کہانی نمبر ۵
مشکل زندگی
جب خدا نے آدم اور حوا کو باغِعدن سے نکال دیا تو اُن کی زندگی بہت مشکل ہو گئی۔ باغِعدن میں تو بڑےبڑے درخت تھے جن پر مزےمزے کے پھل لگتے تھے۔ لیکن باغِعدن کے باہر ہر طرف کانٹوں والی جھاڑیاں تھیں۔ آدم اور حوا کو فصل اُگانے کے لئے بڑی محنت کرنی پڑتی تھی، تب ہی اُن کو کھانا ملتا تھا۔ لیکن اُن کی زندگی اِتنی مشکل کیوں ہو گئی؟ کیونکہ اُنہوں نے خدا کا کہنا نہیں مانا تھا اور وہ خدا کے دوست نہیں رہے تھے۔
آدم اور حوا کی سب سے بڑی سزا یہ تھی کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ یاد ہے کہ خدا نے ایک درخت کے بارے میں اُن سے کہا تھا کہ ”اِس کا پھل مت کھانا۔ اگر کھاؤ گے تو مر جاؤ گے۔“ اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ جس دن آدم اور حوا نے اُس درخت کا پھل کھایا، اُس دن سے وہ آہستہآہستہ بوڑھے ہونے لگے اور آخرکار مر گئے۔ یہ کتنی بڑی بےوقوفی تھی کہ آدم اور حوا نے خدا کا کہنا نہیں مانا!
کیا آپ کو پتہ ہے کہ جب خدا نے آدم اور حوا کو باغِعدن سے نکالا تو اُس وقت اُن کے بچے نہیں تھے؟ اُن کے سب بچے باغِعدن سے باہر پیدا ہوئے۔ اِس لئے اُن کے بچے بھی ہمیشہ تک زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ اُن کو بھی ایک نہ ایک دن مرنا تھا۔
کتنا اچھا ہوتا اگر آدم اور حوا خدا کا کہنا مانتے! پھر تو وہ اور اُن کے بچے خوشیخوشی رہتے۔ وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے، بیمار نہیں ہوتے اور کبھی نہیں مرتے۔ وہ ہمیشہ تک زندہ رہتے۔
خدا نے وعدہ کِیا ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب سب لوگ خوش رہیں گے اور ہمیشہ تک زندہ رہیں گے۔ اُس وقت ساری زمین خوبصورت ہوگی اور سب لوگ صحتمند ہوں گے۔ تب سب لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوں گے اور وہ خدا کے بھی دوست ہوں گے۔
یاد ہے، حوا خدا کی دوست نہیں رہی تھیں۔ اِس لئے جب حوا کے بچے پیدا ہوتے تھے تو حوا کو درد ہوتی تھی۔ اگر حوا خدا کا کہنا مانتیں تو اُن کو ایسی تکلیف نہ ہوتی، ہےنا؟ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کا کہنا ماننا بہت اہم ہے۔
آدم اور حوا کے بہت سے بیٹے اور بیٹیاں تھیں۔ اُنہوں نے اپنے پہلے بیٹے کا نام قائن رکھا۔ اُن کے دوسرے بیٹے کا نام ہابل تھا۔ آئیں، دیکھتے ہیں کہ قائن اور ہابل کے ساتھ کیا ہوا۔