باب نو
والدین میں سے ایک پر مشتمل خاندان کامیاب ہو سکتے ہیں!
۱-۳. کونسی چیز سنگل پیرنٹ خاندانوں میں اضافے کا سبب بنی ہے، اور ایسے خاندانوں کے لوگ کیسے متاثر ہوتے ہیں؟
والدین میں سے کسی ایک پر مشتمل خاندانوں کو ریاستہائے متحدہ میں ”تیزی سے بڑھنے والے خاندانی سٹائل“ کا نام دیا گیا ہے۔ بہت سے دیگر ممالک میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے۔ طلاقبازیوں، بیوفائیوں، علیٰحدگیوں، اور ناجائز وِلادَتوں کی ریکارڈ تعدادلاکھوں والدین اور بچوں کیلئے دُوررَس نتائج کا باعث بنی ہے۔
۲ ”مَیں دو بچوں والی ۲۸سالہ بیوہ ہوں،“ ایک تنہا ماں نے لکھا۔ ”مَیں بہت ہی افسردہ ہوں کیونکہ مَیں اپنے بچوں کی باپ کے بغیر پرورش نہیں کرنا چاہتی۔ ایسے لگتا ہے کہ کوئی میری پروا ہی نہیں کرتا۔ میرے بچے مجھے اکثر روتا ہوا دیکھتے ہیں اور اِس کا اُن پر اثر پڑتا ہے۔“ غصے، احساسِخطا، اور تنہائی جیسے احساسات کیساتھ نبردآزما رہنے کے علاوہ، اکثر سنگلپیرنٹس گھر سے باہر ملازمت کرنے اور گھریلو ذمہداریوں دونوں کو سرانجام دینے کے چیلنج کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ ایک نے بیان کِیا: ”سنگل پیرنٹ ہونا مداری کی طرح ہونا ہے۔ چھ مہینوں کی مشق کے بعد، آپ بالآخر چار گیندوں کیساتھ کرتب دکھانے کے قابل ہو گئے ہیں۔ لیکن جونہی آپ ایسا کرنے کے قابل ہوتے ہیں، کوئی ایک نئی گیند آپکی طرف اُچھال دیتا ہے!“
۳ سنگل پیرنٹ فیملیز [والدین میں سے ایک پر مشتمل خاندانوں] کے اندر بچوں کے اکثر اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ شاید اُنہیں والدین میں سے کسی ایک کے اچانک بچھڑ جانے یا وفات پانے کے بعد شدید جذبات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ بہتیرے نوجوانوں کیلئے والدین میں سے کسی ایک کی عدمموجودگی شدید منفی اثر چھوڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
۴. ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوؔواہ سنگل پیرنٹ خاندانوں کی فکر رکھتا ہے؟
۴ بائبل وقتوں میں بھی والدین میں سے ایک پر مشتمل خاندان موجود تھے۔ صحائف اکثر ”یتیم لڑکے“ اور ”بیوہ“ کا ذکر کرتے ہیں۔ (خروج ۲۲:۲۲؛ استثنا ۲۴:۱۹-۲۱؛ ایوب ۳۱:۱۶-۲۲) یہوؔواہ خدا اُنکی قابلِرحم حالت سے غافل نہیں تھا۔ زبورنویس نے خدا کو ”یتیموں کا باپ اور بیواؤں کا دادرس“ کہا تھا۔ (زبور ۶۸:۵) یقیناً، یہوؔواہ آجکل بھی والدین میں سے ایک پر مشتمل خاندانوں کیلئے ویسی ہی فکر رکھتا ہے! بیشک، اُسکا کلام ایسے اصول فراہم کرتا ہے جو کامیاب ثابت ہونے کیلئے اُنکی مدد کر سکتے ہیں۔
گھرانے کے معمول کو اچھی طرح سیکھنا
۵. سنگل پیرنٹس کو شروع میں کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟
۵ ایک گھر کا بندوبست کرنے کے کام پر غور کریں۔ ایک مُطلّقہ خاتون تسلیم کرتی ہے، ”ایسے بہت سے مواقع ہوتے ہیں جب آپ کسی مرد کی موجودگی کی خواہاں ہوتی ہیں، مثلاً اسوقت جب آپکی کار سے کچھ آوازیں آنے لگتی ہیں اور آپ کو علم نہیں ہوتا کہ کہاں سے آ رہی ہیں۔“ اِسی طرح حال ہی میں رنڈوے ہونے والے یا مُطلّقہ مرد بھی گھر کے اُن لاتعداد کاموں سے پریشان ہو سکتے ہیں جو اُنہیں اب کرنے پڑتے ہیں۔ بچوں کے لئے، گھر کی بےترتیبی عدمِتحفظ اور عدمِاستحکام کے احساسات میں اضافہ کرتی ہے۔
