حصہ ۳
جسطرح ہم جان سکتے ہیں کہ خدا ہے
۱، ۲. کونسا اصول یہ تعیّن کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے کہ آیا کوئی خدا ہے؟
اس بات کا فیصلہ کرنے کا ایک طریقہ کہ آیا خدا ہے اس مسلمہ اصول کا اطلاق کرنا ہے: مصنوع کو صانع کی ضرورت ہے۔ مصنوعہ چیز جتنی زیادہ پیچیدہ ہوگی، صانع کو بھی اتنا ہی لائق ہونا چاہیے۔
۲ مثال کے طور پر، اپنے گھر میں نظر دوڑائیں، میزیں، کرسیاں، ڈیسک، پلنگ، ظروف، دیگچیاں، پلیٹیں، اور کھانے پینے کیلئے دوسرے برتن سب بالکل اسی طرح ایک صانع کا تقاضا کرتے ہیں، جیسے کہ دیواریں، فرش اور چھتیں کرتی ہیں۔ تاہم، یہ چیزیں بنانا مقابلتاً آسان ہے۔ چونکہ سادہ چیزیں صانع کا تقاضا کرتی ہیں تو کیا یہ منطقی بات نہیں ہے کہ پیچیدہ چیزیں اور بھی زیادہ ذہین صانع کا تقاضا کریں؟
ہماری پُرشکوہ کائنات
۳، ۴. کائنات یہ جاننے میں ہماری مدد کیسے کرتی ہے کہ خدا موجود ہے؟
۳ ایک گھڑی کو گھڑیساز کی ضرورت ہے۔ ہمارے ازحد پیچیدہ نظامِ شمسی کی بابت کیا ہے، بشمول سورج اور اسکے سیاروں کے جو صدیوں سے اسکے چوگرد بالکل صحیح طور سے چکر لگا رہے ہیں؟ پُرشکوہ کہکشاں بشمول اسکے ۱۰۰ بلین سے زائد ستاروں کے جو کہ مِلکیوے کہلاتی ہے اور جس میں ہم رہتے ہیں اسکی بابت کیا ہے؟ کیا آپ نے کبھی رات کو کھڑے ہو کر مِلکیوے کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا ہے؟ کیا آپ اس سے متاثر ہوئے تھے؟ تو پھر حیرانکُن حد تک وسیع کائنات کی بابت سوچیں جو ہماری مِلکیوے کی طرح کی لاتعداد بلین کہکشاؤں پر مشتمل ہے! نیز، اجرامِفلکی صدیوں سے اپنی حرکات میں اتنے قابلِاعتماد رہے ہیں کہ انکا مقابلہ بالکل صحیح گھڑیوں کیساتھ کیا گیا ہے۔
۴ اگر ایک گھڑی، جو نسبتاً سادہ ہے، ایک گھڑیساز کے وجود کی دلالت کرتی ہے تو یقینی طور پر ازحد پیچیدہ اور پُرشکوہ کائنات ایک نمونہساز اور صانع کے وجود کی دلالت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ’اپنی آنکھیں اوپر اٹھاؤ اور دیکھو‘ اور پھر یہ پوچھتی ہے: ”ان سب کا خالق کون ہے؟“ جواب ہے: ”وہی [خدا] جو انکے لشکر کو شمار کرکے نکالتا ہے اور ان سب کو نام بنام بلاتا ہے۔ اسکی قدرت کی عظمت اور اسکے بازو کی توانائی کے سبب سے ایک بھی غیرحاضر نہیں رہتا۔“ (یسعیاہ ۴۰:۲۶) لہٰذا، کائنات کا وجود ایک نادیدہ، نگران، ذہین قوت—خدا—کی بدولت ہے۔
بےمثال طریقے سے تیارکردہ زمین
۵-۷. زمین کی بابت کونسے حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا کوئی نمونہساز تھا؟
۵ سائنسدان جتنا زیادہ زمین کی بابت مطالعہ کرتے ہیں، اتنا ہی زیادہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسے بےمثال طریقے سے انسانی رہائش کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ صحیح مقدار میں روشنی اور گرمی حاصل کرنے کے لئے سورج سے اسکا فاصلہ بالکل موزوں ہے۔ یہ سال میں ایک مرتبہ بالکل درست جھکاؤ کے زاویے سے سورج کے گرد گردش کرکے زمین کے بہت سے حصوں میں موسموں کو ممکن بناتی ہے۔ ہر ۲۴ گھنٹے میں زمین اپنے محور کے گرد بھی گردش کرتی ہے اور معمول کے مطابق روشنی اور تاریکی کے اوقات فراہم کرتی ہے۔ یہ گیسوں کے بالکل صحیح امتزاج والی فضا رکھتی ہے تاکہ ہم سانس لے سکیں اور فضائےبسیط کی تباہکُن شعاعوں سے محفوظ رکھے جا سکیں۔ یہ خوراک اگانے کے لئے بیحد ضروری پانی اور مٹی بھی رکھتی ہے۔
