کہانی نمبر ۴۴
راحب کی بہادری
ذرا تصویر کو دیکھیں۔ اِن آدمیوں کی جان خطرے میں ہے۔ اگر یہ آدمی یہاں سے نہ بھاگے تو شہر کے لوگ اِن کو مار دیں گے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہ آدمی کون ہیں؟ یہ اسرائیلی ہیں اور شہر یریحو میں جاسوسی کرنے آئے ہیں۔ جو عورت اِن کی مدد کر رہی ہے، اُس کا نام راحب ہے۔ راحب کا گھر شہر یریحو کی دیوار پر بنا ہوا تھا۔ آئیں، دیکھتے ہیں کہ اِن آدمیوں کی جان خطرے میں کیسے پڑ گئی۔
بنیاسرائیل ملک کنعان جانے کے لئے دریائےیردن پار کرنے والے تھے۔ لیکن دریا کو پار کرنے سے پہلے یشوع نے دو جاسوسوں کو یریحو بھیجا۔ یشوع نے اِن آدمیوں سے کہا کہ ”جاؤ، دیکھ کر آؤ کہ یریحو کیسا شہر ہے۔“
جب یہ جاسوس یریحو پہنچے تو وہ راحب کے گھر گئے۔ اِس دوران کسی نے شہر کے بادشاہ کو بتایا کہ ”دو اسرائیلی آج رات ہمارے شہر کی جاسوسی کرنے آئے ہیں۔“ یہ سُن کر بادشاہ نے کچھ سپاہیوں کو راحب کے پاس بھیجا۔ سپاہیوں نے راحب سے کہا: ”بادشاہ کا حکم ہے کہ جو آدمی تمہارے گھر آئے ہیں، اُن کو ہمارے حوالے کر دو۔“ راحب نے جاسوسوں کو چھت پر چھپا دیا تھا۔ لیکن اُنہوں نے سپاہیوں سے کہا کہ ”کچھ آدمی میرے گھر آئے تھے لیکن مجھے پتہ نہیں کہ وہ کہاں کے تھے۔ وہ تو شام کو ہی چلے گئے۔ اگر آپ جلدی سے جائیں تو آپ اُن کو پکڑ سکتے ہیں۔“ یہ سُن کر سپاہی جاسوسوں کو ڈھونڈنے چلے گئے۔
اِس کے بعد راحب جلدی سے چھت پر گئیں۔ اُنہوں نے جاسوسوں سے کہا کہ ”مَیں جانتی ہوں کہ یہوواہ خدا آپ لوگوں کو یہ ملک ضرور دے گا۔ ہم نے سنا ہے کہ جب آپ لوگ مصر سے نکل رہے تھے تو یہوواہ خدا نے آپ کے لئے بحرِقلزم میں خشک راستہ بنا دیا تھا۔ ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ آپ نے یہوواہ خدا کی مدد سے بادشاہ سیحون اور بادشاہ عوج کو جنگ میں مار دیا۔ دیکھیں، مَیں نے آپ مدد کی ہے۔ اب آپ مجھ سے وعدہ کریں کہ جب آپ لوگ اِس شہر پر حملہ کریں گے تو مجھے، میرے امیابو اور میرے بہنبھائیوں کو زندہ چھوڑ دیں گے۔“
جاسوسوں نے راحب سے کہا: ”ٹھیک ہے۔ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو نہیں ماریں گے۔ لیکن تمہیں ایک کام کرنا ہوگا۔ اِس لال رسی کو اپنی کھڑکی کے باہر باندھ دو اور اپنے سب رشتہداروں کو اپنے گھر میں جمع کر لو۔ جب ہم یریحو پر حملہ کرنے آئیں گے تو اِس لال رسی کو دیکھ کر تمہارے گھر کو چھوڑ دیں گے۔ جو بھی تمہارے گھر میں ہوگا، وہ بچ جائے گا۔“ جب جاسوس یشوع کے پاس پہنچے تو اُنہوں نے اُن کو یہ ساری باتیں بتائیں۔
یشوع ۲:۱-۲۴؛ عبرانیوں ۱۱:۳۱۔