ساتواں باب
چار لفظوں نے دُنیا ہی بدل دی
۱. بہت عرصہ پہلے دیوار پر لکھے جانے والے چار لفظوں کا اثر کتنا دُوررَس تھا؟
ایک گچدار دیوار پر چار سادہ سے لفظ لکھے ہیں۔ تاہم، ان چار لفظوں نے ایک طاقتور حکمران کو خوفزدہ اور حواسباختہ کر دیا تھا۔ اِن لفظوں نے دو بادشاہوں کی معزولی کے علاوہ، اِن میں سے ایک کی موت اور ایک عالمی طاقت کے خاتمے کا پیغام دیا۔ یہ لفظ ایک مکرم مذہبی نظام کی تذلیل کا موجب بھی بنے۔ سب سے بڑھکر، اِن لفظوں نے ایک ایسے وقت میں یہوواہ کی سچی پرستش کی بڑائی اور اُسکی حاکمیت کی تصدیق کی جب بیشتر لوگوں کو اِنکی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اِن لفظوں نے تو موجودہ عالمی واقعات پر بھی روشنی ڈالی تھی! لیکن صرف چار لفظ یہ سب کچھ کیسے کر سکتے تھے؟ آئیے دیکھیں۔
۲. (ا)نبوکدنضر کی وفات کے بعد بابل میں کیا واقع ہوا؟ (ب)اب کونسا حکمران برسرِاقتدار تھا؟
۲ دانیایل کی کتاب کے چوتھے باب میں متذکرہ واقعات کو کئی عشرے بیت چکے ہیں۔ متکبر بادشاہ نبوکدنضر کی بابل پر ۴۳ سالہ حکمرانی بھی ۵۸۲ ق.س.ع. میں اُس کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ نبوکدنضر کے بعد اُس کے خاندان سے کئی حکمران آئے لیکن غیرطبعی موت یا قتل کر دئے جانے سے ان کی حکومتیں یکےبعددیگرے ختم ہوتی گئیں۔ بالآخر، نبوندیس نامی شخص بغاوت کے ذریعے تخت پر قابض ہو گیا۔ نبوندیس کا شاہی خاندان کے ساتھ بظاہر کوئی خونی رشتہ نہیں تھا کیونکہ وہ چاند دیوتا سِن کی بڑی پجارن کا بیٹا تھا۔ تاہم، بعض علما کا خیال ہے کہ اُس نے اپنی حکمرانی کے قانونی تحفظ کی غرض سے نبوکدنضر کی بیٹی سے شادی کی اور اپنے بیٹے بیلشضر کو اپنا ساتھی بادشاہ بنانے کے بعد کئی سال کیلئے بابل کی کارپردازی اُسے سونپ دی۔ اسطرح، بیلشضر نبوکدنضر کا نواسا تھا۔ کیا اُس نے اپنے نانا کے تجربات سے یہ سبق سیکھا لیا تھا کہ یہوواہ ہی خدائےبزرگوبرتر ہے جو کسی بھی بادشاہ کو ذلیل کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!—دانیایل ۴:۳۷۔
ایک بےقابو ضیافت
۳. بیلشضر کی ضیافت کیسی تھی؟
۳ دانیایل کی کتاب کے پانچویں باب کے شروع میں ایک ضیافت کا ذکر ملتا ہے۔ ”بیلشضرؔ بادشاہ نے اپنے ایک ہزار اُمرا کی بڑی دھومدھام سے ضیافت کی اور اُن کے سامنے مےنوشی کی۔“ (دانیایل ۵:۱) آپ تصور کر سکتے ہیں کہ بادشاہ کی بیویوں اور حرموں سمیت اتنے زیادہ لوگوں کی نشستوبرخاست کیلئے ایک وسیعوعریض کمرے کی ضرورت ہوگی۔ ایک عالم کے مطابق: ”بابلیوں کی ضیافتیں بڑی عالیشان ہوتی تھیں اور ان میں اکثر بلانوشی کی جاتی تھی۔ دسترخوان پر درآمدشُدہ مے اور دیگر نفیس کھانے چنے جاتے تھے۔ ضیافتخانے عطریات سے مہک رہے ہوتے تھے اور گویے اور سازندے حاضرین کو دلکش موسیقی سے محظوظ کرتے تھے۔“ بیلشضر صدارتی نشست پر بیٹھ کر سب کے سامنے جامپرجام نوش کر رہا تھا۔
۴. (ا)اکتوبر ۵/۶، ۵۳۹ ق.س.ع. کی درمیانی شب کو بابلیوں کا ضیافت سے مزے اُڑانا عجیب کیوں لگتا ہے؟ (ب)بابلی بظاہر حملہآور فوجوں کے محاصرے کے باوجود کیوں پُراعتماد تھے؟
