بادشاہتی خبر نمبر ۳۴
زندگی مسائل سے اس قدر کیوں بھری پڑی ہے؟
کیا تکلیف سے پاک فردوس ممکن ہے؟
سنگین مسائل بدتر ہوتے جاتے ہیں—کیوں؟
لوگوں کو ہمیشہ ہی سے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اگرچہ بہتیروں نے سوچا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی انہیں حل کر سکتی ہے تو بھی سنگین مسائل بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
جُرم:کم ہی لوگ گلیوں میں چلتے ہوئے یا اپنے ذاتی گھروں میں بیٹھے ہوئے محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ایک یورپی ملک کے اندر، ایک حالیہ سال میں تقریباً ۳ میں سے ۱ شخص جُرم کا شکار ہوا تھا۔
ماحول: ہوا، زمین اور پانی کی آلودگی بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ ترقیپذیر اقوام میں، لوگوں کی ایک چوتھائی کو صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔
غربت: پہلے سے کہیں زیادہ لوگ غریب اور بھوکے ہیں۔ بعض ممالک میں ۹۰ فیصد سے زائد لوگ ناداری کی زندگی بسر کرتے ہیں؛ دنیا کے مزدور طبقے کا ۳۰ فیصد، تقریباً ۸۰۰ ملین، بیروزگار ہے یا پھر کم آمدنی والی ملازمت کرتا ہے—اور تعداد بڑھتی ہی جاتی ہے۔
بھوک: اگرچہ آپ کے پاس تو کھانے کیلئے کافی ہو لیکن لاکھوں لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پاس نہیں ہے۔ غیرترقییافتہ ممالک میں، ہر سال کمازکم ۱۳ ملین لوگ، زیادہتر بچے، بھوک کے اثرات سے مر جاتے ہیں۔
جنگ: ہزاروں لوگ حالیہ نسلی تشدد میں مارئے گئے ہیں۔ اور ۲۰ ویں صدی کے دوران، جنگوں نے کوئی سو ملین سے زائد لوگوں کو ہلاک کِیا ہے۔
دیگر مسائل: مندرجہبالا فہرست میں، بدتر خاندانی شکستگی، مزید غیرشادیشُدہ ماؤں، بڑھتی ہوئی بےخانمائی، منشیات کا وسیع غلط استعمال، بےقابو بداخلاقی کو بھی شامل کر لیں۔ یو.ایس. کابینہ کے ایک سابقہ رکن نے درست طور پر کہا: ”تہذیب کے بدعنوان ہو جانے کے بہت زیادہ ثبوت موجود ہیں۔“ حالیہ ۳۰ سال کے عرصے میں، یو.ایس. آبادی ۴۱ فیصد بڑھی مگر پُرتشدد جُرم میں بڑی تیزی کیساتھ ۵۶۰ فیصد تک اضافہ ہوا، ناجائز بچوں کی پیدائش میں ۴۰۰ فیصد، طلاقوں میں ۳۰۰ فیصد اور نوعمری میں خودکُشی کی شرح میں ۲۰۰ فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔ دیگر اقوام میں بھی حالت ایسی ہی ہے۔
مسائل بدتر کیوں ہو گئے ہیں؟
ہمارا خالق جواب فراہم کرتا ہے۔ اُس کا کلام مسائل سے بھرے ہوئے اس دَور کو ”اخیر زمانہ“ یعنی ایک ایسا وقت کہتا ہے جب ”بُرے دن“ ہونگے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱) کس کا اخیر زمانہ؟ بائبل ”دنیا کے آخر“ کا ذکر کرتی ہے۔—متی ۲۴:۳۔
آجکل کے بڑھتے ہوئے مسائل اس بات کی واضح شہادت ہیں کہ بدکاری اور اسکے ذمہدار لوگوں کے خاتمے کیساتھ ساتھ، اس نظام کا خاتمہ نزدیک ہے۔ (متی ۲۴:۳-۱۴؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵؛ مکاشفہ ۱۲:۷-۱۲) جلد ہی خدا مداخلت کریگا اور ایسی کارروائی کرے گا تاکہ آجکل کے تمام مسائل مکمل طور پر حل ہو جائیں۔—یرمیاہ ۲۵:۳۱-۳۳؛ مکاشفہ ۱۹:۱۱-۲۱۔
اس دنیا کے مذاہب ناکام ہو گئے ہیں
آجکل کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دینے کی بجائے، اس دنیا کے مذہبی نظام ان میں اضافہ کرتے ہیں۔ جنگوں کے دوران، کیتھولک کیتھولکوں کو ہلاک کرتے ہیں، پروٹسٹنٹ پروٹسٹنٹوں کو—لاکھوں کی تعداد میں۔ زیادہ دیر نہیں ہوئی، روانڈا میں، جہاں زیادہتر کیتھولک ہیں، لوگوں نے لاکھوں کی تعداد میں ایک دوسرے کو قتل کِیا! (بائیں جانب کی تصویر کو دیکھیں۔)
کیا یسوؔع کبھی ایک رائفل یا خنجر لیکر جنگ میں جاتا اور اپنے شاگردوں کو اس سبب سے قتل کرتا کہ اُنکی قومیت اُس سے فرق تھی؟ یقیناً نہیں! ”جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے،“ بائبل کہتی ہے، ”وہ اپنے بھائی سے بھی محبت رکھے۔“ (۱-یوحنا ۴:۲۰، ۲۱) اس دنیا کے مذاہب ایسا کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ ”وہ خدا کی پہچان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اپنے کاموں سے اُسکا انکار کرتے ہیں۔“—ططس ۱:۱۶۔
