکرمندی کس بات سے ظاہر ہوتی ہے؟ (‏ب)‏ جب اگلی صبح بادشاہ شیروں کی ماند کے پاس آیا تو کیا واقع ہوا؟‏

۱۷ دارا غمزدہ ہو کر اپنے محل میں چلا گیا۔ اُسکی اُداسی کے پیشِ‌نظر کسی موسیقار کو اُس کے سامنے جانے کی اجازت نہ دی گئی۔ دارا فاقے کی حالت میں ساری رات جاگتا رہا۔ ”‏اُس کی نیند جاتی رہی۔“‏ پس، دارا صبح‌سویرے اُٹھ کر جلدی سے شیروں کی ماند کی طرف گیا۔ اُس نے غمناک آواز سے پکارا:‏ ”‏اَے دانیؔ‌ایل زندہ خدا کے بندے کیا تیرا خدا جس کی تُو ہمیشہ عبادت کرتا ہے قادر ہوا کہ تجھے شیروں سے چھڑائے؟“‏ (‏دانی‌ایل ۶:‏۱۸-‏۲۰‏)‏ جب اندر سے جواب آیا تو اُسکی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی!‏

۱۸ ”‏اَے بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔“‏ اِس دُعائے‌خیر سے دانی‌ایل نے یہ ظاہر کِیا کہ اُس کے دل میں بادشاہ کیلئے کوئی آزردگی نہیں تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ اُسکی ایذارسانی کا اصل سبب دارا کی بجائے حاسد وزیر اور ناظم تھے۔ (‏مقابلہ کریں متی ۵:‏۴۴؛‏ اعمال ۷:‏۶۰‏۔)‏ دانی‌ایل نے مزید کہا:‏ ”‏میرے خدا نے اپنے فرشتہ کو بھیجا اور شیروں کے مُنہ بند کر دئے اور اُنہوں نے مجھے ضرر نہیں پہنچایا کیونکہ مَیں اُسکے حضور بے‌گناہ ثابت ہوا اور تیرے حضور بھی اَے بادشاہ مَیں نے خطا نہیں کی۔“‏—‏دانی‌ایل ۶:‏۲۱، ۲۲‏۔‏

۱۹.‏ دارا کے وزیروں اور ناظموں نے اُسے کیسے دھوکا دیکر بیوقوف بنایا تھا؟‏

۱۹ اس بات نے دارا کے ضمیر کو کسقدر جھنجھوڑ دیا ہوگا!‏ وہ شروع ہی سے جانتا تھا کہ دانی‌ایل نے ایسا کوئی کام نہیں کِیا جسکی وجہ سے اُسے شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے۔ دارا اِس بات سے بخوبی واقف تھا کہ اُسکے وزیروں اور ناظموں نے دانی‌ایل کو موت کے گھاٹ اُتارنے کے لئے یہ سازش کی تھی اور اپنے گھناؤنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اُنہوں نے بادشاہ کو بیوقوف بنایا تھا۔ ”‏مملکت کے تمام وزیروں“‏ کا نام لیکر ایک قانون وضع کرنے کی سفارش سے اُنہوں نے یہ دلالت کی تھی کہ اِس معاملے میں اُنہیں دانی‌ایل کا اعتماد بھی حاصل ہے۔ دارا اِن فریبیوں سے بعد میں نپٹے گا۔ بہرحال، اُس نے پہلے دانی‌ایل کو شیروں کی ماند سے باہر نکالنے کا حکم دیا۔ دانی‌ایل کو معجزانہ طور پر، کوئی خراش بھی نہیں آئی تھی!‏—‏دانی‌ایل ۶:‏۲۳‏۔‏

۲۰.‏ دانی‌ایل کے کینہ‌پرور دشمنوں کا کیا انجام ہوا؟‏

۲۰ اب دانی‌ایل تو بچ گیا تھا مگر دارا کو اَور بہت کچھ کرنا تھا۔ ”‏بادشاہ نے حکم دیا اور وہ اُن شخصوں کو جنہوں نے دانیؔ‌ایل کی شکایت کی تھی لائے اور اُنکے بچوں اور بیویوں سمیت اُنکو شیروں کی ماند میں ڈالدیا اور شیر اُن پر غالب آئے اور اِس سے پیشتر کہ ماند کی تہ تک پہنچیں شیروں نے اُنکی سب ہڈیاں توڑ ڈالیں۔“‏d‏—‏دانی‌ایل ۶:‏۲۴‏۔‏