۶ ان تمام، اور دوسرے عناصر کے بغیر، جو ملکر کام کرتے ہیں، زندگی ناممکن ہوگی۔ کیا یہ سب ایک اتفاق تھا؟ سائنس نیوز ,کہتا ہے: ”ایسا دکھائی دیتا ہے گویا کہ ایسی خاص اور بالکل درست حالتیں بےسوچے سمجھے بمشکل ہی پیدا ہو سکتی تھیں۔“ نہیں، یہ ایسے واقع نہیں ہو سکتی تھیں۔ ان میں ایک بہت عمدہ نمونہساز کی طرف سے بامقصد منصوبہ شامل تھا۔
۷ اگر آپ کسی شاندار گھر میں گئے ہوں اور اس میں باافراط خوراک پائی ہو، اس میں ٹھنڈا اور گرم رکھنے کا نظام نصب ہو، اور پانی فراہم کرنے کیلئے نلسازی کا بہترین انتظام ہو تو آپ کیا نتیجہ اخذ کریں گے؟ یہ کہ سب کچھ محض خودبخود وجود میں آ گیا؟ نہیں، آپ یقیناً یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ ایک ذہین شخص نے اسے ترتیب دیا اور بڑی احتیاط سے اسے بنایا۔ زمین کوبھی ترتیب دیا گیا تھا اور بڑی احتیاط سے بنایا گیا تاکہ اسکے باشندوں کو جو کچھ درکار ہو اسے فراہم کرے، اور یہ نہایت پیچیدہ ہے اور کسی بھی گھر سے زیادہ خوراک سے بھرپور ہے۔
۸. زمین کی بابت اور کونسی چیز ہے جو ہمارے لئے خدا کی پُرمحبت فکر کو ظاہر کرتی ہے؟
۸ نیز چیزوں کی اس بڑی تعداد کی بابت غور کریں جو گزربسر میں خوشی کا اضافہ کرتی ہیں۔ خوبصورت رنگوں اور لطیف خوشبو والے پھولوں کی وسیع اقسام پر نظر کریں جن سے انسان لطفاندوز ہوتے ہیں۔ پھر ہمارے ذائقے کے مطابق بیحد لذیذ کھانوں کی بہت سی اقسام بھی تو ہیں۔ نظر کو بھلے لگنے والے جنگلات، پہاڑ، جھیلیں، اور دوسری موجودات ہیں۔ نیز، غروبِآفتاب کے خوبصورت مناظر کی بابت کیا کہیں جو ہماری زندگی کے لطف میں اضافہ کرتے ہیں؟ اور حیوانی قلمرو میں کیا ہم پِلّوں، بِلوٹوں، اور دیگر جانوروں کے چھوٹے بچوں کی چھیڑچھاڑ والی مضحکہخیز حرکات اور دلکش فطرت سے خوش نہیں ہوتے؟ پس زمین بہت سی مسرورکُن حیرتافزا چیزیں فراہم کرتی ہے جو زندگی کو جاری رکھنے کیلئے قعطاً ضروری نہیں ہیں۔ یہ چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ انسانوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے زمین کو پُرمحبت فکر کیساتھ ترتیب دیا گیا تھا تاکہ ہم نہ صرف زندہ رہیں بلکہ زندگی سے لطفاندوز ہوں۔
۹. کس نے زمین کو بنایا، اور اس نے اسے کیوں بنایا؟
۹ پس معقول فیصلہ یہ ہے کہ تمام چیزوں کے دینے والے کو تسلیم کر لیا جائے جس طرح بائبلنویس نے کیا جس نے یہوؔواہ خدا کی بابت کہا: ”تو ہی نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔“ کس مقصد کیلئے؟ وہ خدا کو ”آسمان اور زمین کو تشکیل دینے والے اور بنانے والے،“ کے طور پر بیان کرتے ہوئے جواب دیتا ہے ”اسی نے اسے قائم کیا۔ اس نے اسے عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اسکو آبادی کیلئے آراستہ کیا۔“—یسعیاہ ۳۷:۱۶؛ ۴۵:۱۸، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔
حیرتانگیز جاندار خلیہ
۱۰، ۱۱. ایک جاندار خلیہ کیوں اتنا حیرتانگیز ہے؟
۱۰ جاندار چیزوں کی بابت کیا ہے؟ کیا انہیں ایک صانع کی ضرورت نہیں ہے؟ مثال کے طور پر، ایک جاندار خلیے کی حیرتانگیز خصوصیات میں سے چند ایک پر غور کریں۔ اپنی کتاب ایوولیوشن: اے تھیوری ان کرائسس، میں سالماتی ماہرِحیاتیات مائیکلؔ ڈینٹن بیان کرتا ہے: ”آجکل زمین پر تمام جاندار نظاموں میں سے سادہترین، جراثیمی خلیے، بھی بیحد پیچیدہ چیزیں ہیں۔ اگرچہ ننھےمنے جراثیمی خلیے حیرانکُن حدتک چھوٹے ہیں، . . . عملاً ہر ایک واقعی ایک چھوٹی سی فیکٹری کا نمونہ ہے جو عمدگی سے ترتیب دئے ہوئے پیچیدہ سالماتی مشینری کے ہزارہا پُرزوں پر مشتمل ہوتی ہے . . . جو کہ انسان کی بنائی ہوئی کسی بھی مشین سے زیادہ پیچیدہ ہے اور بےجان چیزوں کی دنیا میں اسکا مطلقاً کوئی ثانی نہیں۔“
۱۱ ہر خلیے میں علمِ توالدوتناسل کے سلسلے میں وہ بیان کرتا ہے: ”معلومات کا ذخیرہ کرنے کیلئے ڈی این اے کی گنجائش کسی بھی دوسرے جانے پہچانے نظام سے بڑی حدتک سبقت لے جاتی ہے؛ یہ اتنا اثرآفرین ہے کہ ایک انسان کیطرح کے اتنے پیچیدہ نامیاتی جسم کی واضح تفصیلات دینے کیلئے تمام ضروری معلومات ایک گرام کے چند ہزار کے دس لاکھ ویں حصے کے وزن سے بھی کم ہیں۔ . . . زندگی کی سالماتی مشینری کے ذریعے ظاہرکردہ پیچیدگی اور اختراعپسندی کے معیار کیساتھ ہماری نہایت برتر [مصنوعات] بھی بھدی دکھائی دیتی ہیں۔ ہم خود کو ادنیٰ محسوس کرنے لگتے ہیں۔“
۱۲. ایک سائنسدان نے خلیے کی ابتدا کے متعلق کیا کہا؟
۱۲ ڈؔینٹن اضافہ کرتا ہے: ”جانے پہچانے خلیے کی نہایت سادہ قِسم کی پیچیدگی اتنی بڑی ہے کہ یہ تسلیم کرنا ہی ناممکن ہے کہ ایسی چیز کسی انوکھے، بڑی حد تک بعیدازقیاس قِسم کے واقعے، سے اچانک بیک وقت وجود میں آ گئی ہو۔“ اسے کسی نمونہساز اور صانع کی ضرورت تھی۔
ہمارا حددرجہ ناقابلِیقین دماغ
۱۳، ۱۴. دماغ ایک جاندار خلیے سے بھی زیادہ حیرتانگیز کیوں ہے؟
۱۳ اس کے بعد یہی سائنسدان کہتا ہے: ”جب ایک انفرادی خلیے کا مقابلہ ممالیہ کے دماغ کی طرح کے نظام کے ساتھ کیا جاتا ہے تو پیچیدگی کے سلسلے میں یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ انسانی دماغ تقریباً دس ہزار ملین اعصابی خلیوں پر مشتمل ہے۔ ہر اعصابی خلیہ تقریباً دس ہزار سے لیکر ایک سو ہزار مربوط کرنے والے ریشے پیدا کرتا ہے جن کے ذریعے یہ دماغ میں دوسرے اعصابی خلیوں کے ساتھ رابطہ قائم کرتا ہے۔ گویا انسانی دماغ میں سب جوڑوں کی کُل تعداد . . . ایک سو کھرب ملین کو پہنچ جاتی ہے۔“
۱۴ ڈؔینٹن بیان کو جاری رکھتا ہے: ”اگر دماغ کے جوڑوں کے صرف ایک سوویں حصے کو خاص طور پر منظم کیا گیا ہوتا تو پھر بھی یہ ایک ایسے نظام کی نمائندگی کرتا جس میں خصوصی جوڑوں کی تعداد زمین پر بچھے ہوئے تمام مواصلاتی جال سے کہیں زیادہ ہوتی۔“ پھر وہ پوچھتا ہے: ”کیا کسی قِسم کا کوئی محض بےمقصد طریقہ کبھی ایسے نظام کو یکجا کر سکتا تھا؟“ بظاہر جواب کو نہ ہی ہونا ہے۔ دماغ کا کوئی پرواہ کرنے والا نمونہساز اور صانع ضرور ہوا ہوگا۔