۶، ۷. (ا) امثال میں بیانکردہ ”لائق بیوی“ کے ذریعے کونسی عمدہ مثال قائم کی گئی تھی؟ (ب) گھریلو ذمہداریوں کے سلسلے میں محنتی ہونا سنگل پیرنٹ گھرانوں میں کیسے مدد دیتا ہے؟
۶ کیا چیز مدد کر سکتی ہے؟ امثال ۳۱:۱۰-۳۱ میں متذکرہ ”نیکوکار بیوی، [”لائق بیوی،“ اینڈبلیو]“ کے قائمکردہ نمونے پر غور کریں۔ اُس کی کامرانیوں–خریدوفروخت کرنے، سینےپرونے، کھانا پکانے، غیرمنقولہ جائداد کے کاروبار میں سرمایہکاری کرنے، کھیتیباڑی کرنے، اور کاروبار چلانے کی وسعت غیرمعمولی ہے۔ اُسکی کامیابی کا راز؟ وہ محنتی، دیر سے سونے اور اپنے کامکاج شروع کرنے کیلئے جلدی بیدار ہونے والی تھی۔ اور وہ کچھ کام دوسروں کو سونپنے اور دیگر کو اپنے ہاتھوں سے کرنے کے لئے بڑی منظم تھی۔ کچھ عجب نہیں کہ وہ قابلِتعریف تھی!
۷ اگر آپ سنگل پیرنٹ ہیں تو اپنی گھریلو ذمہداریوں کے سلسلے میں فرضشناس بنیں۔ ایسے کام سے اطمینان حاصل کریں، کیونکہ یہ آپکے بچوں کی خوشی کو دوبالا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ تاہم، درست منصوبہسازی اور تنظیم لازمی ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”محنتی کی تدبیریں یقیناً فراوانی کا باعث ہیں۔“ (امثال ۲۱:۵) ایک تنہا والد نے تسلیم کِیا: ”جبتک مجھے بھوک نہ لگتی مَیں کھانوں کی بابت سوچتا نہیں تھا۔“ لیکن طےشُدہ پروگرام کے مطابق کھانے، عجلت میں تیارکردہ کھانوں کی نسبت زیادہ غذائیتبخش اور لذیذ ہوتے ہیں۔ آپکو نئی گھریلو مہارتیں سیکھنے کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ذہین دوستوں، عملی تربیت اور رہبر کتابوں، اور معاون پیشہور لوگوں سے رجوع کرنے سے بعض تنہا مائیں مُصوّری، نلسازی، اور چھوٹےموٹے آٹو مرمت کے کام کرنے کے قابل ہوئی ہیں۔
۸. سنگل پیرنٹس کے بچے گھر میں کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
۸ کیا بچوں سے مدد کرنے کیلئے کہنا واجب ہے؟ ایک تنہا ماں نے دلیل پیش کی: ”آپ بچوں کیلئے آسانی پیدا کرنے سے والدین میں سے دوسرے ساتھی کی کمی کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔“ یہ بات قابلِفہم ہو سکتی ہے لیکن شاید ہمیشہ بچے کے بہترین مفاد میں نہیں۔ بائبل وقتوں کے خداترس نوجوانوں کو موزوں کام تفویض کئے جاتے تھے۔ (پیدایش ۳۷:۲؛ غزلالغزلات ۱:۶) لہٰذا، اپنے بچوں پر حد سے زیادہ ذمہداریاں ڈالنے میں محتاط رہتے ہوئے، آپ اُنہیں ایسے کام تفویض کرنے میں دانشمند ہونگے جیسےکہ برتن دھونا اور اپنا کمرہ صافستھرارکھنا۔ کیوں نہ ملکر کچھ کام انجام دیں؟ یہ نہایت پُرلطف ہو سکتا ہے۔
روزی کمانے کا چیلنج
۹. تنہا مائیں اکثر مالی مشکلات کا سامنا کیوں کرتی ہیں؟
