کہانی نمبر ۸
فرشتوں کے بچے
کیا آپ نے کبھی ایک ایسا انسان دیکھا ہے جس کا قد آپ کے گھر کی چھت جتنا ہو؟ آجکل زمین پر اِتنے لمبے انسان نہیں ہیں۔ لیکن خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ ایک زمانے میں زمین پر اِتنے لمبے انسان رہتے تھے۔ یہ انسان اصل میں فرشتوں کے بچے تھے۔ لیکن فرشتے آسمان پر رہتے ہیں۔ اُن کے بچے کیسے ہو سکتے ہیں؟
یاد ہے کہ آپ نے ایک بُرے فرشتے کے بارے میں سیکھا تھا جس کا نام شیطان ہے؟ شیطان چاہتا تھا کہ سب لوگ بُرے کام کریں۔ وہ چاہتا تھا کہ دوسرے فرشتے بھی بُرے بن جائیں۔ خدا نے فرشتوں کو آسمان پر کچھ کام دئے تھے۔ لیکن کچھ فرشتوں نے شیطان کی بات مان لی اور وہ کام کرنے چھوڑ دئے جو خدا نے اُن کو دئے تھے۔ وہ زمین پر آ گئے اور اُنہوں نے انسانی جسم اپنا لئے۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟
اِن فرشتوں نے دیکھا کہ زمین پر خوبصورت عورتیں رہتی ہیں۔ وہ اِن عورتوں کے ساتھ رہنا چاہتے تھے۔ اِس لئے وہ زمین پر آ گئے اور پھر اُنہوں نے عورتوں سے شادی کر لی۔ یہ بہت غلط کام تھا کیونکہ خدا نے فرشتوں کو زمین پر رہنے کے لئے نہیں بنایا تھا۔ خدا چاہتا تھا کہ فرشتے آسمان پر رہیں۔
اِن فرشتوں اور اُن کی بیویوں کے بچے ہوئے۔ یہ بچے دوسرے بچوں سے فرق تھے۔ شروعشروع میں وہ دوسرے بچوں کی طرح لگتے تھے۔ لیکن پھر اُن کا قد بڑھتا گیا اور وہ طاقتور ہوتے گئے۔ جب وہ بڑے ہو گئے تو وہ دوسرے لوگوں سے بہت زیادہ لمبے اور طاقتور تھے۔ خدا کے کلام میں فرشتوں کے بچوں کو جبار کہا گیا ہے۔
فرشتوں کے بچے بہت بُرے تھے۔ وہ دوسرے لوگوں کو مارتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ دوسرے لوگ بھی اُن کی طرح بُرے کام کریں۔ لوگ اُن سے ڈرتے تھے اور اُن کی بات مان لیتے تھے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ حنوک مر گئے تھے۔ کیا اُن کے بعد زمین پر صرف بُرے لوگ رہتے تھے؟ نہیں۔ ایک آدمی بہت اچھے تھے۔ اُن کا نام نوح تھا۔ وہ خدا کا کہنا مانتے تھے۔
ایک دن خدا نے نوح کو بتایا کہ ”مَیں بہت جلد سب بُرے لوگوں کو ختم کر دوں گا۔“ لیکن خدا نے وعدہ کِیا کہ وہ نوح کو، اُن کی بیوی کو، اُن کے بچوں کو اور بہت سے جانوروں کو بچا لے گا۔ آئیں، دیکھتے ہیں کہ خدا نے کیا کِیا۔