۴ یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اکتوبر ۵/۶، ۵۳۹ ق.س.ع. کی درمیانی شب کو بابلی ایسی رنگرلیوں میں مگن تھے جبکہ اُن کا ملک جنگ لڑ رہا تھا اور اُنہیں ناموافق حالات کا سامنا تھا۔ کچھ ہی عرصہ پہلے نبوندیس حملہآور مادیفارسیوں کے لشکروں سے شکست کے بعد بابل کے جنوبمغرب میں بورسیپا میں پناہ لے چکا تھا اور اب بابل بھی خورس کی فوجوں کے محاصرے میں تھا۔ اِسکے باوجود، ایسا لگتا ہے کہ بیلشضر اور اسکے اُمرا خوفزدہ نہیں تھے۔ اُنکے خیال میں تو اُنکا شہر، بابل ناقابلِتسخیر تھا! اِسکی ضخیم اور شاندار فصیلوں کے گِرد گہری خندقیں کھودی گئی تھیں جو شہر سے گزرنے والے دریائےفرات کے پانی سے لبریز رہتی تھیں۔ ایک سو سال سے کسی بھی دشمن فوج نے اِس پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ لہٰذا، خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت تھی؟ شاید بیلشضر نے یہ سوچا تھا کہ اُنکے جشن کی موجمستی کا شور اُنکا محاصرہ کرنے والے دشمنوں پر اُنکی دھاک بیٹھا دیگا اور یوں اُنکے حوصلے پست ہو جائینگے۔
۵، ۶. بیلشضر نے مے کے نشے میں کیا کِیا اور یہ یہوواہ کی تحقیر کیوں تھی؟
۵ بےتحاشا شرابنوشی نے بیلشضر پر فوری اثر کِیا۔ جیسےکہ امثال ۲۰:۱ بیان کرتی ہے ”مے مسخرہ . . . کرنے والی ہے۔“ بادشاہ نے مے کے نشے میں بڑی سنگین حماقت کی۔ اُس نے حکم دیا کہ یہوواہ کی ہیکل کے مُقدس ظروف ضیافت میں لائے جائیں۔ نبوکدنضر یروشلیم کی فتح کے بعد اِن ظروف کو مالِغنیمت کے طور پر لے آیا تھا لیکن انہیں صرف سچی پرستش کیلئے ہی استعمال کِیا جا سکتا تھا۔ ماضی میں جن یہودی کاہنوں کو یروشلیم کی ہیکل میں یہ ظروف استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی اُنہیں بھی طہارت کے سلسلے میں مخصوص ہدایات کی پابندی کرنا پڑتی تھی۔—دانیایل ۵:۲؛ مقابلہ کریں یسعیاہ ۵۲:۱۱۔
۶ تاہم، بیلشضر کے ذہن میں ابھی ایک اَور خباثت بھی سمائی ہوئی تھی۔ ”بادشاہ اور اُس کے اُمرا اور اُس کی بیویوں اور حرموں نے . . . مے پی اور سونے اور چاندی اور پیتل اور لوہے اور لکڑی اور پتھر کے بُتوں کی حمد کی۔“ (دانیایل ۵:۳، ۴) یوں، بیلشضر اپنے جھوٹے معبودوں کو یہوواہ پر فوقیت دینا چاہتا تھا! بظاہر ایسا میلان، بابلیوں کا خاصہ تھا۔ اُنہوں نے اپنے یہودی اسیروں کے ساتھ حقارتآمیز سلوک کِیا، اُن کی پرستش کا تمسخر اُڑایا اور اُن کے لئے اپنے پیارے وطن لوٹ جانے کی کوئی اُمید باقی نہ چھوڑی۔ (زبور ۱۳۷:۱-۳؛ یسعیاہ ۱۴:۱۶، ۱۷) اِس مدہوش شہنشاہ نے شاید یہ سوچا ہوگا کہ اِن اسیروں کی تذلیل اور اُن کے خدا کی تحقیر کرنے سے اُس کے اُمرا اور اُس کی بیویوں پر اُس کا رُعبودبدبہ چھا جائے گا۔a تاہم، اُس کی طاقت کا یہ نشہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
نوشتۂدیوار
۷، ۸. بیلشضر کی ضیافت میں کیسے ہلچل مچ گئی اور اِسکا بادشاہ پر کیا اثر ہوا؟
۷ اِس واقعہ کی بابت الہامی سرگزشت بیان کرتی ہے: ”اُسی وقت آدمی کے ہاتھ کی انگلیاں ظاہر ہوئیں اور اُنہوں نے شمعدان کے مقابل بادشاہی محل کی دیوار کے گچ پر لکھا اور بادشاہ نے ہاتھ کا وہ حصہ جو لکھتا تھا دیکھا۔“ (دانیایل ۵:۵) کیا ہی خوفناک منظر! ایک ہاتھ ہوا میں لہراتا ہوا دیوار کے روشن حصے پر نمودار ہوا۔ اِس منظر کو دیکھکر تمام حاضرین پر چھا جانے والی خاموشی کا ذرا تصور کریں۔ اُس ہاتھ نے محل کی دیوار کے گچ پر ایک پُراسرار پیغام لکھنا شروع کِیا۔b یہ عجیبوغریب واقعہ اتنا خوفناک اور ناقابلِفراموش تھا کہ لوگ آج بھی کسی قریبالوقوع تباہی سے آگاہ کرنے کے لئے ”نوشتۂدیوار“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