۹ بیشتر سنگل پیرنٹس اپنی مالی ضروریات کو پورا کرنا مشکل پاتے ہیں، اور عموماً نوجوان کنواری مائیں خاص طور پر مشکل وقت کا سامنا کرتی ہیں۔a ایسے ممالک جہاں رفاہی مدد دستیاب ہے، کمازکم جبتک اُنہیں ملازمت نہیں ملتی تو وہ اِس بندوبست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، دانشمندی سے کام لے سکتی ہیں۔ بائبل مسیحیوں کو ضرورت کے تحت ایسی فراہمیوں کو استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ (رومیوں ۱۳:۱، ۶) بیواؤں اور مُطلّقہ عورتوں کو ایک ہی طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ بہتیری چند سالوں تک گھرگرہستی کرنے کے بعد مجبوراً دوبارہ ملازمتیں اختیار کر لیتی ہیں، اور اکثر کماجرت والی ملازمت ہی حاصل کر سکتی ہیں۔ بعض تربیتی پروگراموں یا قلیلالمدت سکول کورسز میں داخلہ لیکر اپنی حالت کو بہتر بنانے کے قابل ہو جاتی ہیں۔
۱۰. ایک تنہا ماں اپنے بچوں پر کیسے واضح کر سکتی ہے کہ اُسے دُنیاوی ملازمت تلاش کیوں کرنی چاہئے؟
۱۰ جب آپ ملازمت تلاش کرتی ہیں تو اگر آپ کے بچے ناخوش ہیں تو پریشان نہ ہوں اور خطاوار محسوس نہ کریں۔ اِس کی بجائے، اُن پر واضح کریں کہ کیوں آپکو کام کرنا چاہئے، اور یہ سمجھنے میں اُن کی مدد کریں کہ یہوؔواہ آپ سے اُن کی ضروریات پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ (۱-تیمتھیس ۵:۸) بیشتر بچے وقت کے ساتھ ساتھ مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔ تاہم، آپ کا مصروف جدوَل آپ کو جس حد تک اجازت دیتا ہے اُن کیساتھ زیادہ سے زیادہ وقت صرف کرنے کی کوشش کریں۔ ایسی پُرمحبت توجہ کسی بھی طرح کے مالی بحران کے اثر کو کم کرنے میں بھی معاون ہو سکتی ہے جس سے خاندان دوچار ہو سکتا ہے۔–امثال ۱۵:۱۶، ۱۷۔
کون کس کی خبرگیری کر رہا ہے؟
۱۱، ۱۲. سنگل پیرنٹس کو کن حدبندیوں کو قائم رکھنا چاہئے، اور وہ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۱ سنگل پیرنٹس کا خاص طور پر اپنے بچوں کے قریب ہونا قدرتی بات ہے، تاہم احتیاط برتنی چاہئے کہ والدین اور بچوں کے درمیان خدا کی طرف سے تفویضکردہ حدود نہ ٹوٹیں۔ مثال کے طور پر، اگر تنہا ماں اپنے بیٹے سے گھر کے سربراہ کی ذمہداریاں اُٹھانے کی توقع کرتی ہے یا اپنی بیٹی کو ہمراز سمجھتے ہوئے لڑکی پر ذاتی مسائل کا بوجھ ڈال دیتی ہے تو سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایسا کرنا غیرواجب، تکلیفدہ، اور شاید بچے کے لئے پریشانکُن ہو۔
۱۲ اپنے بچوں کو یقین دلائیں کہ آپ، بطور ماں یا باپ، اُن کی دیکھبھال کرینگے–اِس کے برعکس نہیں۔ (مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۱۲:۱۴۔) کبھیکبھار، آپکو کسی نصیحت یا مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اِسے اپنے چھوٹے بچوں سے نہیں بلکہ کلیسیائی بزرگوں یا شاید پُختہ مسیحی عورتوں سے حاصل کریں۔–ططس ۲:۳۔
تنبیہ برقرار رکھنا
۱۳. ایک تنہا ماں کو تنبیہ کے سلسلے میں کس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے؟
