تاریخ کے ورقوں سے
قسطنطین
قسطنطین وہ پہلے رومی شہنشاہ تھے جنہوں نے مسیحی مذہب اپنایا۔ ایسا کرنے سے اُنہوں نے دُنیا کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ اُنہوں نے ایک ایسا مذہب اپنایا جس پر چلنے والوں کو بہت اذیت دی جا رہی تھی۔ اِس مذہب کو اپنانے کے بعد اُنہوں نے اِس کی جڑیں مضبوط کیں۔ اِس کے نتیجے میں مسیحی مذہب نے ”سماجی اور سیاسی لحاظ سے“ اِنسانی تاریخ پر اِتنا گہرا اثر ڈالا جتنا کسی اَور چیز نہیں ڈالا۔—دی اِنسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا۔
اِس قدیم رومی شہنشاہ کے بارے میں جاننا اہم کیوں ہے؟ کیونکہ قسطنطین نے سیاسی اور مذہبی لحاظ سے جو کام کیے، اُن کا اثر آج بھی کروڑوں لوگوں کے عقیدوں اور رسمورواج سے صاف نظر آتا ہے۔ آئیں، دیکھتے ہیں کہ قسطنطین نے کیا کِیا۔
مسیحی فرقوں کی حفاظت کے نام پر اِن کا اِستعمال
سن 313ء میں قسطنطین نے روم کی مغربی سلطنت پر جبکہ لائسینیئس اور ماکسیمینوس نے مشرقی سلطنت پر حکومت کی۔ قسطنطین اور لائسینیئس نے اپنیاپنی عوام کو مذہبی آزادی دی جن میں مسیحی بھی شامل تھے۔ قسطنطین نے مسیحی مذہب کی حفاظت کی کیونکہ اُنہیں لگتا تھا کہ یہ مذہب اُن کی حکومت کو متحد کر سکتا ہے۔a
لیکن جب قسطنطین کو پتہ چلا کہ مسیحی فرقوں میں اپنےاپنے عقیدوں کی وجہ سے اِختلاف پایا جاتا ہے تو اُن کو بہت دھچکا لگا۔ اِن فرقوں کو ایک کرنے کے لیے اُنہوں نے ایسے عقیدے مقرر کیے جنہیں قبول کرنا سب مسیحی فرقوں پر لازمی تھا۔ قسطنطین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بشپوں نے مذہبی عقیدوں پر سمجھوتا کر لیا۔ اِس کے بدلے اُن کے ٹیکس معاف کر دیے گئے اور اُن کو مالامال کر دیا گیا۔ تاریخدان چارلس فریمین کے مطابق مذہبی رہنماؤں کی نظر میں شہنشاہ کی طرف سے مقررہ عقیدوں کو قبول کرنے کی وجہ اب صرف ”خدا کی خوشنودی حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ بات پیسے اور رُتبے کی بھی آ گئی تھی۔“ یوں مسیحی مذہبی رہنماؤں کو دُنیاوی لحاظ سے بھی بہت اِختیار مل گیا۔ تاریخدان اےایچایم جونز کے مطابق قسطنطین کی صورت میں ”مسیحی مذہب کو ایک محافظ تو مل گیا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ اِس پر ایک حاکم بھی مسلّط ہو گیا تھا۔“
”مسیحی مذہب کو ایک محافظ تو مل گیا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ اِس پر ایک حاکم بھی مسلّط ہو گیا تھا۔“—تاریخدان اےایچایم جونز
مسیحی مذہب کی نئی شکل