۱۵. دماغ کی بابت دوسرے لوگ کیا اظہارِخیال کرتے ہیں؟
۱۵ انسانی دماغ کے سامنے تو نہایت جدید کمپیوٹر بھی دقیانوسی دکھائی دیتے ہیں۔ سائنسی مصنف موؔرٹن ہنٹ نے کہا: ”ہمارے فعال حافظے ایک معاصرانہ تحقیقی کمپیوٹر سے کئی بلین گنا زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔“ لہٰذا، دماغ کے سرجن ڈاکٹر رابرؔٹ جے۔ وائٹ نے نتیجہ نکالا: ”میرے پاس حددرجہ ناقابلِیقین دماغیوذہنی تعلق کی تربیت اور نشوونما کی ذمہدار، عظیمترین ذہانت کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا—جو انسان کی سمجھنے کی لیاقت سے کہیں بعید ہے۔ . . . مجھے یقین کرنا ہی پڑیگا کہ اس سب کی ایک ذہین ابتدا ہوئی تھی، کہ کوئی اس کے واقع ہونے کا سبب بنا۔“ کوئی نہ کوئی تو ہونا ہی تھا جس نے پرواہ کی تھی۔
بےمثال نظامِخون
۱۶-۱۸. (ا) نظامِخون کن طریقوں سے بےمثال ہے؟ (ب) ہم کو کس نتیجے پر پہنچنا چاہیے؟
۱۶ بےمثال نظامِخون کے متعلق بھی سوچیں جو آکسیجن اور غذائیت کی نقلوحمل کا انتظام کرتا ہے اور متعدی مرض سے محفوظ رکھتا ہے۔ اے بی سیز آف دی ہیومین باڈی کتاب خون کے سُرخ خلیوں کی بابت جو اس نظام کا بڑا حصہ ہیں یہ کہتی ہے: ”خون کا صرف ایک قطرہ ۲۵۰ ملین سے زائد منفصل خونی خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ . . . بدن غالباً ان میں سے ۲۵ ٹریلین پر مشتمل ہوتا ہے، اور اگر یہ پھیلا دئے جائیں تو چار ٹینس کورٹس کو ڈھانپ لینے کے لئے کافی۔ . . . تبدیلیاں فی سیکنڈ ۳ ملین نئے خلیوں کی شرح سے ہوتی ہیں۔“
۱۷ یہی ماخذ ہمیں خون کے سفید خلیوں کی بابت جو کہ بےمثال نظامِخون کا ایک دوسرا حصہ ہیں یہ بتاتا ہے: ”اگرچہ سُرخ خلیہ صرف ایک ہی قِسم کا ہوتا ہے تو بھی خون کے سفید خلیے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں اور ہر قِسم ایک مختلف طریقے سے بدن کی لڑائیاں لڑنے کے قابل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک قِسم مُردہ خلیوں کو تلف کرتی ہے۔ دوسری اقسام وائرسوں کے خلاف اینٹیباڈیز کو پیدا کرتی ہیں، بیرونی مواد کا تریاق کرتی ہیں، یا عملاً بکٹیریا کو کھا جاتی اور ہضم کر جاتی ہیں۔“
۱۸ کیا ہی حیرانکُن اور برتر طریقے سے ترتیب دیا ہوا نظام! یقینی طور پر اتنی اچھی طرح سے یکجا کی ہوئی اور اس قدر محفوظ بنائی ہوئی کسی بھی چیز کا کوئی ذہین اور پرواہ کرنے والا منتظم ضرور ہونا چاہئے—خدا۔
دوسرے عجائب
۱۹. آنکھ انسانی ساخت کے آلات کے مقابلے میں کیسی ہے؟
۱۹ انسانی بدن میں بہت سے دوسرے عجائب بھی ہیں۔ ایک تو آنکھ ہے جو کہ اتنے شاندار طریقے سے ترتیب دی گئی ہے کہ کوئی کیمرہ ہُوبُہو اسکی نقل نہیں کر سکتا۔ ماہرِفلکیات رابرؔٹ جیسٹرو نے کہا: ”معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ کی نمونہسازی کی گئی ہے؛ دُوربینوں کا کوئی بھی نمونہساز اس سے بہتر نہیں کر سکتا تھا۔“ اور کتاب پاپولر فوٹوگرافی بیان کرتی ہے: ”انسانی آنکھیں جزئیات کی وسعت کو فلم کی نسبت کہیں زیادہ دیکھتی ہیں۔ یہ ابعادِثلاثہ سے، ایک نہایت ہی وسیع زاویے سے، شکل کے بگاڑ کے بغیر، مسلسل حرکت میں چیزوں کو دیکھتی ہیں . . . کیمرے کا انسانی آنکھ سے مقابلہ کرنا ایک منصفانہ مماثلت نہیں ہے۔ انسانی آنکھ مصنوعی ذہانت، معلومات کو محفوظ کرنے والے عمل کی صلاحیتوں، رفتاروں، اور کارکردگی کے طریقوں والے ایک حددرجہ ناقابلِیقین ترقییافتہ سُپرکمپیوٹر کے زیادہ مشابہ ہے جو انسانی ساخت کے کسی آلے، کمپیوٹر یا کیمرے کی دسترس سے بالکل باہر ہیں۔“
۲۰. انسانی بدن کے بعض دیگر حیرتانگیز پہلو کیا ہیں؟
۲۰ نیز اس طریقے کی بابت سوچیں جس سے کہ بدن کے تمام پیچیدہ اعضا ہماری دانستہ کوشش کے بغیر ملکر کام کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بہت سی مختلف طرز کے کھانے اور مشروب ہم اپنے معدوں میں ڈالتے ہیں، پھر بھی بدن ان کو ضروری عمل سے گزارتا ہے اور قوت پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح کی متعدد چیزوں کو ایک آٹوموبیل کی پٹرول کی ٹینکی میں ڈالنے کی کوشش کریں اور دیکھیں کہ یہ کتنی دُور تک چلتی ہے! پھر پیدائش کا معجزہ بھی تو ہے، صرف نو ماہ میں ایک پیارا سا بچہ—ہُوبُہو اپنے والدین کی نقل—پیدا کرنا۔ اور صرف چند برس کی عمر کے بچے کی ایک پیچیدہ زبان میں باتیں کرنا سیکھنے کی لیاقت کی بابت کیا ہے؟
۲۱. بدن کے عجائب پر غور کرتے ہوئے معقول اشخاص کیا کہتے ہیں؟
۲۱ جیہاں، انسانی بدن میں بہتیری حیرتانگیز، پیچیدہ، حیرانکُن تخلیقکردہ چیزیں ہمارے اندر احترام کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ کوئی انجینیئر ان چیزوں کی نقل تیار نہیں کر سکتا۔ کیا یہ محض بےسوچے سمجھے اتفاقیہ کام ہو سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ اسکی بجائے، انسانی بدن کے تمام حیرتانگیز پہلوؤں پر غور کرتے وقت معقول اشخاص ویسے ہی کہتے ہیں جیسے زبورنویس نے کہا: ”میں تیرا [اے خدا] شکر کرونگا کیونکہ میں عجیبوغریب طور سے بنا ہوں۔ تیرے کام حیرتانگیز ہیں۔“—زبور ۱۳۹:۱۴۔
عظیمترین معمار
۲۲، ۲۳. (ا) ہمیں خالق کی موجودگی کو کیوں تسلیم کرنا چاہیے؟ (ب) بائبل صحیح طور پر خدا کی بابت کیا کہتی ہے؟
۲۲ بائبل بیان کرتی ہے: ”چنانچہ ہر ایک گھر کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ہوتا ہے؛ لیکن سب چیزیں خدا نے بنائیں جو موجود ہیں۔“ (عبرانیوں ۳:۴، دی جیروسلیم بائبل) جب کسی بھی گھر کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ہونا چاہیے، خواہ سادہ ہی ہو، تو پھر اس سے کہیں پیچیدہ کائنات، بشمول زمین پر وسیع اقسام کی زندگی، کا بھی کوئی نہ کوئی بنانے والا ضرور ہونا چاہیے۔ اور چونکہ ہم ان انسانوں کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں جنہوں نے ہوائیجہازوں، ٹیلیوژنوں، اور کمپیوٹروں جیسے آلات کو ایجاد کیا تو کیا ہمیں اسکے وجود کو بھی تسلیم نہیں کرنا چاہیے جس نے ایسی چیزیں بنانے کیلئے انسانوں کو دماغ دیا؟
۲۳ بائبل اسے ”سچا خدا، یہوؔواہ، . . . آسمانوں کا خالق اور ان کو تان دینے والی عظیم ہستی؛ زمین اور اسکی پیداوار کو ترتیب دینے والا؛ اسکے باشندوں کو سانس دینے والا“ کہتے ہوئے اسکو تسلیم کرتی ہے۔ (یسعیاہ ۴۲:۵، اینڈبلیو) بائبل درست طور پر بیان کرتی ہے: ”اے ہمارے خداوند اور خدا تو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔“—مکاشفہ ۴:۱۱۔
۲۴. ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ کوئی خدا ہے؟
۲۴ جیہاں، ہم اسکی بنائی ہوئی چیزوں سے جان سکتے ہیں کہ خدا ہے۔ ”کیونکہ [خدا] کی اَن دیکھی صفتیں دنیا . . . کی پیدایش کے وقت سے [خدا کی] بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔“—رومیوں ۱:۲۰۔
۲۵، ۲۶.کسی چیز کا غلط استعمال کیوں اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا کوئی صانع نہیں ہے؟
۲۵ یہ حقیقت کہ کسی بنائی ہوئی چیز کا غلط استعمال کیا جاتا ہے یہ مطلب نہیں رکھتی کہ اس کا کوئی صانع ہی نہیں تھا۔ ایک ہوائیجہاز کو پُرامن مقاصد کیلئے ایک مسافر بردار طیارے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسے ایک بمبار طیارے کے طور پر تباہی کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک مُہلک طریقے سے اسکا استعمال کیا جانا، یہ مطلب نہیں رکھتا کہ اسکا کوئی صانع نہیں تھا۔
۲۶ اسی طرح سے، اس حقیقت کا کہ اکثر انسان بُرے ثابت ہوئے ہیں یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کا کوئی خالق نہیں تھا، یعنی یہ کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ لہٰذا، بائبل صحیح طور پر اظہارِخیال کرتی ہے: ”تم کیسے ٹیڑھے ہو! کیا کمہار مٹی کے برابر گنا جائیگا یا مصنوع اپنے صانع سے کہیگا کہ میں تیری صنعت نہیں؟ کیا مخلوق اپنے خالق سے کہے گا کہ تو کچھ نہیں جانتا؟“—یسعیاہ ۲۹:۱۶۔
۲۷. ہم خدا سے کیوں یہ توقع کر سکتے ہیں کہ تکلیف کی بابت ہمارے سوالوں کا جواب دے؟
۲۷ خالق نے جو کچھ بنایا ہے اسکی حیرتانگیز پیچیدگی کے ذریعے سے اس نے اپنی حکمت کو ظاہر کیا ہے۔ زمین کو رہنے کیلئے بالکل موزوں بنانے سے، ہمارے بدنوں اور ذہنوں کو ایک شاندار طریقے سے بنانے سے، اور ہمارے لطفاندوز ہونے کیلئے بہت سی چیزوں کو بنانے سے، اس نے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے۔ یقینی طور پر وہ اسطرح کے سوالات کے جوابات کا علم فراہم کرنے سے ویسی ہی حکمت اور فکر ظاہر کریگا جیسے کہ : کیوں خدا نے تکلیف کو اجازت دے رکھی ہے؟ وہ اسکی بابت کیا کریگا؟
[صفحہ ۵ پر تصویر]
اپنے محفوظ فضائیکرّہ کے ساتھ زمین پرواہ کرنے والے خدا کی طرف سے ہمارے لئے ترتیب دیا ہوا ایک بےمثال گھر ہے
[صفحہ ۶ پر تصویر]
زمین کو پُرمحبت فکر کیساتھ بنایا گیا تھا تاکہ ہم زندگی سے پوری طرح لطف اٹھا سکیں
[صفحہ ۷ پر تصویر]
’ایک دماغ زمین پر کے تمام مواصلاتی نظام کے جال سے زیادہ جوڑ رکھتا ہے۔‘—سالماتی ماہرِحیاتیات
[صفحہ ۸ پر تصویر]
”معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ کی نمونہسازی کی گئی ہے، دُوربینوں کا کوئی بھی نمونہساز اس سے بہتر نہیں کر سکتا تھا۔“—ماہرِفلکیات