۱۳ ایک مرد کو تنبیہ کرنے والے کے طور پر سنجیدگی سے قبول کئے جانے میں شاید کم مشکل ہو، لیکن اِس سلسلے میں ایک عورت کو مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایک تنہا ماں اظہارِخیال کرتی ہے ”میرے بیٹوں کے مردانہوار بدن اور مردانہوار آوازیں ہیں۔ بعضاوقات متذبذب یا مقابلتاً کمزور ہونے کا تاثر نہ دینا مشکل ہوتا ہے۔“ علاوہازیں، آپ ابھی تک ایک عزیز ساتھی کی موت کی وجہ سے غمزدہ ہو سکتی ہیں، یا شاید آپکو ازدواجی رشتے کے ٹوٹنے پر غصے یا خطا کا احساس ہو سکتا ہے۔ اگر مشترکہ سپردگی کا معاملہ ہے تو آپکو ڈر لاحق ہو سکتا ہے کہ آپکا بچہ آپکے سابقہ ساتھی کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ایسی حالتیں متوازن تنبیہ کو عمل میں لانا مشکل بنا سکتی ہیں۔
۱۴. سنگل پیرنٹس تنبیہ کی بابت ایک متوازن نظریہ کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟
۱۴ بائبل بیان کرتی ہے کہ ”جو لڑکا بےتربیت چھوڑ دیا جاتا ہے اپنی ماں کو رُسوا کرے گا۔“ (امثال ۲۹:۱۵) آپکو خاندانی ضوابط کو تشکیل دینے اور نافذ کرنے کے سلسلے میں یہوؔواہ کی حمایت حاصل ہے، لہٰذا احساسِجرم، ندامت، ڈر سے مغلوب نہ ہوں۔ (امثال ۱:۸) بائبل اصولوں پر کبھی مصالحت نہ کریں۔ (امثال ۱۳:۲۴) معقول، بااصول، اور مستقلمزاج بننے کی کوشش کریں۔ وقت آنے پر، بیشتر بچے جوابیعمل دکھائینگے۔ پھربھی، آپ اپنے بچوں کے احساسات کا پاسولحاظ رکھنا چاہینگے۔ ایک تنہا والد اظہارِخیال کرتا ہے: ”اُنکی ماں کو کھو دینے کے صدمے کے باعث میری تنبیہ کو سمجھداری کے ساتھ اعتدالپسند ہونا تھا۔ مَیں ہر موقع پر اُن کے ساتھ باتچیت کرتا ہوں۔ جب ہم رات کا کھانا تیار کرتے ہیں تو ہمیں خوشگوار لمحات حاصل ہوتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ حقیقت میں مجھے ہمراز بناتے ہیں۔“
۱۵. مُطلّقہ ماں یا باپ کو سابقہ ساتھی کے متعلق باتچیت کرتے وقت کس چیز سے گریز کرنا چاہئے؟
۱۵ اگر آپ مُطلّقہ ہیں تو اپنے سابقہ ساتھی کی عزت کو کم کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ والدین کا معمولی معمولی باتوں پر الجھنا بچوں کیلئے تکلیفدہ ہے اور انجامکار آپ دونوں کیلئے اُنکے احترام کو کم کریگا۔ لہٰذا، اِسطرح کی صدمہخیز باتوں سے گریز کریں: ”تم بالکل اپنے باپ پر گئے ہو!“ آپکے سابقہ ساتھی نے آپ کو خواہ کیسا ہی دُکھ پہنچایا ہو، تو بھی وہ ابھی تک آپ کے بچے کا باپ یا ماں ہے، جِسے محبت، توجہ، اور دونوں والدین کی تنبیہ کی ضرورت ہے۔b
۱۶. سنگل پیرنٹ گھرانے میں کونسے روحانی انتظامات کو تربیت کا ایک باقاعدہ حصہ ہونا چاہئے؟
۱۶ جیسےکہ گزشتہ ابواب میں بحث کی گئی ہے کہ تنبیہ میں صرف سزا ہی نہیں، بلکہ تربیت اور ہدایت کرنا بھی شامل ہے۔ روحانی تربیت کے ایک اچھے پروگرام کے ذریعے بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ (فلپیوں ۳:۱۶) مسیحی اجلاسوں پر باقاعدہ حاضری لازمی ہے۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) اِسی طرح سے ہفتہوار خاندانی بائبل مطالعہ کرنا بھی ہے۔ سچ ہے کہ ایسا مطالعہ جاری رکھنا آسان نہیں ہے۔ ”دِنبھر کے کامکاج کے بعد، آپ درحقیقت آرام کرنا چاہتے ہیں،“ ایک فرضشناس ماں اظہارِخیال کرتی ہے۔ ”لیکن مَیں اپنی بیٹی کیساتھ مطالعہ کرنے کیلئے خود کو ذہنی طور پر تیار کرتی ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ یہ ایک ایسا کام ہے جِسے کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ہمارے خاندانی مطالعے سے واقعی لطفاندوز ہوتی ہے!“
