کہانی نمبر ۱۰
ایک بہت بڑا طوفان
نوح اور اُن کے گھر والے کشتی میں تھے۔ لیکن جو لوگ کشتی میں نہیں تھے، اُن کو ابھی بھی یقین نہیں تھا کہ طوفان آئے گا۔ وہ کھانےپینے اور اپنے کاموں میں مگن رہے۔ وہ نوح پر بہت ہنسے۔ لیکن پھر اُن کی ہنسی بند ہو گئی۔ پتہ ہے کیوں؟
اچانک بارش شروع ہو گئی۔ بارش بہت تیز تھی۔ آسمان سے پانی اِس طرح گِرنے لگا جیسے کوئی آدمی بالٹی سے پانی گِرا رہا ہو۔ اب لوگوں کو پتہ چلا کہ نوح نے سچ کہا تھا۔ لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ اب وہ کشتی میں نہیں جا سکتے تھے کیونکہ یہوواہ خدا نے کشتی کا دروازہ بند کر دیا تھا۔
بہت جلد وادیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ زمین پر پانی تیزی سے بہہ رہا تھا۔ اُس کا شور بہت زیادہ تھا۔ پانی جہاںجہاں سے گزرا، وہاں سب کچھ ختم ہو گیا۔ درخت ٹوٹ گئے، بڑےبڑے پتھر بہہ گئے۔ لوگ بہت ڈر گئے۔ وہ اُونچی اُونچی جگہوں پر چڑھ گئے۔ اُنہوں نے سوچا ہوگا کہ ”ہائے! ہم نے نوح کی بات کیوں نہیں مانی؟ ہم کشتی میں کیوں نہیں گئے؟“ لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
بارش ۴۰ دن اور ۴۰ رات تک ہوتی رہی۔ زمین پر پانی چڑھتا رہا۔ اُونچے سے اُونچے پہاڑ بھی پانی میں ڈوب گئے۔ خدا نے کہا تھا کہ ”جو انسان اور جانور کشتی سے باہر ہوں گے، وہ سب مر جائیں گے۔ لیکن جو بھی کشتی میں ہوگا، اُس کو کچھ نہیں ہوگا۔“ اور ایسا ہی ہوا۔
نوح اور اُن کے بیٹوں نے بڑی مضبوط کشتی بنائی تھی۔ جب پانی چڑھا تو کشتی تیرنے لگی۔ پھر ایک دن بارش بند ہو گئی اور دھوپ نکل آئی۔ پوری زمین پانی میں ڈوب گئی تھی۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا اور اِس پر صرف ایک چیز نظر آ رہی تھی۔ پتہ ہے وہ کونسی چیز تھی؟ نوح کی کشتی۔
سب بُرے لوگ مر گئے تھے۔ فرشتوں کے بچے بھی مر گئے تھے۔ اب وہ مارپیٹ نہیں کر سکتے تھے۔ اُن کی مائیں بھی مر گئی تھیں۔ لیکن کیا اُن کے باپ بھی مر گئے؟
یاد ہے کہ اُن کے باپ کون تھے؟ اُن کے باپ بُرے فرشتے تھے۔ وہ زمین پر انسانوں کی طرح رہنے کے لئے آئے تھے۔ لیکن جب سیلاب آیا تو وہ مرے نہیں بلکہ واپس آسمان پر چلے گئے۔ اب وہ خدا کے فرشتے نہیں رہے کیونکہ وہ شیطان کے ساتھی بن گئے تھے۔ خدا کے کلام میں اِن کو شیاطین اور بدروحیں کہا گیا ہے۔
پھر خدا نے زمین پر تیز ہوا چلائی اور پانی آہستہآہستہ کم ہوتا گیا۔ پانچ مہینے بعد کشتی ایک پہاڑ کی چوٹی پر رُک گئی۔ بہت دن گزر گئے۔ اب نوح اور اُن کے گھر والوں کو کھڑکی سے پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آنے لگیں۔ پانی ہر روز کم ہوتا گیا۔
ایک دن نوح نے ایک کوّے کو کشتی سے اُڑا دیا۔ کوّا تھوڑی دیر اِدھر اُدھر اُڑا اور واپس آ گیا۔ اُس کو کہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی۔ وہ باربار اُڑتا اور واپس آکر کشتی پر بیٹھ جاتا کیونکہ زمین ابھی خشک نہیں ہوئی تھی۔
نوح دیکھنا چاہتے تھے کہ ابھی زمین خشک ہوئی ہے یا نہیں۔ اِس لئے اُنہوں نے کچھ دن بعد ایک کبوتری کو کشتی سے اُڑا دیا۔ کبوتری بھی واپس آ گئی کیونکہ اُسے بھی کہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی۔ پھر کچھ دن بعد نوح نے کبوتری کو دوبارہ اُڑایا۔ جب کبوتری اِس بار واپس آئی تو اُس کی چونچ میں ایک ہرا پتا تھا۔ اب نوح کو پتہ چل گیا کہ زمین خشک ہو رہی ہے۔ نوح نے ایک بار پھر کبوتری کو اُڑایا۔ لیکن اِس بار کبوتری واپس نہیں آئی کیونکہ اُس کو گھونسلا بنانے کی جگہ مل گئی تھی۔
پھر خدا نے نوح سے کہا کہ ”اپنے گھر والوں اور سارے جانوروں کو لے کر کشتی سے باہر آ جاؤ۔“ وہ ایک سال سے زیادہ دیر تک کشتی میں رہے تھے۔ اِس لئے وہ بہت خوش تھے کہ اب وہ کشتی سے باہر آ سکتے ہیں۔ اگر آپ نوح کے ساتھ ہوتے تو آپ بھی خوش ہوتے، ہےنا؟