حصہ ۱
کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟
۱، ۲. لوگ خدا کی بابت کیا سوال پوچھتے ہیں، اور کیوں؟
اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی، شاید آپ نے یہ پوچھا ہو: ’اگر کوئی خدا ہے جو واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے تو وہ اتنی زیادہ تکلیف کی اجازت کیوں دیتا ہے؟‘ ہم سب کو تکلیف کا تجربہ ہوا ہے، یا ہم کسی نہ کسی کو جانتے ہیں جسکے ساتھ ایسا ہوا ہے۔
۲ بیشک، پوری تاریخ میں لوگوں نے جنگ، ظلم، جرم، ناانصافی، غربت، بیماری، اور عزیزوں کی موت کی وجہ سے درد اور رنج کو برداشت کیا ہے۔ ہماری ۲۰ ویں صدی کے دَوران ہی، جنگوں نے ۱۰۰ ملین سے زائد لوگوں کی جان لے لی ہے۔ دیگر کروڑہا زخمی ہوئے ہیں یا گھر اور املاک کھو بیٹھے ہیں۔ ہمارے زمانے میں اتنے زیادہ دہشتناک واقعات رونما ہوئے ہیں جو لاتعداد لوگوں کی طرف سے بڑے غم، بہت سے آنسوؤں، اور نااُمیدی کے احساس پر منتج ہوئے ہیں۔
۳، ۴. تکلیف کیلئے خدا کی اجازت کی بابت بہتیرے کیا محسوس کرتے ہیں؟
۳ بعض تلخمزاج ہو جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر کوئی خدا ہے بھی تو وہ واقعی ہماری کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ یا شاید وہ یہ بھی خیال کریں کہ کوئی خدا ہے ہی نہیں۔ مثال کے طور پر، پہلی عالمی جنگ میں اپنے خاندان اور دوستوں کی موت کا سبب بننے والی نسلیاتی ایذارسانی اٹھانے والے ایک آدمی نے پوچھا: ”جب ہمیں خدا کی ضرورت تھی تو وہ کہاں تھا؟“ ایک دوسرا شخص جو دوسری عالمی جنگ میں نازیوں کے ہاتھوں لاکھوں کے قتلِعام سے بچا، وہ اس تکلیف کی وجہ سے جو اس نے دیکھی اتنا رنجیدہ تھا کہ اس نے کہا: ”اگر آپ میرے دل پر زبان پھیر سکتے تو یہ آپ کو بھی زہرآلود کر دیتا۔“
۴ الغرض، بہت سے لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ایک نیک خدا بُری چیزوں کو واقع ہونے کی اجازت کیوں دیگا۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا وہ واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے یا آیا اسکا کوئی وجود بھی ہے۔ اور ان میں سے بہتیرے یہ خیال کرتے ہیں کہ تکلیف ہمیشہ انسانی وجود کا ایک جُز رہیگی۔
[صفحہ ۲، ۳ پر تصویر]
کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