۱۷. ہم پولسؔ کے رفیق تیمتھیسؔ کی عمدہ پرورش سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۷ پولسؔ رسول کے ساتھی تیمتھیسؔ نے بدیہی طور پر اپنی ماں اور نانی سے بائبل اصولوں کی تربیت حاصل کی تھی–لیکن ظاہراً اپنے والد سے نہیں۔ پھربھی، تیمتھیسؔ کیا ہی ممتاز مسیحی بنا! (اعمال ۱۶:۱، ۲؛ ۲-تیمتھیس ۱:۵؛ ۳:۱۴، ۱۵) جب آپ اپنے بچوں کی ”خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے“ کر پرورش کرتے ہیں تو آپ بھی اِسی طرح سے اُمیدافزا نتائج کی توقع کر سکتے ہیں۔–افسیوں ۶:۴۔
تنہائی کے خلاف لڑائی جیتنا
۱۸، ۱۹. (ا) ایک سنگل پیرنٹ کیلئے تنہائی کے آثار خودبخود کیسے نمودار ہو سکتے ہیں؟ (ب) نفسانی خواہشات پر قابو پانے کیلئے کیا مشورت دی گئی ہے؟
۱۸ ایک سنگل پیرنٹ نے یوں غم کا اظہار کِیا: ”گھر لوٹنے کے بعد مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مَیں تنہا ہوں، اور خاص طور پر بچوں کے سونے کے بعد، تنہائی واقعی مجھ پر غلبہ پا لیتی ہے۔“ جیہاں، تنہائی اکثر سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کا کسی سنگل پیرنٹ کو سامنا ہوتا ہے۔ پُرتپاک رفاقت اور ازدواجی تعلقات کی آرزو کرنا طبعی بات ہے۔ لیکن کیا کسی شخص کو اِس مسئلے کو کسی بھی قیمت پر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے؟ پولسؔ رسول کے دِنوں میں بعض جوان بیواؤں نے ”مسیح کے خلاف نفس کے تابع ہو [جانے]“ کو اجازت دی۔ (۱-تیمتھیس ۵:۱۱، ۱۲) نفسانی خواہشات کو روحانی مفادات پر حاوی ہونے کی اجازت دینا تباہکُن ہوگا۔–۱-تیمتھیس ۵:۶۔
۱۹ ایک مسیحی مرد نے بیان کِیا: ”جنسی خواہشات بڑی شدید ہوتی ہیں، لیکن آپ اُن پر قابو پا سکتے ہیں۔ جب کوئی خیال آپ کے ذہن میں آتا ہے تو آپ کو اُس پر سوچتے نہیں رہنا چاہئے۔ آپ کو اس سے پیچھا چھڑانا پڑیگا۔ اپنے بچے کی بابت سوچنا بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔“ خدا کا کلام مشورت دیتا ہے: ’جہانتک شہوت کا تعلق ہے تو اپنے اعضا کو مردہ کرو۔‘ (کلسیوں ۳:۵) اگر آپ کھانے کیلئے اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کر رہے ہوتے تو کیا آپ لذیذ کھانوں کی تصاویر پیش کرنے والے رسائل پڑھتے، یا کیا آپ اُن لوگوں کیساتھ رفاقت رکھتے جو لگاتار کھانے کی بابت باتچیت کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں! نفسانی خواہشات کے سلسلے میں بھی یہ بات سچ ہے۔
۲۰. (ا) جو بےایمانوں کیساتھ شادی کی نیت سے معاشقہ کرتے ہیں اُن کیلئے کونسا خطرہ موجود ہے؟ (ب) پہلی صدی میں اور آجکل بھی تنہا لوگ کیسے تنہائی کے خلاف نبردآزما ہوئے ہیں؟