قسطنطین اور بشپوں کے ہاتھ ملانے سے ایک ایسا مذہب وجود میں آیا جس میں مسیحی مذہب اور بُتپرست مذہبوں کے عقیدے پائے جاتے تھے۔ ایک ایسے مذہب کا وجود میں آنا کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی کیونکہ شہنشاہ قسطنطین سچے مذہب کو تلاش نہیں کر رہے تھے بلکہ اُن کا مقصد یہ تھا کہ اُن کی ریاست میں سب مذہبوں کے لوگ مِلجُل کر رہیں۔ اِس بات کو بھی نظرانداز نہیں کِیا جا سکتا کہ قسطنطین ایک بُتپرست ریاست کے شہنشاہ تھے۔ ایک تاریخدان کے مطابق قسطنطین مسیحیوں اور بُتپرستوں دونوں کو خوش کرنا چاہتے تھے اِس لیے ”اُنہوں نے اپنے قوانین اور حکومت کرنے کے طریقے سے یہ کبھی واضح نہیں ہونے دیا کہ وہ مذہبی لحاظ سے کس کی طرف ہیں۔“
قسطنطین مسیحی ہونے کا دعویٰ تو کرتے تھے لیکن اُنہوں نے بُتپرستی سے بھی ناتا نہیں توڑا تھا۔ مثال کے طور پر وہ نجومیوں اور جادوگروں کے ذریعے مستقبل کا حال جاننے کی کوشش کرتے تھے اور یہ ایسے کام ہیں جن سے بائبل میں سختی سے منع کِیا گیا ہے۔ (استثنا 18:10-12) روم میں قسطنطین کی ایک یادگار ہے جسے ”آرچ آف کانسٹنٹائن“ کہتے ہیں۔ اِس پر دِکھایا گیا ہے کہ قسطنطین دیویدیوتاؤں کے آگے قربانی چڑھا رہے ہیں۔ قسطنطین سکوں پر سورج دیوتا کی تصویر کندہ کرواتے رہے اور اُس کی پوجا کو بھی فروغ دیتے رہے۔ اپنی زندگی کے آخری دَور میں اُنہوں نے اِٹلی کے ایک علاقے امبریا کے لوگوں کو اِجازت دے دی کہ وہ اُن کی اور اُن کے گھر والوں کی پرستش کے لیے مندر بنا سکتے ہیں اور اُن میں پجاریوں کو بھی رکھ سکتے ہیں۔
قسطنطین نے 337ء میں اپنی موت سے کچھ دن پہلے ہی بپتسمہ لیا۔ بہت سے عالموں کا ماننا ہے کہ قسطنطین نے اِتنی دیر سے اِس لیے بپتسمہ لیا تاکہ مسیحی اور بُتپرست دونوں اُن کی حمایت کرتے رہیں۔ قسطنطین کے دیر سے بپتسمہ لینے اور اُن کے کاموں سے اِس بات پر شک پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ دل سے مسیح پر ایمان رکھتے تھے یا نہیں۔ لیکن ایک بات تو پکی ہے کہ قسطنطین نے مسیحی فرقوں سے جو مذہب بنایا، وہ سیاسی اور مذہبی لحاظ سے بہت طاقتور ہو گیا اور اِس وجہ سے اُس نے مسیح سے مُنہ موڑ کر اِس دُنیا کو گلے لگا لیا۔ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کے بارے میں کہا تھا کہ ”جس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں۔“ (یوحنا 17:14) قسطنطین کا بنایا ہوا مذہب جو کہ دُنیاداری میں پڑ چُکا تھا، بےشمار فرقوں کے وجود میں آنے کا سبب بنا۔
اِس تمام معلومات سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ہمیں آنکھیں بند کرکے اُن تعلیمات پر یقین نہیں کر لینا چاہیے جو مسیحی رہنما ہمیں دیتے ہیں بلکہ ہمیں اُن کی تعلیمات کو بائبل کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔—اعمال 17:11۔
a تاریخدانوں کے درمیان اِس بات پر بہت بحثومباحثہ ہوا ہے کہ آیا قسطنطین واقعی مسیحی عقیدوں کو مانتے تھے یا نہیں۔ اِس بحثومباحثے کی ایک وجہ یہ تھی کہ قسطنطین نے اپنے دَورِحکومت کے آخر تک بُتپرستی کی اِجازت دے رکھی تھی۔