۸ خود کو اور اپنے معبودوں کو یہوواہ سے برتر ثابت کرنے کے متمنی متکبر بادشاہ پر اِس واقعہ کا کیا اثر ہوا؟ ”تب بادشاہ کے چہرہ کا رنگ اُڑ گیا اور اُس کے خیالات اُسکو پریشان کرنے لگے یہاں تک کے اُسکی کمر کے جوڑ ڈھیلے ہو گئے اور اُسکے گھٹنے ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔“ (دانیایل ۵:۶) بیلشضر اپنی رعایا کے سامنے خود کو ممتاز اور رُعبدار ثابت کرنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ خوفوہراس کی جیتیجاگتی تصویر بن کر رہ گیا—اُسکے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا، اُسکی کمر کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے، اُسکا پورا بدن اتنی شدت سے کانپ رہا تھا کہ اُس کے گھٹنے آپس میں ٹکرا رہے تھے۔ واقعی، یہوواہ کی بابت داؤد کے گیت کے یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے تھے: ”تیری آنکھیں مغروروں پر لگی ہیں تاکہ تُو اُنہیں نیچا کرے۔“—۲-سموئیل ۲۲:۱، ۲۸؛ مقابلہ کریں امثال ۱۸:۱۲۔
۹. (ا)بیلشضر کا خوف خدائی خوف کیوں نہیں تھا؟ (ب) بادشاہ نے بابل کے حکیموں کو کیا پیشکش کی تھی؟
۹ قابلِغور بات یہ ہے کہ بیلشضر کا خوف خدائی خوف یعنی یہوواہ کے لئے گہرا احترام نہیں تھا جوکہ حکمت کا شروع ہے۔ (امثال ۹:۱۰) اِس کی بجائے، یہ غیرصحتمندانہ خوف تھا جس نے اِس لرزاں شہنشاہ کے اندر کوئی حکمت پیدا نہیں کی تھی۔c اُس نے تھوڑی دیر پہلے خدا کی اہانت کرنے کی وجہ سے اُس سے معافی مانگنے کی بجائے، ”نجومیوں اور کسدیوں اور فالگیروں کو حاضر“ کرنے کے لئے شور مچانا شروع کر دیا۔ اُس نے یہ بھی اعلان کِیا: ”جو کوئی اِس نوشتہ کو پڑھے اور اِسکا مطلب مجھ سے بیان کرے ارغوانی خلعت پائے گا اور اُس کی گردن میں زرین طوق پہنایا جائیگا اور وہ مملکت میں تیسرے درجہ کا حاکم ہوگا۔“ (دانیایل ۵:۷) مملکت میں تیسرے درجے کا حاکم بھی یقیناً بااختیار ہوگا کیونکہ اُسکے اُوپر صرف دو حکمران یعنی نبوندیس اور بیلشضر ہی ہونگے۔ دستور کے مطابق بیلشضر کا بڑا بیٹا ہی اس مرتبے کا مستحق ہو سکتا تھا۔ لیکن بادشاہ اِس معجزاتی پیغام کی وضاحت سننے کے لئے اتنا بیتاب تھا کہ وہ یہ مرتبہ کسی اَور کو دینے کے لئے بھی تیار تھا!
۱۰. نوشتۂدیوار کی تعبیر بیان کرنے کے سلسلے میں حکیموں کی کوششوں کا کیا انجام ہوا؟
۱۰ تمام حکیم قطاردرقطار وسیعوعریض ضیافتخانے میں داخل ہوتے ہیں۔ بابل میں حکیموں کی کوئی کمی نہیں تھی کیونکہ یہ شہر جھوٹے مذہب اور مندروں کا گڑھ تھا۔ یقیناً، شگون نکالنے اور پُراسرار تحریریں پڑھنے کا دعویٰ کرنے والے بھی بہت تھے۔ بادشاہ کا اعلان سنکر اِن حکیموں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہوگی۔ اب اُنکے پاس اُمرا کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے بادشاہ کی خوشنودی اور اعلیٰ اختیار حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا۔ لیکن اُنہیں سراسر ناکامی ہوئی! ”بادشاہ کے تمام حکیم . . . نہ اُس نوشتہ کو پڑھ سکے اور نہ بادشاہ سے اس کا مطلب بیان کر سکے۔“d—دانیایل ۵:۸۔
۱۱. بابل کے حکیم نوشتے کو کیوں نہیں پڑھ سکے تھے؟
۱۱ یہ کہنا مشکل ہے کہ بابل کے حکیم اس عبارت کو غیرواضح ہونے کی وجہ سے نہیں پڑھ سکے تھے۔ اگر ایسا ہوتا بھی تو یہ عیار آدمی کوئی بھی گمراہکُن یا خوشامدی تعبیر گھڑ سکتے تھے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ حروف بالکل واضح تھے لیکن ارامی اور عبرانی جیسی زبانوں میں حروفِعلت نہ ہونے کے باعث ایک ہی لفظ کے کئی معنی ہو سکتے تھے۔ ایسی صورت میں حکیم غالباً لفظوں کا تعیّن کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔ اگر وہ ایسا کر بھی لیتے تو لفظوں کا مطلب نہ سمجھ پانے کی وجہ سے اُن کی تعبیر بیان نہیں کر سکتے تھے۔ بہرصورت، ایک بات یقینی ہے کہ بابلی حکیم بُری طرح ناکام ہو گئے تھے!