۲۱.‏ خطاکاروں کے خاندانوں کیساتھ برتاؤ کے سلسلے میں موسوی شریعت اور بعض قدیم ثقافتوں میں کیا اختلاف پایا جاتا ہے؟‏

۲۱ سازشیوں کے ساتھ اُن کے بیوی بچوں کو بھی ہلاک کروا دینا شاید غیرمعقول دکھائی دے۔ اِس کے برعکس، موسیٰ نبی کی معرفت دی گئی شریعت بیان کرتی ہے:‏ ”‏بیٹوں کے بدلے باپ مارے نہ جائیں نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں۔ ہر ایک اپنے ہی گناہ کے سبب سے مارا جائے۔“‏ (‏استثنا ۲۴:‏۱۶)‏ تاہم، بعض قدیمی ثقافتوں میں، سنگین جُرم کی سزا میں خطاکار کے ساتھ ساتھ اُسکے اہلِ‌خانہ کو ہلاک کر دینا کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔ شاید اِسکی وجہ یہ تھی کہ بعدازاں اسکے اہلِ‌خانہ انتقام نہ لے سکیں۔ تاہم، وزیروں اور ناظموں کے خاندانوں کے خلاف کی جانے والی اِس کارروائی میں دانی‌ایل کا ہاتھ نہیں تھا۔ غالباً، وہ اِس بات سے افسردہ تھا کہ ان شریر آدمیوں کے باعث اُنکے خاندانوں پر ایسی بڑی مصیبت آئی ہے۔‏

۲۲.‏ دارا کونسا نیا حکم جاری کرتا ہے؟‏

۲۲ سازشی وزیروں اور ناظموں کا قلع‌قمع ہو گیا تھا۔ اِس کے بعد دارا نے یہ اعلان کِیا:‏ ”‏مَیں یہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ میری مملکت کے ہر ایک صوبہ کے لوگ دانیؔ‌ایل کے خدا کے حضور ترسان‌ولرزان ہوں کیونکہ وہی زندہ خدا ہے اور ہمیشہ قائم ہے اور اُس کی سلطنت لازوال ہے اور اُسکی مملکت ابد تک رہیگی۔ وہی چھڑاتا اور بچاتا ہے اور آسمان اور زمین میں وہی نشان اور عجائب دکھاتا ہے۔ اُسی نے دانیؔ‌ایل کو شیروں کے پنجوں سے چھڑایا ہے۔“‏—‏دانی‌ایل ۶:‏۲۵-‏۲۷‏۔‏

ہمیشہ خدا کی خدمت کرتے رہیں

۲۳.‏ دانی‌ایل نے اپنے دُنیاوی کام کے سلسلے میں کیا نمونہ قائم کِیا اور ہم اُسکی مانند کیسے بن سکتے ہیں؟‏

۲۳ دانی‌ایل نے زمانۂ‌جدید کے تمام خادموں کیلئے ایک عمدہ نمونہ قائم کِیا۔ اُسکا چال‌چلن ہمیشہ بیداغ رہا۔ اپنے دُنیاوی کام کے سلسلے میں دانی‌ایل ”‏دیانتدار تھا اور اُس میں کوئی خطا یا تقصیر نہ تھی۔“‏ (‏دانی‌ایل ۶:‏۴‏)‏ اِسی طرح ہر مسیحی کو محنت سے کام کرنا چاہئے۔ اِس کا مطلب ہے کہ اپنے مالی مفاد اور ترقی کی خاطر دوسروں کا حق نہیں مارنا چاہئے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۰‏)‏ صحائف ایک مسیحی سے اپنی دُنیاوی ذمہ‌داریاں بالکل ایسے دیانتداری اور پورے دل‌وجان سے پورا کرنے کا تقاضا کرتے ہیں جیسے‌کہ وہ یہ سب کچھ ’‏یہوواہ کیلئے کر رہا ہے۔‘‏—‏کلسیوں ۳:‏۲۲، ۲۳؛‏ ططس ۲:‏۷، ۸؛‏ عبرانیوں ۱۳:‏۱۸‏۔‏

