کہانی نمبر ۴
آدم اور حوا کی سزا
ذرا اِس تصویر کو دیکھیں۔ آدم اور حوا کتنے دُکھی لگ رہے ہیں۔ خدا نے اُن کو باغِعدن سے نکال دیا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ خدا نے اُن کو کیوں نکالا؟
آدم اور حوا نے ایک بہت بُرا کام کِیا۔ اِس لئے یہوواہ خدا نے اُنہیں سزا دی۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آدم اور حوا نے کونسا بُرا کام کِیا تھا؟
اُنہوں نے یہوواہ خدا کا کہنا نہیں مانا۔ خدا نے آدم اور حوا سے کہا تھا کہ وہ باغ میں لگے درختوں کا پھل کھا سکتے ہیں۔ لیکن ایک درخت کے بارے میں خدا نے کہا کہ ”اِس کا پھل مت کھانا۔ اگر کھاؤ گے تو مر جاؤ گے۔“ خدا نے اُن کو اُس درخت کا پھل کھانے کی اجازت نہیں دی۔ اجازت کے بغیر کوئی چیز لینا بُری بات ہوتی ہے، ہےنا؟ آئیں، دیکھتے ہیں کہ آدم اور حوا نے کیا کِیا۔
ایک دن جب حوا باغ میں اکیلی تھیں تو ایک سانپ اُن سے باتیں کرنے لگا۔ یہ کتنی عجیب بات تھی! سانپ نے حوا سے کہا کہ ”اُس درخت کا پھل کھا لو جس سے خدا نے منع کِیا ہے۔“ لیکن سانپ تو بول نہیں سکتے، ہےنا؟ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ اصل میں حوا سے سانپ نہیں بلکہ کوئی اَور بات کر رہا تھا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کون تھا؟
آدم وہاں نہیں تھے۔ تو پھر حوا سے کون بات کر رہا تھا؟ آپ کو یاد ہوگا کہ خدا نے زمین کو بنانے سے پہلے فرشتوں کو بنایا تھا۔ ہم فرشتوں کو دیکھ نہیں سکتے۔ اِن میں سے ایک فرشتہ خود کو بہت بڑا سمجھنے لگا۔ وہ خدا کی طرح حکومت کرنا چاہتا تھا۔ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ لوگ صرف اُس کا کہنا مانیں اور خدا کا کہنا نہ مانیں۔ اِسی فرشتے نے سانپ کے ذریعے حوا سے بات کی۔
اُس نے حوا کو بےوقوف بنایا۔ فرشتے نے حوا سے کہا کہ ”اگر تُم اِس درخت کا پھل کھاؤ گے تو تُم خدا کی طرح بن جاؤ گے۔“ حوا نے فرشتے کی بات کا یقین کر لیا۔ اُس نے اُس درخت سے پھل توڑ لیا اور کھا لیا۔ بعد میں آدم نے بھی یہ پھل کھا لیا۔ آدم اور حوا نے خدا کا کہنا نہیں مانا۔ اِس لئے خدا نے اُن کو باغِعدن سے نکال دیا۔
خدا نے وعدہ کِیا ہے کہ ایک دن زمین پر صرف اچھے لوگ رہیں گے اور وہ پوری زمین کو باغِعدن کی طرح خوبصورت بنا دیں گے۔ آپ بھی اِس کام میں حصہ لے سکیں گے۔ لیکن اِس کے بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے۔ آئیں، پہلے دیکھتے ہیں کہ آدم اور حوا کے ساتھ پھر کیا ہوا۔