۱۲. حکیموں کی ناکامی نے کیا ثابت کر دیا؟
۱۲ پس یہ حکیم اور اُن کا مکرم مذہبی نظام ایک ڈھونگ ثابت ہوئے۔ ان سب نے مایوس کر دیا تھا! جب بیلشضر کا اِن مذہبی لوگوں سے بھروسا اُٹھ گیا تو وہ اَور بھی خوفزدہ ہو گیا، اُس کا رنگ اَور بھی پیلا پڑ گیا اور اُسکے اُمرا بھی ”پریشان“ ہو گئے۔e—دانیایل ۵:۹۔
ایک صاحبِبصیرت شخص کو بلایا جاتا ہے
۱۳. (ا)ملکہ نے دانیایل کو بلوانے کا مشورہ کیوں دیا؟ (ب) دانیایل کیسی زندگی بسر کر رہا تھا؟
۱۳ اِس نازک موقع پر ملکہ—غالباً مادر ملکہ—جشنگاہ میں آتی ہے۔ اُس نے ضیافت میں برپا ہونے والا شور سن لیا تھا اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ کون نوشتۂدیوار پڑھ سکتا ہے۔ اُس کے والد نبوکدنضر نے کئی عشرے پہلے دانیایل کو اپنے تمام حکیموں پر سردار مقرر کِیا تھا۔ دانیایل کے سلسلے میں ملکہ کو معلوم تھا کہ اُس میں ”ایک فاضل روح اور دانش اور عقل“ ہے۔ بیلشضر کی دانیایل سے ناواقفیت اِس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ نبوکدنضر کی وفات کے بعد یہ نبی اب اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز نہیں تھا۔ لیکن دانیایل کے نزدیک فضیلت اور اعلیٰ عہدے کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ اب اُس کی عمر ۹۰ سال سے زیادہ تھی مگر وہ پھربھی وفاداری کے ساتھ یہوواہ کی خدمت کر رہا تھا۔ بابل میں تقریباً ۸۰ سال تک اسیر رہنے کے باوجود، وہ ابھی تک اپنے عبرانی نام سے پہچانا جاتا تھا۔ ملکہ نے بھی بابلی نام کی بجائے اُسے اُس کے عبرانی نام، دانیایل سے یاد کِیا تھا۔ درحقیقت، اُس نے بادشاہ کو تاکید کی: ”دانیؔایل کو بلوا۔ وہ مطلب بتائے گا۔“—دانیایل ۱:۷؛ ۵:۱۰-۱۲۔
۱۴. دانیایل نوشتۂدیوار کو دیکھکر کیسی خطرناک صورتحال میں مبتلا ہو گیا تھا؟
۱۴ دانیایل پیغام ملنے پر بادشاہ کے حضور حاضر ہوا۔ اِس یہودی سے مدد کیلئے درخواست کرنا شرم کی بات تھی کیونکہ بادشاہ تھوڑی ہی دیر پہلے اُس کے خدا کی اہانت کر چکا تھا۔ پھربھی، بیلشضر نے دانیایل کی خوشامد کرتے ہوئے اُسے پُراسرار الفاظ کی وضاحت کے انعام میں مملکت میں تیسرے درجے کا حاکم بنانے کی پیشکش کی۔ (دانیایل ۵:۱۳-۱۶) جب دانیایل نے نوشتۂدیوار پر نگاہ ڈالی تو روحالقدس نے اُسے اس کے معنی سمجھا دئے۔ یہ یہوواہ خدا کی طرف سے تباہی کا پیغام تھا! دانیایل اِس متکبر بادشاہ اور اُس کی بیویوں اور اُمرا کے سامنے اتنا سخت پیغام کیسے سنائے گا؟ تصور کریں کہ دانیایل کیسی خطرناک صورتحال میں تھا! کیا وہ بادشاہ کی خوشامدی باتوں اور دولت اور مرتبے کی پیشکش سے متاثر ہو گیا تھا؟ کیا نبی یہوواہ کے فیصلے میں ردوبدل کرکے اس کی شدت کم کر دے گا؟
۱۵، ۱۶. بیلشضر تاریخ سے کیا عبرت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا اور آجکل بھی یہ ناکامی کتنی عام ہے؟
۱۵ دانیایل نے دلیری سے بیان کِیا: ”تیرا انعام تیرے ہی پاس رہے اور اپنا صلہ کسی دوسرے کو دے توبھی مَیں بادشاہ کیلئے اِس نوشتہ کو پڑھونگا اور اِسکا مطلب اُس سے بیان کرونگا۔“ (دانیایل ۵:۱۷) اِسکے بعد دانیایل نے نبوکدنضر کی عظمت کا اقرار کِیا جو ایک طاقتور بادشاہ کے طور پر کسی کو بھی ہلاک کرنے یا زندہ رکھنے، سرفراز کرنے یا ذلیل کرنے کے قابل تھا۔ تاہم، دانیایل نے بیلشضر کو باور کرایا کہ ”خداتعالیٰ،“ یہوواہ ہی نے نبوکدنضر کو عظمت بخشی تھی۔ لیکن جب اُسکے دل میں گھمنڈ سمایا تو یہوواہ ہی نے اُس طاقتور بادشاہ کو ذلیل کِیا تھا۔ جیہاں، نبوکدنضر کو تسلیم کرنا پڑا تھا کہ ”خداتعالیٰ انسان کی مملکت میں حکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُس پر قائم کرتا ہے۔“—دانیایل ۵:۱۸-۲۱۔
