کہانی نمبر ۴۳
بنیاسرائیل کا نیا سردار
موسیٰ بھی بنیاسرائیل کے ساتھ ملک کنعان جانا چاہتے تھے۔ اِس لئے اُنہوں نے یہوواہ خدا سے کہا کہ ”مجھے بھی دریائےیردن پار کرنے دے تاکہ مَیں بھی کنعان جاؤں۔“ لیکن یہوواہ خدا نے موسیٰ سے کہا: ”بس موسیٰ! اب مجھ سے اِس بارے میں بات مت کرنا۔“ کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہوواہ خدا نے یہ کیوں کہا؟
یہوواہ خدا نے یہ اِس لئے کہا کیونکہ موسیٰ نے اُس کی بڑائی نہیں کی تھی۔ یاد ہے، جب موسیٰ نے چٹان سے پانی نکالا تھا تو اُنہوں نے کیا کہا تھا؟ اُنہوں نے بنیاسرائیل سے کہا تھا کہ وہ اور ہارون چٹان سے پانی نکالیں گے۔ لیکن یہ سچ نہیں تھا کیونکہ چٹان سے پانی یہوواہ خدا نے نکالا تھا۔ اِس لئے یہوواہ خدا نے موسیٰ اور ہارون سے کہا تھا کہ ”تُم دونوں کنعان نہیں جاؤ گے۔“
ہارون کوہِہور پر مر گئے تھے۔ اِس کے کچھ مہینے بعد یہوواہ خدا نے موسیٰ سے کہا کہ ”تُم اور الیعزر کاہن جاؤ اور یشوع کو بنیاسرائیل کے سامنے کھڑا کرو۔ پھر سب کو بتاؤ کہ اب یشوع نئے سردار ہیں۔“ موسیٰ نے وہی کِیا جو یہوواہ خدا نے اُن سے کہا تھا۔ ذرا تصویر کو دیکھیں، موسیٰ اور الیعزر کاہن، یشوع کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پھر یہوواہ خدا نے یشوع سے کہا کہ ”بہادر بنو، ڈرو نہیں۔ مَیں تمہاری مدد کروں گا اور تُم بنیاسرائیل کو ملک کنعان لے کر جاؤ گے۔“
بعد میں یہوواہ خدا نے موسیٰ سے کہا کہ ”ملک موآب میں کوہِنبو ہے۔ اُس پر چڑھ جاؤ۔“ جب موسیٰ کوہِنبو کی چوٹی پر چڑھے تو اُنہوں نے ملک کنعان دیکھا۔ کنعان بہت خوبصورت ملک تھا۔ یہوواہ خدا نے موسیٰ سے کہا کہ ”یہی وہ ملک ہے جس کے بارے میں مَیں نے وعدہ کِیا تھا کہ مَیں اِس کو ابرہام، اِضحاق اور یعقوب کے بچوں کو دوں گا۔ مَیں نے تمہیں اِس ملک کو دیکھنے تو دیا ہے لیکن تُم اِس میں جا نہیں سکتے۔“
پھر موسیٰ کوہِنبو پر مر گئے۔ اُن کی عمر ۱۲۰ سال تھی۔ اُس وقت وہ بالکل صحتمند تھے اور اُن کی نظر بھی ٹھیک تھی۔ جب بنیاسرائیل نے سنا کہ موسیٰ مر گئے ہیں تو وہ بہت روئے۔ لیکن وہ اِس بات پر خوش تھے کہ یشوع اُن کے نئے سردار ہیں۔
گنتی ۲۷:۱۲-۲۳؛ استثنا ۳:۲۳-۲۹؛ استثنا ۳۱:۱-۸، ۱۴-۲۳؛ استثنا ۳۲:۴۵-۵۲؛ استثنا ۳۴:۱-۱۲۔