خوشی کی راہ
اُمید رکھیں
”مَیں تمہارے حق میں اپنے اِرادوں سے واقف ہوں جو تمہاری فلاحوبہبودی کے اِرادے ہیں، . . . وہ تمہیں اُمید اور درخشاں [یعنی روشن] مستقبل بخشیں گے۔“—یرمیاہ 29:11، نیو اُردو بائبل ورشن۔
”اُمید . . . خدا کی قربت میں رہنے کے لیے لازمی ہے۔“ یہ بات کتاب ”پریشانی کے دَور میں اُمید کی کِرن“ (انگریزی میں دستیاب) میں لکھی ہے۔ اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اُمید ”بےبسی، تنہائی اور خوف کے احساسات پر قابو پانے کی بہترین دوا ہے۔“
پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ اُمید رکھنا کیوں ضروری ہے۔ لیکن اِس میں جھوٹی اُمیدوں سے خبردار رہنے کی نصیحت بھی کی گئی ہے۔ اِس میں لکھا ہے: ”نہ اُمرا پر بھروسا کرو نہ آدمزاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا۔“ (زبور 146:3) اِنسانوں سے یہ اُمید لگانے کی بجائے کہ وہ ہمیں بچا سکتے ہیں، ہمیں اپنے خالق پر بھروسا کرنا چاہیے جو اپنے ہر وعدے کو پورا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ آئیں، دیکھیں کہ اُس نے کون سے وعدے کیے ہیں۔
بُرائی ختم ہو جائے گی اور نیک لوگ پُرامن ماحول سے لطفاندوز ہوں گے: زبور 37 کی 10 اور 11 آیتوں میں لکھا ہے کہ ”تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائے گا۔ . . . لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔“ اِسی زبور کی 29 آیت میں لکھا ہے: ”صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“
جنگ کا نامونشان مٹ جائے گا: ”[یہوواہ] زمین کی اِنتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔ وہ کمان کو توڑتا اور نیزے کے ٹکڑے کر ڈالتا ہے۔ وہ رتھوں کو آگ سے جلا دیتا ہے۔“—زبور 46:8، 9۔
بیماریاں، تکلیفیں اور موت ختم ہو جائیں گی: ”خدا . . . اُن کے سارے آنسو پونچھ دے گا اور نہ موت رہے گی، نہ ماتم، نہ رونا، نہ درد۔ جو کچھ پہلے ہوتا تھا، وہ سب ختم ہو گیا۔“—مکاشفہ 21:3، 4۔
سب لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا ملے گا: ”زمین میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اناج کی اِفراط ہوگی۔“—زبور 72:16۔
ساری زمین پر ایک حکومت ہوگی یعنی مسیح کی بادشاہت: ”سلطنت اور حشمت اور مملکت [یسوع مسیح کو] دی گئی تاکہ سب لوگ اور اُمتیں اور اہلِلغت اُس کی خدمتگذاری کریں۔ اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے جو جاتی نہ رہے گی اور اُس کی مملکت لازوال ہوگی۔“—دانیایل 7:14۔
ہم اِن وعدوں پر بھروسا کیوں رکھ سکتے ہیں؟ جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے ثابت کِیا کہ وہ بادشاہ بننے کے لائق ہیں۔ اُنہوں نے بیماروں کو شفا دی، غریبوں کو کھانا کھلایا، یہاں تک کہ مُردوں کو بھی زندہ کِیا۔ اِس سے بھی بڑھ کر اُنہوں نے لوگوں کو فائدہمند تعلیم دی اور ایسے اصول سکھائے جن پر عمل کر کے وہ ہمیشہ تک امن اور اِتحاد سے رہ سکیں۔ یسوع مسیح نے مستقبل میں ہونے والے واقعات کے متعلق پیشگوئیاں بھی کیں۔ اِن میں ایسے واقعات بھی شامل ہیں جن سے اِس دُنیا کے آخری زمانے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
خاموشی سے پہلے کا طوفان
یسوع مسیح نے جو پیشگوئی کی، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ آخری زمانے میں امن اور سلامتی نہیں ہوگی بلکہ اِس کا بالکل اُلٹ ہوگا۔ اُنہوں نے ”دُنیا کے آخری زمانے کی نشانی“ بتاتے وقت جن واقعات کا ذکر کِیا، اُن میں جنگیں، قحط، وبائیں اور بڑے بڑے زلزلے شامل ہیں۔ (متی 24:3، 7؛ لُوقا 21:10، 11؛ مکاشفہ 6:3-8) یسوع مسیح نے یہ بھی کہا: ”چونکہ بُرائی بہت بڑھ جائے گی اِس لیے زیادہتر لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔“—متی 24:12۔
آجکل فرق فرق باتوں سے پتہ چل رہا ہے کہ لوگوں کی محبت واقعی ٹھنڈی پڑ گئی ہے۔ پاک کلام میں ایک اَور جگہ اِس بات کو ذرا اَور واضح کِیا گیا ہے۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ ”آخری زمانے“ میں زیادہتر لوگ خودغرض ہوں گے؛ پیسے اور موج مستی سے پیار کریں گے؛ مغرور اور وحشی ہوں گے؛ خاندانی رشتوں میں محبت نہیں ہوگی؛ بچے ماں باپ کے نافرمان ہوں گے اور منافقت بہت عام ہو جائے گی۔—2-تیمُتھیُس 3:1-5۔
یہ طوفان جیسے حالات ثابت کرتے ہیں کہ اِس دُنیا کا آخری زمانہ چل رہا ہے۔ اِن سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خاموشی کا دَور یعنی مسیح کی بادشاہت کا پُرامن دَور شروع ہونے والا ہے۔ یسوع مسیح نے آخری زمانے کے بارے میں پیشگوئی کرتے ہوئے یہ بھی کہا: ”بادشاہت کی خوشخبری کی مُنادی ساری دُنیا میں کی جائے گی تاکہ سب قوموں کو گواہی ملے۔ پھر خاتمہ آئے گا۔“—متی 24:14۔
یہ خوشخبری بُرے لوگوں کے لیے ایک آگاہی اور نیک لوگوں کے لیے ایک اُمید ہے۔ اِس کے ذریعے نیک لوگوں کو یقین دِلایا جا رہا ہے کہ اُنہیں بہت جلد وہ برکتیں ملیں گی جن کا خدا نے وعدہ کِیا ہے۔ اگر آپ اِن برکتوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اِس رسالے کے آخری صفحے کو دیکھیں۔