۲۰ بعض مسیحی بےایمانوں کے ساتھ شادی کی نیت سے معاشقوں میں پڑ گئے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۳۹) کیا اِس نے اُنکے مسئلے کو حل کِیا؟ ہرگز نہیں۔ ایک مُطلّقہ مسیحی خاتون نے آگاہ کِیا: ”ایک چیز تنہا ہونے سے زیادہ خراب ہے۔ وہ کسی غلط شخص کیساتھ شادی ہو جانا ہے!“ بِلاشُبہ پہلی صدی کی مسیحی بیواؤں کو تنہائی کے حملوں کا سامنا تھا، لیکن دانشمند عورتیں ’پردیسیوں کی مہماننوازی کرنے، مُقدسوں کے پاؤں دھونے، اور مصیبتزدوں کی مدد کرنے‘ میں مصروف رہیں۔ (۱-تیمتھیس ۵:۱۰) آجکل کے وفادار مسیحی جنہوں نے کسی خداترس ساتھی کو تلاش کرنے کیلئے کئی سال تک انتظار کِیا ہے اِسی طرح سے مصروف رہے ہیں۔ ایک ۶۸سالہ مسیحی بیوہ جب کبھی تنہا محسوس کرتی تو دوسری بیواؤں کے پاس جانا شروع کر دیتی۔ اُس نے بیان کِیا: ”مَیں نے دیکھا ہے کہ ایسی ملاقاتیں کرنے، اپنے گھر کا کامکاج کرنے اور اپنی روحانیت کی فکر رکھنے سے مجھے تنہائی محسوس کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔“ دوسروں کو خدا کی بادشاہت کی بابت تعلیم دینابالخصوص ایک بڑا کارآمد کام ہے۔–متی ۲۸:۱۹، ۲۰۔
۲۱. کس طریقے سے دُعا اور اچھی رفاقت تنہائی پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہیں؟
۲۱ مانا کہ تنہائی کا کوئی معجزانہ علاج نہیں ہے۔ لیکن یہوؔواہ کی قوت کے ساتھ اِسے برداشت کِیا جا سکتا ہے۔ ایسی قوت اُس وقت حاصل ہوتی ہے جب ایک مسیحی ”رات دن مناجات اور دُعاؤں میں مشغول رہتا ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۵:۵) مناجات دلی التجائیں ہوتی ہیں، جیہاں، مدد کیلئے شاید پُرزور پکاروں اور آنسوؤں کے ساتھ درخواست کرنا۔ (مقابلہ کریں عبرانیوں ۵:۷۔) یہوؔواہ کے سامنے ”رات دن“ اپنا دل انڈیلنا واقعی مدد کر سکتا ہے۔ علاوہازیں، خوشگوار رفاقت بھی تنہائی کے خلا کو پُر کرنے کے لئے بہت کچھ کر سکتی ہے۔ اچھی رفاقت کے ذریعے، ایک شخص امثال ۱۲:۲۵ میں بیانکردہ ”اچھی بات“ سے حوصلہافزائی حاصل کر سکتا ہے۔
۲۲. جب تنہائی کے احساسات وقتاًفوقتاً دوبارہ اُمنڈ آتے ہیں تو کونسی چیزوں پر سوچبچار مدد دیگی؟
۲۲ اگر وقتاًفوقتاً تنہائی کے احساسات دوبارہ اُمنڈ آتے ہیں–جیسےکہ وہ غالباً آئینگے–یاد رکھیں کہ کوئی شخص بھی مسائل سے آزاد نہیں ہے۔ درحقیقت، ”آپکے بھائیوں کی پوری برادری“ کسی نہ کسی طرح دُکھ اُٹھا رہی ہے۔ (۱-پطرس ۵:۹، اینڈبلیو) ماضی میں کھوئے رہنے سے بچیں۔ (واعظ ۷:۱۰) جن مواقع سے آپ لطفاندوز ہوتے ہیں اُن کا جائزہ لیں۔ سب سے بڑھکر، اپنی راستی پر قائم رہنے اور یہوؔواہ کے دل کو شاد کرنے کیلئے ثابتقدم رہیں۔–امثال ۲۷:۱۱۔
دوسرے کس طرح مدد کر سکتے ہیں
۲۳. کلیسیا میں سنگل پیرنٹس کے سلسلے میں ساتھی مسیحیوں کی کیا ذمہداری ہے؟
۲۳ ساتھی مسیحیوں کی مدد اور تعاون انمول ہے۔ یعقوب ۱:۲۷ بیان کرتی ہے: ”ہمارے خدا اور باپ کے نزدیک خالص اور بےعیب دینداری یہ ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کی مصیبت کے وقت اُنکی خبر لیں اور اپنے آپکو دُنیا سے بیداغ رکھیں۔“ جیہاں، سنگل پیرنٹ خاندانوں کی مدد کرنا مسیحیوں کی ذمہداری ہے۔ ایسا کرنے کے بعض عملی طریقے کونسے ہیں؟
