کہانی نمبر ۷
ایک بہادر آدمی
زمین پر بہت سارے لوگ قائن کی طرح بُرے تھے۔ لیکن ایک آدمی اچھے تھے۔ اُن کا نام حنوک تھا۔ وہ بہت بہادر تھے۔ باقی سب لوگ بُرے کام کرتے تھے۔ لیکن حنوک اُن لوگوں کی طرح نہیں تھے۔ وہ خدا کا کہنا مانتے تھے۔
کیا آپ کو پتہ ہے کہ اُس وقت لوگ اِتنے بُرے کیوں تھے؟ یاد کریں کہ آدم اور حوا سے کس نے کہا تھا کہ ”خدا کا کہنا نہیں مانو“؟ ایک بُرے فرشتے نے اُن سے یہ کہا تھا۔ بائبل میں اِس بُرے فرشتے کو شیطان کہا گیا ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ سب لوگ بُرے کام کریں۔
یہوواہ خدا نے حنوک سے کہا کہ ”جاؤ، لوگوں کو بتاؤ کہ خدا ایک دن سب بُرے لوگوں کو ختم کر دے گا۔“ حنوک نے جا کر لوگوں کو یہ بات بتائی۔ یہ سُن کر لوگ بڑے غصے میں آ گئے۔ ہو سکتا ہے کہ اُنہوں نے حنوک کو مار ڈالنے کی کوشش بھی کی ہو۔ کیا حنوک ڈر گئے؟ نہیں۔ وہ پھر بھی لوگوں کو یہ بتاتے رہے کہ ”خدا ایک دن سب بُرے لوگوں کو ختم کر دے گا۔“ حنوک بہت بہادر تھے، ہےنا؟
خدا نے حنوک کو اُن بُرے لوگوں سے بچا لیا۔ حنوک صرف ۳۶۵ سال تک زندہ رہے۔ لیکن ۳۶۵ سال تو بہت لمبی عمر ہے، ہےنا؟ اُس زمانے میں لوگ اِس سے بھی زیادہ دیر تک زندہ رہتے تھے کیونکہ وہ بہت صحتمند تھے۔ حنوک کے بیٹے متوسلح ۹۶۹ سال تک زندہ رہے۔ یہ تو بہت ہی لمبی عمر ہے، ہےنا؟
جب حنوک مر گئے تو لوگ اَور بھی بُرے ہو گئے۔ خدا کے کلام میں لکھا ہے کہ ”لوگ سارا وقت بُری باتوں کے بارے میں سوچتے تھے“ اور ”لوگ بہت ظالم تھے۔“
لیکن لوگ اِتنے بُرے کیوں ہو گئے؟ اصل میں شیطان ایک نئے طریقے سے لوگوں کو بُرا بنا رہا تھا۔ شیطان کیا کر رہا تھا تاکہ لوگ بُرے کام کریں؟ آئیں، دیکھتے ہیں۔