۲۴.‏ دانی‌ایل نے پرستش کے معاملے میں غیرمصالحانہ رویہ کیسے ظاہر کِیا؟‏

۲۴ دانی‌ایل نے اپنی پرستش کے سلسلے میں مصالحت نہیں کی تھی۔ سب یہ جانتے تھے کہ دُعا کرنا اُس کا دستور ہے۔ علاوہ‌ازیں، وزیر اور ناظم خوب جانتے تھے کہ دانی‌ایل پرستش کے معاملے میں بڑا سنجیدہ ہے۔ اُنہیں یہ یقین تھا کہ وہ امتناعی حکم کے باوجود اپنے معمول سے نہیں ہٹے گا۔ آجکل کے مسیحیوں کے لئے کیا ہی شاندار نمونہ!‏ وہ بھی خدا کی پرستش کو پہلا درجہ دینے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ (‏متی ۶:‏۳۳‏)‏ یہ بات دوسروں کے لئے نمایاں ہونی بھی چاہئے کیونکہ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو یہ حکم دیا تھا:‏ ”‏تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھکر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں۔“‏—‏متی ۵:‏۱۶‏۔‏

۲۵، ۲۶.‏ (‏ا)‏ بعض دانی‌ایل کی روش سے کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟ (‏ب)‏دانی‌ایل نے اپنے معمول میں تبدیلی کو مصالحت کے برابر کیوں خیال کِیا؟‏

۲۵ بعض لوگ شاید کہیں کہ دانی‌ایل ۳۰ دن تک پوشیدگی میں یہوواہ سے دُعا کرکے اذیت سے بچ سکتا تھا۔ بہرحال، خدا کی شنوائی حاصل کرنے کیلئے کوئی خاص حالت یا ماحول ضروری نہیں ہے۔ خدا تو دل کے خیالوں کو بھی سمجھ سکتا ہے۔ (‏زبور ۱۹:‏۱۴‏)‏ تاہم، دانی‌ایل اپنے معمول میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کو مصالحت کرنے کے برابر خیال کرتا تھا۔ کیوں؟‏

۲۶ سب لوگ دُعا کرنے کے سلسلے میں دانی‌ایل کے دستور سے واقف تھے اسلئے اگر وہ اچانک دُعا کرنا بند کر دیتا تو اِس سے کیا نتیجہ اخذ کِیا جا سکتا تھا؟ مشاہدین اس نتیجے پر پہنچ سکتے تھے کہ دانی‌ایل انسان سے خوفزدہ ہو گیا ہے اور بادشاہ کا فرمان یہوواہ کے آئین پر سبقت رکھتا ہے۔ (‏زبور ۱۱۸:‏۶‏)‏ تاہم، دانی‌ایل نے اپنے کاموں سے یہوواہ کیلئے بِلاشرکتِ‌غیرے عقیدت کا مظاہرہ کِیا۔ (‏استثنا ۶:‏۱۴، ۱۵؛‏ یسعیاہ ۴۲:‏۸‏)‏ بِلاشُبہ، اس کیلئے دانی‌ایل نے بادشاہ کے آئین کی اہانت نہیں کی تھی۔ تاہم، اُس نے مصالحت کر لینے سے خوفزدہ ہونے کا مظاہرہ بھی نہیں کِیا تھا۔ دانی‌ایل بادشاہ کے امتناعی فرمان سے پہلے کی طرح ”‏حسبِ‌معمول“‏ اپنے گھر کی کوٹھری میں دُعا کرتا رہا۔‏

۲۷.‏ آجکل خدا کے خادم دانی‌ایل کے نمونے کی نقل کیسے کر سکتے ہیں (‏ا)‏اعلےٰ حکومتوں کی تابعداری کرنے میں؟ (‏ب)‏آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم زیادہ ماننے میں؟ (‏پ)‏سب کیساتھ اَمن سے رہنے میں؟‏

۲۷ آجکل خدا کے خادم دانی‌ایل کے نمونے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ وہ ”‏اعلےٰ حکومتوں کا تابعدار“‏ رہتے ہوئے اپنے ملک کے آئین کی پابندی کرتے ہیں۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۱‏)‏ تاہم، جب انسانی قوانین خدا کے قوانین کے ساتھ ٹکراتے ہیں تو یہوواہ کے لوگ یسوع کے رسولوں جیسا مؤقف اختیار کرتے ہیں جنہوں نے دلیری کے ساتھ کہا تھا:‏ ”‏ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“‏ (‏اعمال ۵:‏۲۹‏)‏ ایسا کرنے سے مسیحی کسی طرح کی سرکشی یا بغاوت کو ہوا نہیں دیتے۔ اِس کے برعکس، وہ سب کیساتھ اَمن سے رہنا چاہتے ہیں تاکہ ”‏کمال دینداری اور سنجیدگی سے امن‌وآرام کے ساتھ زندگی گذاریں۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۱، ۲؛‏ رومیوں ۱۲:‏۱۸‏۔‏