مزیدبرآں، درحقیقت بائبل کے اخلاقی معیاروں کو برقرار نہ رکھنے سے دنیا کے مذاہب پوری زمین پر حیرتانگیز اخلاقی تنزلی میں بڑا حصہ ادا کرتے ہیں۔
یسوؔع نے کہا کہ آپ جھوٹے مذہب سے سچے مذہب کے فرق کو اسکے ’پھلوں‘—جو کچھ اسکے ارکان کرتے ہیں—سے پہچان سکتے ہیں۔ اُس نے یہ بھی کہا: ”جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔“ (متی ۷:۱۵-۲۰) خدا کا کلام ہمیں تاکید کرتا ہے کہ ایسے مذہب سے نکل بھاگیں جو بُرے پھل لاتا ہے اور یوں تباہی کی زد میں ہے۔—مکاشفہ ۱۸:۴۔
سچا مذہب ناکام نہیں ہوا
سچا مذہب ”اچھا پھل لاتا ہے،“ بالخصوص محبت۔ (متی ۷:۱۷؛ یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵) مسیحیوں کی کونسی متحد عالمگیر برادری ایسی محبت کو عمل میں لاتی ہے؟ کون اپنے ہی مذہب کے لوگوں یا کسی دوسرے کو قتل کرنے سے انکار کرتے ہیں؟—۱-یوحنا ۳:۱۰-۱۲۔
یہوؔواہ کے گواہ اس ”اچھے پھل“ کو پیدا کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ پوری دنیا میں، ۲۳۰ سے زائد ممالک کے اندر، ’اُنہوں نے اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں‘ بنا لیا ہے۔ (یسعیاہ ۲:۴) لوگوں کیلئے اُنکی محبت عالمی پیمانے پر خدا کی بادشاہت کی بابت ”خوشخبری“ کی منادی کرنے کے مسیح کے حکم کیلئے اُنکی فرمانبرداری سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ (متی ۲۴:۱۴) وہ بائبل میں سکھائے گئے اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر بھی عمل کرتے ہیں اور اُنکی حمایت بھی کرتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۶:۹-۱۱۔
سچا مذہب ناکام نہیں ہوا ہے۔ یہ لوگوں کی توجہ اُس واحد ہستی کی طرف مبذول کراتا ہے جو نوعِانسان کے مسائل کو حل کرنے کے قابل ہے۔ جلد ہی وہ ہستی ایک بالکل نئی دنیا کو وجود میں لائے گی۔ وہ کونسی ہستی ہے؟ (براہِمہربانی پچھلے صفحے کو دیکھیں۔)
تکلیف سے پاک فردوس یقینی ہے
اگر آپ ایسا کر سکتے تو کیا آپ اُن تمام مسائل کو حل نہ کرتے جو نوعِانسان کو دُکھ پہنچاتے ہیں؟ یقیناً، آپ کرتے! کیا ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارا شفیق خالق، نوعِانسان کے مسائل کو حل کرنے کی قدرت اور حکمت کا واحد مالک، کچھ کم کریگا؟
بائبل آشکارا کرتی ہے کہ خدا یسوؔع مسیح کے ہاتھوں میں اپنی آسمانی حکومت کے ذریعے انسانی معاملات میں مداخلت کریگا۔ یہ زمین پر بدعنوان حکومتوں کو ”نیست“ کر دیگی۔ (دانیایل ۲:۴۴؛ متی ۶:۹، ۱۰) اور کیوں؟ خدا سے مخاطب ہوتے ہوئے، زبورنویس جواب دیتا ہے: ”تاکہ وہ جان لیں کہ تُو ہی جسکا نام یہوؔواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔“—زبور ۸۳:۱۸۔
جب یہ دنیا ختم ہوتی ہے تو کیا زندہ بچنے والے ہونگے؟ ”دنیا . . . مٹتی جاتی [ہے]،“ بائبل کہتی ہے، ”لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہیگا۔“ (۱-یوحنا ۲:۱۷) یہ زندہ بچنے والے لوگ کہاں پر ہمیشہ تک زندہ رہیں گے؟ بائبل جواب دیتی ہے ”صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“—زبور ۳۷:۹-۱۱، ۲۹؛ امثال ۲:۲۱، ۲۲۔
خدا کی نئی دنیا میں، ”نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔“ (مکاشفہ ۲۱:۴) نہ جُرم، غربت، بھوک، بیماری، غم یا موت! مُردے بھی دوبارہ زندہ ہونگے! ”قیامت ہوگی۔“ (اعمال ۲۴:۱۵) اور خود زمین ایک حقیقی فردوس میں بدل جائے گی۔—یسعیاہ ۳۵:۱، ۲؛ لوقا ۲۳:۴۳۔
خدا کی نئی دنیا میں زندگی سے لطفاندوز ہونے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ یسوؔع نے کہا: ”ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِواحد اور برحق کو اور یسوؔع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“ (یوحنا ۱۷:۳) پوری دنیا کے اندر لاکھوں خلوصدل لوگ اس علم کو حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اُنہیں اب اپنے بہت سے ذاتی مسائل پر قابو پانے کے قابل بناتا ہے، بلکہ زیادہ اہم بات تو یہ ہے کہ یہ اُنہیں مکمل اعتماد بخشتا ہے کہ ایسے مسائل جنہیں حل کرنا اُنکی استطاعت سے باہر ہے وہ خدا کی نئی دنیا میں مکمل طور پر حل کر دئے جائینگے۔
[صفحہ ۲ پر تصویر کا حوالہ]
WHO photo by P. Almasy
[صفحہ ۳ پر تصویر کا حوالہ]
Jerden Bouman/Sipa Press