۲۴. کن طریقوں سے حاجتمند سنگل پیرنٹ خاندانوں کی مدد کی جا سکتی ہے؟
۲۴ مالی مدد دی جا سکتی ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”جس کسی کے پاس دُنیا کا مال ہو اور وہ اپنے بھائی کو محتاج دیکھکر رحم کرنے میں دریغ کرے تو اُس میں خدا کی محبت کیونکر قائم رہ سکتی ہے۔“ (۱-یوحنا ۳:۱۷) لفظ ”دیکھکر“ کے لئے اصلی یونانی لفظ کا مطلب محض لاپروائی سے سرسری نظر ڈالنا نہیں، بلکہ دیدہدانستہ نظریں جما کر دیکھنا ہے۔ یہ اِس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ ایک مہربان مسیحی پہلے کسی کے خاندانی حالات اور ضروریات سے واقف ہو سکتا ہے۔ شاید اُنہیں پیسے کی ضرورت ہے۔ بعض کو گھریلو مرمت کیلئے مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ یا شاید وہ صرف ایک کھانے یا ایک تفریحی اجتماع پر مدعو کئے جانے کی قدر کریں۔
۲۵. ساتھی مسیحی سنگل پیرنٹس کیلئے کیسے ہمدردی دکھا سکتے ہیں؟
۲۵ علاوہازیں، ۱-پطرس ۳:۸ بیان کرتی ہے: ”غرض سب کے سب یکدل اور ہمدرد رہو۔ برادرانہ محبت رکھو۔ نرمدل اور فروتن بنو۔“ چھ بچوں کی ایک تنہا ماں نے بیان کِیا: ”یہ انتہائی مشکل رہا ہے اور بعضاوقات مَیں افسردہ ہو جاتی ہوں۔ تاہم، کبھی کبھار بھائیوں یا بہنوں میں سے کوئی مجھ سے کہتا ہے: ’جوؔن آپ بہت محنت کر رہی ہیں۔ محنت رنگ لائیگی۔‘ صرف یہ جاننا کہ دوسرے آپکی بابت سوچتے ہیں اور یہ کہ وہ فکر رکھتے ہیں واقعی مفید ہوتا ہے۔“ جوان عورتوں کو جو سنگل پیرنٹس ہیں جب ایسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے جن پر کسی مرد کے ساتھ باتچیت کرنا اُنہیں عجیب لگ سکتا ہے تو عمررسیدہ مسیحی عورتیں اُنکی سننے سے مدد کرنے میں خاص طور پر مؤثر ہو سکتی ہیں۔
۲۶. پُختہ مسیحی مرد یتیم بچوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
۲۶ مسیحی مرد دوسرے طریقوں سے مدد کر سکتے ہیں۔ راستباز شخص اؔیوب نے کہا: ”مَیں غریب کو . . . چھڑاتا تھا اور یتیم کو بھی جس کا کوئی مددگار نہ تھا۔“ (ایوب ۲۹:۱۲) اِسی طرح سے آجکل بعض مسیحی مرد یتیم بچوں میں بھرپور دلچسپی لے سکتے ہیں اور کوئی دَرپردہ مقاصد نہ رکھتے ہوئے ”پاک دل . . . سے“ حقیقی ”محبت“ دکھا سکتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۱:۵) اپنے ذاتی خاندانوں کو نظرانداز کئے بغیر، وہ کبھیکبھار ایسے نوجوان اشخاص کیساتھ مسیحی خدمتگزاری میں کام کرنے کا بندوبست کر سکتے ہیں اور اُنہیں خاندانی مطالعے یا تفریح میں بھی حصہ لینے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ ایسی مہربانی یتیم بچے کو خودسر روش اختیار کرنے سے اچھی طرح محفوظ رکھ سکتی ہے۔
۲۷. سنگل پیرنٹس کس مدد کا یقین رکھ سکتے ہیں؟
۲۷ بِلاشُبہ، سنگل پیرنٹس کو بالآخر ذمہداری کا ’اپنا بوجھ‘ اُٹھانا ہی ہے۔ (گلتیوں ۶:۵) تاہم، وہ مسیحی بھائیوں اور بہنوں اور خود یہوؔواہ خدا کی محبت حاصل کر سکتے ہیں۔ بائبل اُسکی بابت بیان کرتی ہے: ”وہ یتیم اور بیوہ کو سنبھالتا ہے۔“ (زبور ۱۴۶:۹) اُسکی پُرمحبت مدد کیساتھ، سنگل پیرنٹ خاندان کامیاب ہو سکتے ہیں!
[فٹنوٹ]
a اگر بدکار چالچلن کی وجہ سے کوئی نوجوان مسیحی حاملہ ہو جاتی ہے تو جوکچھ اُس نے کِیا ہے مسیحی کلیسیا کسی بھی صورت میں اُسے نظرنداز نہیں کرتی۔ لیکن اگر وہ تائب ہے تو شاید کلیسیائی بزرگ اور کلیسیا کے دیگر لوگ اُسکی مدد کرنا پسند کریں۔
b ہم ایسی حالتوں کا تذکرہ نہیں کر رہے جن میں ایک بدسلوکی کرنے والے باپ یا ماں سے بچے کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ نیز، اگر والدین میں سے دوسرا آپکے اختیار کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، شاید بچوں کو قائل کرنے کے خیال سے کہ آپکو چھوڑ دیں، تو نصیحت کیلئے تجربہکار دوستوں، جیسےکہ مسیحی کلیسیا میں بزرگوں سے باتچیت کرنا بہتر ہو سکتا ہے کہ صورتحال سے کیسے نپٹیں۔
یہ بائبل اصول . . . سنگل پیرنٹ فیملیز کے مسائل سے نپٹنے کیلئے والدین اور بچوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
یہوؔواہ خدا ”یتیموں کا باپ اور بیواؤں کا دادرس ہے۔“ –زبور ۶۸:۵۔
کامیابی کیلئے درست منصوبہسازی لازمی ہے۔ –امثال ۲۱:۵۔
یہوؔواہ ماں یا باپ کے موزوں تربیت دینے کے حق کی تائید کرتا ہے۔ –امثال ۱:۸۔
دانشمند مسیحی بیوائیں نیک کاموں میں مصروف اور دُعا میں مشغول رہتی ہیں۔–۱-تیمتھیس ۵:۵، ۱۰۔
”یتیموں اور بیواؤں“ میں واجب دلچسپی ظاہر کرنا سچی پرستش کا ایک حصہ ہے۔–یعقوب ۱:۲۷۔
[صفحہ ۱۱۲ پر بکس]
جوکچھ چھوٹے بچے کر سکتے ہیں
کیا آپکی ماں یا باپ ایک سنگل پیرنٹ ہے؟ اگر ایسا ہے تو مدد کرنے کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟ ایک بات تو یہ ہے کہ فرمانبردار بنیں۔ نہ تو قدوقامت اور نہ ہی صنف بچے کو ’اپنی ماں کی تعلیم کو ترک کرنے‘ کی اجازت دیتی ہے۔ (امثال ۱:۸) یہوؔواہ آپکو فرمانبردار ہونے کا حکم دیتا ہے، اور انجامکار، ایسا کرنا آپکی خوشی کا موجب بنیگا۔–امثال ۲۳:۲۲؛ افسیوں ۶:۱-۳۔
پہل کریں، اور قدرشناس بنیں۔ ”میری والدہ ہسپتال میں کام کرتی ہے، اور اُسکا یونیفارم استری کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذامَیں اُس کیلئےاستری کرتاہوں،“ٹونیؔ کہتا ہے۔ ”اِس سے میری ماں کی مدد ہوتی ہے، لہٰذا مَیں ایسا کرتا ہوں۔“ ایک تنہا ماں اظہارِخیال کرتی ہے: ”مَیں اکثر دیکھتی ہوں کہ جب مَیں کام پر کسی خاص تھکا دینے والے دِن سے واقعی بےدِل یا چڑچڑی ہو جاتی ہوں اور مَیں گھر لوٹتی ہوں–تو اُسی دن میری بیٹی شام کا کھانا تیاراوردسترخوان لگا چکی ہوتی ہے۔“
یاد رکھیں کہ آپکا تعاون ضروری ہے۔ دِنبھر کی مشقت کے بعد، آپکی ماں یا باپ کیلئے خاندانی بائبل مطالعہ کرانا شاید مشکل ہو۔ اگر آپ تعاون نہیں کرتے تو آپ معاملات کو مزید بگاڑتے ہیں۔ جب جدوَل کے مطابق وقت ہوتا ہے تو تیار رہنے کی کوشش کریں۔ اپنے اسباق پہلے سے تیار کریں۔ فرمانبردار، قدردان، اور تعاون کرنے والا بننے سے، آپ اپنے باپیاماں کو خوش کرینگے، اور سب سے بڑھکر، آپ خدا کو خوش کرینگے۔
[صفحہ ۱۰۷ پر تصویر]
جہانتک ممکن ہو اپنے بچوں کیساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں
[صفحہ ۹۱۰ پر تصویر]
بچو اپنے سنگل پیرنٹ کیساتھ تعاون کریں
[صفحہ ۱۱۰ پر تصویر]
کلیسیا ”بیواؤں“ اور ”یتیموں“ کو نظرانداز نہیں کرتی