۲۸.‏ دانی‌ایل نے ”‏ہمیشہ“‏ کیسے یہوواہ کی خدمت کی؟‏

۲۸ دارا نے دو مرتبہ بیان کِیا کہ دانی‌ایل ”‏ہمیشہ“‏ خدا کی خدمت کرتا ہے۔ (‏دانی‌ایل ۶:‏۱۶،‏ ۲۰‏)‏ جس ارامی لفظ کا ترجمہ ”‏ہمیشہ“‏ کِیا گیا ہے اسکا مطلب ”‏گول دائرے میں گھومنا“‏ ہے۔ یہ ایک مسلسل یا دائمی کارگزاری کا خیال پیش کرتا ہے۔ دانی‌ایل کی وفاداری ایسی ہی تھی۔ اُس کی روش قطعی تھی۔ اِس کی بابت کسی شک‌وشُبے کی گنجائش نہیں تھی کہ دانی‌ایل مختلف نوعیت کی آزمائشوں میں کیا کریگا۔ وہ یہوواہ کیلئے وفاداری اور راستبازی کی روش پر چلتا رہیگا جس پر وہ عشروں سے چلتا آیا ہے۔‏

۲۹.‏ آجکل یہوواہ کے خادم دانی‌ایل کی وفادارانہ روش سے کیسے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟‏

۲۹ خدا کے زمانۂ‌جدید کے خادم بھی دانی‌ایل کی روش پر چلنا چاہتے ہیں۔ بیشک، پولس رسول نے تمام مسیحیوں کو زمانۂ‌قدیم کے خداترس آدمیوں کے نمونے پر غور کرنے کی نصیحت کی تھی۔ اُنہوں نے ایمان ہی کے سبب سے ”‏راستبازی کے کام کئے۔ وعدہ کی ہوئی چیزوں کو حاصل کِیا۔ شیروں کے مُنہ بند کئے“‏ جو بدیہی طور پر دانی‌ایل ہی کی طرف اشارہ ہے۔ خدا کے جدید خادموں کے طور پر، ہمیں بھی دانی‌ایل جیسے ایمان اور استقلال کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ ”‏اُس دوڑ میں صبر سے دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔“‏—‏عبرانیوں ۱۱:‏۳۲، ۳۳؛‏ ۱۲:‏۱‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بابل میں ”‏شیروں کی ماند“‏ کی موجودگی کی حمایت قدیمی کتبوں کی اِس شہادت سے ہوتی ہے کہ مشرقی ممالک کے بادشاہ خونخوار جانور پالنے کیلئے مخصوص جگہیں بنایا کرتے تھے۔‏

b کوٹھری سے مُراد چھت کے اُوپر ایک ذاتی کمرہ ہے جو بالکل علیٰحدگی اور تنہائی میں آرام کرنے کیلئے بنایا جاتا تھا۔‏

c شیروں کی ماند غالباً ایسا زمین‌دوز کمرہ تھا جسکا مُنہ اُوپر کی طرف کھلتا تھا۔ اسکے اَور دروازے یا جنگلے بھی تھے جنہیں اُوپر اُٹھا دینے سے جانور اس کمرے میں داخل ہو جاتے تھے۔‏

d جس ارامی لفظ کا ترجمہ ”‏شکایت“‏ کِیا گیا ہے اُس سے مُراد ”‏تہمت“‏ بھی ہے۔ اِس سے دانی‌ایل کے دشمنوں کا کینہ‌پرور مقصد نمایاں ہو جاتا ہے۔‏

آپ کیا سمجھے ہیں؟‏

‏•دارا مادی نے دانی‌ایل کو اعلیٰ مرتبہ دینے کا فیصلہ کیوں کِیا تھا؟‏

‏•وزیروں اور ناظموں نے کونسی پُرفریب سازش گھڑی؟ یہوواہ نے دانی‌ایل کو کیسے بچایا؟‏

‏•آپ نے دانی‌ایل کے وفادارانہ نمونے پر توجہ دینے سے کیا سیکھا ہے؟‏

‏[‏صفحہ ۱۱۴ پر صرف تصویر ہے]‏

‏[‏صفحہ ۱۲۱ پر صرف تصویر ہے]‏

‏[‏صفحہ ۱۲۷ پر تصویر]‏

دانی‌ایل نے ”‏ہمیشہ“‏ یہوواہ کی خدمت کی۔ کیا آپ بھی ایسا کرتے ہیں؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں