حصہ ۲
تکلیف سے آزاد زمین
۱، ۲. بہتیرے کونسا مختلف نظریہ رکھتے ہیں؟
تاہم، تمام دنیا میں لاکھوں لوگ ایک بالکل ہی فرق نظریہ رکھتے ہیں۔ وہ نوعِانسانی کیلئے ایک شاندار مستقبل کی پیشبینی کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جلد ہی یہاں اسی زمین پر بدکاری اور تکلیف سے مکمل طور پر آزاد دنیا ہوگی۔ انہیں یقین ہے کہ بُرائی کا جلد صفایا کر دیا جائے گا اور ایک بالکل نئی دنیا قائم کر دی جائے گی۔ وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نئی دنیا کی بنیاد ابھی سے ڈالی جا رہی ہے!
۲ یہ لوگ یقین رکھتے ہیں کہ نئی دنیا جنگ، ظلم، جرم، ناانصافی، اور غربت سے آزاد ہوگی۔ یہ بیماری، غم، آنسوؤں، اور موت سے بھی آزاد دنیا ہوگی۔ اس وقت لوگ کاملیت کو پہنچ جائینگے اور ایک زمینی فردوس میں ہمیشہ تک خوشی سے رہیں گے۔ جو مر چکے ہیں وہ بھی زندہ کئے جائینگے اور ہمیشہ تک زندہ رہنے کا موقع حاصل کریں گے!
۳، ۴. اسطرح کے اشخاص اپنے نظریے کی بابت کیوں پُراعتماد محسوس کرتے ہیں؟
۳ کیا مستقبل کی بابت یہ نظریہ محض ایک خواب، محض ایک خوشفہمی ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ بات مضبوط بنیاد والے ایمان پر مبنی ہے کہ آنیوالا فردوس اٹل ہے۔ (عبرانیوں ۱۱:۱) وہ اتنے پُراعتماد کیوں ہیں؟ اسلئے کہ کائنات کے قادرِمطلق خالق نے اسکا وعدہ کیا ہے۔
۴ خدا کے وعدوں کے سلسلے میں بائبل کہتی ہے: ”ان سب اچھی باتوں میں سے جو خداوند تمہارے خدا نے تمہارے حق میں کہیں ایک بات بھی نہ چھوٹی۔ سب تمہارے حق میں پوری ہوئیں اور ایک بھی ان میں سے رہ نہ گئی۔“ ”خدا انسان نہیں کہ جھوٹ بولے۔ . . . کیا جو کچھ اس نے کہا اسے نہ کرے؟ یا جو فرمایا ہے اسے پورا نہ کرے؟“ ”ربالافواج قسم کھا کر فرماتا ہے کہ یقیناً جیسا میں نے چاہا ویسا ہی ہو جائیگا اور جیسا میں نے ارادہ کیا ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔“—یشوع ۲۳:۱۴؛ گنتی ۲۳:۱۹؛ یسعیاہ ۱۴: ۲۴۔
۵. کن سوالات کا جواب دینے کی ضرورت ہے؟
۵ تاہم، اگر خدا کا مقصد تھا کہ تکلیف سے آزاد زمینی فردوس کو قائم کرے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ اس نے بُرائی کو واقع ہونے کی اجازت ہی کیوں دی؟ جو غلط ہے اسے درست کرنے کیلئے اس نے اب تک چھ ہزار سال انتظار کیوں کیا؟ کیا ہو سکتا ہے کہ تکلیف کی یہ صدیاں ظاہر کریں کہ خدا واقعی ہماری پرواہ نہیں کرتا یا کہ وہ موجود ہی نہیں؟