۱۶ بیلشضر ”اِس سب سے واقف تھا۔“ اِس کے باوجود اُس نے اس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی تھی۔ درحقیقت، اُس نے تو نبوکدنضر کے تکبّر سے بھی بڑا گناہ کِیا تھا۔ اُس نے تو یہوواہ کی توہین کی تھی۔ دانیایل نے بادشاہ کے گناہ کو فاش کِیا۔ اِسکے علاوہ، اُس نے بُتپرستوں کے اس بڑے مجمع کے سامنے، دلیری کیساتھ بیلشضر کو بتایا کہ جھوٹے معبود ”نہ دیکھتے اور نہ سنتے اور نہ جانتے ہیں۔“ خدا کے دلیر نبی نے یہ بھی کہا کہ اِن ناکارہ معبودوں کے برعکس یہوواہ ہی وہ خدا ہے ”جسکے ہاتھ میں تیرا دم ہے۔“ آجکل بھی، لوگ بےجان چیزوں، دھندولت، پیشے، شہرت اور عیشوعشرت کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں۔ لیکن اِن میں سے کوئی بھی چیز زندگیبخش نہیں ہے۔ ہماری زندگی بلکہ ہماری ہر سانس یہوواہ کی مرہونِمنت ہے۔—دانیایل ۵:۲۲، ۲۳؛ اعمال ۱۷:۲۴، ۲۵۔
معما حل ہو گیا!
۱۷، ۱۸. نوشتۂدیوار کے چار لفظ کیا تھے اور اُنکا لغوی مطلب کیا ہے؟
۱۷ اب یہ عمررسیدہ نبی وہ کام کرتا ہے جو بابل کے حکیموں کے بس میں نہیں تھا۔ وہ نوشتۂدیوار کو پڑھکر اُس کے معنی بیان کرتا ہے۔ نوشتۂدیوار کی عبارت یہ تھی: ”منے منے تِقیلوفرسین۔“ (دانیایل ۵:۲۴، ۲۵) اسکا مطلب کیا ہے؟
۱۸ لغوی طور پر، ان الفاظ کا مطلب ”ایک منا، ایک منا، تِقیل اور نیمتِقیل“ ہے۔ ہر لفظ کا تعلق اوزانِزر سے ہے جنہیں قیمت کے اعتبار سے نزولی ترتیب میں لکھا گیا ہے۔ کتنی حیرانکُن بات! اگر بابلی حکیم الفاظ کو پڑھ بھی لیتے تو وہ انکی تعبیر بیان نہ کر پاتے۔
۱۹. لفظ ”منے“ کا مطلب کیا تھا؟
۱۹ دانیایل نے خدا کی روحالقدس کے زیرِاثر وضاحت کی: ”اِسکے معنی یہ ہیں منے یعنی خدا نے تیری مملکت کا حساب کِیا اور اسے تمام کر ڈالا۔“ (دانیایل ۵:۲۶) قاری کے حروفِعلت کی بِنا پر، پہلے لفظ کے حروفِصحیح ”منا“ اور ایک ایسے ہی ارامی لفظ کی نشاندہی کرتے ہیں جس کا مطلب ”گنا گیا“ یا ”حساب کِیا گیا“ ہے۔ دانیایل بخوبی جانتا تھا کہ یہودیوں کی اسیری ختم ہونے والی ہے۔ پیشینگوئی کے مطابق اسیری کے ۷۰ سالوں میں سے ۶۸ سال گزر چکے تھے۔ (یرمیاہ ۲۹:۱۰) وقت کا بہترین حساب رکھنے والا یہوواہ، عالمی طاقت کے طور پر بابلی سلطنت کے دن گن چکا تھا اور خاتمہ بیلشضر کی ضیافت میں شریک لوگوں کی سوچ سے بھی زیادہ نزدیک تھا۔ درحقیقت، بیلشضر کے علاوہ اُسکے باپ، نبوندیس کے دن بھی گنے جا چکے تھے۔ شاید اِسی وجہ سے یعنی ان دونوں کی بادشاہت کے خاتمے کا اعلان کرنے کیلئے ”منے“ کا لفظ دو مرتبہ لکھا گیا تھا۔
۲۰. لفظ ”تِقیل“ کا کیا مطلب تھا اور اسکا تعلق بیلشضر سے کیسے تھا؟
۲۰ اِس کے برعکس، لفظ ”تِقیل“ صرف ایک مرتبہ صیغۂواحد میں لکھا گیا ہے۔ اِس سے یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ اِس کا تعلق بنیادی طور پر بیلشضر ہی سے تھا۔ چنانچہ یہ بالکل موزوں بھی تھا کیونکہ اُس نے ذاتی طور پر یہوواہ کی بڑی حقارت کی تھی۔ لفظ ”تِقیل“ کا مطلب ”مِثقال“ ہے لیکن حروفِصحیح کے ساتھ اِسکے معنی ”تولا گیا“ بھی ہیں۔ لہٰذا، دانیایل نے بیلشضر سے کہا: ”تِقیل یعنی تُو ترازو میں تولا گیا اور کم نکلا۔“ (دانیایل ۵:۲۷) یہوواہ کے نزدیک تو تمام قومیں ترازو کی باریک گرد کی مانند بےوقعت ہیں۔ (یسعیاہ ۴۰:۱۵) وہ اُسکے مقاصد کو روکنے کیلئے کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔ توپھر، ایک متکبر بادشاہ کی کیا وقعت ہو سکتی ہے؟ بیلشضر نے خود کو کائنات کے حاکمِاعلیٰ سے ممتاز کرنے کی کوشش کی تھی۔ اِس ادنیٰ انسان نے یہوواہ کی اہانت کرنے اور سچی پرستش کا تمسخر اُڑانے کی جسارت کی تھی مگر وہ ”کم نکلا۔“ واقعی، بیلشضر اِس سزا کا مستحق تھا جو جلد آنے والی تھی!
۲۱. ”فرسین“ کے تین معنی کونسے تھے اور اِس لفظ نے عالمی طاقت کے طور پر بابل کے مستقبل کی بابت کیا ظاہر کِیا؟
۲۱ نوشتۂدیوار کا آخری لفظ ”فرسین“ تھا۔ دانیایل فرسین کا واحد ”فریس“ استعمال کرتا ہے اِس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ صرف ایک بادشاہ سے مخاطب تھا جبکہ دوسرا وہاں موجود نہیں تھا۔ تین معنوں پر مشتمل اِس آخری لفظ نے یہوواہ کے عظیم معمے کے نقطۂعروج کو واضح کِیا۔ لغوی طور پر، ”فرسین“ کا مطلب ”نیممِثقال“ ہے۔ لیکن اس کے حروف سے بھی دو اَور معنی—”تقسیم“ اور ”فارسی“—نکلتے ہیں۔ لہٰذا، دانیایل نے پیشینگوئی کی: ”فریس یعنی تیری مملکت منقسم ہوئی اور مادیوں اور فارسیوں کو دی گئی۔“—دانیایل ۵:۲۸۔
۲۲. بیلشضر نے معما حل ہو جانے پر کیسا ردِعمل دکھایا اور اُس نے غالباً کیا اُمید کی ہوگی؟
۲۲ یوں یہ معما حل ہو گیا۔ بابلِاعظم کو مادیفارسیوں کے لشکروں کے ہاتھوں شکست ہونے والی تھی۔ بیلشضر نے تباہی کا اعلان سننے کے بعد شرمسار اور دلشکستہ ہو جانے کے باوجود اپنا قول پورا کِیا۔ اُس نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ دانیایل کو ارغوانی خلعت پہنائیں اور زرین طوق اُس کے گلے میں ڈالیں اور منادی کرائیں کہ وہ مملکت میں تیسرے درجے کا حاکم ہے۔ (دانیایل ۵:۲۹) دانیایل نے اِس عزتافزائی سے انکار نہ کِیا کیونکہ اُس کے خیال میں دراصل یہ یہوواہ کی عزتافزائی تھی۔ بِلاشُبہ، بیلشضر نے سوچا ہوگا کہ شاید خدا کے نبی کو عزت دینے سے یہوواہ کے عدالتی فیصلے میں نرمی آ سکتی ہے۔ تاہم، اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
سقوطِبابل
۲۳. بیلشضر کی ضیافت کے دوران کونسی قدیمی پیشینگوئی تکمیلپذیر تھی؟
۲۳ جس اثنا میں بیلشضر اور اُسکے اُمرا اپنے دیوتاؤں کی شان میں میخواری کرتے ہوئے یہوواہ کا تمسخر اُڑا رہے تھے تو محل کے باہر رات کی تاریکی میں ایک عظیم واقعہ رونما ہو رہا تھا۔ کوئی دو سو سال پہلے یسعیاہ کی معرفت کی جانے والی پیشینگوئی تکمیلپذیر تھی۔ بابل کی بابت یہوواہ پہلے ہی سے بتا چکا تھا: ”مَیں وہ سب کراہنا جو اُسکے سبب سے ہوا موقوف کرتا ہوں۔“ جیہاں، خدا کے برگزیدہ لوگوں پر اس شریر شہر کا تمام ظلم اپنے انجام کو پہنچنے والا تھا۔ لیکن یہ کیسے ممکن تھا؟ اُسی پیشینگوئی میں بتایا گیا تھا: ”اَے عیلاؔم چڑھائی کر۔ اَے ماؔدی محاصرہ کر۔“ یسعیاہ نبی کے زمانے کے بعد عیلام فارس کا حصہ بن گیا تھا۔ یسعیاہ کی اسی پیشینگوئی میں بیانکردہ بیلشضر کی ضیافت کے وقت تک فارسیوں اور مادیوں نے بابل پر ”چڑھائی“ اور اُسکا ”محاصرہ“ کرنے کیلئے اتحاد کر لیا تھا۔—یسعیاہ ۲۱:۱، ۲، ۵، ۶۔
۲۴. یسعیاہ کی پیشینگوئی میں سقوطِبابل کی بابت کیا تفصیلات بتا دی گئی تھیں؟
۲۴ درحقیقت، ان فوجوں کی عسکری حکمتِعملی کی اہم خصوصیات کے علاوہ، ان کے سپہسالار کا نام بھی بتا دیا گیا تھا۔ کوئی ۲۰۰ سال پہلے، یسعیاہ پیشینگوئی کر چکا تھا کہ یہوواہ خورس نامی شخص کو بابل کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے منتخب کریگا۔ اُس کے حملے کے دوران تمام رکاوٹوں کو اس کے سامنے سے ہٹا دیا جائیگا۔ بابل کے پانی ”سوکھ“ جائینگے اور اُس کے مضبوط پھاٹک کھلے رہ جائیں گے۔ (یسعیاہ ۴۴:۲۷–۴۵:۳) چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ خورس کی فوجوں نے دریائےفرات کا رُخ دوسری طرف موڑ دیا تاکہ وہ پانی کی سطح کم ہو جانے پر دریا میں سے گزر کر آگے جا سکیں۔ بابل کی فصیل کے پھاٹک لاپروا محافظوں کی وجہ سے کھلے رہ گئے تھے۔ مؤرخین کے مطابق، شہر پر اُس وقت حملہ ہوا جب اُسکے باشندے رنگرلیاں منا رہے تھے۔ بابل پر بِلامزاحمت قبضہ کر لیا گیا تھا۔ (یرمیاہ ۵۱:۳۰) تاہم، ایک قابلِذکر موت ضرور واقع ہوئی تھی۔ دانیایل نے بیان کِیا: ”اُسی رات کو بیلشضرؔ کسدیوں کا بادشاہ قتل ہوا۔ اور داؔرا مادی نے باسٹھ برس کی عمر میں اُس کی سلطنت حاصل کی۔“—دانیایل ۵:۳۰، ۳۱۔
نوشتۂدیوار سے سبق سیکھنا
۲۵. (ا) قدیم بابل موجودہ زمانے کے جھوٹے مذہب کے عالمی نظام کی موزوں علامت کیوں ہے؟ (ب) کس لحاظ سے خدا کے زمانۂجدید کے خادم بابل کی اسیری میں چلے گئے تھے؟
۲۵ دانیایل کی کتاب کے ۵ باب کا الہامی بیان ہمارے لئے بہت پُرمعنی ہے۔ قدیم بابل جھوٹے مذہبی کاموں کے مرکز کے طور پر، موجودہ جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کی موزوں علامت ہے۔ عالمگیر جھوٹے مذہب کو ’بڑا بابل‘ کہا گیا ہے جسکی مکاشفہ کی کتاب میں خون کی پیاسی ایک کسبی کے طور پر تصویرکشی کی گئی ہے۔ (مکاشفہ ۱۷:۵) اس نے خدا کی بےحرمتی کرنے والے جھوٹے عقائد اور کاموں کے خلاف تمام آگاہیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے خدا کے کلام کی سچائی کا پرچار کرنے والوں کو ستایا ہے۔ جب پادری طبقے کی بھڑکائی ہوئی اذیت کی وجہ سے ۱۹۱۸ میں بادشاہتی منادی کا کام تقریباً بند ہو گیا تو قدیم یروشلیم اور یہوداہ کے باشندوں کی طرح ممسوح مسیحیوں کا وفادار بقیہ عملاً ’بڑے بابل‘ کی اسیری میں چلا گیا تھا۔
۲۶. (ا) ’بڑا بابل‘ ۱۹۱۹ میں کیسے گِر پڑا تھا؟ (ب) کونسی آگاہی پر نہ صرف ہمیں خود دھیان دینا چاہئے بلکہ دوسروں کو بھی اِسکی بابت بتانا چاہئے؟
۲۶ تاہم، ’بڑا بابل‘ دفعتہً گِر پڑا تھا۔ واقعی جس طرح قدیم بابل ۵۳۹ ق.س.ع. میں بِلامزاحمت ڈھیر ہو گیا تھا اُسی طرح بڑے بابل کو بھی شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن یہ علامتی شکست تباہکُن تھی۔ یہ علامتی شکست اُس وقت ہوئی جب ۱۹۱۹ س.ع. میں یہوواہ کے لوگوں نے بابلی اسیری سے رہائی اور الہٰی مقبولیت کی برکت حاصل کی تھی۔ اِس شکست سے خدا کے لوگ ’بڑے بابل‘ کے اختیار سے آزاد ہو گئے جس کے بعد اُنہوں نے اُسے جھوٹ کے پلندے کے طور پر سب کے سامنے ننگا کرنا شروع کر دیا۔ یہ شکست غیرمتزلزل ثابت ہوئی ہے اور اُسکی حتمی تباہی بالکل قریب ہے۔ لہٰذا، یہوواہ کے خادم لگاتار یہ آگاہی دے رہے ہیں: ”اَے میری اُمت کے لوگو! اُس میں سے نکل آؤ تاکہ تم اُسکے گناہوں میں شریک نہ ہو۔“ (مکاشفہ ۱۸:۴) کیا آپ نے اس آگاہی پر کان لگایا ہے؟ کیا آپ دوسروں کو اِسکی بابت بتاتے ہیں؟f
۲۷، ۲۸. (ا) دانیایل نے کس بنیادی سچائی کو کبھی نظرانداز نہیں کِیا تھا؟ (ب) ہمارے پاس اِس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہوواہ اِس شریر دُنیا کے خلاف جلد کارروائی کرنے والا ہے؟
