کہانی نمبر ۹
نوح کی کشتی
نوح کی ایک بیوی اور تین بیٹے تھے۔ اُن کے بیٹوں کے نام سم، حام اور یافت تھے۔ نوح کے بیٹوں کی شادی ہو گئی تھی اور تینوں کی ایکایک بیوی تھی۔ نوح اور اُن کے گھر والے مل کر آٹھ لوگ تھے۔
خدا نے نوح کو ایک خاص کام دیا۔ خدا نے نوح سے کہا کہ ”ایک بڑی کشتی بناؤ۔“ یہ کشتی ایک لمبے ڈبے جیسی تھی۔ خدا نے نوح سے کہا کہ ”کشتی میں تین منزلیں بناؤ اور ہر منزل پر کمرے بناؤ۔“ یہ کمرے کس کے لئے تھے؟ یہ کمرے نوح، اُن کے گھر والوں اور جانوروں کے لئے تھے۔ اور کچھ کمرے کھانے کی چیزیں رکھنے کے لئے تھے۔
خدا نے نوح سے یہ بھی کہا کہ ”کشتی کو تارکول لگاؤ تاکہ پانی اندر نہ جائے۔“ اِس کے بعد خدا نے کہا کہ ”مَیں ایک طوفان لاؤں گا اور پوری زمین پر بہت بڑا سیلاب آئے گا۔ صرف وہ لوگ بچیں گے جو کشتی کے اندر ہوں گے۔“
نوح اور اُن کے بیٹوں نے یہوواہ خدا کا کہنا مانا۔ وہ کشتی بنانے لگے۔ لیکن لوگوں نے اُن کا مذاق اُڑایا۔ جب نوح نے اُن کو بتایا کہ ”خدا بہت بڑا سیلاب لانے والا ہے“ تو لوگوں نے اُن کا یقین نہیں کِیا۔ وہ بُرے کام کرتے رہے۔
کشتی بنانے میں بہت سال لگے کیونکہ کشتی بہت بڑی تھی۔ جب کشتی بن گئی تو خدا نے نوح سے کہا کہ ”کشتی میں جانور لے آؤ۔“ خدا نے کچھ قسم کے جانوروں کے بارے میں کہا کہ ”اِن کا ایکایک نر اور ایکایک مادہ لاؤ۔“ خدا نے کچھ اَور قسم کے جانوروں کے بارے میں کہا کہ ”اِن میں سے ساتسات جانور لاؤ۔“ خدا نے نوح سے یہ بھی کہا کہ ”ہر قسم کے پرندے بھی کشتی میں لاؤ۔“ نوح نے ویسا ہی کِیا جیسا خدا نے اُن سے کہا تھا۔
پھر نوح اور اُن کے گھر والے بھی کشتی کے اندر چلے گئے۔ اِس کے بعد خدا نے کشتی کا دروازہ بند کر دیا۔ نوح اور اُن کے گھر والوں نے کشتی میں جا کر کیا کِیا؟ وہ طوفان کا انتظار کرنے لگے۔ اگر آپ بھی کشتی میں ہوتے تو آپ بھی انتظار کرتے، ہےنا؟ آئیں، دیکھتے ہیں کہ پھر کیا ہوا۔