۲۷ پس، آجکل بھی نوشتۂدیوار لکھا جا چکا ہے جو صرف ’بڑے بابل‘ کے لئے نہیں ہے۔ دانیایل کی کتاب میں واضحکردہ اس بنیادی سچائی کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہوواہ ہی کائنات کا حاکمِاعلیٰ ہے۔ صرف اُسے انسان پر حکمرانی کرنے کا حق حاصل ہے۔ (دانیایل ۴:۱۷، ۲۵؛ ۵:۲۱) یہوواہ کے مقاصد کی راہ میں حائل ہر چیز کو ختم کر دیا جائیگا۔ اب یہوواہ کی کارروائی میں تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا ہے۔ (حبقوق ۲:۳) دانیایل کیلئے ایسا وقت اُسکی زندگی کے دسویں عشرے میں آیا تھا۔ اُس وقت اُس نے یہوواہ کو ایک عالمی طاقت کو ختم کرتے دیکھا جو دانیایل کے لڑکپن سے خدا کے لوگوں پر ظلم ڈھا رہی تھی۔
۲۸ اِس بات کا ناقابلِتردید ثبوت موجود ہے کہ یہوواہ خدا نے انسان کیلئے ایک حکمران کو آسمان پر تختنشین کر دیا ہے۔ دُنیا کا اِس بادشاہ کو نظرانداز کرنا اور اُسکی حکمرانی کی مخالفت کرنا اِس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہوواہ بادشاہتی حکمرانی کے تمام مخالفوں کو بہت جلد صفحۂہستی سے مٹا دیگا۔ (زبور ۲:۱-۱۱؛ ۲-پطرس ۳:۳-۷) کیا آپ اپنے زمانے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خدا کی بادشاہت پر بھروسا رکھتے ہیں؟ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ نے واقعی نوشتۂدیوار سے سبق سیکھ لیا ہے!
[فٹنوٹ]
a ایک قدیمی کتبے میں خورس بادشاہ نے بیلشضر کی بابت کہا ہے: ”ایک بزدل کو ملک کا حکمران بنا دیا گیا ہے۔“
b دانیایل کی کتاب کی یہ دقیق تفصیل بھی درست ثابت ہو چکی ہے۔ ماہرینِاثریّات نے یہ دریافت کر لیا ہے کہ قدیم بابل کے محل کی اینٹوں سے بنی ہوئی دیواروں پر گچکاری کی گئی تھی۔
c بابلیوں کی توہمپرستی ہی نے غالباً اِس معجزے کو اتنا خوفناک بنا دیا تھا۔ کتاب بیبلونیئن لائف اینڈ ہسٹری بیان کرتی ہے: ”بابلی کئی معبودوں کی پرستش کرنے کے علاوہ روحوں پر بھی ایمان رکھتے تھے اسی لئے اُن کی مذہبی کتابوں میں اُن سے بچنے کے لئے مختلف دُعائیں اور جادومنتر تحریر کئے گئے تھے۔“
d جریدہ ببلیکل آرکیالوجی ریویو بیان کرتا ہے: ”بابلی حکیموں کے پاس پُراسرار علامات اور تحریروں کا مطلب جاننے کے لئے ہزارہا اشاروں یا نشانوں پر مشتمل فہرستیں ہوتی تھیں۔ . . . جب بیلشضر نے نوشتۂدیوار کا مطلب پوچھا تو بابل کے حکیموں نے بِلاشُبہ انہی سے مدد لی ہوگی لیکن یہ بیکار ثابت ہوئیں۔“
e لغتنویس بیان کرتے ہیں کہ یہاں ”پریشان“ کیلئے مستعمل لفظ بڑی افراتفری کا مفہوم دیتا ہے یعنی اس جشن میں بڑی ہلچل مچ گئی تھی۔
f یہوواہ کے گواہوں کی شائعکردہ کتاب ریولیشن—اِٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ! کے صفحہ ۲۰۵-۲۷۱ کا مطالعہ کریں۔
آپ کیا سمجھے ہیں؟
•اکتوبر ۵/۶، ۵۳۹ ق.س.ع. کی درمیانی شب کو بیلشضر کی ضیافت میں خلل کیسے پڑ گیا تھا؟
•نوشتۂدیوار کی تعبیر کیا تھی؟
•بیلشضر کی ضیافت کے دوران سقوطِبابل کی بابت کونسی پیشینگوئی تکمیلپذیر تھی؟
•نوشتۂدیوار کی سرگزشت کا ہمارے زمانے کیلئے کیا مطلب ہے؟
[صفحہ ۹۸ پر صرف تصویر ہے]
[صفحہ ۱۰۳ پر صرف تصویر ہے]